21.6 C
Islamabad
ہفتہ, دسمبر 4, 2021

ورلڈکپ کون جیتے گا؟ – احمدحماد

تازہ ترین

ورلڈکپ کون جیتے گا؟ – احمدحماد

کرکٹ کانواں ورلڈ کپ ٹورنامنٹ ۲۰۰۷ء کے موسم بہار میں ویسٹ انڈیز میں کھیلا گیا۔ یہ ورلڈ کپ ون ڈے انٹرنیشنل میچوں پہ مشتمل...

بُزدار کا لاہور – احمدحماد

لاہورہزاروں سال پرانا شہر ہے۔یہاں کے باسی اس سے بہت پیار کرتے ہیں۔جس طرح عربی زبان بولنے والے دیگر زبانیں بولنے والوں کو گونگا...

مزاحمت لیکس – احمدحماد

بارہ اکتوبر ۱۹۹۹؁ء کے فوجی انقلاب کی دو کہانیاں ہیں۔ اور دونوں ہی عوام نے سن رکھی ہیں۔ ایک کہانی وہ ہے جو ہم...

شہبازشریف کے خلاف لندن میں کوئی مقدمہ نہیں بنایا گیا، شہزاد اکبر

مشیر داخلہ واحتساب شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن غلط بیانی کررہی ہے۔ شہبازشریف کے خلاف لندن میں کوئی مقدمہ بنایا گیا...
- Advertisement -

کرکٹ کانواں ورلڈ کپ ٹورنامنٹ ۲۰۰۷ء کے موسم بہار میں ویسٹ انڈیز میں کھیلا گیا۔ یہ ورلڈ کپ ون ڈے انٹرنیشنل میچوں پہ مشتمل تھا۔اس ٹورنامنٹ میں پہلی بار سولہ ٹیمیں شرکت کر رہی تھیں۔
اس ورلڈکپ میں ایک بہت دلچسپ واقعہ ہوا۔

اس سے پہلے کہ اس واقعے پہ نظر ڈالی جائے،اور اس سے کچھ اہم نتائج اخذکر کے ورلڈکپ کی ہیئت اور ڈیزائن کو سمجھا جائے،پہلے ایک طائرانہ نظر اس سے پہلے کھیلے جانے والے کرکٹ ورلڈ کپ ٹورنامنٹس پہ، تاکہ ہم جو نکتہ بیان کرنے جارہے ہیں، اسے ورلڈکپ مقابلوں کے پس منظر میں سمجھنے میں آسانی ہو…

پہلا کرکٹ ورلڈکپ ۱۹۷۵ء میں کھیلا گیا۔ اس ٹورنامنٹ میں8 ٹیموں نے شرکت کی۔ دوسرا ورلڈکپ ۱۹۷۹ء میں کھیلا گیا اور اس میں بھی 8 ٹیموں نے شرکت کی۔ تیسرا ورلڈکپ ۱۹۸۳ء میں کھیلا گیا اس میں بھی 8 ٹیموں نے شرکت کی۔ اگلے یعنی چوتھے ورلڈکپ۱۹۸۷ء میںبھی8 ٹیمیں شریک تھیں۔ بانوے کے ورلڈکپ میں 9، چھیانوے کے ورلڈ کپ میں 12، ننانوے کے ورلڈکپ میںبھی 12 ممالک نے شرکت کی۔ دوہزار تین کے ورلڈکپ میں14، جبکہ دوہزارسات کے ورلڈ کپ میں ۱۹۸۷ء سے دگنی ٹیمیں یعنی16ممالک کی ٹیمیں شریک تھیں۔

کرکٹ ورلڈکپ مقابلوں کے آغاز سے پانچویں ورلڈکپ ۱۹۹۲ء تک، یعنی 17سالوں میں صرف 1 ٹیم کا اضافہ ہوا۔ جبکہ اگلے15برس میں مزید7 ٹیموں کو موقع ملا یوں یہ تعداد جو۱۹۸۷ء تک محض 8تھی، صرف 20 برس میں دگنی ہو کر 16تک پہنچ گئی۔

یہی نہیں کہ ون ڈے انٹرنیشنل میچز پہ مبنی ورلڈکپ ٹورنامنٹ میں شریک ممالک کی تعداد گزشتہ بیس برس میں دگنی ہو گئی تھی، بلکہ کرکٹ کی مقبولیت نے ایک نیا سنگ میل عبور کیا اور وہ یہ کہ اس سال کے موسم بہار میںاگر ون ڈے انٹرنیشنل میچز کا ورلڈکپ منعقد ہوا تو اسی سال کے موسم خزاں میں ٹی ٹوئنٹی کا پہلا ورلڈکپ متعارف ہو گیا۔ اسی ورلڈکپ کے فائنل میں پاکستان اور بھارت کا یادگار مقابلہ ہوا جس کا نتیجہ آخری گیند پہ نکلا اور بھارت فاتح رہا۔

ذرا ٹھہریے، اور دوہزارسات کے ون ڈے انٹرنیشنل میچز پہ مبنی ورلڈکپ ٹورنامنٹ کی طرف لوٹیے جس میں 16ٹیمیں شریک تھیں۔ بشمول بھارت اور پاکستان۔ورلڈکپ شروع ہوا۔ سولہ ٹیموں کو چار گروپس میں تقسیم کیا گیا۔ پہلے مرحلے میں گروپ میچز کھیلے گئے۔ ہر گروپ کی دو بہترین ٹیموں کو اگلے مرحلے سُپر ایٹ میں کوالیفائی کرنے کے لیے اپنے گروپ کے کم از کم دو میچز جیتنا تھے۔

ستم ظریفی دیکھیے کہ پاکستان اپنے پہلے گروپ میچ میں ویسٹ انڈیز سے، اور دوسرے گروپ میچ میں آئرلینڈ سے ہار کر ورلڈکپ مقابلوں سے ناک آئوٹ ہو گیا۔ اگرچہ تیسرا میچ جو زمبابوے کے خلاف کھیلا گیا، پاکستان جیت گیا لیکن یہ فتح پاکستان کو اگلے مرحلے میں پہنچانے کے لیے ناکافی تھی۔

پاکستانی شائقین کے دل ٹوٹ گئے۔ ان کے لیے اب اس ورلڈکپ میں کچھ نہیں بچا تھا۔ تاہم، بعض شائقین یہ چاہتے تھے کہ اگر پاکستان ورلڈ کپ سے باہر ہو گیا ہے تو بھارت بھی ورلڈکپ میں پیش قدمی نہ کر سکے۔ سو، پاکستان کی فتح کے لیے دعائیں کرتے شائقین نے اب اپنی دعائوں کا رُخ بھارت کی شکست کی طرف کر لیا۔ اب کی بار ان کی دعائیں قبول ہوئیں اور بھارت بھی پہلے ہی مرحلے میں بنگلہ دیش کے ہاتھوں شکست کھا کر ورلڈکپ سے باہر ہو گیا۔

پاکستانی میڈیا اب بجائے اس کے کہ پاکستان اور آئرلینڈ کا میچ دکھائے، بار بار بھارت اور بنگلہ دیش کا میچ ٹیلی کاسٹ کرتا۔ہمارا یہ Sadist رویہ کسی طرح بھی صحتمند رویہ نہیں۔ تاہم یہ ایک حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ پاکستانی اپنی فتح پہ خوش ہوں نہ ہوں، بھارت کی ناکامی پہ بہت زیادہ خوش ہوتے ہیں۔بچوں کی طرح تالیاں بجاتے اور جگت بازی کرتے ہیں۔ہم نے دو ہزار سات کے ورلڈکپ میں اس رویے کا مشاہدہ کیا اوراس پہ بیک وقت پریشان بھی ہوئے، ہنسے بھی کہ یہ کیا بچپنا ہے!

پاکستان اور بھارت جیسے روایتی حریفوں، اور کرائوڈ پُلر ٹیموں کا اس سہولت سے ورلڈکپ مقابلوں سے باہر ہو جانا کرکٹ کے بزرجمہروں کے لیے بہت پریشانی کا سبب بنا۔ وہ پاکستان اور بھارت جیسی کرائوڈ پُلر ٹیموں کے بغیر جاری اس ورلڈکپ کی بطور ٹورنامنٹ ناکامی اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے۔ اور اشارے کنایوں میں اس بات کا اظہار کرتے پائے جاتے تھے کہ یہ ڈیزائن درست نہیں۔ اگر کرکٹ کو بطور کھیل مقبولیت کا سفر جاری رکھنا ہے تو پاکستان اور بھارت کی Unpredictable اور Crowd Puller ٹیموں کی کسی بھی مرحلے میں عدم موجودگی زہرِ قاتل ہے۔ ان میں سے یا تو دونوں ٹیمیں، یا پھر کوئی ایک ٹیم آخر تک ٹورنامنٹ میں رہنی چاہئے تاکہ شائقین کی دلچسپی پورے ٹورنامنٹ میں برقرار رہے۔اس ورلڈ کپ کے اختتام پہ کرکٹ کے مبصرین واشگاف الفاظ میں کہتے پائے گئے کہ ICCاب کبھی پاکستان اور بھارت کے بغیر ورلڈکپ مقابلے ڈیزائین نہیں کرے گی۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان ٹیموں کو کھلایا نہیں جائے گا۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو ویسٹ انڈیز ورلڈکپ ۲۰۰۷ء میں ہوا، یعنی دونوں روایتی حریف اور کرائوڈپُلر ٹیمز پہلے ہی مرحلے میں ٹورنامنٹ سے باہر ہو گئیں یوں سارا ٹورنامنٹ ان تھرلرز اور Unpredictableٹیموں کے بغیر کھیلا گیا جو بے رنگ اور پھیکا ثابت ہوا۔اور ون ڈے کرکٹ کو اپنی سروائیول کے مسائل لاحق ہو گئے، کہ اس کے سر پہ T20کی مقبولیت کی تلوار لٹک رہی تھی۔یہ منظر کبھی دہرایا نہ جائے۔

سو،اس روکھے پھیکے، بنِا پاکستان بھارت ٹورنامنٹ کے صرف 6ماہ بعد جو ورلڈکپ ہوا، اس میں پاکستان اور بھارت فائنل کھیل رہے تھے۔ اور فائنل میچ بھی آخری بال تک زندہ رہا۔

کیا یہ محض اتفاق ہے؟

ہم اپنے دوستوں سے اکثر پوچھتے ہیں کہ اگر کرکٹ میچز کے نتائج کا فیصلہ واقعی میدانوں میں ہوتا ہے تو پھر کرکٹ کے گُرو یہ کیوں کہتے ہیں کہ ۲۰۰۷ء کے ODI ورلڈکپ سے ICCنے سبق سیکھا اور آج۲۰۲۱ء تک شائد ہی کوئی اہم ٹورنامنٹ ہو جس میں یہ دونوں کھیل رہی ہوں اور پہلے ہی مرحلے میں داغِ مفارقت بھی دے جائیں جیسے ۲۰۰۷ء کے ورلڈ کپ میں پہلے ہی مرحلے میں یہ دونوں ٹیمیں ورلڈ کپ سے باہر ہو گئی تھیں۔

مزید سنیے،۲۰۰۷ء کے ورلڈکپ سے اگلا ورلڈکپ۲۰۱۱ء بھارت میں کھیلا گیا۔ کرکٹ کے مبصرین کواس ٹورنامنٹ کے اکثر میچز پہ فکسڈ ہونے کاشک ہے۔ اس ضمن میں ونود کامبلے نے بھی وہسل بلوئنگ کی اور بھارتی پولیس نے بھی اس طرف اشارہ کیا۔ مزید برآں، اس ورلڈکپ میں ایک میچ انگلینڈ اور بھارت کے درمیان کھیلا گیا جو اپنی سنسنی خیزی کے باعث واقعتا Nail Bitingتھاجو ہار جیت کے فیصلے کے بغیر یعنی ٹائی پہ ختم ہوا۔اس میچ کی سب سے زیادہ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس میچ کے شروع ہونے سے کئی گھنٹے قبل آسٹریلوی لیگ اسپنر شین وارن نے ٹویٹ کر کے دنیا کو بتا دیا تھا؛ It’s a Tie…

پھر یہ کہ یہ ٹورنامنٹ اس خوبصورتی سے ڈیزائن کیا گیا کہ بھارت جسے عالمی چیمپئن بنا تھا، اس نے کوارٹر فائنل میں گزشتہ ورلڈ کپ کے فاتح اور موجودہ عالمی چیمپئن آسٹریلیا کو شکست دی۔سیمی فائنل میں اپنے روایتی حریف پاکستان کو شکست دی جو خود کوارٹرفائنل میں گزشتہ ورلڈکپ کے میزبان ویسٹ انڈیز کو شکست دے کر سیمی فائنل کھیلنے بھارت پہنچا تھا۔ پاکستان کو سیمی فائنل میں شکست سے دوچار کر کے بھارت نے فائنل میں سری لنکا کو ہرایا اور نیا عالمی چیمپئن بن گیا۔ سری لنکا کی اہمیت یہ ہے کہ وہ گزشتہ یعنی ۲۰۰۷ء کے ورلڈکپ کی فائنلسٹ تھی۔ گویا، ۲۰۰۷ء میں ویسٹ انڈیز میں کھیلے گئے اس ورلڈکپ جس میں پاکستان اور بھارت پہلے ہی مرحلے میں ٹورنامنٹ سے باہر ہو گئے تھے، سے اگلا ہی ورلڈ کپ جو بھارت میں کھیلا گیا ، بھارت نے کوارٹر فائنل میں عالمی چیمپئن آسٹریلیا کو، سیمی فائنل میں اس وقت کے T20چیمپئن پاکستان کواور پھر فائنل میں گزشتہ ورلڈکپ کے رنراپ سری لنکا کو ہر کر عالمی کپ جیتا۔یہ گرینڈڈیزائن محض بگ بینگ جیسا کوئی ’اتفاق‘ ہے؟ یا کوئی Well Thought Outمنصوبہ؟ اس سوال کا جواب ہم قارئین پہ چھوڑتے ہیں۔

بس اپنے سوچ کے عمل میں دو تین باتیں مزید شامل کر لیجئے!

ایک: کوئی پروفیشنل سپورٹ بغیر مالی منفعت کے نہ کھیلی جاتی ہے نہ اس کے ٹورنامنٹس ڈیزائن ہوتے ہیں۔ کھیل پیسہ کمانے کا ذریعہ ہوتے ہیں۔ اس سے کئی لوگ پیسہ کماتے ہیں لہٰذا، اس کو فطری بہائو پہ نہیں چھوڑا جا سکتا۔ کرکٹ کی بڑھوتری اور اسے مقبول عام کھیل بنانے کی ذمہ دار کونسل ICCہے جیسے فٹ بال کے لیے FIFA…سو، ICCوہ تمام فیصلے کرے گی جو اس کھیل کو مقبول عام بنانے میں مدد دیں گے۔ وہ کبھی کمزور ویسٹ انڈیز کو طاقت کا انجیکشن لگائے گی تاکہ ویسٹ انڈیز کے شائقین اس کھیل سے بدظن نہ ہو جائیں اور اس کونسل کے ہاتھ سے اتنی بڑی مارکیٹ اوران گنت تماشائی نکل نہ جائیں۔ کبھی یہ پاکستان کو چیمپئنز ٹرافی میں بہت اوپر لے آئے گی۔ کبھی کرکٹ کا باوا آدم برطانیہ ایک افسانوی حد تک سنسنی بھرے ٹورنامنٹ کے آخر پہ ایک سنسنی خیزترین فائنل میں فاتح قرار پائے گا۔ یہ فائنل بظاہر ٹائی ہو گیا تھا۔اس کا سپر اوور بھی ٹائی ہوا تو برطانیہ بائونڈری کائونٹ بیک رُول کے تحت فاتح قرار پایا۔ اس ٹورنامنٹ میں بھی پاکستان مسلسل حریفوں کو دھمکاتا رہا لیکن سیمی فائنل نہیں کھیل سکا تاہم، بھارت سیمی فائنل تک پہنچااورکئی بار سیمی فائنلز میں شکست کھانے والے اور ۲۰۱۵ء میں فائنل میں آ کر ہارنے والے نیوزی لینڈ سے ہار گیا۔ یوں، برطانیہ جو کبھی ورلڈکپ نہیں جیت سکا تھا، اور نیوزی لینڈ جو کبھی ورلڈکپ نہیں جیت سکا تھا، ان کے درمیان فائنل ہوا۔ اور فائنل بھی مثالی نیل بائٹنگ…

اس ٹورنامنٹ میں ریکارڈ تعدا د میں میچز آخری اوور، اور پھر آخری بال تک زندہ رہے۔ یہ IPLماڈل آف ٹورنامنٹس تھا جسے اس بار پوری طرح ورلڈکپ ۲۰۱۹ء میں آزمایا گیا اور بہترین نتائج حاصل کیے گئے۔

۲۔ شائقین کو انٹرٹینمنٹ چاہیے ہوتی ہے۔ اس بات سے WWFوالے بھی آگاہ ہیں، فیفا والے بھی اورآئی سی سی بھی۔ شائقین کو بھی میچیور ہو جانا چاہئے اور میچوں کو فلم کی طرح دیکھنا چاہئے جس میں ہر سین طے شدہ ہوتا ہے اس کے باوجود ہم ایک فلم کئی بار دیکھتے ہیں اور حظ اٹھاتے ہیں۔ میں یہ الزام نہیں لگا رہا کہ کوئی شخص میچ فکس کرتا ہے یا کوئی ادارہ۔ یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ یہ کام ہوتا ہے لیکن یہ بات لیک آئوٹ ہو جانے سے عام شائق کا دل خراب ہوتا ہے لہٰذا، عالمی ادارے اس رجحان کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں کہ کھلاڑی میچ فکسنگ کریں۔ تاہم، یہ ادارے خود ٹورنامنٹس کے نتائج کچھ اس انداز سے ڈیزائن کرتے ہیں کہ کھیل کو تقویت اور مقبولیت حاصل ہو۔ آپ اپنے دل پہ ہاتھ رکھ کر بتائیے کہ کیا ICCکے حالیہ فیصلوں سے بھولی بھالی عوام میں کرکٹ پہلے سے کہیں زیادہ مقبول ہوئی یا نہیں؟

۳۔ ہمیں یہ ورلڈکپ بھی اسی حقیقت کو پیش نظر رکھ کر دیکھنا چاہیے کہ پاکستان کو یہT20 ورلڈکپ 2021ء جتوانا یا کم از کم اسے فائنلز تک لے کر جانا خود ICCکے فائدے میں ہے۔اس فائدے میں ہم سب کا بھی فائدہ ہے۔ ہمیں نئے ہیروز ملیں گے۔ ہماری کرکٹ کو بزنس ملے گا اوردوسری ٹیمیں ہمارے وطن آ کر کھیلنا چاہیں گی۔

نوٹ: یہ تجزیہ ایک طالبعلمانہ کوشش ہے۔ آپ اس سے اختلاف کر سکتے ہیں۔ خاکسار نے کرکٹ ورلڈکپس کی پوری تاریخ پہ نظر ڈال کر شواہد کو اکٹھا کیا اوران شواہد کی روشنی میں ایک تصویر بنائی۔ جو آج آپ کے سامنے رکھ دی۔اس تصویرکو داد دیں یا تنقید فرمائیں، یہ آپ کا بنیادی حق ہے۔ہم یہ اصرار نہیں کرتے کہ لازماً ہمارا کہا مانیں۔ البتہ یہ ضرور کہتے ہیں کہ صدقِ دل سے اس کھیل کے ٹورنامنٹس کے ڈیزائن کو سمجھنے کی کوشش کی۔ جو بات سمجھ میں آئی، وہ بغیر کسی لگی لپٹی کے آپ کے سامنے رکھ دی۔

سوال یہ تھا کہ ورلڈکپ کون جیتے گا۔ جواب یہ ہے کہ وہ ٹیم نہیں جیتے گی جو اچھا کھیلتی ہے بلکہ وہ جیتے گی جس کی فتح سے ICCکے نزدیک اس کھیل کو فائدہ ہوگا۔اس کی مارکیٹ بڑھے گی۔ اور اس میں سرمائے کی آمد کا کوئی نیا دروازہ کھلے گا۔پاکستان22کروڑ لوگوں کا ملک ہے۔ یہ بہت بڑی مارکیٹ ہے۔انٹرنیشنل کرکٹ کونسل اور اس سے منسلک عالمی سرمایہ داروں کے نزدیک اس بار پاکستان کو جتوانا کسی طرح بھی کے نزدیک گھاٹے کا سودا نہیں معلوم ہوتا۔

واللہ اعلم بالصواب……

مزید تحاریر

ورلڈکپ کون جیتے گا؟ – احمدحماد

کرکٹ کانواں ورلڈ کپ ٹورنامنٹ ۲۰۰۷ء کے موسم بہار میں ویسٹ انڈیز میں کھیلا گیا۔ یہ ورلڈ کپ ون ڈے انٹرنیشنل میچوں پہ مشتمل...

بُزدار کا لاہور – احمدحماد

لاہورہزاروں سال پرانا شہر ہے۔یہاں کے باسی اس سے بہت پیار کرتے ہیں۔جس طرح عربی زبان بولنے والے دیگر زبانیں بولنے والوں کو گونگا...

مزاحمت لیکس – احمدحماد

بارہ اکتوبر ۱۹۹۹؁ء کے فوجی انقلاب کی دو کہانیاں ہیں۔ اور دونوں ہی عوام نے سن رکھی ہیں۔ ایک کہانی وہ ہے جو ہم...

شہبازشریف کے خلاف لندن میں کوئی مقدمہ نہیں بنایا گیا، شہزاد اکبر

مشیر داخلہ واحتساب شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن غلط بیانی کررہی ہے۔ شہبازشریف کے خلاف لندن میں کوئی مقدمہ بنایا گیا...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے