17 C
Islamabad
جمعرات, اکتوبر 29, 2020

ولادیمر کوماروف، اپنی جان دینے والا ایک گمنام خلا باز

تازہ ترین

سلیکون ویلی میں بھارتی انجینئرز کا راج، اپنے ساتھ ذات پات کا نظام بھی لے آئے

جب بینجمن کائیلا 1999ء میں بھارت سے ہجرت کرکے امریکا پہنچے تو انہوں نے ایک امریکی ٹیک کمپنی میں ملازمت کے لیے درخواست جمع...

باکسنگ ڈے ٹیسٹ میں 25 ہزار تماشائی ہوں گے

ہر سال 26 دسمبر کو آسٹریلیا میں باکسنگ ڈے کے موقع پر ٹیسٹ میچ کھیلا جاتا ہے اور رواں سال یہ مقابلہ آسٹریلیا اور...

دھات سے بنا سیارچہ دریافت، مالیت ہماری دنیا کی کُل معیشت سے ہزاروں گُنا زیادہ

امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے 'ناسا' نے غیر معمولی دھاتوں کا حامل ایک سیارچہ (asteroid) دریافت کر لیا ہے، جس کی مالیت کا اندازہ دنیا...

غیر ملکیوں کے لیے خوشخبری، سعودی عرب "کفالۃ” نظام کا خاتمہ کرنے لگا

سعودی عرب غیر ملکی کارکنوں کے لیے "کفالۃ" کے نظام کو منسوخ کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے، جس کی جگہ آجرین اور ملازمین...

آج پوری دنیا یوری گیگارین کو جانتی ہے، خلا میں جانے والا پہلا انسان، جس نے 1961ء میں یہ انوکھا کارنامہ انجام دیا۔ اس کے ساتھ ہی دنیا ایک نئے عہد میں داخل ہوگئی اور وقت کی سپر پاورز امریکا اور سوویت یونین کے درمیان ایک زبردست "خلائی دوڑ” کا آغاز ہو گیا۔ یہ دوڑ 1969ء میں اُس وقت اپنے عروج پر پہنچ گئی جب امریکا کے اپالو 11 مشن کے ذریعے انسان نے پہلی بار چاند پر قدم رکھا۔ نیل آرمسٹرانگ اور بز ایلڈرن نے وہ شہرت حاصل کی کہ آج نصف صدی سے زیادہ گزرنے کے باوجود دنیا کا بچہ بچہ انہیں جانتا ہے۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ اس خلائی دوڑ کا ایک اہم کردار ایسا ہے جس کے نام سے آج شاید ہی کوئی واقف ہو اور اس کی کہانی بہت ہی دردناک ہے۔ یہ 1967ء کے ایک خلائی مشن میں جان دینے والے ولادیمر کوماروف (Vladimir Komarov) تھے۔

ولادیمر کوماروف روسی خلا باز تھے کہ جو 1960ء میں خلائی مشنز کے لیے منتخب کیے گئے اوّلین افراد میں سے ایک تھے۔ انہیں دو مرتبہ تربیت یا خلائی پرواز کے لیے طبّی طور پر غیر موزوں قرار دیا گیا تھا، لیکن اپنی ثابت قدمی، زبردست صلاحیتوں اور انجینیئر ہونے کی وجہ سے وسیع معلومات نے انہیں پروگرام میں شامل رکھا۔ یہاں تک کہ انہیں ایک سے زیادہ خلابازوں کے پہلے مشن وسخود 1 (Voskhod 1) کے لیے منتخب کیا گیا۔ پھر 1967ء میں وہ سویوز1 (Soyuz 1) کے لیے بھی منتخب ہوئے۔ یہ مشنز چاند پر پہنچنے کی روسی کوششوں کا حصہ تھا۔

سویوز1 کے ساتھ وہ تاریخ کے پہلے خلاباز بن گئے، جو دو مرتبہ خلا میں پہنچے اور ساتھ ہی وہ پہلے شخص بھی جن کی جان چلی گئی۔ 24 اپریل 1967ء کو کوماروف اس وقت مارے گئے جب وہ خلا کی وسعتوں میں گم ہو جانے کے بعد بمشکل زمین کے مدار میں داخل ہوئے لیکن سویوز1 کیپسول کا پیراشوٹ نہ کھل سکا اور ان کا کیپسول زبردست رفتار سے زمین سے ٹکرا گیا۔ ان کی جو باقیات ملیں، وہ دراصل جلے ہوئے گوشت کا ایک لوتھڑا تھا۔ ایک عظیم خلاباز قربان ہوگیا اور دنیا بھی اسے بھول گئی۔

ویسے روسی فضائیہ کے پائلٹ رہنے والے ولادیمر کو اُس وقت سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا جب انہوں نے 1966ء میں جاپان کے ایک دورے میں کہا تھا کہ سوویت یونین چاند پر ایک مشن بھیجے گا اور اس کی دیگر تفصیلات بھی بتا دی تھیں۔ اگلے ہی سال ان کی روسی خلائی پروگرام کے انجینئرز کے ساتھ تکرار بھی ہوئی۔ ولادیمر کا کہنا تھا کہ سویوز ماڈیول کیپسول خلا باز کو محفوظ انداز میں زمین پر واپس لانے کے لیے موزوں نہیں۔ ان کے کسی خدشے یا تشویش کا کوئی خاطر خواہ جواب نہیں دیا گیا اور مشن خلا میں بھیج دیا گیا۔ وہی ہوا جس کا ولادیمر کو خطرہ تھا۔ مشن ناکام ہوا اور اس کے دوران ان کا زمین سے رابطہ بھی ٹوٹ گیا۔ زمین کے گرد 19 واں چکر لگاتے ہوئے ان کے ذہن میں ایک خیال آیا اور بڑی کوشش کے بعد وہ زمین کے مدار میں واپس آ گئے لیکن ان کے کیپسول کا پیراشوٹ نہیں کھل سکا اور یوں کوماروف کی جان چلی گئی۔

مرنے سے پہلے اپنی آخری گفتگو میں کوماروف سخت غصے کے عالم میں تھے۔ انہوں نے ان سب لوگوں کو سخت الفاظ سنائے کہ جنہوں نے تمام تر خدشات کے باوجود انہیں اس "بدترین خلائی جہاز” میں سوار کیا اور یوں موت کے منہ میں دھکیل دیا۔

بہرحال، 26 اپریل 1967ء کو پورے سرکاری اعزاز کے ساتھ ان کی آخری رسومات ادا کی گئیں۔ انہیں بعد از وفات ‘آرڈر آف لینن’ اور ‘ہیرو آف دی سوویت یونین’ کے اعزازات دیے گئے۔

مزید تحاریر

سلیکون ویلی میں بھارتی انجینئرز کا راج، اپنے ساتھ ذات پات کا نظام بھی لے آئے

جب بینجمن کائیلا 1999ء میں بھارت سے ہجرت کرکے امریکا پہنچے تو انہوں نے ایک امریکی ٹیک کمپنی میں ملازمت کے لیے درخواست جمع...

باکسنگ ڈے ٹیسٹ میں 25 ہزار تماشائی ہوں گے

ہر سال 26 دسمبر کو آسٹریلیا میں باکسنگ ڈے کے موقع پر ٹیسٹ میچ کھیلا جاتا ہے اور رواں سال یہ مقابلہ آسٹریلیا اور...

دھات سے بنا سیارچہ دریافت، مالیت ہماری دنیا کی کُل معیشت سے ہزاروں گُنا زیادہ

امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے 'ناسا' نے غیر معمولی دھاتوں کا حامل ایک سیارچہ (asteroid) دریافت کر لیا ہے، جس کی مالیت کا اندازہ دنیا...

غیر ملکیوں کے لیے خوشخبری، سعودی عرب "کفالۃ” نظام کا خاتمہ کرنے لگا

سعودی عرب غیر ملکی کارکنوں کے لیے "کفالۃ" کے نظام کو منسوخ کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے، جس کی جگہ آجرین اور ملازمین...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے