21.6 C
Islamabad
ہفتہ, دسمبر 4, 2021

بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کی ریٹائرمنٹ سے پیدا ہونے والا خلا کیسے پُر ہوگا؟

تازہ ترین

ورلڈکپ کون جیتے گا؟ – احمدحماد

کرکٹ کانواں ورلڈ کپ ٹورنامنٹ ۲۰۰۷ء کے موسم بہار میں ویسٹ انڈیز میں کھیلا گیا۔ یہ ورلڈ کپ ون ڈے انٹرنیشنل میچوں پہ مشتمل...

بُزدار کا لاہور – احمدحماد

لاہورہزاروں سال پرانا شہر ہے۔یہاں کے باسی اس سے بہت پیار کرتے ہیں۔جس طرح عربی زبان بولنے والے دیگر زبانیں بولنے والوں کو گونگا...

مزاحمت لیکس – احمدحماد

بارہ اکتوبر ۱۹۹۹؁ء کے فوجی انقلاب کی دو کہانیاں ہیں۔ اور دونوں ہی عوام نے سن رکھی ہیں۔ ایک کہانی وہ ہے جو ہم...

شہبازشریف کے خلاف لندن میں کوئی مقدمہ نہیں بنایا گیا، شہزاد اکبر

مشیر داخلہ واحتساب شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن غلط بیانی کررہی ہے۔ شہبازشریف کے خلاف لندن میں کوئی مقدمہ بنایا گیا...
- Advertisement -

آئندہ چند سالوں میں بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (ISS) ریٹائر کر دیا جائے گا اور اس کے خاتمے سے پہلے ہی کئی سوالات جنم لے رہے ہیں کہ آخر خلائی اسٹیشنوں کا مستقبل کیا ہوگا؟ کیا ISS کو واقعی ریٹائر کر دینا چاہیے یا اس کے منصوبے کو توسیع دینی چاہیے؟

بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کا آغاز 1998ء میں ہوا تھا اور یہ 13 سال کی محنت اور کوششوں کے بعد 2011ء میں تکمیل تک پہنچا۔ تب سے اب تک یہ دنیا کے 19 ممالک کے خلا بازوں کی میزبانی کر چکا ہے اور ساتھ ہی انسانوں کی واحد خلائی تجربہ گاہ کی حیثیت سے بہت کچھ دریافت بھی کیا ہے۔

خلائی اسٹیشن کا مشن 2024ء میں مکمل ہو جائے گا کہ جب امریکی اور دیگر خلائی تحقیقاتی اداروں کا معاہدہ اپنے اختتام کو پہنچے گا لیکن ان اداروں سے وابستہ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ وہ اس کے مشن میں 2030ء تک توسیع کرنے کے حق میں ہیں۔

ناسا کے منتظم بل نیلسن کہتے ہیں کہ ہمیں امید ہے کہ ایک سرکاری منصوبے کی حیثیت سے خلائی اسٹیشن کے مشن میں 2030ء تک توسیع کی جائے گی اور توقع ہے کہ اس کے بعد کمرشل بنیادوں پر خلائی اسٹیشن بھی سامنے آئیں گے۔

لیکن امریکی کانگریس فی الحال 2024ء کے بعد بھی خلائی اسٹیشن کے لیے سرمایہ فراہم کرنے کے حق میں نظر نہیں آتی۔ پھر ایسے کسی بھی معاہدے کی کینیڈا، روس، یورپ اور جاپان سے منظوری کی بھی ضرورت ہوگی، کیونکہ بالآخر ISS ایک بین الاقوامی منصوبہ ہے۔

اس صورت حال میں عین ممکن ہے کہ خلائی اسٹیشنوں کا مستقبل نجی شعبے میں ہو۔ نجی خلائی اسٹیشنز بنانے والا ایک ادارہ آکسیئم (Axiom) اسپیس بھی ہے جو ISS کی توسیع کے ساتھ ساتھ اپنے اسٹیشنز بھی بنانا چاہتا ہے۔ اس کے مجوزء ماڈیولز سے خلا اور زمین کا 360 ڈگری کا بھرپور نظارہ ملے گا۔ ایک مرتبہ مکمل ہو جانے کے بعد آکسیئم اسٹیشن کا حجم ISS کے مقابلے میں تقریباً دو گنا ہوگا۔

اِس وقت چین سمیت مختلف ممالک بھی خلائی تحقیق میں کام کر رہے ہیں۔ چین نے رواں سال 16 جون کو اپنے خلائی اسٹیشن ‘تیان گونگ’ کا پہلا ماڈیول خلا میں کامیابی سے بھیجا ہے۔ چائنا نیشنل اسپیس ایڈمنسٹریشن ایک خلائی دُور بین (اسپیس ٹیلی اسکوپ) بھی بھیجنا چاہتی ہے، جو اس اسٹیشن سے منسلک ہوگی۔

خلائی اسٹیشن کو دھکیلنے کا واقعہ کہیں زیادہ سنجیدہ تھا

یہی وجہ ہے کہ نیلسن نے خلائی اسٹیشنوں کے مستقبل کے حوالے سے چین کے ساتھ تعاون کا مطالبہ کیا ہے۔

روس اور چین چاند پر ایک اڈہ بنانے کے لیے مل کر کام کرنے پر رضامندی ظاہر کر چکے ہیں اور یہ پیشکش یورپ کو بھی کر چکے ہیں۔ خود امریکا بھی اپنے آرٹیمس پروگرام کے تحت 2024ء تک چاند پر پہنچنے کا ہدف رکھتا ہے لیکن وہ اپنے بین الاقوامی منصوبوں سے چین کو دور رکھتا ہے اور بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر بھی کوئی چینی خلا باز نہیں جا سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ چین نے اپنا خلائی اسٹیشن خود بنایا ہے۔

واضح رہے کہ خلائی اسٹیشن کو مدار میں رکھنے کے لیے اس کی بارہا سمت بندی کرنا پڑتی ہے۔ اس کام کے لیے ایندھن درکار ہوتا ہے جو زمین سے بھیجنا پڑتا ہے۔ پھر اسے ہمہ وقت خلائی ملبے کا خطرہ بھی رہتا ہے۔ خدشہ ہے کہ کسی تصادم سے اسے ناقابلِ تلافی نقصان بھی پہنچ سکتا ہے۔

اگر خلائی اسٹیشن کو ریٹائر کرنے کا ارادہ بھی کر لیا گیا تو اسے تلف کرنے کا کام بہت زیادہ خطرات رکھتا ہے۔ اتنا بڑا حجم رکھنے والے اسٹیشن کو زمین کی حدود میں لا کر تباہ کرنے کے عمل میں ذرا سی چوک بہت بڑی تباہی لا سکتی ہے۔ 100 میٹر لمبا یہ خلائی اسٹیشن ایک چھ منزلہ عمارت جتنا بڑا ہے۔ زمین پر اس کا وزن 4,20,000 کلو گرام ہوگا۔ اس لیے ریٹائرمنٹ کی صورت میں اسے مخصوص انجنوں کے ذریعے جنوبی بحر الکاہل میں گرا کر تباہ کیا جائے گا۔

 

مزید تحاریر

ورلڈکپ کون جیتے گا؟ – احمدحماد

کرکٹ کانواں ورلڈ کپ ٹورنامنٹ ۲۰۰۷ء کے موسم بہار میں ویسٹ انڈیز میں کھیلا گیا۔ یہ ورلڈ کپ ون ڈے انٹرنیشنل میچوں پہ مشتمل...

بُزدار کا لاہور – احمدحماد

لاہورہزاروں سال پرانا شہر ہے۔یہاں کے باسی اس سے بہت پیار کرتے ہیں۔جس طرح عربی زبان بولنے والے دیگر زبانیں بولنے والوں کو گونگا...

مزاحمت لیکس – احمدحماد

بارہ اکتوبر ۱۹۹۹؁ء کے فوجی انقلاب کی دو کہانیاں ہیں۔ اور دونوں ہی عوام نے سن رکھی ہیں۔ ایک کہانی وہ ہے جو ہم...

شہبازشریف کے خلاف لندن میں کوئی مقدمہ نہیں بنایا گیا، شہزاد اکبر

مشیر داخلہ واحتساب شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن غلط بیانی کررہی ہے۔ شہبازشریف کے خلاف لندن میں کوئی مقدمہ بنایا گیا...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے