28.2 C
Islamabad
جمعہ, ستمبر 17, 2021

بھارت میں موجود افغان مہاجرین مظاہروں پر مجبور ہو گئے

تازہ ترین

بھارت میں موجود افغان مہاجرین مظاہروں پر مجبور ہو گئے

بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں موجود افغان مہاجرین ہفتہ بھر سے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (UNHCR) کے دفتر کے باہر احتجاج...

دنیا کا سب سے بڑا ‘ٹائروں کا قبرستان’ ختم کر دیا گیا

کویت کے صحرا میں 4.2 کروڑ سے زیادہ پرانے ٹائرز ری سائیکل ہونے کے انتظار میں پڑے ہوئے تھے کہ جسے دنیا کا سب...

پاکستان 2023ء میں 5جی لانچ کرے گا

پاکستان وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام 2023ء تک ملک میں جدید ترین 5جی ٹیکنالوجی لانے کا ہدف رکھتی ہے۔ ملک میں گزشتہ تین سال...

بٹ کوائن کو بطور کرنسی قبول کرنے والا دنیا کا پہلا ملک

ایل سیلواڈور لاطینی امریکا میں واقع ایک ملک ہے، جس نے مشہور ڈجیٹل کرنسی 'بٹ کوائن' کو قانونی حیثیت دے دی ہے اور یہ...
- Advertisement -

بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں موجود افغان مہاجرین ہفتہ بھر سے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (UNHCR) کے دفتر کے باہر احتجاج کر رہے ہیں کہ انہیں مہاجر کی حیثیت سے تسلیم کیا جائے اور بچوں کے لیے بہتر معاشی حالات کی یقین دہانی کروائی جائے۔

مظاہرین میں زیادہ تر خواتین اور ان کے بچے شامل ہیں کہ جو چند سال پہلے بھارت آئے تھے لیکن اب تک انہیں کوئی قانونی حیثیت نہیں ملی اور وہ معاشی لحاظ سے شدید مشکلات سے دو چار ہیں۔

بھارت میں ہزاروں افغان مہاجرین کو سرکاری طور پر تسلیم نہیں کیا جاتا کیونکہ ملک میں مہاجرین کے حوالے سے کوئی قانون سرے سے موجود ہی نہیں۔ 1946ء کے فارنرز ایکٹ کے تحت ملک میں ہجرت کر کے آنے والے تمام افراد کو غیر قانونی مہاجر تصور کیا جاتا ہے۔

اقوام متحدہ کا ادارہ ان مہاجرین کی درخواستوں پر عمل کرنے اور بھارت میں ان کی حیثیت کا تعین کرنے کا ذمہ دار ہے۔ تب تک انہیں ایک دستاویز دی جاتی ہے جو انہیں ملک میں رہنے کی اجازت دیتی ہے۔ نیلے رنگ کا یہ کاغذ کا پرزہ خود بھارتی حکام کی نظروں میں کوئی اہمیت نہیں رکھتا اور ان افغان مہاجرین کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

بھارت افغانوں کو ویزے دے گا، لیکن مذہبی بنیادوں پر؟

بھارتی حکومت اور سرکاری عہدیداروں کی مدد کے بغیر پناہ کے یہ خواہش مند اور مہاجرین نہ گھر کرائے پر لے سکتے ہیں اور نہ تعلیم کے سلسلے میں آگے بڑھ پاتے ہیں، پھر کوئی کام کرنا تو جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔

بھارت میں افغان مہاجرین کی برادری کے نمائندے احمد ضیا غنی کے مطابق ملک میں تقریباً 21 ہزار افغان موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری خواہش ہے کہ ہمیں افغان مہاجر کارڈ دیا جائے تاکہ طویل المیعاد ویزا حاصل کرنے کے لیے درخواست دے سکیں اور کام دھندا کر سکیں۔

اقوام متحدہ کے مطابق بھارت میں موجود لگ بھگ 11 ہزار افغان سیاسی پناہ کے خواہشمند کی حیثیت سے رجسٹرڈ ہیں۔ جس کا مطلب ہے کہ مہاجر کی با ضابطہ حیثیت ملنے سے پہلے ان کی درخواست پر غور کیا جا رہا ہے۔

امینہ مہمند ایک دہائی پہلے بھارت آئی تھیں۔ آج بھی ان کے پاس وہی نیلا کاغذ ہے اور اب بھی ان کی مہاجر کی درخواست زیر غور ہے۔ انہیں ہر سال اپنی اس دستاویز کی تجدید کروانا پڑتی ہے۔ پہلے وہ دہلی آنے والے افغانوں کے لیے ترجمان کا کام کرتی تھیں لیکن چند سال پہلے ان کی یہ ملازمت بھی چلی گئی تھی۔ جب وہ بھارت آئی تھیں تو ان کا بیٹا عماد صرف جھ سال کا تھا۔ اب وہ 16 سال کا ہو گیا ہے اور اس کا تعلیمی سلسلہ تک منقطع ہو گیا ہے۔ عماد کے مطابق اسکول کی تعلیم مکمل ہونے سے صرف چھ ماہ قبل اسے فیس کی عدم ادائیگی پر نکال دیا گیا۔ میں ڈاکٹر بننا چاہتا ہوں لیکن میرے پاس کچھ نہیں ہے۔

طالبان کی افغانستان میں واپسی، انتہا پسند ہندوؤں نے بھارتی مسلمانوں کا جینا حرام کر دیا

بیشتر خواتین کا کہنا ہے کہ انہیں افغانستان میں موجود رشتہ داروں سے پیسے ملتے تھے لیکن موجودہ حالات نے انہیں بہت پریشان کر دیا ہے۔

ایک خاتون نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اس کا شوہر افغانستان میں طالبان کا جنگجو تھا۔ وہ اپنی چھوٹی بیٹیوں کے ساتھ دہلی میں رہتی ہے اور ان کا کوئی ذریعہ آمدنی نہیں۔

ایک اور خاتون ناجیہ صمدی 2017ء میں اپنی چھوٹی بیٹی کے ساتھ بھارت آئی تھیں۔ وہ روزگار کی تلاش میں ہیں اور انہیں یہاں اپنی بیٹی کے مستقبل کی پریشانی لاحق ہے۔

دیگر کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ امریکا یا کینیڈا جیسے ممالک میں ان کا انتظام کرنے میں کوئی مدد نہیں دے رہی کیونکہ وہی واحد ادارہ ہے جو انہیں "سپورٹ لیٹر” جاری کر سکتا ہے جو سفارت خانے ویزے کے لیے عموماً تارکین وطن سے طلب کرتے ہیں۔

بھارت کا انوکھا اعلان، افغانوں کو جاری تمام ویزے منسوخ

دیگر خواتین چھوٹے موٹے کام کرتی ہیں، مثلاً گل بشریٰ احمد افغانستان میں وکیل تھیں لیکن 2019ء میں بھارت آمد کے بعد سے ایک گارمنٹ فیکٹری میں کام کر رہی ہیں۔ زہرہ اور برشنا دونوں بہنیں ہیں اور یہاں ان کے خاندان کا کوئی فرد نہیں۔ وہ لوگوں کے گھروں میں صفائی ستھرائی کا کام کرتی ہیں لیکن دونوں کا شوق تعلیم حاصل کرنا ہے۔

بھارت نے اقوام متحدہ کے ریفیوجی کنونشن 1951ء پر دستخط نہیں کیے اور مہاجرین کے حوالے سے 1967ء کے پروٹوکول کو بھی تسلیم نہیں کرتا۔ یہی وجہ ہے کہ سیاسی پناہ کے خواہش مندوں اور مہاجرین کے حوالے سے اس کی پالیسی ہمیشہ سخت رہی ہے۔ وہ ملک میں آنے والے افراد کے ساتھ کیسا سلوک کرتا ہے؟ اس کا تعلق مذکورہ ملک کے ساتھ اس کے تعلق پر ہے۔ مثلاً بھارتی حکومت تبت اور سری لنکا کے باسیوں کی تو مدد کرتی ہے لیکن برما کے روہنگیا مسلمانوں کو خطرہ سمجھتی ہے۔

نئی دہلی نے 17 اگست کو اعلان کیا تھا کہ وہ افغانستان کے تمام مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد کو پناہ دے گا۔ اس کا مطلب ہے کہ یہ مدد محض افغان ہندوؤں اور سکھوں کے لیے نہیں ہوگی۔ لیکن عملاً ایسا کچھ نہیں ہے۔ نہ کوئی واضح قانون موجود ہے اور نہ ہی ویزے جاری کرنے کے عمل کے بارے میں کوئی وضاحت کی گئی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ حال ہی میں سابق افغان پارلیمان کی ایک رکن کو استنبول سے دہلی آمد کے بعد ملک بدر کر دیا گیا، حالانکہ ان کے پاس سفارتی پاسپورٹ موجود تھا اور انہیں بھارت میں داخل ہونے کے لیے ویزے کی ضرورت نہیں تھی۔ لیکن دو گھنٹے تک پوچھ گچھ کرنے اور انتظار کروانے کے بعد بالآخر انہیں اگلی پرواز سے واپس بھیج دیا گیا۔

مزید تحاریر

بھارت میں موجود افغان مہاجرین مظاہروں پر مجبور ہو گئے

بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں موجود افغان مہاجرین ہفتہ بھر سے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (UNHCR) کے دفتر کے باہر احتجاج...

دنیا کا سب سے بڑا ‘ٹائروں کا قبرستان’ ختم کر دیا گیا

کویت کے صحرا میں 4.2 کروڑ سے زیادہ پرانے ٹائرز ری سائیکل ہونے کے انتظار میں پڑے ہوئے تھے کہ جسے دنیا کا سب...

پاکستان 2023ء میں 5جی لانچ کرے گا

پاکستان وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام 2023ء تک ملک میں جدید ترین 5جی ٹیکنالوجی لانے کا ہدف رکھتی ہے۔ ملک میں گزشتہ تین سال...

بٹ کوائن کو بطور کرنسی قبول کرنے والا دنیا کا پہلا ملک

ایل سیلواڈور لاطینی امریکا میں واقع ایک ملک ہے، جس نے مشہور ڈجیٹل کرنسی 'بٹ کوائن' کو قانونی حیثیت دے دی ہے اور یہ...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے