25 C
Islamabad
بدھ, اکتوبر 28, 2020

ہوا سے کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرکے ہیرے بننے لگے

تازہ ترین

سلیکون ویلی میں بھارتی انجینئرز کا راج، اپنے ساتھ ذات پات کا نظام بھی لے آئے

جب بینجمن کائیلا 1999ء میں بھارت سے ہجرت کرکے امریکا پہنچے تو انہوں نے ایک امریکی ٹیک کمپنی میں ملازمت کے لیے درخواست جمع...

باکسنگ ڈے ٹیسٹ میں 25 ہزار تماشائی ہوں گے

ہر سال 26 دسمبر کو آسٹریلیا میں باکسنگ ڈے کے موقع پر ٹیسٹ میچ کھیلا جاتا ہے اور رواں سال یہ مقابلہ آسٹریلیا اور...

دھات سے بنا سیارچہ دریافت، مالیت ہماری دنیا کی کُل معیشت سے ہزاروں گُنا زیادہ

امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے 'ناسا' نے غیر معمولی دھاتوں کا حامل ایک سیارچہ (asteroid) دریافت کر لیا ہے، جس کی مالیت کا اندازہ دنیا...

غیر ملکیوں کے لیے خوشخبری، سعودی عرب "کفالۃ” نظام کا خاتمہ کرنے لگا

سعودی عرب غیر ملکی کارکنوں کے لیے "کفالۃ" کے نظام کو منسوخ کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے، جس کی جگہ آجرین اور ملازمین...

زیورخ، سوئٹزرلینڈ کے قریب ایک پاور پلانٹ کی چھت پر بڑی مشینیں لگی ہوئی ہیں جو فضاء سے کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرتی ہیں۔ اس کاربن ڈائی آکسائیڈ کا ایک حصہ شکاگو، امریکا میں واقع Aether نامی اسٹارٹ اپ کے پاس جاتا ہے جو اس سے ہیرے بناتا ہے۔

اس کمپنی کے سی ای او راین شیرمن کو یہ اچھوتا خیال ایک کتاب پڑھتے ہوئے اور اپنے ساتھ ڈان ووینو سے بات کرتے ہوئے آیا کہ جو اب اس منصوبے میں ان کے ساتھی ہیں۔ دونوں زیورات بنانے کی صنعت سے وابستہ رہے ہیں۔

ہیروں کو کانوں سے نکالنے کے روایتی عمل میں بہت سے مسائل ہیں۔ اس صنعت میں کان کنوں کا استحصال کیا جاتا ہے، پھر کانوں کے لیے جنگلات کی کٹائی اور صفائی کے عمل میں آبی آلودگی اتنے بڑے مسائل ہیں کہ ان سے کوئی صرف نظر نہیں کر سکتا۔ اس کے مقابلے میں لیبارٹری میں بننے والا یہ ہیرا ایک اچھا اور محفوظ متبادل ہے۔

شیرمن اور ووینو نے اندازہ لگایا تھا کہ وہ فضاء سے بھی کاربن حاصل کر سکتے ہیں۔

Aethers کاربن کو صاف کرکے ایسی صورت دیتا ہے جسے ڈائمنڈ ری ایکٹر میں استعمال کیا جا سکتا ہے، جہاں اسے دو سے تین ہفتوں میں ہیرے کی شکل دی جا سکتی ہے۔

اسٹارٹ اپ بنائے جانے والے ہیروں کو نئے نفیس زیورات میں استعمال کر رہا ہے جو صارفین کو صرف محفوظ ماحولیات کا پیغام ہی نہیں دے رہے بلکہ ڈیزائن کے لحاظ سے بھی بہت پرکشش ہیں۔ شیرمن کہتے ہیں کہ ہم چاہتے ہیں کہ ایسی چیز بنائے جائے جو پہلے اپنی خوبصورتی کی وجہ سے فروخت ہو کیونکہ اصل چیز تو زیور کا حسن ہی ہے۔ ماحولیاتی پہلو تو سونے پہ سہاگہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ وقت کے ساتھ ساتھ ہیروں کی صنعت کی سپلائی کم ہو رہی ہے۔ کانوں سے نکلنے والے ہیروں کی بلند ترین پیداوار کب کی حاصل ہو چکی۔ اب ہر سال روایتی طریقوں سے پیدا ہونے والا ہیرا کم سے کم تر ہو رہا ہے۔ اندازہ ہے کہ 2040ء تک ہیروں کی عالمی پیداوار آدھی رہ جائے گی۔

اس لیے یہ ہمارے لیے زبردست موقع ہے کہ رسد کم اور طلب ہونے کے اس دور میں ہیروں کا ایک نیا ذریعہ تلاش کریں۔

بہرحال، ہوا سے کاربن جذب کرنے کا طریقہ اب بھی مہنگاہے البتہ Aether کا کہنا ہے کہ محدود پیداوار سے آغاز کے بعد وہ اس عمل کو مزید آگے بڑھا سکتا ہے۔ اسٹارٹ 2021ء کے اوائل میں اپنی مصنوعات کی فروخت شروع کرے گا۔

مزید تحاریر

سلیکون ویلی میں بھارتی انجینئرز کا راج، اپنے ساتھ ذات پات کا نظام بھی لے آئے

جب بینجمن کائیلا 1999ء میں بھارت سے ہجرت کرکے امریکا پہنچے تو انہوں نے ایک امریکی ٹیک کمپنی میں ملازمت کے لیے درخواست جمع...

باکسنگ ڈے ٹیسٹ میں 25 ہزار تماشائی ہوں گے

ہر سال 26 دسمبر کو آسٹریلیا میں باکسنگ ڈے کے موقع پر ٹیسٹ میچ کھیلا جاتا ہے اور رواں سال یہ مقابلہ آسٹریلیا اور...

دھات سے بنا سیارچہ دریافت، مالیت ہماری دنیا کی کُل معیشت سے ہزاروں گُنا زیادہ

امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے 'ناسا' نے غیر معمولی دھاتوں کا حامل ایک سیارچہ (asteroid) دریافت کر لیا ہے، جس کی مالیت کا اندازہ دنیا...

غیر ملکیوں کے لیے خوشخبری، سعودی عرب "کفالۃ” نظام کا خاتمہ کرنے لگا

سعودی عرب غیر ملکی کارکنوں کے لیے "کفالۃ" کے نظام کو منسوخ کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے، جس کی جگہ آجرین اور ملازمین...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے