17 C
Islamabad
جمعرات, اکتوبر 29, 2020

پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی قدرتی آفات

تازہ ترین

سلیکون ویلی میں بھارتی انجینئرز کا راج، اپنے ساتھ ذات پات کا نظام بھی لے آئے

جب بینجمن کائیلا 1999ء میں بھارت سے ہجرت کرکے امریکا پہنچے تو انہوں نے ایک امریکی ٹیک کمپنی میں ملازمت کے لیے درخواست جمع...

باکسنگ ڈے ٹیسٹ میں 25 ہزار تماشائی ہوں گے

ہر سال 26 دسمبر کو آسٹریلیا میں باکسنگ ڈے کے موقع پر ٹیسٹ میچ کھیلا جاتا ہے اور رواں سال یہ مقابلہ آسٹریلیا اور...

دھات سے بنا سیارچہ دریافت، مالیت ہماری دنیا کی کُل معیشت سے ہزاروں گُنا زیادہ

امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے 'ناسا' نے غیر معمولی دھاتوں کا حامل ایک سیارچہ (asteroid) دریافت کر لیا ہے، جس کی مالیت کا اندازہ دنیا...

غیر ملکیوں کے لیے خوشخبری، سعودی عرب "کفالۃ” نظام کا خاتمہ کرنے لگا

سعودی عرب غیر ملکی کارکنوں کے لیے "کفالۃ" کے نظام کو منسوخ کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے، جس کی جگہ آجرین اور ملازمین...

آج 8 اکتوبر ہے، ٹھیک 15 سال پہلے آزاد کشمیر اور ملحقہ علاقوں میں ایک طاقتور زلزلے سے لرز اٹھے تھے۔ چشمِ زدن میں ہی 80 ہزار سے زیادہ لوگ لقمہ اجل بن گئے اور 40 لاکھ بے گھر ہو گئے۔ جاں بحق ہونے والوں میں 19 ہزار بچے بھی تھے جو زلزلے کے وقت اسکول میں موجود تھے جبکہ بڑی تعداد اُن لوگوں کی بھی تھی جو سحری کے بعد نمازِ فجر ادا کرکے سوئے تھے اور صبح 8بج کر 52 منٹ پر آنے والے اچانک زلزلے نے انہیں گھروں میں ہی موت کی نیند سُلا دیا۔

کشمیر زلزلہ 2005ء پاکستان کی تاریخ کی بڑی قدرتی آفات میں سے ایک ہے، لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ تقریباً ایک لاکھ اموات کے باوجود یہ زلزلہ پاکستان کی سب سے بڑی قدرتی آفت نہیں ہے؟ آئیے آپ کو پاکستان کی 73 سالہ تاریخ میں آنے والی سب سے بڑی آفات کے بارے میں بتاتے ہیں:

بھولا سمندری طوفان 1970ء

اموات: 5 لاکھ سے زیادہ


نومبر 1970ء میں خلیجِ بنگال میں آنے والے سمندری طوفان ‘بھولا’ نے مشرقی پاکستان کو تباہ و برباد کر دیا تھا۔ یہ نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا کی تاریخ کا سب سے تباہ کن طوفان تھا کہ جس کے نتیجے میں 5 لاکھ سے زیادہ افراد کی جانیں چلی گئیں۔ اس طوفان کے بعد پیدا ہونے والی پیچیدہ صورت حال سے نمٹنے میں مرکزی حکومت کی ناکامی نے مشرقی پاکستان کے حالات کو مزید خراب کر دیا اور ایک سال بعد ہی وہ علیحدہ ہوکر بنگلہ دیش بن گیا۔


کشمیر زلزلہ 2005ء

اموات: تقریباً ایک لاکھ


8 اکتوبر 2005ء کو علی الصبح مظفر آباد کے قریب آنے والے زلزلے کے شدید جھٹکوں نے کشمیر اور ملحقہ علاقوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ اس زلزلے کو تاریخ کے بدترین زلزلوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ مظفر آباد سب سے زیادہ متاثر ہوا کہ جہاں 70 فیصد اموات ہوئیں۔ حکومتِ پاکستان کے اُس وقت جو اعداد و شمار جاری کیے تھے ان کے مطابق اس زلزلے سے کُل 87,350 اموات ہوئیں البتہ تعداد ایک لاکھ تک جانے کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا۔ تقریباً 1 لاکھ 38 ہزار افراد زخمی اور تقریباً 40 لاکھ بے گھر ہوئے۔ زلزلے کے بعد اگلے 22 دن تک 978 آفٹر شاکس محسوس کیے گئے، جن کی شدت ریکٹر اسکیل پر 4.0 یا اس سے زیادہ تھی۔


013A طوفان 1965ء:

اموات: تقریباً 10 ہزار


یہ پاکستان کی تاریخ کا حیرت انگیز ترین طوفان تھا کیونکہ یہ 15 دسمبر کو آیا تھا، جی ہاں! دسمبر کے مہینے میں طوفان۔ غیر معمولی طور پر گرم موسم میں پیدا ہونے والا یہ طوفان 013A دسمبر کے اوائل میں بحیرۂ عرب میں بنا اور بھارتی ریاست کیرالا کے ساحل کے ساتھ ہوتا ہوا گجرات اور مہاراشٹر کے ساحل تک پہنچا۔ تب امریکی بحریہ نے 12 دسمبر کو اعلان کر دیا کہ طوفان کی شدت ختم ہو چکی ہے۔ لیکن صرف تین دن بعد اس طوفان کی باقیات کراچی پہنچ گئیں اور شہر کو تباہ کر کے رکھ دیا۔ اعداد و شمار کے مطابق ایک دن میں کراچی میں تقریباً 10 ہزار افراد کی جانیں گئیں۔


02A طوفان 1999ء:

اموات: 6,200


یہ اپنے زمانے میں پاکستان کی تاریخ کا طاقتور ترین طوفان تھا، جس نے 20 مئی 1999ء کو بدین کے ساحلی علاقوں کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیا۔ اس سے کُل 6,200 اموات ہوئیں۔ طوفان کی آمد سے پہلے علاقے خالی کروانے کی کوششیں نہ کرنے کی وجہ سے جانی نقصان بہت زیادہ ہوا اور بڑی تعداد میں لوگ لاپتہ ہوئے کہ جنہیں بعد ازاں مردہ قرار دیا گیا۔


ہنزہ زلزلہ 1974ء :

اموات: 5,300


28 دسمبر 1974ء کو 6.2 کی شدت سے آنے والے ایک زلزلے نے ہنزہ، سوات اور ہزارہ کو نشانہ بنایا۔ اس زلزلے سے 5,300 افراد جاں بحق ہوئے جبکہ 17 ہزار زخمی اور 97 ہزار متاثر ہوئے۔ زیادہ تر نقصان زلزلے کے نتیجے میں پہاڑوں سے مٹی کے تودے اور چٹانیں گرنے سے ہوا۔


‘کالا سیلاب’ 1950ء:

اموات: 2,900


اسے ‘کالا سیلاب’ کہا جاتا ہے، جس میں ملک بھر میں 2,900افراد کی جانیں گئیں۔ صوبہ پنجاب خاص طور پر لاہور اس سیلاب سے سب سے زیادہ متاثر ہوا۔ اس سیلاب سے تقریباً 1 لاکھ مکانات تباہ ہوئے اور 9 لاکھ افراد بے گھر ہوئے۔


سیلاب 2010ء:

اموات: تقریباً 2,000


یہ سیلاب اب بھی ہماری یادوں میں تازہ ہے، گو کہ اس میں ہلاکتوں کی تعداد نسبتاً کم یعنی لگ بھگ 2,000 تھیں لیکن یہ ایک ملک گیر سیلاب تھا اور کوئی صوبہ اس سے بچ نہیں پایا۔ خیبر پختونخوا سے لے کر پنجاب اور سندھ سے لے کر بلوچستان تک، ہر صوبے میں اس نے زبردست تباہی مچائے اور 2 کروڑ لوگوں کو متاثر کیا۔ یوں بے گھر ہونے والے افراد کے لحاظ سے یہ پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی قدرتی آفت ہے۔


قیام پاکستان سے پہلے

کوئٹہ زلزلہ 1935ء:

اموات: 60,000 تک


یہ زلزلہ 31 مئی 1935ء کو رات ڈھائی بجے کے قریب آیا تھا۔ اس زمانے میں زلزلہ ریکارڈ کرنے کے بہت اچھے آلات تو موجود نہیں تھے، لیکن دورِ جدید میں لگائے گئے اندازوں کے مطابق اس کی شدت 7.7 ہوگی۔ زلزلے نے کوئٹہ شہر کی شاید ہی کوئی عمارت چھوڑی ہو۔ جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد کا اندازہ کم از کم 30 ہزار سے 60 ہزار تک لگایا جاتا ہے۔ یہ آج بھی جنوبی ایشیا کی تاریخ کے بدترین زلزلوں میں شمار ہوتا ہے۔


بلوچستان سونامی1945ء:

اموات: 4,000 تک


28نومبر 1945ء کو مکران کے ساحل کے ساتھ سمندر میں زلزلہ آیا جس سے سونامی پیدا ہوا۔ زلزلے کی شدت 8.1 تھی جس کے نتیجے میں کہا جاتا ہے کہ 4,000 تک اموات ہوئیں۔

مزید تحاریر

سلیکون ویلی میں بھارتی انجینئرز کا راج، اپنے ساتھ ذات پات کا نظام بھی لے آئے

جب بینجمن کائیلا 1999ء میں بھارت سے ہجرت کرکے امریکا پہنچے تو انہوں نے ایک امریکی ٹیک کمپنی میں ملازمت کے لیے درخواست جمع...

باکسنگ ڈے ٹیسٹ میں 25 ہزار تماشائی ہوں گے

ہر سال 26 دسمبر کو آسٹریلیا میں باکسنگ ڈے کے موقع پر ٹیسٹ میچ کھیلا جاتا ہے اور رواں سال یہ مقابلہ آسٹریلیا اور...

دھات سے بنا سیارچہ دریافت، مالیت ہماری دنیا کی کُل معیشت سے ہزاروں گُنا زیادہ

امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے 'ناسا' نے غیر معمولی دھاتوں کا حامل ایک سیارچہ (asteroid) دریافت کر لیا ہے، جس کی مالیت کا اندازہ دنیا...

غیر ملکیوں کے لیے خوشخبری، سعودی عرب "کفالۃ” نظام کا خاتمہ کرنے لگا

سعودی عرب غیر ملکی کارکنوں کے لیے "کفالۃ" کے نظام کو منسوخ کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے، جس کی جگہ آجرین اور ملازمین...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے