26 C
Islamabad
ہفتہ, ستمبر 18, 2021

برما، سیاست دانوں نے فوج کے خلاف اعلانِ جنگ کر دیا

تازہ ترین

بھارت میں موجود افغان مہاجرین مظاہروں پر مجبور ہو گئے

بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں موجود افغان مہاجرین ہفتہ بھر سے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (UNHCR) کے دفتر کے باہر احتجاج...

دنیا کا سب سے بڑا ‘ٹائروں کا قبرستان’ ختم کر دیا گیا

کویت کے صحرا میں 4.2 کروڑ سے زیادہ پرانے ٹائرز ری سائیکل ہونے کے انتظار میں پڑے ہوئے تھے کہ جسے دنیا کا سب...

پاکستان 2023ء میں 5جی لانچ کرے گا

پاکستان وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام 2023ء تک ملک میں جدید ترین 5جی ٹیکنالوجی لانے کا ہدف رکھتی ہے۔ ملک میں گزشتہ تین سال...

بٹ کوائن کو بطور کرنسی قبول کرنے والا دنیا کا پہلا ملک

ایل سیلواڈور لاطینی امریکا میں واقع ایک ملک ہے، جس نے مشہور ڈجیٹل کرنسی 'بٹ کوائن' کو قانونی حیثیت دے دی ہے اور یہ...
- Advertisement -

برما کے سیاست دانوں نے عوام سے فوجی حکومت کے خلاف "دفاعی جنگ” کا مطالبہ کر دیا ہے۔

برما، جس کا نیا نام میانمار ہے، میں فوج نے یکم فروری کو حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کر لیا تھا۔

ملک میں سیاست دانوں نے گزشتہ انتخابات میں منتخب ہونے والے نمائندوں پر مبنی ایک متوازی حکومت قائم کر رکھی ہے، جسے نیشنل یونٹی گورنمنٹ (NUF) کا نام دیا گیا ہے۔ اس کے عبوری صدر دووا لاشی لا نے فیس بک پر ایک وڈیو میں عوام سے مطالبہ کیا ہے کہ "نیشنل یونٹی گورنمنٹ نے عوام کی جان اور مال کے تحفظ کی ذمہ داری کے ساتھ فوجی اقتدار کے خلاف دفاعی جنگ کا آغاز کر دیا ہے۔”

دووا لاشی لا نے کہا کہ "کیونکہ یہ ایک عوامی انقلاب ہے، اس لیے برما کے تمام شہری ملک کے کونے کھدرے میں فوجی دہشت گردوں کے خلاف بغاوت کریں کہ جن کی قیادت من آنگ ہلینگ کے ہاتھ میں ہے۔”

برما سینیئر جرنیل منگ آنگ ہلینگ نے ہی آنگ سان سو چی کی منتخب حکومت کا تختہ الٹا تھا۔

برما میں مظاہرے بڑھنے لگے، فوج کی “سخت کارروائی” کی دھمکی

فوجی بغاوت کے خلاف ملک کے کئی علاقوں میں بڑے مظاہرے ہوں اور سول نافرمانی کی تحریک نے بھی جنم لیا، لیکن فوجی حکومت کا رد عمل بہت سخت تھا، جس میں 1,000 سے زیادہ افراد مارے گئے، ہزاروں کو جیلوں میں ٹھونسا گیا اور لاکھوں بے گھر ہوئے۔

اس زبردست کریک ڈاؤن کے نتیجے میں فوجی حکومت کے خلاف ملک کے سرحدی علاقوں میں ایک مسلح جدوجہد نے جنم لیا اور ان کا مقابلہ کرنے کے لیے ‘پیپلز ڈیفنس فورس’ تشکیل دی گئی۔

صورت حال کو بہتر بنانے کے لیے مغربی ممالک کی پابندیوں اور پڑوسی ممالک کے تمام تر دباؤ کے باوجود سفارتی کوششیں ناکام ہو چکی ہیں۔

برما میں فیس بک اور سوشل میڈیا پر پابندیاں، انٹرنیٹ محدود

اپنے وڈیو پیغام میں دووا لاشی لا نے فوج پر "جنگی جرائم” کا الزام لگایا اور مقامی گروپوں سے مطالبہ کیا کہ وہ فوج پر "فوری حملے” کریں۔ انہوں نے کہا کہ "اپنی علاقوں پر پورا کنٹرول حاصل کریں اور وہاں فوجی حکومت اور اس کے اثاثوں کو نشانہ بنائیں۔”

دووا لاشی نے فوج کے مقرر کردہ بیورو کریٹس سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ اپنی ملازمتوں سے استعفے دے دیں اور سرحدی محافظوں اور سپاہیوں سے کہا کہ وہ عوام کے ساتھ مل کر عوام دشمنوں پر حملے کریں۔ "آج فوجی حکومت کے ماتحت کام کرنے والے تمام سرکاری ملازمین کو خبردار کیا جاتا ہے کہ وہ دفتر جانا چھوڑ دیں۔” انہوں نے عوام کو "غیر ضروری سفر” کرنے سے بھی منع کیا اور کہا کہ وہ راشن اور ادویات جمع کر لیں۔

"ہم منگ آنگ ہلینگ کو اقتدار سے ہٹا کر اور میانمار سے آمریت کا خاتمہ کر کے دم لیں گے۔ ہم ایک پر امن وفاقی جمہوریہ قائم کریں گے جو یکساں طور پر سب کا تحفظ کرے گی۔”

فوجی جرنیلوں نے ابھی تک اس پیغام کا کوئی جواب نہیں دیا۔

مزید تحاریر

بھارت میں موجود افغان مہاجرین مظاہروں پر مجبور ہو گئے

بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں موجود افغان مہاجرین ہفتہ بھر سے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (UNHCR) کے دفتر کے باہر احتجاج...

دنیا کا سب سے بڑا ‘ٹائروں کا قبرستان’ ختم کر دیا گیا

کویت کے صحرا میں 4.2 کروڑ سے زیادہ پرانے ٹائرز ری سائیکل ہونے کے انتظار میں پڑے ہوئے تھے کہ جسے دنیا کا سب...

پاکستان 2023ء میں 5جی لانچ کرے گا

پاکستان وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام 2023ء تک ملک میں جدید ترین 5جی ٹیکنالوجی لانے کا ہدف رکھتی ہے۔ ملک میں گزشتہ تین سال...

بٹ کوائن کو بطور کرنسی قبول کرنے والا دنیا کا پہلا ملک

ایل سیلواڈور لاطینی امریکا میں واقع ایک ملک ہے، جس نے مشہور ڈجیٹل کرنسی 'بٹ کوائن' کو قانونی حیثیت دے دی ہے اور یہ...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے