17 C
Islamabad
جمعرات, اکتوبر 29, 2020

تاریخ کی 10 ناکام ترین فلمیں

تازہ ترین

سلیکون ویلی میں بھارتی انجینئرز کا راج، اپنے ساتھ ذات پات کا نظام بھی لے آئے

جب بینجمن کائیلا 1999ء میں بھارت سے ہجرت کرکے امریکا پہنچے تو انہوں نے ایک امریکی ٹیک کمپنی میں ملازمت کے لیے درخواست جمع...

باکسنگ ڈے ٹیسٹ میں 25 ہزار تماشائی ہوں گے

ہر سال 26 دسمبر کو آسٹریلیا میں باکسنگ ڈے کے موقع پر ٹیسٹ میچ کھیلا جاتا ہے اور رواں سال یہ مقابلہ آسٹریلیا اور...

دھات سے بنا سیارچہ دریافت، مالیت ہماری دنیا کی کُل معیشت سے ہزاروں گُنا زیادہ

امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے 'ناسا' نے غیر معمولی دھاتوں کا حامل ایک سیارچہ (asteroid) دریافت کر لیا ہے، جس کی مالیت کا اندازہ دنیا...

غیر ملکیوں کے لیے خوشخبری، سعودی عرب "کفالۃ” نظام کا خاتمہ کرنے لگا

سعودی عرب غیر ملکی کارکنوں کے لیے "کفالۃ" کے نظام کو منسوخ کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے، جس کی جگہ آجرین اور ملازمین...

کامیاب ترین فلموں کے بارے میں تو لوگ جانتے ہیں، جو نہیں جانتے انہیں ہم بتاتے رہتے ہیں لیکن کیا آپ ایسی فلموں کے بارے میں جانتے ہیں جو بھاری بھرکم بجٹ کے ساتھ بنائی گئیں، بڑی توقعات کے ساتھ سینماؤں پر آئیں لیکن بُری طرح ناکام ہوئیں۔ بڑی فلموں کی ایسی ناکامی کو اصطلاحاً ‘باکس آفس بم’ کہا جاتا ہے۔

بڑے بجٹ کی فلمیں، جن پر کئی ملین ڈالرز لگتے ہیں، اسٹوڈیوز کے لیے بہت بڑا خطرہ بھی ہوتی ہیں کیونکہ انہوں نے جس چیز پر اتنی بھاری رقوم لگائی ہیں، ان کے بارے میں اندازہ نہیں ہوتا کہ ناظرین کو پسند بھی آئے گی یا نہیں۔

ان فلموں میں سے چند کے ناکام ہونے کی وجہ کہانی کا رسمی اور روایتی ہونا ہوتا ہے تو کچھ ناقدین کے ہتھے چڑھ جاتی ہیں اور وہ اپنے تجزیے سے ان کی مٹی پلید کر دیتے ہیں۔ کچھ ایسی بھی ہوتی ہیں جو شاید اتنی بُری نہیں ہوتیں لیکن وہ ایسے وقت پر ریلیز ہوتی ہیں جب باکس آفس پر کوئی دوسری فلم ہٹ ہو جاتی ہے، یوں یہ فلمیں دب سی جاتی ہیں۔

بہرحال، ناکامی کی وجہ جو بھی ہو، بڑے بجٹ کی ایک ناکام فلم کسی بھی اسٹوڈیو کو اتنے ملین ڈالرز کا نقصان پہنچا سکتی ہے کہ کئی سالوں کا منافع ہوا ہو جاتا ہے۔ کبھی کبھار تو اسٹوڈیو کے دیوالیہ ہونے کی نوبت بھی آ جاتی ہے۔

فلمیں ناکام ہوتی رہتی ہیں، لیکن چند فلموں کی ناکامی کئی اداروں اور افراد کی برداشت سے باہر ہوتی ہے۔ آئیں آپ کو تاریخ کی 10 ناکام ترین فلموں کے بارے میں بتائیں:

The Adventures of Pluto Nash


ایڈی مرفی بہت کامیاب فلم کیریئر رکھتے ہیں۔ وہ آسکر کے لیے نامزد ہو چکے ہیں، ایک گولڈن گلوب ایوارڈ جیت چکے ہیں اور درجنوں دیگر اعزازات بھی ان کے پاس ہیں۔ 2015ء میں وہ امریکا میں چھٹے سب سے زیادہ کمانے والے اداکار بنے۔ لیکن مرفی کی فلم The Adventures of Pluto Nash کے بارے میں ناقدین نے کہا کہ اس میں نہ کافی ایکشن ہے اور نہ ہی مزاح۔ نہ صرف تنقید بلکہ ذرائع ابلاغ میں بھی کوئی ہنگامہ پیدا نہ کر پانے کی وجہ سے یہ فلم کامیاب نہ ہو سکی۔ فلم نے 2002ء میں اپنے پہلے ہفتے میں صرف 2.1 ملین ڈالرز بنائے جبکہ اس کا بجٹ 100 ملین ڈالرز تھا اور 20 ملین ڈالرز مارکیٹنگ پر بھی لگائے گئے تھے۔ ابتدائی ناکامی کے بعد یہ فلم دوبارہ نہ سنبھل سکی اور دنیا بھر میں صرف 7 ملین ڈالرز کما پائی۔


Stealth


2005ء کی ایکشن مووی ‘ Stealth ‘ کی کہانی روایتی بلکہ اوسط درجے کی تھی جس میں تین پائلٹ ایک خفیہ منصوبے کے تحت عالمی جنگ روکنے کے لیے کام کرتے ہیں۔ اس فلم میں ایسے مناظر بھی ہیں جو بہت مہنگے ثابت ہوئے جیسا کہ کچھ مناظر اصلی طیارہ بردار بحری جہاز یعنی ایئر کرافٹ کیریئر پر فلمائے گئے۔ اس فلم کو سینماؤں میں سخت مقابلے کا سامنا بھی کرنا پڑا اور یہ باکس آفس پر ‘Sky High’، ‘Charlie and the Chocolate Factory’ اور ‘Wedding Crashers’ کے بعد چوتھے نمبر پر رہی۔ مارکیٹنگ سے ہٹ کر 135 ملین ڈالرز کی بجٹ سے بننے والی یہ فلم اپنے پہلے ہفتے میں صرف 13 ملین ڈالرز کما سکی اور پھر بد سے بدترین حالت پر پہنچ گئی۔ دوسرے ہفتے میں 5.9 ملین اور تیسرے میں صرف 2 ملین ڈالرز۔ بیرون ملک اس نے ضرور 44.8 ملین ڈالرز حاصل کیے اور امریکا میں 32 ملین لیکن اتنے بڑے بجٹ کو پورا کرنے کے لیے یہ بھی ناکافی تھے۔


Sahara


Sahara ایک غیر معمولی ‘باکس آفس بم’ تھی۔ اس میں میتھیو میک کانہے، اسٹیو زان اور پینی لوپ کروز نے مرکزی کردار ادا کیے اور کہانی مغربی افریقہ کے صحراؤں میں ایک گمشدہ جہاز کی تلاش کے گرد گھومتی ہے۔ فلم کو ناقدین نے اوسط درجے کا قرار دیا بلکہ ان کی نظر میں اس میں کچھ خاص تھا ہی نہیں۔ لیکن اس فلم میں چسکا تھا، بڑے اداروں کی کشش بھی، تیزی سے چلنے والی کہانی بھی اور اسے سخت مقابلے کا سامنا بھی نہیں تھا۔ یوں یہ پہلے ہفتے میں 18 ملین ڈالرز کمانے میں کامیاب ہوگئی اور اسی طرح دنیا بھر میں کل 110 ملین ڈالرز کا بزنس کیا۔ لیکن یہ فلم اس لیے ‘فلاپ’ کہلائی کیونکہ اس کا بجٹ بہت بڑا تھا۔ صرف پروڈکشن پر 130 ملین ڈالرز اور اس کے بعد تقسیم اور مارکیٹنگ پر مزید 81 ملین ڈالرز خرچ ہوئے۔


Jack the Giant Slayer


Jack the Giant Slayer صحارا جیسی ہی فلم تھی۔ اوسط قرار دیے جانے کے باوجود یہ پہلے ہفتے باکس آفس میں نمبر ایک پر پہنچی، پھر بھی ناکام ترین فلم سمجھی جاتی ہے۔ اسے X-Men فرنچائز کے ڈائریکٹر برائن سنگر نے بنایا تھا۔ فلم پر تنقید بھی ملی جلی تھی، کچھ نے اس کے وژن کو سراہا اور کچھ نے اسے بس ملا جلا قرار دیا۔ فلم نے دنیا بھر میں کل 197.6 ملین ڈالرز کمائے لیکن 185 ملین ڈالرز کے بجٹ اور مارکیٹنگ اور تقسیم کے اخراجات کے بعد یہ اسٹوڈیو کے لیے 125 ملین ڈالرز کے نقصان کا سبب بنی۔


RIPD


یہ فلم 2013ء کے موسمِ گرما میں اُس وقت پیش کی گئی جب باکس آفس پر ٹکر کا مقابلہ جاری تھا۔ RIPD کا آغاز ہی اتنا بُرا تھا کہ فلم باکس آفس میں ساتویں نمبر پر آ گئی۔ اتنی دھیمی شروعات کے بعد یہ صرف 12.7 ملین ڈالرز ہی کما پائی۔ پھر اس پر تنقید بھی ہوئی، ناقدین نے فلم کو پسند نہیں کیا۔ یہاں تک کہ یہ دنیا بھر میں صرف 78 ملین ڈالرز کما سکی، جو 130 ملین ڈالرز کے بجٹ اور مارکیٹنگ و تقسیم کے اخراجات کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں۔


The Lone Ranger


جتنی حیرت باکس آفس میں ‘The Lone Ranger’ کے ناکام ہونے پر ہوئی ہوگی، شاید ہی کسی اور پر ہو۔ یہ تاریخ کی فلاپ ترین فلموں میں پانچویں نمبر پر ہے۔ یہ ‘ویسٹرن’ فلم تھی اور جس میں جانی ڈیپ اور آرمی ہیمر نے مرکزی کردار ادا کیا۔ اس کی پروڈکشن اور مارکیٹنگ لاگت ہی 375 ملین ڈالرز تھی۔ اس کا مطلب ہے اسے منافع بخش بنانے کے لیے 650 ملین ڈالرز کمانے کی ضرورت تھی لیکن یہ صرف ایک تہائی ہی کما پائی۔ دنیا بھر میں اسے 260.5 ملین ڈالرز کی آمدنی ملی یعنی 150 ملین ڈالرز سے زیادہ کا نقصان ہوا۔ ڈزنی کی خوش قسمتی یہ تھی کہ اس سال اس کی دوسری فلمیں کامیاب ہوگئیں، اس لیے بچت ہوگئی۔


John Carter


The Lone Ranger کی طرح ‘ John Carter ‘ بھی اپنی ریلیز سے پہلے ہی ناکام سمجھی جا رہی تھی۔ یہ بہت مہنگی فلم تھی جس پر 350 ملین ڈالرز سے زیادہ کا بجٹ لگایا گیا تھا اور 100 ملین ڈالرز مارکیٹنگ پر بھی لگے۔ اس بھاری لاگت کی وجہ سے جان کارٹر کو بھی منافع بخش بننے کے لیے 600 ملین ڈالرز سے زیادہ کمانے کی ضرورت تھی۔ اس فلم نے کچھ کامیابیاں ضرور حاصل کیں جیسا کہ یہ روس اور قریبی ملکوں میں میں پہلے ویک اینڈ پر سب سے زیادہ کمانے کا ریکارڈ قائم کر گئی لیکن بین الاقوامی ٹکٹ فروخت بھی اس فلم کو فلاپ ہونے سے نہیں بچا سکی۔ انہیں 150 ملین ڈالرز کا خسارہ ہوا۔ مجموعی طور پر فلم نے 284 ملین ڈالرز کمائے، جس کی وجہ سے والٹ ڈزنی اسٹوڈیو کو سخت نقصان پہنچا، یہاں تک کہ سربراہ رچرڈ روس کو استعفیٰ بھی دینا پڑا۔


The 13th Warrior


دیگر فلموں کے مقابلے میں ‘ The 13th Warrior ‘ کا بجٹ چھوٹا تھا، پروڈکشن اور مارکیٹنگ دونوں ملاکر 160 ملین ڈالرز۔ لیکن کیونکہ یہ فلم 1999ء میں بنی تھی اس لیے یہ بھی بڑے بجٹ کی ناکام فلم سمجھی جانی چاہیے۔ یہ فلم مائیکل کرچٹن کے ناول سے ماخوذ تھی جس میں انتونیو بینڈرس اور عمر شریف نے مرکزی کردار ادا کیے۔ فلم کو باکس آفس پر سخت مقابلے کا بھی سامنا تھا خاص طور پر ‘ The Sixth Sense ‘ میدان مار ر چکی تھی جس کی وجہ سے ‘ The 13th Warrior’ زیادہ رنگ نہ جما سکی اور دنیا بھر میں صرف 61.6 ملین ڈالرز کما پائی۔


Mars Needs Moms


وہ لوگ ہاتھ اٹھائیں جنہوں نے ” Mars Needs Moms ” کا ذکر سن رکھا ہے۔ کسی نے نہیں؟ 2011ء کی یہ اینی میٹڈ سائنس فکشن مزاحیہ فلم اتنی خاموشی سے آئی اور چلی گئی کہ فلم کے ‘دھتی’ بھی نہیں جانتے کہ اس نام کی کوئی چیز سینماؤں میں آئی بھی تھی۔ Back to the Future کے ڈائریکٹر رابرٹ زیمیکس کی اس فلم میں وہ خاص بات تھی ہی نہیں کہ اسے یاد رکھا جائے۔ فارمولا کہانی اور بیکار گرافکس نے کسی پر اثر نہیں چھوڑا۔ 150 ملین ڈالرز، وہ بھی مارکیٹنگ و تقسیم سے پہلے، کے بجٹ کا مطلب ہے کہ اس فلم کو منافع بخش بنانے کے لیے بہت کچھ کرنے کی ضرورت تھی۔ ابتدائی ہفتے میں یہ صرف 6.8 ملین ڈالرز کما سکی اور 39 ملین کے ساتھ اس کی کہانی تمام ہوئی۔


47 Ronin


کینو ریوز ایسے ایکشن اسٹار ہیں جو فلم بینوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کروا سکتے ہیں لیکن بدقسمتی سے ‘‏47 Ronin ‘ میں ایسا نہیں ہو سکا۔ 175 ملین ڈالرز کی پروڈکشن اور 50 ملین ڈالرز کی مارکیٹنگ اور ڈسٹری بیوشن کے ساتھ یہ بڑے بجٹ کی فلم تھی جو 2013ء میں کرسمس کے موقع پر ریلیز ہوئی۔ اسے سخت مقابلے کا سامنا کرنا پڑا جیسا کہ The Hobbit ، The Wolf of Wall Street ، Anchorman 2 ، The Secret Life of Walter Mitty اور American Hustle سے۔ بڑی جدوجہد کے بعد بھی فلم نے امریکی باکس آفس پر صرف 38.6 ملین ڈالرز کمائے۔ یہاں تک کہ جاپان میں بھی ناکام ہوئی جہاں ناظرین نے فلم پر سخت تنقید کی کہ یہ اصل کہانی سے بالکل بھی میل نہیں کھاتی۔ گو کہ اس نے بیرون ملک 113 ملین ڈالرز کمائے لیکن پھر بھی مجموعی طور پر 151.7 ملین ڈالرز ہی حاصل کر پائی جو اس کے بھاری بجٹ کو پورا کرنے کے لیے ناکافی تھے۔

مزید تحاریر

سلیکون ویلی میں بھارتی انجینئرز کا راج، اپنے ساتھ ذات پات کا نظام بھی لے آئے

جب بینجمن کائیلا 1999ء میں بھارت سے ہجرت کرکے امریکا پہنچے تو انہوں نے ایک امریکی ٹیک کمپنی میں ملازمت کے لیے درخواست جمع...

باکسنگ ڈے ٹیسٹ میں 25 ہزار تماشائی ہوں گے

ہر سال 26 دسمبر کو آسٹریلیا میں باکسنگ ڈے کے موقع پر ٹیسٹ میچ کھیلا جاتا ہے اور رواں سال یہ مقابلہ آسٹریلیا اور...

دھات سے بنا سیارچہ دریافت، مالیت ہماری دنیا کی کُل معیشت سے ہزاروں گُنا زیادہ

امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے 'ناسا' نے غیر معمولی دھاتوں کا حامل ایک سیارچہ (asteroid) دریافت کر لیا ہے، جس کی مالیت کا اندازہ دنیا...

غیر ملکیوں کے لیے خوشخبری، سعودی عرب "کفالۃ” نظام کا خاتمہ کرنے لگا

سعودی عرب غیر ملکی کارکنوں کے لیے "کفالۃ" کے نظام کو منسوخ کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے، جس کی جگہ آجرین اور ملازمین...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے