19.9 C
Islamabad
ہفتہ, دسمبر 4, 2021

طویل قامت ترین کھلاڑی، جس نے دنیا کو حیران کر دیا ہے

تازہ ترین

ورلڈکپ کون جیتے گا؟ – احمدحماد

کرکٹ کانواں ورلڈ کپ ٹورنامنٹ ۲۰۰۷ء کے موسم بہار میں ویسٹ انڈیز میں کھیلا گیا۔ یہ ورلڈ کپ ون ڈے انٹرنیشنل میچوں پہ مشتمل...

بُزدار کا لاہور – احمدحماد

لاہورہزاروں سال پرانا شہر ہے۔یہاں کے باسی اس سے بہت پیار کرتے ہیں۔جس طرح عربی زبان بولنے والے دیگر زبانیں بولنے والوں کو گونگا...

مزاحمت لیکس – احمدحماد

بارہ اکتوبر ۱۹۹۹؁ء کے فوجی انقلاب کی دو کہانیاں ہیں۔ اور دونوں ہی عوام نے سن رکھی ہیں۔ ایک کہانی وہ ہے جو ہم...

شہبازشریف کے خلاف لندن میں کوئی مقدمہ نہیں بنایا گیا، شہزاد اکبر

مشیر داخلہ واحتساب شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن غلط بیانی کررہی ہے۔ شہبازشریف کے خلاف لندن میں کوئی مقدمہ بنایا گیا...
- Advertisement -

ایران نے معذوروں کے عالمی کھیل ‘پیرالمپکس’ میں والی بال میں ساتویں مرتبہ سونے کا تمغہ جیت لیا ہے۔

گروپ ‘بی’ میں جرمنی، برازیل اور چین کو شکست دینے کے بعد ایران نے سیمی فائنل میں روایتی حریف بوسنیا کو ہرایا تھا اور فائنل میں روس کو ‏3-1 سے شکست دے کر ایک مرتبہ پھر گولڈ میڈل حاصل کر لیا۔ ایران اس سے پہلے 8 میں سے 6 پیرالمپکس میں سونے کا تمغہ جیت چکا تھا یعنی والی بال میں ایک ‘سپر پاور’ ہے اور اس کے پاس سب سے بڑا ہتھیار ہے مرتضیٰ مہرزاد۔

مرتضیٰ کا قد 246 سینٹی میٹرز یعنی 8 فٹ 1 انچ ہے، یعنی وہ تاریخ کے دوسرے طویل قامت ترین انسان ہیں۔ اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ قد ترکی کے سلطان کوسن کا ہے جو 8 فٹ 2 انچ لمبے ہیں۔

مرتضیٰ کو کم عمری میں ہی acromegaly کی تشخیص ہوئی تھی، یعنی ان کا جسم قد بڑھانے والے ہارمونز بہت زیادہ پیدا کر رہا تھا۔ وہ لڑکپن میں ایک حادثے کا شکار ہو گئے تھے جس میں ان کی کولہے کی ہڈی ٹوٹ گئی تھی اور یوں ان کی دائیں ٹانگ کی نشو و نما رک گئی۔ یہی وجہ ہے کہ آج ان کی بائیں ٹانگ دائیں کے مقابلے میں تقریباً 15 سینٹی میٹر لمبی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مرتضیٰ کو چلنے پھرنے کے لیے چھڑی کا استعمال کرنا پڑتا ہے۔

ایران میں معذوروں کے کھیلوں کی ترویج کے لیے کام کرنے والے محمد علی داہستانی کہتے ہیں کہ مرتضیٰ  کی صحت ٹھیک نہیں ہے، مسلسل قد بڑھنے کی وجہ سے وہ مسلسل گر رہی ہے۔ "میرے خیال میں ان کے قد میں اب بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ جب میں ان سے پہلی بار ملا تھا تو وہ نسبتاً بہتر انداز میں چل سکتے تھے لیکن اب تو بیساکھی کے بغیر چل نہیں پاتے۔”

ارشد ندیم کے بعد حیدر علی کی پیرالمپکس میں بہترین کارکردگی، گولڈ میڈل اپنے نام کرلیا

لیکن اس غیر معمولی قد و قامت نے مرتضیٰ مہرزاد کو ایران کی معذوروں کی والی بال ٹیم کا اہم رکن ضرور بنا دیا ہے۔ ٹیم کے کوچ ہادی رضائی نے 2011ء میں انہیں ایک ٹیلی وژن پروگرام میں انہیں دریافت کیا تھا، جہاں انوکھی صلاحیتیں اور جسمانی معذوری رکھنے والے افراد آتے تھے۔

مرتضیٰ کا کہنا ہے کہ والی بال نے انہیں زندگی دی کیونکہ وہ اپنی معذوری کی وجہ سے ذہنی تناؤ کا شکار تھے۔ کہتے ہیں کہ "میں خود کو قیدی سمجھتا تھا اور اپنی حالت دیکھتے ہوئے باہر جانے سے گریز کرتا تھا۔ میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ میرا مستقبل یہ ہوگا۔ والی بال نے میری زندگی پر بہت مثبت اثرات ڈالے ہیں۔”

میدان میں مرتضیٰ کی موجودگی نے ایران کے کھلاڑیوں کو بھی بڑا حوصلہ دیا ہے کیونکہ وہ اپنے قد و قامت کی وجہ سے حریف کے لیے مستقل خطرہ بنے رہتے ہیں۔

مزید تحاریر

ورلڈکپ کون جیتے گا؟ – احمدحماد

کرکٹ کانواں ورلڈ کپ ٹورنامنٹ ۲۰۰۷ء کے موسم بہار میں ویسٹ انڈیز میں کھیلا گیا۔ یہ ورلڈ کپ ون ڈے انٹرنیشنل میچوں پہ مشتمل...

بُزدار کا لاہور – احمدحماد

لاہورہزاروں سال پرانا شہر ہے۔یہاں کے باسی اس سے بہت پیار کرتے ہیں۔جس طرح عربی زبان بولنے والے دیگر زبانیں بولنے والوں کو گونگا...

مزاحمت لیکس – احمدحماد

بارہ اکتوبر ۱۹۹۹؁ء کے فوجی انقلاب کی دو کہانیاں ہیں۔ اور دونوں ہی عوام نے سن رکھی ہیں۔ ایک کہانی وہ ہے جو ہم...

شہبازشریف کے خلاف لندن میں کوئی مقدمہ نہیں بنایا گیا، شہزاد اکبر

مشیر داخلہ واحتساب شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن غلط بیانی کررہی ہے۔ شہبازشریف کے خلاف لندن میں کوئی مقدمہ بنایا گیا...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے