26 C
Islamabad
ہفتہ, ستمبر 18, 2021

دنیا کا سب سے بڑا ‘ٹائروں کا قبرستان’ ختم کر دیا گیا

تازہ ترین

بھارت میں موجود افغان مہاجرین مظاہروں پر مجبور ہو گئے

بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں موجود افغان مہاجرین ہفتہ بھر سے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (UNHCR) کے دفتر کے باہر احتجاج...

دنیا کا سب سے بڑا ‘ٹائروں کا قبرستان’ ختم کر دیا گیا

کویت کے صحرا میں 4.2 کروڑ سے زیادہ پرانے ٹائرز ری سائیکل ہونے کے انتظار میں پڑے ہوئے تھے کہ جسے دنیا کا سب...

پاکستان 2023ء میں 5جی لانچ کرے گا

پاکستان وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام 2023ء تک ملک میں جدید ترین 5جی ٹیکنالوجی لانے کا ہدف رکھتی ہے۔ ملک میں گزشتہ تین سال...

بٹ کوائن کو بطور کرنسی قبول کرنے والا دنیا کا پہلا ملک

ایل سیلواڈور لاطینی امریکا میں واقع ایک ملک ہے، جس نے مشہور ڈجیٹل کرنسی 'بٹ کوائن' کو قانونی حیثیت دے دی ہے اور یہ...
- Advertisement -

کویت کے صحرا میں 4.2 کروڑ سے زیادہ پرانے ٹائرز ری سائیکل ہونے کے انتظار میں پڑے ہوئے تھے کہ جسے دنیا کا سب سے بڑا ٹائروں کا قبرستان کہا جاتا تھا۔ یہ اتنا بڑا تھا کہ خلا سے بھی صحرا میں ایک سیاہ دھبے کی صورت میں نظر آتا تھا لیکن اب اسے سعودی سرحد کے قریب ایک نئے مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں ان کو ری سائیکل کیا جائے گا۔

صُلیبیہ ٹائر قبرستان رہائشی علاقوں سے صرف 7 کلومیٹرز کی دوری پر واقع تھا اور اس کی موجودگی ان مکینوں کے لیے کسی عذاب سے کم نہیں تھی۔ کیونکہ ٹائروں کو تلف کرنے کے لیے جلایا بھی جاتا تھا، جن سے اٹھنے والا کالا دھواں مقامی افراد کے لیے ناقابلِ برداشت تھا۔

لیکن رواں مہینے کویت نے ان کروڑوں ٹائروں کو سعودی سرحد کے قریب سالمی نامی علاقے میں منتقل کر دیا ہے اور اب اس جگہ پر 25 ہزار نئے مقامات تعمیر کی جائے گی۔ اب نئے مقام پر ایک ری سائیکلنگ کمپنی ان پرانے ٹائروں کو استعمال کر کے رنگین فرشی ٹائلز بنا رہی ہے۔ اس ادارے کا کہنا ہے کہ یہ کارخانہ پرانے ٹائروں کو کارآمد مصنوعات میں بدلنے کے لیے کام کر رہا ہے، جنہیں خلیجی ممالک اور ایشیا کو بھی برآمد کیا جائے گا۔ اس پلانٹ نے جنوری 2021ء میں کام کا آغاز کیا تھا اور سالانہ 30 لاکھ ٹائروں کو ری سائیکل کر سکتا ہے۔

پرانے ٹائرز دنیا بھر میں ایک بہت بڑا ماحولیاتی مسئلہ ہیں کیونکہ ان سے بہت سے کیمیائی مادّے خارج ہوتے ہیں۔

کویت تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک کا رکن ہے اور اس کی آبادی تقریباً 45 لاکھ ہے۔ لیکن ملک میں گاڑیوں کی تعداد 2019ء کے اعداد و شمار کے مطابق ہی 24 لاکھ تھی۔ اس لیے یہاں ٹائروں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ سالمی کو ٹائر ری سائیکلنگ کا مرکز بنایا جائے گا اور مزید پلانٹس بھی تعمیر ہوں گے۔

رواں ماہ ٹائروں کی یہاں منتقلی کے لیے روزانہ 500 ٹرکوں تک کو استعمال کیا گیا اور اب مزید ایک کارخانہ کھولنے کا منصوبہ ہے، جس میں پائرولائسس (Pyrolysis) نامی عمل سے ٹائروں کو جلایا جائے گا، جس سے ایک قسم کا تیل پیدا ہوتا ہے جسے صنعتی بھٹیوں مثلاً سیمنٹ سازی کے کارخانوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اس عمل سے بچ جانے والی راکھ، جسے ‘کاربن بلیک’ کہتے ہیں، بھی مختلف صنعتوں میں استعمال ہوتی ہے۔

مزید تحاریر

بھارت میں موجود افغان مہاجرین مظاہروں پر مجبور ہو گئے

بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں موجود افغان مہاجرین ہفتہ بھر سے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (UNHCR) کے دفتر کے باہر احتجاج...

دنیا کا سب سے بڑا ‘ٹائروں کا قبرستان’ ختم کر دیا گیا

کویت کے صحرا میں 4.2 کروڑ سے زیادہ پرانے ٹائرز ری سائیکل ہونے کے انتظار میں پڑے ہوئے تھے کہ جسے دنیا کا سب...

پاکستان 2023ء میں 5جی لانچ کرے گا

پاکستان وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام 2023ء تک ملک میں جدید ترین 5جی ٹیکنالوجی لانے کا ہدف رکھتی ہے۔ ملک میں گزشتہ تین سال...

بٹ کوائن کو بطور کرنسی قبول کرنے والا دنیا کا پہلا ملک

ایل سیلواڈور لاطینی امریکا میں واقع ایک ملک ہے، جس نے مشہور ڈجیٹل کرنسی 'بٹ کوائن' کو قانونی حیثیت دے دی ہے اور یہ...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے