17 C
Islamabad
جمعرات, اکتوبر 29, 2020

آخر گاندھی جی کو نوبیل امن انعام کیوں نہیں ملا؟

تازہ ترین

سلیکون ویلی میں بھارتی انجینئرز کا راج، اپنے ساتھ ذات پات کا نظام بھی لے آئے

جب بینجمن کائیلا 1999ء میں بھارت سے ہجرت کرکے امریکا پہنچے تو انہوں نے ایک امریکی ٹیک کمپنی میں ملازمت کے لیے درخواست جمع...

باکسنگ ڈے ٹیسٹ میں 25 ہزار تماشائی ہوں گے

ہر سال 26 دسمبر کو آسٹریلیا میں باکسنگ ڈے کے موقع پر ٹیسٹ میچ کھیلا جاتا ہے اور رواں سال یہ مقابلہ آسٹریلیا اور...

دھات سے بنا سیارچہ دریافت، مالیت ہماری دنیا کی کُل معیشت سے ہزاروں گُنا زیادہ

امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے 'ناسا' نے غیر معمولی دھاتوں کا حامل ایک سیارچہ (asteroid) دریافت کر لیا ہے، جس کی مالیت کا اندازہ دنیا...

غیر ملکیوں کے لیے خوشخبری، سعودی عرب "کفالۃ” نظام کا خاتمہ کرنے لگا

سعودی عرب غیر ملکی کارکنوں کے لیے "کفالۃ" کے نظام کو منسوخ کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے، جس کی جگہ آجرین اور ملازمین...

2020ء کا نوبیل امن انعام اقوامِ متحدہ کے عالمی غذائی پروگرام کو دیا گیا ہے۔ اپنی تاریخ میں نوبیل انعام نہ صرف کئی متنازع شخصیت کو دیا گیا ہے بلکہ کئی حقداروں کو بھی اس سے محروم رکھا گیا جیسا کہ موہن داس گاندھی، جنہیں ہم مہاتما گاندھی کہتے ہیں۔ اپنی تمام تر امن پسندی اور عدم تشدد پر مبنی نظریات کے باوجود انہیں کبھی نوبیل کا امن انعام نہیں دیا گیا، حالانکہ انہیں ایک، دو نہیں بلکہ 12 مرتبہ اس اعزاز کے لیے نامزد کیا گیا تھا۔ لیکن کیوں؟ آئیے، اس سوال کا جواب ڈھونڈتے ہیں۔

نوبیل کمیٹی کے مستقل سیکریٹری گیر لندیستاد نے 2006ء میں کہا تھا کہ "ہماری 106 سالہ تاریخ میں اگر کوئی کمی ہے تو وہ یہ کہ گاندھی جی کو نوبیل انعام نہیں دیا گیا۔” انہوں نے کہا تھا کہ "گاندھی جی کا قد کاٹھ تو نوبیل امن انعام کے بغیر بھی بہت بلند تھا، لیکن نوبیل امن انعام کی حیثیت گاندھی جی کو مسترد کیے جانے کے بعد کیا رہ جاتی ہے؟”

بہرحال، اس کی کئی وجوہات پیش کی جاتی ہیں جنہیں دسمبر 1999ء میں نوبیل انعام کی آفیشل ویب سائٹ پر ایک رپورٹ میں بیان کیا گیا ہے۔

یہ رپورٹ ویب سائٹ ایڈیٹر اوینڈ ٹونیسن نے لکھی تھی جن کے مطابق گاندھی کو پہلی بار 1937ء میں ناروے کے ایک رکن پارلیمنٹ نے نامزد کیا تھا۔ لیکن تب نوبیل کمیٹی کے ایک مشیر جیکب وورم-وولر نے ایک سیاسی رہنما کی حیثیت سے گاندھی کو ایک غیر مستقل رائے رکھنے والی شخصیت قرار دیا تھا۔ ان کے اپنے الفاظ میں کہ "پالیسیوں میں یکسر تبدیلیاں، جن کی ان کے پیروکار اطمینان بخش توجیہہ بھی پیش نہیں کر پاتے۔ وہ آزادی کے رہنما ہیں اور ساتھ ہی ایک آمر بھی، ایک مثالیت پسند شخصیت ہیں تو ساتھ ہی ایک قوم پرست بھی۔ وہ کبھی مسیحا لگتے ہیں تو اچانک ایک عام سے سیاست دان بن جاتے ہیں۔”

اس رپورٹ نے ان واقعات کی جانب بھی توجہ دلائی تھی کہ جن میں گاندھی کے صلح جویانہ رویّے کا نتیجہ برطانویوں اور ہندوستانیوں کے مابین پرتشدد کارروائیوں کی صورت میں نکلا تھا۔ جیسا کہ 1920-21ء کا چوری چورا واقعہ کہ جس میں آزادی کے متوالوں نے ایک تھانے کو آگ لگا دی تھی۔

اس کے علاوہ رپورٹ میں لکھا ہے کہ ناروے کے سیاست دان مارٹن ٹرینمیل اور سابق وزیر خارجہ برجر براڈلینڈ خاص طور پر گاندھی کو امن انعام دینے کے خلاف تھے، خاص طور پر جب 1947ء میں اُن کا پاکستان کے خلاف جنگ کے حوالے سے ایک متنازع بیان سامنے آیا۔

کچھ ہی مہینوں کے بعد 30 جنوری 1948ء کو ایک ہندو انتہا پسند نے گاندھی جی کو قتل کر دیا۔ اس سے صرف دو دن پہلے نوبیل کمیٹی کو گاندھی جی کو امن انعام کی نامزد کرنے والے چھ خطوط ملے تھے، لیکن تب تک یہ اعزاز کسی کو بھی بعد از مرگ نہیں دیا گیا تھا۔ یوں ایک متنازع بیان اور اچانک قتل گاندھی جی کو یقینی امن انعام سے محروم کر گیا۔ یقینی اس لیے کیونکہ اس سال نوبیل کمیٹی نے کسی کو بھی امن انعام نہیں دیا اور اس حوالے سے جو بیانات ظاہر کیے گئے اس سے یہی لگتا تھا کہ فیصلہ گاندھی جی کے حق میں ہونا تھا۔

مزید تحاریر

سلیکون ویلی میں بھارتی انجینئرز کا راج، اپنے ساتھ ذات پات کا نظام بھی لے آئے

جب بینجمن کائیلا 1999ء میں بھارت سے ہجرت کرکے امریکا پہنچے تو انہوں نے ایک امریکی ٹیک کمپنی میں ملازمت کے لیے درخواست جمع...

باکسنگ ڈے ٹیسٹ میں 25 ہزار تماشائی ہوں گے

ہر سال 26 دسمبر کو آسٹریلیا میں باکسنگ ڈے کے موقع پر ٹیسٹ میچ کھیلا جاتا ہے اور رواں سال یہ مقابلہ آسٹریلیا اور...

دھات سے بنا سیارچہ دریافت، مالیت ہماری دنیا کی کُل معیشت سے ہزاروں گُنا زیادہ

امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے 'ناسا' نے غیر معمولی دھاتوں کا حامل ایک سیارچہ (asteroid) دریافت کر لیا ہے، جس کی مالیت کا اندازہ دنیا...

غیر ملکیوں کے لیے خوشخبری، سعودی عرب "کفالۃ” نظام کا خاتمہ کرنے لگا

سعودی عرب غیر ملکی کارکنوں کے لیے "کفالۃ" کے نظام کو منسوخ کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے، جس کی جگہ آجرین اور ملازمین...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے