21.6 C
Islamabad
ہفتہ, دسمبر 4, 2021

نائجیریا کا انوکھا گاؤں، جہاں مرد و خواتین الگ الگ زبانیں بولتے ہیں

تازہ ترین

ورلڈکپ کون جیتے گا؟ – احمدحماد

کرکٹ کانواں ورلڈ کپ ٹورنامنٹ ۲۰۰۷ء کے موسم بہار میں ویسٹ انڈیز میں کھیلا گیا۔ یہ ورلڈ کپ ون ڈے انٹرنیشنل میچوں پہ مشتمل...

بُزدار کا لاہور – احمدحماد

لاہورہزاروں سال پرانا شہر ہے۔یہاں کے باسی اس سے بہت پیار کرتے ہیں۔جس طرح عربی زبان بولنے والے دیگر زبانیں بولنے والوں کو گونگا...

مزاحمت لیکس – احمدحماد

بارہ اکتوبر ۱۹۹۹؁ء کے فوجی انقلاب کی دو کہانیاں ہیں۔ اور دونوں ہی عوام نے سن رکھی ہیں۔ ایک کہانی وہ ہے جو ہم...

شہبازشریف کے خلاف لندن میں کوئی مقدمہ نہیں بنایا گیا، شہزاد اکبر

مشیر داخلہ واحتساب شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن غلط بیانی کررہی ہے۔ شہبازشریف کے خلاف لندن میں کوئی مقدمہ بنایا گیا...
- Advertisement -

کہا جاتا ہے کہ خواتین اور مردوں کی الگ دنیا ہوتی ہے لیکن یہ بات جتنی جنوبی نائیجیریا کے ایک علاقے پر صادق آتی ہے، شاید ہی دنیا میں کہیں اور آئے کیونکہ یہاں ایک ہی برادر ی کی خواتین اور مرد دو الگ الگ زبانیں بولتے ہیں

اس پر یقین کرنا مشکل ہے کہ ایک ہی علاقے میں، ایک ساتھ پلنے بڑھنے اور ساتھ رہنے والے مرد اور خواتین دو الگ بولیاں بولتے ہوں گے؟ لیکن نائیجریا کی کراس ریور اسٹیٹ کے اوبانگ ایسا ہی کرتے ہیں۔

مرد اور عورتوں کی زبانوں میں کتنے الفاظ مختلف ہیں اس کا مکمل اندازہ تو نہیں ہے، لیکن کئی مثالیں ایسی ہیں جن میں مرد اور عورتیں اپنی گفتگو کے جملےاپنے حساب سے بناتے ہیں۔ مثلاً کپڑوں کے لیے مرد ‘نکی’ کا لفظ استعمال کرتے ہیں جبکہ خواتین ‘اریگا’ کا، ‘کچی’ کا مطلب مردوں کے لیے درخت ہے جبکہ عورتیں اسے ‘اوکوینگ’ بولتی ہیں۔ نہ صرف دونوں کا تلفظ بالکل جدا ہے، بلکہ الفاظ ہی مکمل طور پر الگ ہیں اور مقامی افراد کا کہنا ہے کہ وہ ہمیشہ سے ایسا ہی دیکھتے آئے ہیں یعنی یہ سلسلہ نسل ہا نسل سے چل رہا ہے۔

ماہر بشریات چی چی انڈی کہتی ہیں کہ ایسا لگتا ہے دو بالکل مختلف صوتیے (lexicons) ہیں۔ ایسے بہت سے الفاظ ہیں جو دونوں زبانوں میں یکساں ہیں، لیکن ایسے بھی ہیں جو ہر اعتبار سے بالکل مختلف ہیں۔ یہ ایک دوسرے سے بالکل نہیں ملتے، ان کے حروف تک الگ ہیں اور باہم کوئی تعلق نظر نہیں آتا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اوبانگ مرد اور خواتین ایک دوسرے کی باتیں بخوبی سمجھتے ہیں کیونکہ لڑکیاں اور لڑکے اپنے والدین کے ساتھ ہی رہتے ہیں اس لیے وہ دونوں زبانیں سیکھ جاتے ہیں لیکن 10 سال کی عمر کو پہنچنے کے بعد لڑکوں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ مردانہ زبان استعمال کریں گے۔

کوئی نہیں جانتا کہ اوبانگ میں یہ دو زبانوں کا رواج کیسے اور کیوں آیا؟ لیکن بہت سے مقامی افراد اس نظریے کو مانتے ہیں کہ خدا نے آدم و حوا کو ان کے قبیلے میں پیدا کیا تھا اور انہیں دو مختلف زبانیں عطا کی تھیں۔ ان کے بعد ہر نسلی گروہ کو بھی دو، دو زبانیں ملنا تھیں لیکن اتنی زبانیں تھی ہی نہیں، اس لیے یہ معاملہ صرف اوبانگ تک ہی محدود رہ گیا۔ یوں یہ گاؤں دنیا بھر سے منفردہے۔

چی چی کے خیال میں دو زبانیں دراصل خواتین اور مردوں کا دائرۂ کار الگ ہونے کی وجہ سے ہے، دونوں کی الگ ہی دنیائیں ہیں اور وہ شاذ و نادر ہی ساتھ ہوتے ہیں۔ لیکن انہوں نے تسلیم کیا کہ یہ نظریہ ذرا کمزور ہے کیونکہ ایسا تو افریقہ بھر میں ہوتا ہے لیکن کہیں بھی مردوں اور عورتوں کی الگ زبانیں نظر نہیں آتیں۔

آج جیسے جیسے انگریزی زبان نائیجیریا کے نوجوانوں کی زندگیوں میں داخل ہوتی جا رہی ہے، اوبانگ زبانیں خطرے سے دوچار ہیں۔ کیونکہ مردانہ اور زنانہ دونوں زبانیں تحریری صورت میں موجود نہیں ہیں، یعنی یہ صرف بولیاں ہیں، اس لیے ان کی اگلی نسل میں منتقلی کا انحصار بڑوں کے سکھانے پر ہے۔

مزید تحاریر

ورلڈکپ کون جیتے گا؟ – احمدحماد

کرکٹ کانواں ورلڈ کپ ٹورنامنٹ ۲۰۰۷ء کے موسم بہار میں ویسٹ انڈیز میں کھیلا گیا۔ یہ ورلڈ کپ ون ڈے انٹرنیشنل میچوں پہ مشتمل...

بُزدار کا لاہور – احمدحماد

لاہورہزاروں سال پرانا شہر ہے۔یہاں کے باسی اس سے بہت پیار کرتے ہیں۔جس طرح عربی زبان بولنے والے دیگر زبانیں بولنے والوں کو گونگا...

مزاحمت لیکس – احمدحماد

بارہ اکتوبر ۱۹۹۹؁ء کے فوجی انقلاب کی دو کہانیاں ہیں۔ اور دونوں ہی عوام نے سن رکھی ہیں۔ ایک کہانی وہ ہے جو ہم...

شہبازشریف کے خلاف لندن میں کوئی مقدمہ نہیں بنایا گیا، شہزاد اکبر

مشیر داخلہ واحتساب شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن غلط بیانی کررہی ہے۔ شہبازشریف کے خلاف لندن میں کوئی مقدمہ بنایا گیا...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے