17 C
Islamabad
جمعرات, اکتوبر 29, 2020

استعفوں کا سیزن: مصباح نے بھی ایک عہدہ چھوڑ دیا

تازہ ترین

سلیکون ویلی میں بھارتی انجینئرز کا راج، اپنے ساتھ ذات پات کا نظام بھی لے آئے

جب بینجمن کائیلا 1999ء میں بھارت سے ہجرت کرکے امریکا پہنچے تو انہوں نے ایک امریکی ٹیک کمپنی میں ملازمت کے لیے درخواست جمع...

باکسنگ ڈے ٹیسٹ میں 25 ہزار تماشائی ہوں گے

ہر سال 26 دسمبر کو آسٹریلیا میں باکسنگ ڈے کے موقع پر ٹیسٹ میچ کھیلا جاتا ہے اور رواں سال یہ مقابلہ آسٹریلیا اور...

دھات سے بنا سیارچہ دریافت، مالیت ہماری دنیا کی کُل معیشت سے ہزاروں گُنا زیادہ

امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے 'ناسا' نے غیر معمولی دھاتوں کا حامل ایک سیارچہ (asteroid) دریافت کر لیا ہے، جس کی مالیت کا اندازہ دنیا...

غیر ملکیوں کے لیے خوشخبری، سعودی عرب "کفالۃ” نظام کا خاتمہ کرنے لگا

سعودی عرب غیر ملکی کارکنوں کے لیے "کفالۃ" کے نظام کو منسوخ کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے، جس کی جگہ آجرین اور ملازمین...

ایک سال تک پاکستان کرکٹ کے دو اہم ترین عہدوں ہیڈ کوچ اور چیف سلیکٹر پر فائز رہنے کے بعد بالآخر مصباح الحق نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ ایک عہدہ چھوڑ دیں گے، اور وہ ہیڈ کوچ کا اہم عہدہ نہیں ہوگا بلکہ چیف سلیکٹر کا ہوگا۔ اس کا باضابطہ اعلان وہ آج دوپہر ایک پریس کانفرنس میں کریں گے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ میں پہلی بار مصباح الحق اہم ترین عہدے پر 10 سال قبل فائز ہوئے جب انہیں قومی کرکٹ ٹیم کی قیادت سونپی گئی تھی۔ تب بھی سب حیران تھے کہ یہ نام اچانک کہاں سے آ گیا؟ کیونکہ مصباح بہت عرصے سے قومی ٹیم کا مستقل حصہ تک نہیں تھے۔ کچھ یہی معاملہ 2019ء میں بھی ہوا کہ جب ورلڈ کپ میں شکست کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ نے ہیڈ کوچ اور چیف سلیکٹر کو فارغ کیا تو دونوں اہم عہدوں کے لیے ایک ہی نام پر اتفاق ہوا، یعنی مصباح الحق پر۔

بیک وقت دو عہدوں پر تعیناتی پاکستان کے سیاسی حلقوں کے ساتھ ساتھ کرکٹ میں بھی متنازع عمل رہی ہے اور اسے ہونا بھی چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ کئی حلقے مصباح الحق پر سخت معترض ہوئے۔ 7 سال تک کپتان رہنے والے مصباح نے بحیثیت کھلاڑی تو بہت کچھ حاصل کیا تھا لیکن کوچ کی حیثیت نے ان کا معاملہ اتنا واضح نہیں تھا۔

مصباح الحق کا کوچنگ کا تجربہ صفر تھا، وہ بمشکل کم از کم کوالیفکیشن یعنی لیول II کوچنگ کورس رکھتے تھے، جو انہوں نے عہدہ سنبھالنے سے صرف کچھ مہینے پہلے ہی حاصل کی تھی۔ جبکہ تین سال کا جو کوچنگ تجربہ درکار تھا، وہ تو سرے سے مصباح کے پاس تھا ہی نہیں۔ اس کے باوجود ڈین جونز جیسے کئی تجربہ کار امیدواروں پر نہ صرف مصباح کو ترجیح دی گئی، بلکہ انہیں ایک کے بجائے دو بڑے عہدوں سے نواز دیا گیا۔

پھر وہی ہوا جس کا خدشہ تھا کہ پاکستان کرکٹ ٹیم کی کارکردگی میں کوئی بہتری نہیں آئی۔ پچھلے ایک سال میں 8 ٹیسٹ میچز میں صرف دو فتوحات حاصل کیں اور 8 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنلز میں سے صرف 3 ہی جیتے۔ اس کارکردگی کے بعد غالباً مصباح پر دباؤ میں اضافہ ہوا ہوگا تو انہوں نے چیف سلیکٹر کا عہدہ چھوڑ کر اس معاملے کو رفع دفع کرنےکی ٹھانی۔

مصباح الحق کو تین سال کے لیے ذمہ داریاں دی گئی تھیں، ان میں سے ایک تہائی دور یعنی ایک سال گزر چکا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ یہ اس استعفے کے بعد چیف سلیکٹر کے عہدے پر کون آتا ہے؟ اور اس کے مصباح کے مستقبل پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟

مزید تحاریر

سلیکون ویلی میں بھارتی انجینئرز کا راج، اپنے ساتھ ذات پات کا نظام بھی لے آئے

جب بینجمن کائیلا 1999ء میں بھارت سے ہجرت کرکے امریکا پہنچے تو انہوں نے ایک امریکی ٹیک کمپنی میں ملازمت کے لیے درخواست جمع...

باکسنگ ڈے ٹیسٹ میں 25 ہزار تماشائی ہوں گے

ہر سال 26 دسمبر کو آسٹریلیا میں باکسنگ ڈے کے موقع پر ٹیسٹ میچ کھیلا جاتا ہے اور رواں سال یہ مقابلہ آسٹریلیا اور...

دھات سے بنا سیارچہ دریافت، مالیت ہماری دنیا کی کُل معیشت سے ہزاروں گُنا زیادہ

امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے 'ناسا' نے غیر معمولی دھاتوں کا حامل ایک سیارچہ (asteroid) دریافت کر لیا ہے، جس کی مالیت کا اندازہ دنیا...

غیر ملکیوں کے لیے خوشخبری، سعودی عرب "کفالۃ” نظام کا خاتمہ کرنے لگا

سعودی عرب غیر ملکی کارکنوں کے لیے "کفالۃ" کے نظام کو منسوخ کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے، جس کی جگہ آجرین اور ملازمین...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے