21.6 C
Islamabad
ہفتہ, دسمبر 4, 2021

ترکی اور عرب ممالک کے تعلقات بحالی کی جانب گامزن؟

تازہ ترین

ورلڈکپ کون جیتے گا؟ – احمدحماد

کرکٹ کانواں ورلڈ کپ ٹورنامنٹ ۲۰۰۷ء کے موسم بہار میں ویسٹ انڈیز میں کھیلا گیا۔ یہ ورلڈ کپ ون ڈے انٹرنیشنل میچوں پہ مشتمل...

بُزدار کا لاہور – احمدحماد

لاہورہزاروں سال پرانا شہر ہے۔یہاں کے باسی اس سے بہت پیار کرتے ہیں۔جس طرح عربی زبان بولنے والے دیگر زبانیں بولنے والوں کو گونگا...

مزاحمت لیکس – احمدحماد

بارہ اکتوبر ۱۹۹۹؁ء کے فوجی انقلاب کی دو کہانیاں ہیں۔ اور دونوں ہی عوام نے سن رکھی ہیں۔ ایک کہانی وہ ہے جو ہم...

شہبازشریف کے خلاف لندن میں کوئی مقدمہ نہیں بنایا گیا، شہزاد اکبر

مشیر داخلہ واحتساب شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن غلط بیانی کررہی ہے۔ شہبازشریف کے خلاف لندن میں کوئی مقدمہ بنایا گیا...
- Advertisement -

ترکی اور اس کے عرب پڑوسیوں کے درمیان تعلقات میں تقریباً ایک دہائی سے موجود سرد مہری بالآخر ختم ہوتی نظر آ رہی ہے۔ منگل کو انقرہ میں ترکی اور مصر کے اعلیٰ عہدیداروں کی ملاقات ہو رہی ہے۔ یہ سالہا سال کے باہمی عدم اعتماد اور بسا اوقات کھلی عداوت کے اظہار کے بعد ایک نمایاں پیش رفت ہے۔

ترک دارالحکومت میں نائب وزیر خارجہ سطح کا اجلاس دراصل مئی کے قاہرہ اجلاس کے بعد ترک-مصر مذاکرات کا دوسرا مرحلہ ہے۔ یہ دراصل 2013ء کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان پہلے اعلیٰ سطحی مذاکرات ہیں۔

ترکی اور عرب ریاستوں کے درمیان اختلافات نے 2011ء کی ‘عرب بہار’ میں جنم لیا۔ تب حکومت مخالف تحریکوں نے پورے مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا اور دہائیوں سے اقتدار پر قابض آمروں کے تخت ہل رہے تھے۔ تب ترکی نے عوامی مظاہروں میں پیش پیش اخوان المسلمون کی حمایت کی کہ جس نے مختلف ملکوں میں عرب حکومتوں پر اصلاحات کرنے اور جمہوریت کے قیام کے لیے دباؤ ڈالا تھا۔

ترکی کے ساتھ کشیدہ تعلقات نہیں چاہتے، بس اخوان کی حمایت بند کرے، عرب امارات

لیکن آج 10 سال بعد حالات کافی مختلف ہیں۔ کئی ملکوں میں ترکی کے حامی عناصر کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا اور انقرہ خطے میں تنہا رہ گیا۔ ترکی اور مصر کے درمیان خلیج اس وقت مزید بڑھی جب 2013ء میں فوجی جرنیل عبد الفتاح السیسی نے منتخب صدر محمد مرسی کا تختہ الٹ دیا تھا۔ مرسی کا تعلق اخوان المسلمون سے تھا اور وہ ترکی کے قریبی دوست سمجھے تھے۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات مصری فوج کے ساتھ اور ترکی کے خلاف سینہ تان کر کھڑے ہو گئے کیونکہ وہ دونوں بھی اخوان کو اپنی بادشاہتوں کے خلاف ایک بڑا خطرہ سمجھتے تھے۔

سعودی عرب کے ساتھ ترکی کے اختلافات اس وقت نئی بلندیوں پر پہنچے جب 2018ء میں سعودی صحافی جمال خاشقجی کو استنبول میں واقع سعودی قونصل خانے میں قتل کر دیا گیا تھا۔ صدر رجب طیب ارطوغان نے اس کا الزام سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے اندرونی حلقوں پر لگایا تھا۔

جو کسر رہ گئی تھی وہ 2019ء کی لیبیا کی خانہ جنگی میں ترکی کے کردار سے پوری ہو گئی۔ ترکی لیبیا میں اقوام متحدہ کی منظور شدہ حکومت کا حامی ہے جبکہ مصر، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب اس کے خلاف کھڑے ہیں۔

پھر 2017ء میں مصر، امارات، سعودی عرب اور بحرین کی جانب سے ترکی کے علاقائی اتحادی قطر کا بائیکاٹ کیا گیا۔ یوں عرب ممالک اور انقرہ کے مابین تناؤ میں مزید اضافہ ہو گیا۔

سعودی عرب نے قطر کا بائیکاٹ ختم کر دیا

لیکن رواں سال صورت حال بہتر ہوئی ہے۔ رواں سال کے اوائل میں قطری بائیکاٹ کا خاتمہ ہوا اور گزشتہ ہفتے صدر رجب طیب ارطوغان نے اماراتی ولی عہد محمد بن زاید سے فون پر رابطہ بھی کیا۔ گو کہ ابھی تک سعودی ولی عہد کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں ہوا لیکن ترک صدر نے مئی میں شاہ سلمان بن عبد العزیز سے تعلقات کو بہتر بنانے پر ضرور بات کی تھی۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خطے کی حرکیات (dynamics) میں تبدیلی نے انقرہ اور اس کے سابق مخالفین کے درمیان مفاہمت کا ماحول پیدا کیا ہے۔ ‘عرب بہار’ کے زمانے میں حالات بالکل مختلف تھے۔ کئی عرب حکومتیں داؤ پر لگی ہوئی تھیں اور اخوان کی مقبولیت عروج پر تھی، اس لیے عرب ممالک نے ترکی کو ایک بڑا خطرہ سمجھا۔ لیکن اب حالات مختلف ہیں۔ خاص طور پر افغانستان سے امریکی انخلا نے واشنگٹن کے علاقائی کردار پر اعتماد کو بھی ٹھیس پہنچائی ہے۔ یعنی اب خطے میں امریکا کے بغیر معاملات چلانے کی سوچ پروان چڑھ رہی ہے۔

اس کے علاوہ اس گرم جوشی کے کچھ معاشی عوامل بھی ہیں، جن کا تعلق کرونا وائرس کی آمد کے بعد ان معیشتوں کو پہنچنے والے نقصان اور بہتر تعلقات سے تجارت اور سرمایہ کاری کا ماحول بہتر بننے سے ہے۔

مزید تحاریر

ورلڈکپ کون جیتے گا؟ – احمدحماد

کرکٹ کانواں ورلڈ کپ ٹورنامنٹ ۲۰۰۷ء کے موسم بہار میں ویسٹ انڈیز میں کھیلا گیا۔ یہ ورلڈ کپ ون ڈے انٹرنیشنل میچوں پہ مشتمل...

بُزدار کا لاہور – احمدحماد

لاہورہزاروں سال پرانا شہر ہے۔یہاں کے باسی اس سے بہت پیار کرتے ہیں۔جس طرح عربی زبان بولنے والے دیگر زبانیں بولنے والوں کو گونگا...

مزاحمت لیکس – احمدحماد

بارہ اکتوبر ۱۹۹۹؁ء کے فوجی انقلاب کی دو کہانیاں ہیں۔ اور دونوں ہی عوام نے سن رکھی ہیں۔ ایک کہانی وہ ہے جو ہم...

شہبازشریف کے خلاف لندن میں کوئی مقدمہ نہیں بنایا گیا، شہزاد اکبر

مشیر داخلہ واحتساب شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن غلط بیانی کررہی ہے۔ شہبازشریف کے خلاف لندن میں کوئی مقدمہ بنایا گیا...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے