13.2 C
Islamabad
منگل, اکتوبر 26, 2021

مزاحمت لیکس – احمدحماد

تازہ ترین

بُزدار کا لاہور – احمدحماد

لاہورہزاروں سال پرانا شہر ہے۔یہاں کے باسی اس سے بہت پیار کرتے ہیں۔جس طرح عربی زبان بولنے والے دیگر زبانیں بولنے والوں کو گونگا...

مزاحمت لیکس – احمدحماد

بارہ اکتوبر ۱۹۹۹؁ء کے فوجی انقلاب کی دو کہانیاں ہیں۔ اور دونوں ہی عوام نے سن رکھی ہیں۔ ایک کہانی وہ ہے جو ہم...

شہبازشریف کے خلاف لندن میں کوئی مقدمہ نہیں بنایا گیا، شہزاد اکبر

مشیر داخلہ واحتساب شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن غلط بیانی کررہی ہے۔ شہبازشریف کے خلاف لندن میں کوئی مقدمہ بنایا گیا...

وفاق اور سندھ حکومت کو ایک ساتھ مل کر چلنا پڑے گا، وزیراعظم عمران خان

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ وفاق اور سندھ حکومت کو ایک ساتھ مل کر چلنا پڑے گا۔ کراچی کی اہمیت کا اندازہ...
- Advertisement -

بارہ اکتوبر ۱۹۹۹؁ء کے فوجی انقلاب کی دو کہانیاں ہیں۔ اور دونوں ہی عوام نے سن رکھی ہیں۔ ایک کہانی وہ ہے جو ہم نے آئین سے بغاوت کرکے فوجی انقلاب برپا کرنیوالے جنرل پرویز مشرف کی زبانی سنی۔ یہ کہانی انقلاب کے پہلے لمحے سے مسلسل ۹ برس تک مشرف اور ہمنوا تواتر کے ساتھ سناتے رہے۔سیانے کہتے ہیں کہ جس دن شکاری کے بجائے شیر تاریخ لکھنا شروع کر دیں گے، تاریخ بدل جائے گی۔ سو، ہم شکاری کی زبانی ہی بارہ اکتوبر کی کہانی سنتے رہے اور سر دُھنتے رہے۔

اور دوسری کہانی وہ ہے جو شیرلکھ رہا تھا ، یعنی اس وقت کے وزیراعظم نوازشریف جنہیں گرفتار کر کے قید میں ڈال دیا گیا تھا اور پریس سے بات کرنے کی آزادی بھی نہیں تھی۔ لہٰذا، نوازشریف کی طرف سے جو کہانی ہم تک پہنچی، ایک تو وہ مسلسل نہیں تھی بلکہ ٹکڑوں میں بٹی ہوئی تھی۔ تھوڑی سی جنرل ضیاء الدین بٹ نے سنا دی، تھوڑی چودھری نثارنے، تھوڑی نجم سیٹھی نے، تھوڑی مشاہد حسین نے اور تھوڑی خود نوازشریف نے؛ جسے وہ کبھی کبھار اخبار یا ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے بیان کر دیتے۔دوسرے ، جس طرح شکاری خود اپنے شکار کی مکمل کہانی بیان کرتا رہا، شیر نے یہ کہانی کبھی اپنی زبانی بیان نہیں کی۔ حتیٰ کہ ۲۲برس گزر گئے۔

پھر ایک روز اچانک شیر نے وہ کہانی اپنی زبانی سنانا شروع کر دی۔ اپنی سائیڈ کی مکمل کہانی، کہ اس کشمکش میں اس پہ کیا بیتی۔ آئین کی حفاظت میں اس کے روح اور بدن پہ کتنے زخم آئے اور شکاری کے ساتھیوں نے کس کس زاویے سے اور کتنے کتنے کاری وار کیے۔

جب سے شیرنے اپنی زبانی اپنی کہانی سنائی ہے، ہم سوچ رہے ہیں کہ شیر نے اپنی کہانی اپنی زبانی سنانے کے لیے ۲۲ سال انتظار کیوں کیا؟ اور یہ کہ یہ جو سیانے کہتے تھے کہ جس روز شکاری کے بجائے شیرتاریخ لکھے گا، تاریخ بدل جائے گی؛ کیا واقعی ایسا ہونے جا رہا ہے؟

ہم ان سوالوں کا جواب تلاش کرتے ہیں۔

سیاست میں ٹائمنگ اہم ہوا کرتی ہے۔جس نے بروقت چال چل دی، اس نے بازی جیت لی۔ شیر نے ۲۲ سال انتظار کیا اور وہ اس لیے کہ اسے معلوم تھا کہ شکاری کے پھیلائے ہوئے پروپیگنڈے کا دھواںجب تک فضا میں موجود رہا، شیر کی کہانی اس دھویں کا رزق بن جائے گی۔یہی وجہ ہے کہ اس نے ۲۰۰۸ کا الیکشن اپنی مظلومیت کی کہانی سنا کر لڑنے کے بجائے ججز کی بحالی کے ایشو پہ لڑا، کہ ابھی مناسب وقت نہیں تھا ان جاں گسل حقائق سے پردہ اٹھانے کا۔اگلایعنی ۲۰۱۳ کا الیکشن پیپلز پارٹی کی بیڈ گورننس نے شیر کے لیے آسان بنا دیا۔ لوڈشیڈنگ، دہشت گردی ، بنیادی وسائل کی کمی اور مہنگائی کے مارے پنجابیوں نے شیر کو دل کھول کر ووٹ دیے۔الیکشن کے بعد شیر نے وہیں سے سفر آغاز کیا جہاں ۱۹۹۹ء میںرک گیا تھا۔ ملک کے طول و عرض میں موٹرویزکا جال بچھا دیا۔ مہنگائی کنٹرول کی۔ دہشتگردی ختم کی اور بجلی کے کارخانے لگا کر اگلے کئی برس کے لیے توانائی کا مسئلہ حل کر دیا۔ اسی اثناء میں اس پہ ایک بار پھر جال پھینکا گیا۔ جال پرانا تھا، شکاری نئے۔ جیسا کہ عرض کیا کہ سیاست میں ٹائمنگ بہت اہم ہوتی ہے۔ شاید اتنی اہم جتنی ہمارے لیے سانس۔ سو، اب کے شیر نے فیصلہ کر لیا کہ پھینکے گئے جال کو بھی پھاڑ ڈالے گا اور اتنا لیر و لیر کر دے گا کہ آئندہ یہ کبھی استعمال کے قابل نہ رہے۔ اور، شکاریوں کو بھی بے نقاب کرے گا تاکہ وہ نیا جال نہ بُن سکیں اور غیر آئینی طور پر نیا شکار نہ کر سکیں۔

یہی وجہ ہے کہ سارا پانامہ ڈرامہ ختم ہونے کے بعد شیر نے اپنی سائیڈ کی کہانی اپنی زبانی سنانا شروع کر دی ہے۔ اسے علم ہے کہ یہاں محض خدمت کر لینے سے بھی قانون کی بالادستی قائم نہیں ہوگی اور پیپلزپارٹی کی طرزِ سیاست اختیار کر کے بھی پرانا جال پھینکنے کے لیے ہمہ وقت تیار نئے شکاریوں کو شکست نہیں دی جا سکتی۔

حقیقت یہ ہے کہ ان شکاریوں کو ان کی طالع آزمائی کے میدان میں شکست دیے بغیر یعنی ان کو آئین کا پابند کیے بغیر عوام کے ووٹ کی عزت نہیں کروائی جا سکتی۔ یاد رہے کہ پوٹینشل طالع آزمائوں کو آئین کے دائرہ کار تک محدود کرنا آئین کی بالادستی کی جنگ جیتنے کے مترادف نہیں۔ بلکہ یہ تو اس ہمہ جہت جنگ کا محض ایک معرکہ ہے ایک Battle ہے جس سے جنگ War جیتنے کے امکانات روشن ہونگے۔شیر جانتا ہے کہ یہ ایک طویل، صبر آزما اور اعصاب شکن جنگ ہے۔شیر یہ بھی جانتا ہے کہ اس جنگ میں فتح کا باب پہلے معرکے کی جیت سے کھلے گا۔ اور پہلا مرحلہ ہوگا شفاف الیکشنز کا انعقاد اور اس کے نتیجے میں تشکیل پانے والی پارلیمنٹ کی زیریں محکموں پہ بالادستی۔ شیر اس امر سے بھی آگاہ ہے کہ اس جنگ کا آغاز شکاریوں کو بے نقاب کرنے اور جال کو چیر پھاڑ دینے سے ہوگا۔شیر اس نتیجے پہ بھی پہنچ چکا ہے کہ قومی سیاست میں یہ فیصلہ کن موڑ آگیا ہے۔ ۲۰۱۸ کے رمضان المبارک کی حبس بھری گرمیوں میں جلسے کر کے اور اس سے ایک برس پہلے جی ٹی روڈ ریلی نکال کراس نے جس کام کا آغاز کیا تھا، یعنی اپنے ووٹر کی ’’ووٹ کی عزت‘‘ کی خاطر طویل جنگ لڑنے کے لیے ذہن سازی؛ وقت آ گیا ہے کہ اب پہلا معرکہ جیتنے کے لیے آخری وار کر دیا جائے۔ پہلا واراپنے ووٹرز کی ذہن سازی تھا۔ جسے ا س نے کامیابی سے سرانجام دیا۔اب جب ووٹر اس کی بات سمجھتا ہے۔ اس کا موڈ جانتا ہے۔ اس کی آواز میں پوری توانائی کے ساتھ آواز ملا کر ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ بولتا ہے تو شیر کو یقین ہو جاتا ہے کہ اس فصل کو کاٹنے کا وقت آ گیا ہے جس کے بیج اس نے جی ٹی روڈ ریلی اور اس کے بعد رمضان المبارک کے جلسوں کے دوران میں اپنے ووٹروں کے اذہان کی کھیتی میں کاشت کیے تھے۔

یہی وجہ ہے کہ اس نے وڈیو لنک کے ذریعے اپنے کارکنان سے خطاب میں بارہ اکتوبر کی کہانی اپنی زبانی سنانا شروع کر دی ہے۔ایسا نہیں ہے کہ شیر کو یہ کہانی اس واقعے کے ۲۲برس بعدیاد آئی ہے بلکہ واقعہ یہ ہے کہ ان کے نزدیک اس کے ووٹرز اس کہانی کو ٹھیک ٹھیک سمجھنے اور اس پہ رسپانس دینے کے قابل ہی اب ہوئے ہیں۔سو، اس نے تمام جُزئیات کے ساتھ کہانی سنانا شروع کر دی ہے۔مزاحمت کی وہ کہانی جو ۱۹۹۳ء میں شروع ہوئی تھی؛ ۱۹۹۹ء میں جس نے ایک المناک موڑ کاٹا تھا، اب اپنے اختتامی مراحل میں داخل ہو رہی ہے۔ ان اختتامی مراحل میں سے ایک مرحلہ بارہ اکتوبر کے واقعے کی لیکس ہیں جنہیں ہم مزاحمت لیکس کہہ سکتے ہیں۔ ایسا نہیں کہ ہمیں ان واقعات کا، یعنی نوازشریف کی سائیڈ کی کہانی کا علم نہیں تھا۔ ہمیں علم تھا۔ لیکن ہم نے یہ کہانی اپنے جزئیات سمیت نوازشریف سے کم کم سنی تھی۔ اگر سنی بھی تھی تو وہ گرم لوہے پہ آخری ضرب کا کام نہیں کر رہی تھی ۔ بلکہ لوہے کو ڈھالنے کے لیے Knocking کی حیثیت رکھتی تھی۔تاہم، حالیہ ’مزاحمت لیکس‘ وہ آخری اور کاری ضرب ہے جو لوہے کو ہمیشہ کے لیے نئی شکل دے دے گی۔شیرنے مزاحمت لیکس کی صورت میں اپنی تاریخ سنانا شروع کر دی ہے۔ تاریخ واقعی بدل رہی ہے۔ آنے والے دنوں میںہم گواہی دیں گے کہ شیر کی لکھی ہوئی تاریخ کے آئینے میں شکاری اپنی شکل دیکھنے کا حوصلہ نہیں کر پا رہے…

مزید تحاریر

بُزدار کا لاہور – احمدحماد

لاہورہزاروں سال پرانا شہر ہے۔یہاں کے باسی اس سے بہت پیار کرتے ہیں۔جس طرح عربی زبان بولنے والے دیگر زبانیں بولنے والوں کو گونگا...

مزاحمت لیکس – احمدحماد

بارہ اکتوبر ۱۹۹۹؁ء کے فوجی انقلاب کی دو کہانیاں ہیں۔ اور دونوں ہی عوام نے سن رکھی ہیں۔ ایک کہانی وہ ہے جو ہم...

شہبازشریف کے خلاف لندن میں کوئی مقدمہ نہیں بنایا گیا، شہزاد اکبر

مشیر داخلہ واحتساب شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن غلط بیانی کررہی ہے۔ شہبازشریف کے خلاف لندن میں کوئی مقدمہ بنایا گیا...

وفاق اور سندھ حکومت کو ایک ساتھ مل کر چلنا پڑے گا، وزیراعظم عمران خان

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ وفاق اور سندھ حکومت کو ایک ساتھ مل کر چلنا پڑے گا۔ کراچی کی اہمیت کا اندازہ...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے