17 C
Islamabad
جمعرات, اکتوبر 29, 2020

فضائی آلودگی اور کووِڈ-19 کا ملاپ جنوبی ایشیا میں تباہی پھیلا سکتا ہے

تازہ ترین

سلیکون ویلی میں بھارتی انجینئرز کا راج، اپنے ساتھ ذات پات کا نظام بھی لے آئے

جب بینجمن کائیلا 1999ء میں بھارت سے ہجرت کرکے امریکا پہنچے تو انہوں نے ایک امریکی ٹیک کمپنی میں ملازمت کے لیے درخواست جمع...

باکسنگ ڈے ٹیسٹ میں 25 ہزار تماشائی ہوں گے

ہر سال 26 دسمبر کو آسٹریلیا میں باکسنگ ڈے کے موقع پر ٹیسٹ میچ کھیلا جاتا ہے اور رواں سال یہ مقابلہ آسٹریلیا اور...

دھات سے بنا سیارچہ دریافت، مالیت ہماری دنیا کی کُل معیشت سے ہزاروں گُنا زیادہ

امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے 'ناسا' نے غیر معمولی دھاتوں کا حامل ایک سیارچہ (asteroid) دریافت کر لیا ہے، جس کی مالیت کا اندازہ دنیا...

غیر ملکیوں کے لیے خوشخبری، سعودی عرب "کفالۃ” نظام کا خاتمہ کرنے لگا

سعودی عرب غیر ملکی کارکنوں کے لیے "کفالۃ" کے نظام کو منسوخ کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے، جس کی جگہ آجرین اور ملازمین...

رواں سال کرونا وائرس کی وباء پھیلتے ہی لاک ڈاؤن لگ گیا اور جنوبی ایشیا میں فضائی آلودگی میں ڈرامائی کمی دیکھنے میں آئی لیکن یہ سکون عارضی ثابت ہوا۔ جو امید پشاور سے لے کر گوہاٹی تک صاف شفاف آسمان دیکھنے کے بعد پیدا ہوئی، لاک ڈاؤن میں نرمی آتے ہی دم توڑ گئی۔

اب ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ آلودگی کی وجہ سے سردیوں کے موسم میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ اور شدت میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے کیونکہ جنوبی ایشیا کا سالانہ ‘اسموگ کا موسم’ آیا ہی چاہتا ہے۔

ہر سال خزاں اور سردیوں میں آلودگی اپنے عروج پر ہوتی ہے جس کی ایک وجہ فصلوں کی باقیات جلانا ہے جس کا دھواں صنعتوں اور گاڑیوں سے اور اینٹوں کے بھٹے سے نکلتے ہوئے دھوئیں کے ساتھ مل کر ایک زہریلا مرکب بنا لیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان دنوں میں بنگلہ دیش، بھارت، نیپال اور پاکستان کے شہر چین کو بھی پیچھے چھوڑتے ہوئے دنیا کے آلودہ ترین شہر بن جاتے ہیں۔

اس زہریلی فضاء میں سانس لینے سے خطے میں لاکھوں افراد مر جاتے ہیں اور ان ممالک میں متوقع عمر (life expectancy) میں پانچ سال کمی آئی ہے اور شمالی بھارت کے آلودہ ترین شہروں میں تو آٹھ سال تک کی کمی ہوئی ہے۔ اس کے باوجود خطے کی حکومتیں کچھ کرنے میں ناکام ہیں۔

بھارت میں سرکاری نیشنل کلین ایئر پروگرام کو ماحولیاتی کارکنوں نے غیر مؤثر قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے جبکہ بنگلہ دیش، پاکستان اور نیپال میں تو مناسب ڈیٹا تک موجود نہیں کہ فضائی آلودگی کی شرح کتنی ہے، اس سے نمٹنے کے لیے ایک جامع حکمت عملی تو بہت دُور کی بات ہے۔

جدید تحقیق بتاتی ہے کہ وباء کی آمد سے پہلے ہی فضائی آلودگی کا تادیر سامنا کرنے والے افراد میں کووِڈ-19 کی علامات سنگین ہیں اور ان کی موت کا خطرہ بھی زیادہ ہے۔

ہارورڈ یونیورسٹی کے سائنس دانوں نے امریکا میں وائرس سے ہونے والی اموات اور فضاء میں خطرناک ذرّات، مثلاً PM2.5، کی موجودگی کے مابین تعلق پر تحقیق کی ہے۔ انہوں نے پایا کہ وباء سے جن علاقوں میں ایسے آلودہ ذرّات میں زیادہ تھے، وہاں کووِڈ-19 سے اموات کی شرح 8 فیصد زیادہ ہے۔ نیدرلینڈز میں ہونے والی ایک دوسری تحقیق میں پایا گیا کہ آلودگی میں معمولی سا اضافہ بھی کووِڈ-19 سے اموات میں 21 فیصد اضافے کا باعث بن رہا ہے۔ البتہ عالمی ادارۂ صحت (WHO) کا کہنا ہے کہ تحقیق کے طریقوں اور نتائج کا ازسرِ نو جائزہ لینا ضروری ہے اور اس حوالے سے مزید ڈیٹا جمع کرنے کی بھی ضرورت ہے۔

جنوبی ایشیا میں تو ڈیٹا ویسے ہی کم ہے لیکن بھارت میں صحت کے ماہرین عالمی ادارۂ صحت کے انتباہ کو سنجیدہ لے رہے ہیں اور حکومت سے فوری عملدرآمد کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ بھارت کے سینٹرل پلوشن کنٹرول بورڈ میں صحت کے ماہر اور وزیراعظم کی کووِڈ-19 ٹاسک فورس کے رکن ٹی کے جوشی کا کہنا ہے کہ بدترین خوف اس بات کا ہے کہ سردیاں آتے ہی اور فضاء میں آلودگی بڑھتے ہی کووِڈ-19 کا خطرہ مزید پیچیدہ ہو سکتا ہے۔ ہمارا صحت کا نظام پہلے ہی سخت دباؤ میں ہے۔ فضائی آلودگی اور وباء کے مابین تعلق کے موضوع پر ایک سیمینار سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فضائی آلودگی کا ہر شخص کی قوتِ مدافعت پر اثر پڑتا ہے۔ اس میں کوئی شک ہی نہیں کہ آلودہ فضاء کووِڈ-19 کی صورت حال کو مزید گمبھیر بنا دے گی۔

بھارت عالمی وباء سے بُری طرح متاثر ہے اور اِس وقت امریکا کے بعد سب سے زیادہ مریض بھارت میں ہی ہیں۔ اکتوبر کے آغاز سے اب تک مریضوں کی تعداد میں روزانہ اوسطاً 70 ہزار کا اضافہ ہو رہا ہے۔ عالمی ادارۂ صحت نے غذائیت کی کمی کے بعد فضائی آلودگی کو بھارت میں عوام کی صحت کو لاحق سب سے بڑا خطرہ قرار دیا ہے۔

سینٹر فار انوائرومینٹل ہیلتھ، پبلک ہیلتھ فاؤنڈیشن آف انڈیا (PHFI) کی ڈپٹی ڈائریکٹر اور وبائیات کی ماہر پورنیما پربھاکرن نے کہا ہے کہ فضائی آلودگی اور وائرس دونوں کا سامنا بھارت میں صحت کے بحران کو مزید سنگین بنا دے گا۔

انہوں نے کہا کہ ہوا کا معیار خراب ہونے کے صحت پر اثرات تو سب کو اچھی طرح معلوم ہیں اور بزرگوں، حاملہ خواتین اور پہلے سے ہی دیگر امراض کے شکار افراد پر تو ان کے اثرات سنگین حد تک ہیں۔ ہر سال ایسی ہوا میں سانس لینے کا نتیجہ لوگوں میں پھیپھڑوں کی خرابی کی صورت میں نکلتا ہے۔ یہی لوگ وباء میں بھی زیادہ خطرے سے دوچار ہیں۔

کووِڈ-19 کے ابتدائی مریض جو ہسپتالوں میں پہنچے انہیں نمونیا اور سانس لینے میں دشواری جیسی علامات کا سامنا تھا۔

مزید تحقیق بھی بتاتی ہے کہ ہوا میں PM2.5 جیسے ذرّات کی موجودگی کووِڈ-19 کے منتقل ہونے کی صلاحیت میں اضافہ بھی کرتی ہے۔ ڈائریکٹر کالج آف میڈیکل سائنسز دہلی ارون شرما کا کہنا ہے کہ PM2.5 اور PM10 کی فضاء میں موجودگی وائرس کے کسی بھی سطح پر چپکنے کا امکان بڑھا دیتی ہے اور ان ذرّات کی مدد سے وائرس زیادہ فاصلے تک سفر کر سکتا ہے۔ جب وائرس کسی آلودہ ذرّے پر موجود ہو تو اس کے زندہ رہنے کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں۔

ارون شرما نے کہا کہ "حکومت وباء سے تو لڑ رہی ہے، لیکن فضائی آلودگی کے بحران کو کل کے لیے ٹال رکھا ہے۔ ان دونوں کا ایک دوسرے سے واضح تعلق ہے اور لوگوں کی صحت کو بڑے پیمانے پر متاثر کر رہے ہیں۔”

اکتوبر کے اوائل میں دہلی میں ہوا کا معیار (ایئر کوالٹی) تین مہینے میں پہلی بار ‘خراب’ کے زمرے میں آیا۔ اس صورت حال میں کھلی فضاء میں بہت زیادہ دیر تک موجود رہنے سے سانس لینے میں دشواری ہو سکتی ہے اور دل کے امراض کے شکار افراد تھوڑی دیر ہی میں بے چینی محسوس کر سکتے ہیں۔

اس آلودگی کی ایک وجہ کاشت کاروں کی جانب سے چاول اور گندم کی فصل کی باقیات کو جلانا ہے تاکہ انہیں سردیوں میں نئی فصل کاشت کرنے کے لیے جگہ مل سکے۔ اوسطاً خزاں کے دو سے تین مہینوں میں یہ کام اپنے عروج پر ہوتا ہے۔ یہ دہلی میں PM2.5 کی 20 فیصد موجودگی کا سبب ہے۔

یہ بہت عام مسئلہ ہے لیکن جب تک کوئی مناسب متبادل فراہم نہیں کیا جاتا، کاشت کاروں کو روکنا مشکل ہے۔ بہرحال، حکومت نے دہلی اور اردگرد ڈیزل جنریٹرز کے استعمال پر پابندی لگا رکھی ہے اور آبی توپ (واٹر کینن) کے استعمال سے گرد بٹھانے کی کوششیں بھی کی جار ہی ہیں۔

لیکن ۔۔۔ محض شہر ہی نہیں خود دیہات بھی آلودگی سے بُری طرح متاثر ہیں، خاص طور پر خواتین سب سے زیادہ اس کی زد پر ہیں۔ تحقیق نے ثابت کیا ہے کہ دیہی علاقوں کی خواتین آلودگی کا سب سے زیادہ شکار ہیں کیونکہ ان میں سے زیادہ تر خواتین کو گائے کے گوبر کو کھانا پکانے کے لیے بطور ایندھن استعمال کرنا پڑتا ہے۔ پربھاکرن نے کہا کہ گھریلو آلودگی خواتین اور بچوں کو متاثر کرتی ہے کیونکہ یہ دیہی علاقوں میں زیادہ تر وقت گھر پر ہی گزارتے ہیں۔ وباء کے دیہی علاقوں تک پہنچنے سے ہمیں سانس کے امراض میں اضافے کا خدشہ ہے، جس سے صحت کے نظام پر دباؤ مزید بڑھا ہے۔ آنے والی سردیوں میں یہ مسئلہ مزید گمبھیر ہو سکتا ہے، بالخصوص سانس اور دل کے امراض کے شکار افراد کے لیے۔ اس کے لیے صحت کے نظام کی پہلے سے ہی تیار رکھنا بہت ضروری ہے، ساتھ ہی صحت و صفائی کے حوالے سے شعور اجاگر کرنے کی بھی ضرورت ہے ۔

پاکستان اب تک بھارت کی طرح کووِڈ-19 کے شکنجے میں تو نہیں پھنسا ہوا لیکن لیکن یہاں صحت کے شعبے سے وابستہ عہدیداروں نے خبردار کیا ہے کہ جلد ہی ملک کو وباء کی دوسری لہر کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

پاکستان کے بیشتر علاقوں کو آلودگی کے اتنے ہی خطرے کا سامنا ہے، جتنا کہ شمالی بھارت میں ہے۔

کووِڈ-19 اور مستقبل کی وباؤں کا بہتر انداز میں مقابلہ کرنے کے لیے کام کرنے والے نوجوانوں کے تھنک ٹینک گرین باکس کے بانی محسن گل چاہتے ہیں کہ حکومت جلد اقدامات اٹھائے۔

سردیوں کی آمد پاکستان میں فضائی آلودگی میں بڑھنے کا سبب بنتی ہے اور یہ پہلے ہی سے کووِڈ-19 کی زد پر موجود افراد کو مزید بدتر حالات سے دوچار کر دے گی۔

پاکستان میں 22 فیصد قبل از وقت اموات کا سبب فضائی آلودگی کو سمجھا جاتا ہے اور فضائی آلودگی سے امراض ملک کے سالانہ جی ڈی پی کو 2.5 فیصد نقصان پہنچاتے ہیں۔

ماحولیاتی کارکن احمد رافع عالم کا کہنا ہے کہ اسموگ سیزن کووِڈ-19 کی علامات کو مزید سنگین اور اس سے چھٹکارے کو اتنا ہی مشکل بنا دے گا۔

پاکستان کے کئی شہروں میں فضائی آلودگی کا ڈیٹا حاصل یا رپورٹ تک نہیں کیا جاتا حالانکہ یہ آلودگی سے نمٹنے کا پہلا قدم ہے۔

سول سوسائٹی کوالیشن فار کلائمٹ چینج ان پاکستان کی سربراہ عائشہ خان کہتی ہیں کہ حکومت کو سب سے پہلے تمام صوبوں اور بڑے شہروں سے قابلِ اعتماد ڈیٹا اکٹھا کرنا چاہیے۔ اس کا مطلب ہے آلودگی کو جانچنے کے لیے کارگر اور اہم آلات کی تنصیب اور ان سے کام لینے اور سمجھنے کے لیے تکنیکی طور پر ماہر افراد کی موجودگی ضروری ہے۔

انہوں نے حکومت سے روایتی ایندھن سے قابلِ تجدید توانائی کی جانب منتقلی، سیمنٹ اور اسٹیل جیسی آلودہ صنعتوں پر کریک ڈاؤن کرنے، فیول کوالٹی کو کم از کم یورو IV پر منتقل کرنے اور پرانی گاڑیوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔

محسن گل نے کہا کہ قابلِ تجدید توانائی، الیکٹرک گاڑیوں اور لو-کاربن ٹیکنالوجیز میں سرمایہ کاری نہ صرف ماحولیاتی تبدیلی کا مقابلہ کرے گی، بلکہ ملک کو مستقبل میں کسی بھی وباء سے بچانے میں بھی مدد دے گی۔

جنوبی ایشیا میں کووِڈ-19 ٹیسٹ کی شرح بھی بہت کم ہے، خاص طور پر بڑے شہروں سے باہر تو نہ ہونے کے برابر۔ ایئر کوالٹی مانیٹرنگ کا نیٹ ورک موجود نہ ہونے کی وجہ سے ڈیٹا کی عدم موجودگی خطے میں وباء کے خطرے کو کئی گُنا بڑھا سکتی ہے۔

مزید تحاریر

سلیکون ویلی میں بھارتی انجینئرز کا راج، اپنے ساتھ ذات پات کا نظام بھی لے آئے

جب بینجمن کائیلا 1999ء میں بھارت سے ہجرت کرکے امریکا پہنچے تو انہوں نے ایک امریکی ٹیک کمپنی میں ملازمت کے لیے درخواست جمع...

باکسنگ ڈے ٹیسٹ میں 25 ہزار تماشائی ہوں گے

ہر سال 26 دسمبر کو آسٹریلیا میں باکسنگ ڈے کے موقع پر ٹیسٹ میچ کھیلا جاتا ہے اور رواں سال یہ مقابلہ آسٹریلیا اور...

دھات سے بنا سیارچہ دریافت، مالیت ہماری دنیا کی کُل معیشت سے ہزاروں گُنا زیادہ

امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے 'ناسا' نے غیر معمولی دھاتوں کا حامل ایک سیارچہ (asteroid) دریافت کر لیا ہے، جس کی مالیت کا اندازہ دنیا...

غیر ملکیوں کے لیے خوشخبری، سعودی عرب "کفالۃ” نظام کا خاتمہ کرنے لگا

سعودی عرب غیر ملکی کارکنوں کے لیے "کفالۃ" کے نظام کو منسوخ کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے، جس کی جگہ آجرین اور ملازمین...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے