17 C
Islamabad
جمعرات, اکتوبر 29, 2020

انٹرنیشنل کرکٹ: جنوبی افریقہ پر ایک مرتبہ پھر پابندی کا خطرہ؟

تازہ ترین

سلیکون ویلی میں بھارتی انجینئرز کا راج، اپنے ساتھ ذات پات کا نظام بھی لے آئے

جب بینجمن کائیلا 1999ء میں بھارت سے ہجرت کرکے امریکا پہنچے تو انہوں نے ایک امریکی ٹیک کمپنی میں ملازمت کے لیے درخواست جمع...

باکسنگ ڈے ٹیسٹ میں 25 ہزار تماشائی ہوں گے

ہر سال 26 دسمبر کو آسٹریلیا میں باکسنگ ڈے کے موقع پر ٹیسٹ میچ کھیلا جاتا ہے اور رواں سال یہ مقابلہ آسٹریلیا اور...

دھات سے بنا سیارچہ دریافت، مالیت ہماری دنیا کی کُل معیشت سے ہزاروں گُنا زیادہ

امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے 'ناسا' نے غیر معمولی دھاتوں کا حامل ایک سیارچہ (asteroid) دریافت کر لیا ہے، جس کی مالیت کا اندازہ دنیا...

غیر ملکیوں کے لیے خوشخبری، سعودی عرب "کفالۃ” نظام کا خاتمہ کرنے لگا

سعودی عرب غیر ملکی کارکنوں کے لیے "کفالۃ" کے نظام کو منسوخ کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے، جس کی جگہ آجرین اور ملازمین...

جنوبی افریقہ کی حکومت نے بے ضابطگی اور بدعنوانی کے انکشافات کے بعد قومی کرکٹ بورڈ ؛کرکٹ ساؤتھ افریقہ’ میں مداخلت کا ارادہ کر لیا ہے اور یوں خطرہ پیدا ہو گیا ہے کہ انٹرنیشنل کرکٹ میں جنوبی افریقہ پر پابندی لگ جائے۔

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے آئین کے مطابق کھیل کے معاملات میں حکومت کو مداخلت کا حق نہیں ہے اور اس کی سزا عموماً اس ملک کی ٹیم پر پابندی عائد کر دینا ہے اور یہ پابندی تب تک برقرار رہتی ہے جب تک وہ بورڈ ایک مرتبہ پھر آزادانہ طور پر کام کرنے لگے۔

جنوبی افریقہ کے وزیر کھیل ناتھی ایمتھیتھوا نے کہا ہے کہ انہوں نے اس حوالے سے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (ICC) کو آگاہ بھی کر دیا ہے۔

اب اگلے مہینے انگلینڈ کا دورۂ جنوبی افریقہ اور کچھ مہینے بعد ٹیم ساؤتھ افریقہ کا دورۂ پاکستان کھٹائی میں پڑتا نظر آ رہا ہے۔ انگلینڈ نومبر و دسمبر میں تین ون ڈے اور اتنے ہی ٹی ٹوئنٹی میچز کھیلنے کے لیے جنوبی افریقہ جائے گا جبکہ جنوری و فروری میں جنوبی افریقہ پاکستان کے خلاف کھیلے گا۔

آئی سی سی نے تصدیق کی ہے کہ اسے ممکنہ مداخلت کے حوالے سے جنوبی افریقہ کی وزارتِ کھیل کا نوٹس مل چکا ہے، لیکن ابھی تک اسے کرکٹ ساؤتھ افریقہ (CSA) کی جانب سے ایسی کوئی شکایت نہیں ملی کہ اس کے کام میں مداخلت کی جا رہی ہے۔ آئی سی سی کا کہنا ہے کہ "اراکین کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے کہ وہ حکومت کے ساتھ اپنے معاملات براہِ راست حل کریں۔ لیکن ہم اس صورت حال کی کڑی نگرانی کر رہے ہیں۔”

جنوبی افریقہ میں کرکٹ بورڈ اور حکومت کے درمیان کشیدگی کا سبب دراصل کرکٹ باڈی کے معاملات کے حوالے سے جاری تحقیقات ہیں، جس کا نتیجہ اگست میں کرکٹ بورڈ کے سی ای او تھابنگ مورو کو نکالنے تک پہنچ گیا۔

اب حالت یہ ہے کہ کرکٹ ساؤتھ افریقہ وہ رپورٹ سامنے لانے سے انکاری ہے کہ جو آزاد تفتیش کاروں نے مرتب کی ہے اور اس کے علاوہ ساؤتھ افریقن اسپورٹس کنفیڈریشن اور اولمپک کمیٹی کی جانب سے بورڈ کے معاملات کی تحقیقات کرنے کی کوششوں پر مزاحمت بھی کر رہا ہے۔

حال ہی میں بورڈ نے اپنے رویّے میں کچھ نرمی لاتے ہوئے فورنزک تحقیقات کے نتائج کا کچھ خلاصہ پیش کیا ہے۔ اس کے علاوہ گزشتہ ہفتے جنوبی افریقہ کے اراکینِ پارلیمان پر مشتمل ایک کمیٹی کو مکمل رپورٹ دینے پر بھی مجبور ہو گیا۔ کمیٹی نے 500 صفحات پر مشتمل اس رپورٹ تک رسائی کا مطالبہ کیا تھا۔

رپورٹ کے جو حصے اب تک منظرِ عام پر آ چکے ہیں ان سے بورڈ میں سنگین مالی بدعنوانی اور بد انتظامی کا انکشاف ہوا ہے۔

اس وقت کرکٹ ساؤتھ افریقہ کے معاملات ایک قائم مقام صدر اور عبوری سی ای او چلا رہے ہیں۔ بورڈ کو حکومت کی جانب سے کڑی تنقید کا سامنا ہے اور وزیر کھیل نے 27 اکتوبر تک کا وقت دیا ہے کہ بورڈ وضاحت پیش کرے ورنہ حکومت اس کے معاملات میں مداخلت کرے گی۔

یاد رہے کہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے نسل پرستانہ پالیسیوں کی وجہ سے 1970ء میں بھی جنوبی افریقہ پر پابندی عائد کی تھی جو 1991ء میں ختم ہوئی۔ یعنی 21 سال تک جنوبی افریقہ انٹرنیشنل کرکٹ نہیں کھیل پایا۔

مزید تحاریر

سلیکون ویلی میں بھارتی انجینئرز کا راج، اپنے ساتھ ذات پات کا نظام بھی لے آئے

جب بینجمن کائیلا 1999ء میں بھارت سے ہجرت کرکے امریکا پہنچے تو انہوں نے ایک امریکی ٹیک کمپنی میں ملازمت کے لیے درخواست جمع...

باکسنگ ڈے ٹیسٹ میں 25 ہزار تماشائی ہوں گے

ہر سال 26 دسمبر کو آسٹریلیا میں باکسنگ ڈے کے موقع پر ٹیسٹ میچ کھیلا جاتا ہے اور رواں سال یہ مقابلہ آسٹریلیا اور...

دھات سے بنا سیارچہ دریافت، مالیت ہماری دنیا کی کُل معیشت سے ہزاروں گُنا زیادہ

امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے 'ناسا' نے غیر معمولی دھاتوں کا حامل ایک سیارچہ (asteroid) دریافت کر لیا ہے، جس کی مالیت کا اندازہ دنیا...

غیر ملکیوں کے لیے خوشخبری، سعودی عرب "کفالۃ” نظام کا خاتمہ کرنے لگا

سعودی عرب غیر ملکی کارکنوں کے لیے "کفالۃ" کے نظام کو منسوخ کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے، جس کی جگہ آجرین اور ملازمین...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے