25 C
Islamabad
بدھ, اکتوبر 28, 2020

گوجرانولہ جلسے سے متعلق کیا اسٹریٹیجی بنی؟ اہم اجلاس کی اندرونی کہانی جانیے – یشفین جمال کا تجزیہ

تازہ ترین

سلیکون ویلی میں بھارتی انجینئرز کا راج، اپنے ساتھ ذات پات کا نظام بھی لے آئے

جب بینجمن کائیلا 1999ء میں بھارت سے ہجرت کرکے امریکا پہنچے تو انہوں نے ایک امریکی ٹیک کمپنی میں ملازمت کے لیے درخواست جمع...

باکسنگ ڈے ٹیسٹ میں 25 ہزار تماشائی ہوں گے

ہر سال 26 دسمبر کو آسٹریلیا میں باکسنگ ڈے کے موقع پر ٹیسٹ میچ کھیلا جاتا ہے اور رواں سال یہ مقابلہ آسٹریلیا اور...

دھات سے بنا سیارچہ دریافت، مالیت ہماری دنیا کی کُل معیشت سے ہزاروں گُنا زیادہ

امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے 'ناسا' نے غیر معمولی دھاتوں کا حامل ایک سیارچہ (asteroid) دریافت کر لیا ہے، جس کی مالیت کا اندازہ دنیا...

غیر ملکیوں کے لیے خوشخبری، سعودی عرب "کفالۃ” نظام کا خاتمہ کرنے لگا

سعودی عرب غیر ملکی کارکنوں کے لیے "کفالۃ" کے نظام کو منسوخ کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے، جس کی جگہ آجرین اور ملازمین...

پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کا جلسہ اس وقت ہر طرف زیربحث ہے۔ حکومت لاکھ کہے کہ اسے کوئی پروا نہیں، حقیقت یہ ہے کہ اسے پریشانی ہے اور بعض اوقات اس میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ اس پر کئی نشستوں میں گفتگو بھی ہوئی۔

حکومتی اراکین میں اپوزیشن کے جلسے سے متعلق آرا تقسیم ہیں۔ کابینہ کے اندر اس پر تنازع بھی ہوا، تلخ کلامی تک بات پہنچی۔ کسی کا خیال ہے کہ اپوزیشن کو جلسہ کرنے دیا جائے، اس سے ہمیں کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ جمہوری رویہ یہی ہے۔ یہ رائے رکھنے والوں کا یہ بھی خیال ہے کہ اپوزیشن کو روکنے کی صورت میں اسے زیادہ کوریج ملے گی اور ان کا جلسہ زیادہ نمایاں ہوکر سامنے آئے گا۔ جبکہ کچھ اراکین یہ سمجھتے ہیں کہ ہمیں ہر صورت اسے روکنا چاہیے۔ مہنگائی کی وجہ سے عوام میں غم وغصہ پایا جاتا ہے، اگر اپوزیشن کو کھل کھیلنے کا موقع ملے تو ہمارے لیے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔

اپوزیشن کی شروع ہونے والی تحریک اور گوجرانوالہ جلسے سے متعلق اجلاس چند دن قبل وزیراعظم عمران خان کی صدارت میں ہوا۔ جس کی اندرونی کہانی آپ کے سامنے رکھوں گی۔

اجلاس میں وزیراعظم کو بتایا گیا کہ گوجرانوالہ مسلم لیگ ن کا اہم شہر ہے۔ وہاں ہونے والے جلسے میں حاضری بہت اچھی ہوسکتی ہے۔ پہلا جلسہ ہوگا اس لیے اپوزیشن کی پوری کوشش ہوگی کہ ایک بڑا شو کرسکے۔ ساتھ ہی وزیراعظم کو یہ بھی بتایا گیا کہ ابھی انتظار کیا جائے۔ اپوزیشن، خصوصا نوازشریف اور مریم نواز کی تقاریر کو دیکھ کر فیصلہ کیا جائے کہ آگے کیا کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق ایک دو جلسے حکومت کے لیے کوئی مشکلات کھڑی نہیں کرسکتے۔ البتہ یہ جلسے حکومت کے خلاف تحریک کے آغاز کے لیے اہم ہوسکتے ہیں۔

اسی اجلاس میں وفاقی وزیر ریلوے اور سینئر سیاست دان شیخ رشید کی رائے یہ تھی کہ ہمیں اس جلسے سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔ اپوزیشن کو موقع دینا چاہیے کہ وہ اپنی پوری توانائی لگائے۔ اس طرح ان کی یہ تحریک اپنی موت آپ مرجائے گی۔ تاہم ان کا خیال ہے کہ مہنگائی، بے روزگاری اور دیگر مسائل مسلسل بڑھتے چلے جارہے ہیں۔ اصل مسئلہ حکومت کے لیے یہی ہے، اسی کی وجہ سے اس کے لیے مسائل پیدا ہوسکتےہیں۔ ان کے خیال میں اپوزیشن پر اپنی توانائی خرچ کرنے کے بجائے مہنگائی میں کمی لانے پر اپنی پوری توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔

لیکن دوسری طرف پاکستان تحریک انصاف کے اندر وزرا کی ایک بڑی تعداد ایسی ہے جو ان معاملات سے سختی کے ساتھ نمٹنے کے مشورے دے رہے ہیں۔

تاہم دلچسپ بات یہ ہے کہ وزیراعظم اس وقت ایسے وزرا کی آرا پر زیادہ کان نہیں دھر رہے۔ شیخ رشید سے ملتی جلتی رائے رکھتے ہوئے ان کا خیال ہے کہ ہمیں اپوزیشن کے مقابلے میں counter narrative لانا چاہیے۔ ممکن ہے کہ وزیراعظم عمران خان کے سامنے کچھ روز قبل درج ہونے والی ایف آئی آر بھی ہو۔ نواز شریف اور دیگر 40 افراد کے خلاف کاٹی جانے والی ایف آئی آر پر ادارے بھی زیادہ خوش نہیں۔ خصوصا وزیراعظم آزاد کشمیر کا نام آنا بہت سوں کے لیے شرمندگی کا سبب بنا اور اسے بیلنس کرنے کےلیے اس وقت بھاگ دوڑ جاری ہے۔

اسی اجلاس میں طے ہوا کہ وزیراعظم متبادل بیانیے کے لیے خطاب کریں۔ چنانچہ آپ نے دیکھا ہوگا کہ وزیراعظم نے ایک ٹویٹ میں بتایا کہ ٹائیگر فورس کے سامنے مہنگائی کم کرنے سے متعلق اعلانات کروں گا۔ اسی اجلاس کے اندر یہ فیصلہ ہوا کہ وزیراعظم عمران خان اپوزیشن جلسے کے اگلے دن کنونشن سینٹر میں دھواں دار خطاب کریں گے۔ لہٰذا ٹائیگر فورس کے اس اجتماع کے لیے زوروشور سے تیاریاں جاری ہیں۔ ایک بڑی تعداد اکٹھی کی جارہی ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے بظاہر تو مہنگائی، بے روزگاری سے متعلق اس کا انعقاد کروایا ہے، لیکن یہ اپوزیشن کے خلاف متبادل بیانیہ کے لیے ہونے والا اجتماع ہوگا۔ اس میں وہ اپوزیشن کو آڑے ہاتھوں لیں گے۔ اپنا لہجہ انتہائی سخت رکھیں گے۔ ان کے خیال میں اس سے اپوزیشن جلسے اور ہونے والی تقاریر کا اثر کسی حد تک زائل ہوسکے گا۔

اپوزیشن کو زیادہ نہ چھیڑنے اور متبادل بیانیہ دینے میں حکومت کس حد تک کامیاب ہوتی ہے اور جو وہ سوچ رہی ہے اس سے کتنا فائدہ ہوسکتا ہے، یہ معاملہ چند دن بعد ہی واضح ہوجائے گا لیکن اگر اپوزیشن ایک اچھا جلسہ کرنے میں کامیاب ہوئی اور اس کی توپوں کا رُخ ”کسی اور“ کے بجائے صرف حکومت کی طرف ہی رہا، تو یقینا حکومت کے لیے مشکلات کھڑی ہوسکتی ہیں اور حکومت اگلے کسی بھی جلسے یا اکٹھ کو اتنی آسانی کے ساتھ نہیں ہونے دے گی۔ جس کا نتیجہ ملک میں مزید انتشار اور سیاسی عدم استحکام کی صورت نکل سکتا ہے۔

مزید تحاریر

سلیکون ویلی میں بھارتی انجینئرز کا راج، اپنے ساتھ ذات پات کا نظام بھی لے آئے

جب بینجمن کائیلا 1999ء میں بھارت سے ہجرت کرکے امریکا پہنچے تو انہوں نے ایک امریکی ٹیک کمپنی میں ملازمت کے لیے درخواست جمع...

باکسنگ ڈے ٹیسٹ میں 25 ہزار تماشائی ہوں گے

ہر سال 26 دسمبر کو آسٹریلیا میں باکسنگ ڈے کے موقع پر ٹیسٹ میچ کھیلا جاتا ہے اور رواں سال یہ مقابلہ آسٹریلیا اور...

دھات سے بنا سیارچہ دریافت، مالیت ہماری دنیا کی کُل معیشت سے ہزاروں گُنا زیادہ

امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے 'ناسا' نے غیر معمولی دھاتوں کا حامل ایک سیارچہ (asteroid) دریافت کر لیا ہے، جس کی مالیت کا اندازہ دنیا...

غیر ملکیوں کے لیے خوشخبری، سعودی عرب "کفالۃ” نظام کا خاتمہ کرنے لگا

سعودی عرب غیر ملکی کارکنوں کے لیے "کفالۃ" کے نظام کو منسوخ کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے، جس کی جگہ آجرین اور ملازمین...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے