19.9 C
Islamabad
ہفتہ, دسمبر 4, 2021

دنیا کا سب سے بڑا ‘ٹائروں کا قبرستان’ ختم کر دیا گیا

تازہ ترین

ورلڈکپ کون جیتے گا؟ – احمدحماد

کرکٹ کانواں ورلڈ کپ ٹورنامنٹ ۲۰۰۷ء کے موسم بہار میں ویسٹ انڈیز میں کھیلا گیا۔ یہ ورلڈ کپ ون ڈے انٹرنیشنل میچوں پہ مشتمل...

بُزدار کا لاہور – احمدحماد

لاہورہزاروں سال پرانا شہر ہے۔یہاں کے باسی اس سے بہت پیار کرتے ہیں۔جس طرح عربی زبان بولنے والے دیگر زبانیں بولنے والوں کو گونگا...

مزاحمت لیکس – احمدحماد

بارہ اکتوبر ۱۹۹۹؁ء کے فوجی انقلاب کی دو کہانیاں ہیں۔ اور دونوں ہی عوام نے سن رکھی ہیں۔ ایک کہانی وہ ہے جو ہم...

شہبازشریف کے خلاف لندن میں کوئی مقدمہ نہیں بنایا گیا، شہزاد اکبر

مشیر داخلہ واحتساب شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن غلط بیانی کررہی ہے۔ شہبازشریف کے خلاف لندن میں کوئی مقدمہ بنایا گیا...
- Advertisement -

کویت کے صحرا میں 4.2 کروڑ سے زیادہ پرانے ٹائرز ری سائیکل ہونے کے انتظار میں پڑے ہوئے تھے کہ جسے دنیا کا سب سے بڑا ٹائروں کا قبرستان کہا جاتا تھا۔ یہ اتنا بڑا تھا کہ خلا سے بھی صحرا میں ایک سیاہ دھبے کی صورت میں نظر آتا تھا لیکن اب اسے سعودی سرحد کے قریب ایک نئے مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں ان کو ری سائیکل کیا جائے گا۔

صُلیبیہ ٹائر قبرستان رہائشی علاقوں سے صرف 7 کلومیٹرز کی دوری پر واقع تھا اور اس کی موجودگی ان مکینوں کے لیے کسی عذاب سے کم نہیں تھی۔ کیونکہ ٹائروں کو تلف کرنے کے لیے جلایا بھی جاتا تھا، جن سے اٹھنے والا کالا دھواں مقامی افراد کے لیے ناقابلِ برداشت تھا۔

لیکن رواں مہینے کویت نے ان کروڑوں ٹائروں کو سعودی سرحد کے قریب سالمی نامی علاقے میں منتقل کر دیا ہے اور اب اس جگہ پر 25 ہزار نئے مقامات تعمیر کی جائے گی۔ اب نئے مقام پر ایک ری سائیکلنگ کمپنی ان پرانے ٹائروں کو استعمال کر کے رنگین فرشی ٹائلز بنا رہی ہے۔ اس ادارے کا کہنا ہے کہ یہ کارخانہ پرانے ٹائروں کو کارآمد مصنوعات میں بدلنے کے لیے کام کر رہا ہے، جنہیں خلیجی ممالک اور ایشیا کو بھی برآمد کیا جائے گا۔ اس پلانٹ نے جنوری 2021ء میں کام کا آغاز کیا تھا اور سالانہ 30 لاکھ ٹائروں کو ری سائیکل کر سکتا ہے۔

پرانے ٹائرز دنیا بھر میں ایک بہت بڑا ماحولیاتی مسئلہ ہیں کیونکہ ان سے بہت سے کیمیائی مادّے خارج ہوتے ہیں۔

کویت تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک کا رکن ہے اور اس کی آبادی تقریباً 45 لاکھ ہے۔ لیکن ملک میں گاڑیوں کی تعداد 2019ء کے اعداد و شمار کے مطابق ہی 24 لاکھ تھی۔ اس لیے یہاں ٹائروں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ سالمی کو ٹائر ری سائیکلنگ کا مرکز بنایا جائے گا اور مزید پلانٹس بھی تعمیر ہوں گے۔

رواں ماہ ٹائروں کی یہاں منتقلی کے لیے روزانہ 500 ٹرکوں تک کو استعمال کیا گیا اور اب مزید ایک کارخانہ کھولنے کا منصوبہ ہے، جس میں پائرولائسس (Pyrolysis) نامی عمل سے ٹائروں کو جلایا جائے گا، جس سے ایک قسم کا تیل پیدا ہوتا ہے جسے صنعتی بھٹیوں مثلاً سیمنٹ سازی کے کارخانوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اس عمل سے بچ جانے والی راکھ، جسے ‘کاربن بلیک’ کہتے ہیں، بھی مختلف صنعتوں میں استعمال ہوتی ہے۔

مزید تحاریر

ورلڈکپ کون جیتے گا؟ – احمدحماد

کرکٹ کانواں ورلڈ کپ ٹورنامنٹ ۲۰۰۷ء کے موسم بہار میں ویسٹ انڈیز میں کھیلا گیا۔ یہ ورلڈ کپ ون ڈے انٹرنیشنل میچوں پہ مشتمل...

بُزدار کا لاہور – احمدحماد

لاہورہزاروں سال پرانا شہر ہے۔یہاں کے باسی اس سے بہت پیار کرتے ہیں۔جس طرح عربی زبان بولنے والے دیگر زبانیں بولنے والوں کو گونگا...

مزاحمت لیکس – احمدحماد

بارہ اکتوبر ۱۹۹۹؁ء کے فوجی انقلاب کی دو کہانیاں ہیں۔ اور دونوں ہی عوام نے سن رکھی ہیں۔ ایک کہانی وہ ہے جو ہم...

شہبازشریف کے خلاف لندن میں کوئی مقدمہ نہیں بنایا گیا، شہزاد اکبر

مشیر داخلہ واحتساب شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن غلط بیانی کررہی ہے۔ شہبازشریف کے خلاف لندن میں کوئی مقدمہ بنایا گیا...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے