17 C
Islamabad
جمعرات, اکتوبر 29, 2020

کھانے پینے کی وہ چیزیں جو کبھی خراب نہیں ہوتیں

تازہ ترین

سلیکون ویلی میں بھارتی انجینئرز کا راج، اپنے ساتھ ذات پات کا نظام بھی لے آئے

جب بینجمن کائیلا 1999ء میں بھارت سے ہجرت کرکے امریکا پہنچے تو انہوں نے ایک امریکی ٹیک کمپنی میں ملازمت کے لیے درخواست جمع...

باکسنگ ڈے ٹیسٹ میں 25 ہزار تماشائی ہوں گے

ہر سال 26 دسمبر کو آسٹریلیا میں باکسنگ ڈے کے موقع پر ٹیسٹ میچ کھیلا جاتا ہے اور رواں سال یہ مقابلہ آسٹریلیا اور...

دھات سے بنا سیارچہ دریافت، مالیت ہماری دنیا کی کُل معیشت سے ہزاروں گُنا زیادہ

امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے 'ناسا' نے غیر معمولی دھاتوں کا حامل ایک سیارچہ (asteroid) دریافت کر لیا ہے، جس کی مالیت کا اندازہ دنیا...

غیر ملکیوں کے لیے خوشخبری، سعودی عرب "کفالۃ” نظام کا خاتمہ کرنے لگا

سعودی عرب غیر ملکی کارکنوں کے لیے "کفالۃ" کے نظام کو منسوخ کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے، جس کی جگہ آجرین اور ملازمین...

کیا آپ جانتے ہیں کہ سفید چاول صرف چار سے پانچ سال تک ہی چلتا ہے؟ الّا یہ کہ اسے آکسیجن سے پاک ماحول میں محفوظ کیا جائے۔ لیکن کھانے پینے کی کچھ چیزیں ایسی ہیں جنہیں آپ بہت لمبے عرصے تک استعمال کر سکتے ہیں، جیسا کہ شہد:

شہد


شہد ان چیزوں میں سے ایک ہے جس کو ہمیشہ استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ویسے تکنیکی طور پر دیکھیں تو چینی بھی لمبے عرصے تک چل سکتی ہے لیکن دو سال بعد اس کا ذائقہ تبدیل ہونے لگتا ہے۔ لیکن شہد کے ساتھ ایسا نہیں ہوتا۔ دو سال تو رہنے دیں 20 سال، 50 سال بلکہ 100 سال بعد بھی شہد کا ذائقہ ویسا ہی رہتا ہے جیسا بوتل میں محفوظ رکھتے وقت تھا۔ نیشنل جیوگرافک کے مطابق ماہرینِ آثار قدیمہ نے مصر میں فرعونوں کے مقبروں سے 3 ہزار سال پرانا شہد بھی اس حالت میں نکالا ہے کہ وہ کھانے کے قابل تھا۔

دراصل شہد میں پانی کی مقدار بہت کم ہوتی ہے اور جراثیم کی نشوونما کے لیے پانی کی موجودگی بہت ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تازہ پھل اور سبزیاں سب سے پہلے خراب ہوتی ہیں۔ پھر اس کی pH ویلیو بھی کم ہوتی ہے، جس کی وجہ سے شہد میں بیکٹیریا جنم نہیں لے سکتے۔


نمک


نمک سینکڑوں سالوں سے ایک preservative یعنی چیزوں کو محفوظ کرنے والے مادّے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ کیونکہ قدرتی نمک، جس میں کوئی اضافی اجزاء شامل نہ ہوں، کبھی خراب نہیں ہوتا۔ شہد کی طرح نمک میں بھی پانی نہیں ہوتا، جس کی وجہ سے اسے ایسے حالات کا سامنا نہیں کرنا پڑتا کہ جن میں وہ خراب ہو جائے۔ اگر نمک کو درست انداز میں محفوظ کیا جائے تو اس کا ذائقہ بھی کبھی تبدیل نہیں ہوگا، چاہے کتنا ہی پرانا کیوں نہ ہو جائے۔ ویسے یہ قدرتی نمک کی بات ہو رہی ہے، آیوڈین ملے نمک کی نہیں۔


انسٹنٹ کافی


انسٹنٹ کافی کا خیال تبھی آتا ہے جب آپ کسی پکنک وغیرہ پر جائیں یا سفر میں استعمال کرنا چاہیں۔ لیکن بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ انسٹنٹ کافی ہمیشہ تازہ رہتی ہے، چاہے آپ اس کی پیکیجنگ بھی کھول ہی کیوں نہ دیں۔ انسٹنٹ کافی بنانے کے عمل میں پانی مکمل طور پر خشک کر دیا جاتا ہے اور یوں یہ لمبے عرصے کے لیے محفوظ ہو جاتی ہے۔


چکنائی سے پاک خشک دودھ


ہم ہنگامی ضرورت کے لیے خشک دودھ گھروں میں رکھتے ہی ہیں۔ دراصل اس کو بنانے کے عمل میں دودھ سے پانی اور چکنائی کو الگ کر دیا جاتا ہے۔ یہی دو اجزاء ایسے ہیں جو دودھ کی مصنوعات کو خراب کر سکتے ہیں۔ بہرحال، اس عمل کے بعد دودھ کو پاؤڈر کی صورت دے دی جاتی ہے۔ یہ پانی میں باآسانی گھل جاتا ہے اور اپنی انتہائی تاریخ (ایکسپائری ڈیٹ) کے بعد بھی دو سے 10 سال تک محفوظ رہ سکتا ہے، خاص طور پر اگر آپ اسے کسی ایئرٹائٹ ڈبے میں بند رکھیں تو۔ ویسے خشک دودھ کو کسی ٹھنڈی جگہ پر رکھنے سے بھی اس کی زندگی بڑھ جاتی ہے۔ اسے فریزر میں رکھیں تو یہ کبھی ایکسپائر نہیں ہوگا۔


تازہ کھوپرے کا تیل


کھانا پکانے کے لیے کئی قسم کے تیل آتے ہیں، جن میں سے ہر کسی کی اپنی خوبیاں اور خامیاں ہیں۔ لیکن اگر معاملہ شیلف لائف کا ہو تو کھوپرے کا تیل سب سے آگے ہے۔ یہ کسی بھی دوسرے تیل کے مقابلے میں زیادہ عرصے تک چلتا ہے۔ انتہائی تاریخ گزر جانے کے بعد دو سے تین سال کا عرصہ ہو جائے تو زیتون کا تیل بدبودار ہو جاتا ہے اور سبزیوں کا تیل تو بمشکل ایک سال چل پاتا ہے لیکن تازہ کھوپرے کا تیل کبھی ایکسپائر نہیں ہوتا۔

لیکن یاد رکھیں کہ یہ ریفائن نہ کیے جانے والے کھوپرے کے تیل کی بات ہو رہی ہے۔ صاف کرنے کے عمل میں اس کی یہ صلاحیت ختم ہو جاتی ہے۔ عموماً لوگ قدرتی خوشبو اور ذائقے کی وجہ سے ریفائنڈ یعنی صاف تیل ہی کا رخ کرتے ہیں لیکن یہ صرف ایک، ڈیڑھ سال ہی چل سکتا ہے۔ جبکہ unrefined کھوپرے کا تیل بہت لمبی زندگی رکھتا ہے۔


مکئی


آجکل مائیکرو ویو میں بنانے کے لیے پاپ کارن کے بنے بنائے پیکٹ آتے ہیں۔ پیکٹ مائیکرو ویو اوون میں رکھیں اور چند منٹوں میں مزیدار پاپ کارن تیار۔ لیکن یاد رکھیں کہ ان کا ذائقہ وقت کے ساتھ ساتھ خراب ہو جاتا ہے لیکن کھلے مکئی کے دانوں کے ساتھ کبھی ایسا نہیں ہوتا۔ اگر انہیں ایئرٹائٹ جار میں یا کسی ٹھنڈی اور خشک جگہ پر رکھا جائے تو یہ ہمیشہ چلیں گے۔


خشک پھلیاں


خشک پھلیاں پروٹین، فائبر، وائٹامنز اور اینٹی آکسیڈنٹس کا بہترین ذریعہ ہوتی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ انہیں بہترین خوراک قرار دیا جاتا ہے۔ اگر پھلیوں کو خشک اور ٹھنڈی جگہ پر محفوظ کیا جائے تو یہ ہمیشہ چلتی ہیں۔ البتہ معیار کی بات کی جائے تو کئی دہائیوں پرانی پھلیاں ہو سکتا ہے کہ کھانے میں تازہ پھلیوں جیسی نہ لگیں۔ ایک تحقیق میں 58 افراد کو 32 سال پرانی پھلیاں کھلائی گئیں، جن میں سے 80 فیصد نے اسے ذائقے اور مجموعی معیار کے اعتبار سے مناسب قرار دیا کہ انہیں ایمرجنسی میں استعمال کیا جا سکتا ہے ۔ اسی تحقیق میں یہ بات بھی ثابت ہوئی کہ اتنا عرصہ گزر جانے کے بعد بھی پھلیوں کی پروٹین صلاحیت برقرار رہی۔ ویسے تازہ پھلیوں کے مقابلے میں پرانی پھلیاں پکنے میں زیادہ وقت لیں گی اس لیے انہیں پکانے سے پہلے کم از کم 12 گھنٹے پانی میں بھگو کر رکھیں۔


سرکہ


سرکہ بڑی ‘آل راؤنڈر’ قسم کی چیز ہے، یہ پکانے میں بھی استعمال ہوتا ہے، سلاد میں بھی ایک اہم جُز ہے اور اسے اچار وغیرہ بنانے کے لیے بھی کام میں لایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ اس کے دیگر کئی گھریلو استعمال بھی ہیں اور ٹوٹکوں میں بھی ایک اہم چیز ہے۔ یہ صحت کے لیے بہت مفید چیز ہے لیکن سرکے کی سب سے اہم بات کیا ہے؟ یہی کہ یہ کبھی خراب نہیں ہوتا۔ تیزابی فطرت کی وجہ سے سرکے کو کبھی فریج میں رکھنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ ہو سکتا ہے وقت کے ساتھ اس کے رنگ میں کچھ فرق آ جائے، اس کی تہہ میں کچھ ذرات بھی نظر آئیں یا یہ کچھ دھندلا پڑ جائے، لیکن یہ تبدیلیاں اس کی اصل صلاحیتوں کو متاثر نہیں کرتیں۔ ویسے سفید شفاف سرکہ لے لیں، یہ وقت کے ساتھ کبھی اپنی شکل و صورت نہیں بدلتا۔


اناج کے دانے


حیرانگی کی بات یہ ہے کہ آٹا زیادہ عرصے تک نہیں چلتا۔ میدہ 10 سے 15 مہینوں میں ہی خراب ہونے لگتا ہے اور گندم کا آٹا صرف چھ سے آٹھ مہینے ہی چل پاتا ہے۔ لیکن اگر آپ اناج کے ثابت دانے محفوظ کرتے ہیں تو یہ دہائیوں تک چل سکتے ہیں۔

اناج کے ثابت دانے جیسا کہ گندم و باجرے کو آکسیجن سے پاک ماحول میں محفوظ کیا جائے تو یہ 10 سے 12 سال تک بھی چل سکتے ہیں۔ اصل میں آٹا بنتے ہی ان دانوں کی بیرونی قدرتی تہہ ختم ہو جاتی ہے جو اصل میں ان دانوں کے اجزاء کو محفوظ بناتی ہے۔

مزید تحاریر

سلیکون ویلی میں بھارتی انجینئرز کا راج، اپنے ساتھ ذات پات کا نظام بھی لے آئے

جب بینجمن کائیلا 1999ء میں بھارت سے ہجرت کرکے امریکا پہنچے تو انہوں نے ایک امریکی ٹیک کمپنی میں ملازمت کے لیے درخواست جمع...

باکسنگ ڈے ٹیسٹ میں 25 ہزار تماشائی ہوں گے

ہر سال 26 دسمبر کو آسٹریلیا میں باکسنگ ڈے کے موقع پر ٹیسٹ میچ کھیلا جاتا ہے اور رواں سال یہ مقابلہ آسٹریلیا اور...

دھات سے بنا سیارچہ دریافت، مالیت ہماری دنیا کی کُل معیشت سے ہزاروں گُنا زیادہ

امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے 'ناسا' نے غیر معمولی دھاتوں کا حامل ایک سیارچہ (asteroid) دریافت کر لیا ہے، جس کی مالیت کا اندازہ دنیا...

غیر ملکیوں کے لیے خوشخبری، سعودی عرب "کفالۃ” نظام کا خاتمہ کرنے لگا

سعودی عرب غیر ملکی کارکنوں کے لیے "کفالۃ" کے نظام کو منسوخ کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے، جس کی جگہ آجرین اور ملازمین...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے