19.9 C
Islamabad
ہفتہ, دسمبر 4, 2021

بدنام زمانہ اسلام مخالف دہشت گرد رہنما کو رہا کر دیا گیا

تازہ ترین

ورلڈکپ کون جیتے گا؟ – احمدحماد

کرکٹ کانواں ورلڈ کپ ٹورنامنٹ ۲۰۰۷ء کے موسم بہار میں ویسٹ انڈیز میں کھیلا گیا۔ یہ ورلڈ کپ ون ڈے انٹرنیشنل میچوں پہ مشتمل...

بُزدار کا لاہور – احمدحماد

لاہورہزاروں سال پرانا شہر ہے۔یہاں کے باسی اس سے بہت پیار کرتے ہیں۔جس طرح عربی زبان بولنے والے دیگر زبانیں بولنے والوں کو گونگا...

مزاحمت لیکس – احمدحماد

بارہ اکتوبر ۱۹۹۹؁ء کے فوجی انقلاب کی دو کہانیاں ہیں۔ اور دونوں ہی عوام نے سن رکھی ہیں۔ ایک کہانی وہ ہے جو ہم...

شہبازشریف کے خلاف لندن میں کوئی مقدمہ نہیں بنایا گیا، شہزاد اکبر

مشیر داخلہ واحتساب شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن غلط بیانی کررہی ہے۔ شہبازشریف کے خلاف لندن میں کوئی مقدمہ بنایا گیا...
- Advertisement -

برما کی فوجی حکومت نے قوم پرست اور بدنام زمانہ اسلام مخالف بدھ رہنما اشین وراتھو کو رہا کر دیا ہے۔ ان پر گزشتہ دورِ حکومت میں بغاوت کا مقدمہ تھا دائر کیا گیا تھا لیکن اب ان پر عائد تمام الزامات واپس لے لیے گئے ہیں۔

وراتھو کو برما میں مذہبی منافرت پھیلانے کی وجہ سے ٹائم میگزین نے "بدھ دہشت کا چہرہ” قرار دیا تھا لیکن اب فوجی حکومت نے ان پر موجود تمام الزامات ختم کر دیے ہیں اور وہ اس وقت ایک فوجی ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔

اشین وراتھو کا تعلق برما کے وسطی شہر منڈالے سے ہے، جہاں 2001ء میں وہ مسلمان مخالف ‘969 گروپ’ کا حصہ بنے اور 2003ء میں گرفتار کر لیے گئے۔ 2010ء میں رہائی کے دو سال بعد وہ اس وقت دنیا بھر میں مشہور ہوئے جب مغربی ریاست اراکان میں اقلیتی مسلمان روہنگیا برادری کا قتلِ عام شروع ہوا۔ انہوں نے ایک قوم پرست تنظیم بنائی کہ جس نے عوام کو مسلمانوں کے خلاف تشدد پر اکسایا۔ 2017ء میں برما کی اعلیٰ ترین بدھ مجلس نے انہیں تقاریر کرنے سے روک دیا تھا اور 2018ء نے فیس بک نے ان کا اکاؤنٹ بھی بند کر دیا تھا لیکن 53 سالہ وراتھو بدستور قوم پرستوں کے اجتماعات میں شریک ہوتے، جہاں ایک طرف آنگ سان سو چی کی حکومت پر بد عنوانی کے الزامات لگائے جاتے تو دوسری جانب مسلمانوں کے خلاف زہر اگلا جاتا۔

پچھلے سال سابقہ حکومت نے انہیں نفرت انگیزی اور سیاسی بے چینی پھیلانے پر قید میں ڈال دیا تھا اور ان پر بغاوت کا مدمہ درج کیا گیا۔

‏”جو نظر آئے اسے گولی مار دو،” برما کے دو فوجیوں نے مسلمانوں کے قتلِ عام کا اعتراف کر لیا

لیکن رواں سال یکم فروری کو برما میں فوجی بغاوت ہو گئی اور نتیجتاً آنگ سان سو چی کی حکومت کا خاتمہ ہو گیا۔ ملک تب سے سنگین مسائل سے دوچار ہے، پہلے ملک گیر مظاہرے ہوئے جن سے فوجی حکومت آہنی ہاتھوں سے نمٹی۔ ہزاروں افراد مارے گئے، لاکھوں بے گھر ہوئے اور ملکی معیشت تاریخ کی بدترین حالت تک پہنچ گئی۔ اس صورت حال میں کہ وراتھو جیسے دہشت گرد کی رہائی مستقبل کی ایک بھیانک تصویر پیش کر رہی ہے جبکہ سیاسی جماعتوں نے بھی مسلح جدوجہد کا اعلان کر چکی ہیں۔

بہرحال، اشین وراتھو بدھ اکثریت رکھنے والے ملک میں مسلمان اقلیت کے خلاف بڑے پیمانے پر بد گمانی اور نفرت پھیلانے میں پیش پیش رہے۔ روہنگیا مسلمانوں کو بنگلہ دیش سے آنے والے مہاجر قرار دیا گیا حالانکہ ان کی نسلیں صدیوں سے برما میں مقیم ہیں۔

ابھی مسلمان بدھ دہشت گردوں کے مظالم ہی سہہ رہے تھے کہ 2017ء میں حکومت نے پولیس اہلکاروں حملے کو جواز بناتے ہوئے بد ترین کریک ڈاؤن کیا اور ان کی باقاعدہ نسل کشی کی گئی۔ لاکھوں روہنگیا مسلمان بنگلہ دیش ہجرت پر مجبور ہو گئے ہیں۔

وراتھو کے پیروکاروں کی تعداد بہت زیادہ ہے اور وہ فوج کے ساتھ قریبی تعلق رکھتے ہیں۔

یاد رہے کہ فوجی جرنیلوں نے نومبر 2020ء کے انتخابات میں دھاندلی کا بہانہ بناتے ہوئے بعد ازاں اقتدار پر قبضہ کر لیا، آنگ سان سو چی کو گرفتار کیا گیا اور اب ان پر مختلف الزامات کے تحت مقدمات چل رہے ہیں۔

مزید تحاریر

ورلڈکپ کون جیتے گا؟ – احمدحماد

کرکٹ کانواں ورلڈ کپ ٹورنامنٹ ۲۰۰۷ء کے موسم بہار میں ویسٹ انڈیز میں کھیلا گیا۔ یہ ورلڈ کپ ون ڈے انٹرنیشنل میچوں پہ مشتمل...

بُزدار کا لاہور – احمدحماد

لاہورہزاروں سال پرانا شہر ہے۔یہاں کے باسی اس سے بہت پیار کرتے ہیں۔جس طرح عربی زبان بولنے والے دیگر زبانیں بولنے والوں کو گونگا...

مزاحمت لیکس – احمدحماد

بارہ اکتوبر ۱۹۹۹؁ء کے فوجی انقلاب کی دو کہانیاں ہیں۔ اور دونوں ہی عوام نے سن رکھی ہیں۔ ایک کہانی وہ ہے جو ہم...

شہبازشریف کے خلاف لندن میں کوئی مقدمہ نہیں بنایا گیا، شہزاد اکبر

مشیر داخلہ واحتساب شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن غلط بیانی کررہی ہے۔ شہبازشریف کے خلاف لندن میں کوئی مقدمہ بنایا گیا...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے