17 C
Islamabad
جمعرات, اکتوبر 29, 2020

زیادہ جھوٹ نہیں چیف صاب! – احمد حماد

تازہ ترین

سلیکون ویلی میں بھارتی انجینئرز کا راج، اپنے ساتھ ذات پات کا نظام بھی لے آئے

جب بینجمن کائیلا 1999ء میں بھارت سے ہجرت کرکے امریکا پہنچے تو انہوں نے ایک امریکی ٹیک کمپنی میں ملازمت کے لیے درخواست جمع...

باکسنگ ڈے ٹیسٹ میں 25 ہزار تماشائی ہوں گے

ہر سال 26 دسمبر کو آسٹریلیا میں باکسنگ ڈے کے موقع پر ٹیسٹ میچ کھیلا جاتا ہے اور رواں سال یہ مقابلہ آسٹریلیا اور...

دھات سے بنا سیارچہ دریافت، مالیت ہماری دنیا کی کُل معیشت سے ہزاروں گُنا زیادہ

امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے 'ناسا' نے غیر معمولی دھاتوں کا حامل ایک سیارچہ (asteroid) دریافت کر لیا ہے، جس کی مالیت کا اندازہ دنیا...

غیر ملکیوں کے لیے خوشخبری، سعودی عرب "کفالۃ” نظام کا خاتمہ کرنے لگا

سعودی عرب غیر ملکی کارکنوں کے لیے "کفالۃ" کے نظام کو منسوخ کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے، جس کی جگہ آجرین اور ملازمین...

کوئی دو عشرے قبل یعنی نوے کی دہائی میں سجاد علی کا گانا "بس بھئی بس زیادہ بات نہیں چیف صاب۔۔۔آج کے بعد ملاقات نہیں چیف صاب” بہت مشہور ہوا۔ سجاد علی نے اس کی میوزک وڈیو بھی بنائی جس میں لیڈ رول انہوں نے خود نبھایا۔ اس کے چند برس بعد اس سپرہٹ گانے کو فلم "ایک اور لو اسٹوری” میں‌ بھی شامل کیا گیا۔ اس گانے کی لپ سنکرونائزیشن کے لیے جو چہرہ منتخب کیا گیا وہ سلیم شیخ کا تھا۔ سیدنور کی سپرہٹ فلم "قسم” کے بعد سلیم شیخ سینما کا چہرہ بن چکے تھے۔ سجاد علی کا گانا سلیم پہ بھی اچھا لگا۔ سینمیٹک ضروریات کے پیش نظر اس گانے میں کورس بھی تھا، گیٹ اپس بھی تھے اور روشنی وغیرہ بھی بڑی اسکرین کے مطابق تھی۔

اس فلم کے بارے میں جب سجادعلی سے پوچھا گیا تو اس نے بتایا کہ میں چاہتا تھا کہ ماضی قریب میں میرے جتنے گانے سپرہٹ ہوئے، ان کو ملا کر ایک اسٹوری کی لڑی میں پرو دیا جائے۔ سو، میں نے یہ فلم بنا دی۔ یاد رہے کہ اس فلم کی ہدایات بھی سجاد علی نے خود دیں، اور ظاہر ہے اس کے گانے بھی انہی کی آواز میں تھے۔ موسیقی ان کے بھائی وقار علی نے ترتیب دی۔ فلم تو فلاپ ہو گئی۔ لیکن سجاد علی کے گانے جن میں‌سےبعض پہلے سے قبولیت عام کی سند حاصل کر چکے تھے، دوبارہ برصغیر کی گلی کوچوں میں سنائی دینے لگے۔

اس زمانے میں پاک و ہند کے گلوکار اپنے نمائندہ یا اہم گانوں کی وڈیوز بھی بناتے اور میوزک چینلز پہ ریلیز کرتے۔ اگرچہ مغرب میں‌یہ رجحان پرانا تھا۔ مائیکل جیکسن بھی اور کوئین اور ایبا جیسے گروپس بھی اپنے گانوں کو میوزک ویڈیوز سے آراستہ کرتے، لیکن نوے کی دہائی میں گویا ہر گائیک کے لیے یہ ناگزیر ہو گیا تھا کہ گانا گایا ہے تو اب میوزک ویڈیو بھی بنائے۔ جو اس میدان کے پرانے کھلاڑی تھے، انہوں نے اپنے فن کو مزید نکھارا جیسے مائیکل جیکسن نے اسی کی دہائی میں بِلی جینز، بِیٹ اِٹ اور تھرلر کے حیران کر دینے والے بلکہ سحر طاری کر دینے والے میوزک ویڈیوز تو نوے کی دہائی میں اپنے سدا بہار گانوں "بلیک اینڈ وائٹ اور دے ڈونٹ کیئر اباؤٹ اَس وغیرہ کے میوزک ویڈیوز پیش کر کے ثابت کیا کہ دنیا میں پاپ سنگرز تو بہتیرے ہیں لیکن مائیکل جیکسن ایک ہی ہے۔

جو لوگ اس وقت تیس اور چالیس کے پیٹے میں ہیں، ان کی یادداشتوں میں وائٹل سائنز، ابرارالحق، اسٹرنگز، علیشا چنائے، انیڈا، ایکوا، باباسہگل، فیلگنی، دلیرمہدی، میڈونا، عدنان سمیع، شویتا شیٹھی وغیرہ، حتی کہ مائیکل جیکسن، نصرت فتح علی خان اور اے آر رحمان جیسے لاثانی تخلیق کاروں کی میوزک ویڈیوز بھی تازہ ہونگی۔

ہمارے قارئین میں سے جو لوگ نوے کی دہائی میں‌ ٹین ایج کی سنہری دھوپ اور کومل چاندنی کا تجربہ کر رہے تھے، ان کو یاد ہوگا کہ یہ دہائی اپنی گوناگوں خصوصیات کی وجہ سے بہت ہنگامہ آراء رہی۔ پاکستان اسی عشرے میں چار کھیلوں کا بیک وقت ورلڈچیمین رہا؛ ہاکی، کرکٹ، اسنوکر اور اسکواش۔ پھر اسی عشرے میں ڈش اینٹینا نے برصغیر کی اپر اور لوئر مڈل کلاس کو اپنے سحر میں جکڑ لیا۔ لوگوں کے پاس چوائس آ گئی کہ پی ٹی وی کے پروگراموں کے علاوہ دیگر غیر ملکی چینلز سے نشر ہونیوالے ڈرامے، موسیقی، کھیل، فلمیں، سماجی ٹاک شوز اور سوپ دیکھ سکیں۔ گھریلو خواتین زی ٹی وی پہ زیادہ وقت گزارتیں جبکہ مرد حضرات اسٹار اسپورٹس، بی بی سی، چینل وی یا ای ایس پی این پہ سرفنگ کرتے اور اپنا دل بہلاتے۔

اسی عشرے میں ہندوستان کا سینما ٹرانسفارمیشن بلکہ میٹامورفوسس کے عمل سے گزر کر خود کو نئی صدی کے تقاضوں کے ساتھ ہم آہنگ کر رہا تھا جبکہ پاکستان کا سینما "چوڑیاں” جیسی بلاک بسٹر دینے کے باوجود اپنی پرانی ٹیکنالوجی کے ساتھ کسی نڈھال اور قریب الموت ہاتھی کی طرح لڑکھڑاتا ہوا زمیں بوس ہو رہا تھا۔

تمنا مختصر سی ہے مگر تمہید طولانی کے مصداق، عرض یہ کرنا تھا کہ آج کے کالم کا عنوان دراصل ایک درخواست ہے اس ملک کے تمام چیف صاحبان کی خدمت میں‌کہ خدارا عوام الناس کے ساتھ سچ بولا کریں۔ آپ سچ بولیں گے تو ہم بحیثیت قوم تاریخ کی درست سمت میں کھڑے ہونگے اور اقوام عالم کے قدم کے ساتھ قدم ملا کر چل پائیں گے۔

سوال یہ ہے کہ یہ درخواست پیش کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔
جواب یہ ہے کہ ہم مسلسل دیکھ رہے ہیں‌کہ ملک میں کسی محکمے یا ادارے کے جو چیفس ہیں، وہ بوجوہ سچ نہیں بولتے۔اس سچ نہ بولنے کی بیماری نے پاکستان کو لاقانونیت کا جنگل بنا دیا ہے۔

مثال کے طور پر اکیسویں صدی کے پاکستان کے پہلے چیف ایگزیکٹو، پہلے چیف جسٹس، اور پہلے چیف آف دی آرمی اسٹاف کو دیکھیں۔ سنہ دو ہزار میں چیف ایگزیکٹو اور چیف آف دی آرمی اسٹاف تو جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف تھے، البتہ چیف جسٹس تھے جسٹس ارشاد حسن خان۔

جسٹس ارشاد حسن خان، دراصل جسٹس سعیدالزماں صدیقی کے پی سی او پہ حلف لینے سے انکار کے بعد چھبیس جنوری سنہ دو ہزار میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے قاضی القضاۃ بن گئے تھے۔ سو تکنیکی طور پہ جس تبدیلی کا آغاز جنرل پرویز مشرف نے اکتوبر 1999ء میں ملک کا آئین توڑ کر کیا، جنوری 2000ء میں چیف جسٹس کی تبدیلی کے ساتھ وہ مکمل ہو گیا۔ کہنے کو تو پرویز مشرف اگلے سال یعنی جون 2001 میں صدرِ پاکستان بھی بن گئے اور یوں ایک ایسا وقت بھی آیا کہ وہ ملک کے 5 بڑے عہدوں پہ براجمان تھے، لیکن یہ سب اقدامات ان کی آمریت کی فائن ٹیوننگ کہلائے جا سکتے ہیں۔ درحقیقت ان کا لایا ہوا نظام مکمل طور پہ اس وقت نافذ ہو گیا جب ملک کے منصفوں نے پی سی او پہ حلف لیا اور اکیسویں صدی کے پہلے چیف جسٹس جناب جسٹس ارشاد حسن خان نے مشرف کو آئین تک میں‌تبدیلی کا اختیار دے دیا اور یہ اختیار تو خود ان کے پاس بھی نہیں تھا کہ ریاستِ پاکستان کے جملہ شہریوں کی مساعی کا نتیجہ ایک متفقہ عمرانی معاہدہ، محض ایک فرد، دوسرے فردِ واحد کے حوالے کر دے کہ اس میں جو چاہیں لکھ لیں۔

کاش، تب کے چیف صاحب ہمارے ساتھ یہ عملی جھوٹ نہ بولتے بلکہ اپنے سینئر جج سابق چیف جسٹس جناب جسٹس سعیدالزماں صدیقی کے نقشِ قدم پہ چلتے۔

اسی طرح اکیسویں صدی کے پہلے چیف ایگزیکٹو اور چیف آف دی آرمی اسٹاف جناب پرویز مشرف نے شاید ہی کبھی کوئی سچ بات بتائی ہو۔ ان کے ساتھی کہتے تھے کہ وہ وہاں‌بھی جھوٹ بول جاتے ہیں جہاں ضرورت نہیں‌ہوتی۔ یعنی وہ عادی جھوٹے ہیں۔ بطور چیف ایگزیکٹو اور بطور چیف آف دی آرمی اسٹاف ان کے ہر ہر معاملے میں جھوٹ بولنے کے عارضے نے پاکستان کو شدید نقصان سے دوچار کیا۔ انہوں نے پاکستان کی ایئر بیس کے بارے میں، اپنے اغواء کے بارے میں، کارگل آپریشن کے بارے میں، سفارتی معاملات کے بارے میں، بگتی، لال مسجد، بارہ مئی اور ان گنت نازک معاملات میں اسی جھوٹ کا سہارا لیا۔ اور یہ تمام باتیں محض الزامات نہیں۔ ان کے اپنے ساتھیوں نے، صحافیوں نے اور دیگر رفقائے کار نے اپنی کتابوں میں لکھیں، اور گفتگو میں بتائیں۔ آپ جنرل شاہد عزیز، جنٹلمین بسم اللہ والے فوجی جناب اشفاق حسین، پھر جنرل آصف نواز کے بھائی شجاع نواز اور لال مسجد کے معاملے میں‌حامدمیر کی باتیں سن اور پڑھ لیں، آپ پہ یہ امر عیاں ہوگا کہ سطور بالا میں جو کچھ مشرف کی دروغ گوئی کی ضمن میں رقم ہوا، وہ ہمارا مؤقف نہیں، ان کے دوستوں، رفقائے کار اور صحافیوں کے انکشافات ہیں۔

چلیے، اکیسویں صدی کے پہلے عشرے سے دوسرے عشرے کے درمیان اور اخیر پہ آ جائیے، دل پہ ہاتھ رکھ کر بتائیے کہ کیا چیف جسٹس ثاقب نثار نے قوم کے ساتھ سچ بولا؟ خفیہ کے چیف جناب جنرل ظہیرالاسلام سچ بول رہے ہیں/تھے؟ اور آج کے چیف صاحبان ہم پاکستانیوں‌کو سچ بتا رہے ہیں؟

آج کے چیف ایگزیکٹو ہیں ہمارے وزیراعظم جناب عمران خان۔ کیا وہ ہم پاکستانیوں کے ساتھ سچ بولتے ہیں؟ آپ ان کی دس سال، آٹھ سال، پانچ سال، چار سال، تین سال پرانی وڈیوز اٹھا کر دیکھ لیجئے اور آج کے بیانات دیکھ لیجئے۔ شاید ہی کوئی معقول آدمی ان کو سچائی کا پیکر کہہ پائے۔

چلیں، آج جب وہ چیف ایگزیکٹو ہیں، تو کیا مہنگائی، سیاسی بھرتیوں اور افسروں کی تبدیلیوں، بلین ٹرین سونامی اور بی آر ٹی بسوں، ادویات، چینی، گندم، کروڑ نوکریوں، پچاس لاکھ گھروں، احساس پروگرام وغیرہ کی بابت عوام کے ساتھ سچ بول رہے ہوتے ہیں؟ کیا رانا ثناءاللہ پہ منشیات کا کیس، خاقان عباسی پہ ایل این جی کا کیس، خواجہ سعد رفیق پہ ہاؤسنگ اسکیموں‌کا کیس سچ پہ مبنی ہے؟ کیا بنی گالہ محل پہ ان کا مؤقف سچ پہ مبنی ہے؟

اور جان کی امان پاؤں تو عرض کروں‌کہ کیا آج کے دیگر چیفس ہمارے ٹیکس سے تنخواہیں لے کر ہم سے سچ بول رہے ہیں؟ کیا وہ واقعی عمران خان کو نہیں لائے تھے؟ اور کیا واقعی ان کا سیاست سے کوئی لینا دینا نہیں؟ کیا مولانا حافظ حسین احمد، اور مولانا غفورحیدری کے چونکا دینے والے انکشافات بھی جھوٹ ہیں؟

اگر واقعی یہ دونوں علمائے کرام جھوٹ بول رہے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ انبیاء کے یہ وارث، ہمارے علماء بھی معاذاللہ جھوٹ بولتے ہیں۔اگر ایسا ہے تو ہماری رہی سہی عزت بھی خاک میں مل گئی۔ہمیں یا تو اس وطن سے ہجرت کر جانی چاہیے یا پھر خودکشی کر لینی چاہیے۔ ایسی دھرتی پہ کیا رہنا جہاں کے علماء بھی جھوٹے ہوں۔

جان کی امان پاؤں تو عرض کروں‌چیف صاحب؛ یا تو مولانا غفورحیدری اور مولانا حافظ حسین احمد کے انکشافات کو ببانگِ دہل جھوٹ قرار دیجئے یا پھر اقرار فرما لیجئےکہ آپ نے الیکشن 2018 کو غیرآئینی اور غیرقانونی طور پہ انجینئر کیا۔

مجھے اس امر میں‌ایک فیصد بھی شبہ نہیں کہ پاکستان کے تمام ادارے اور افراد کی اکثریت جھوٹ کا سہارا لے لے کر کمزور ہو چکے ہیں اور ان پہ کسی کو اعتبار نہیں رہا۔ میڈیکل اسٹورز پہ ملنے والی دوا، ہوٹلوں کے کھانے، مہنگے منرل واٹر، پٹرول پمپس سے ملنے والا ایندھن، گوالے سے اور ملٹی نیشنل کمپنیوں‌کے ڈبے سے ملنے والا دودھ، کچھ بھی خالص نہیں لیکن خالص بتا کر بیچا جاتا ہے۔ کہیں وزن میں‌ڈنڈی کہیں تناسب میں۔ جھوٹ اس معاشرے کی رگ و پے میں‌سما گیا ہے۔

ایک لوئر رینک کا پولیس اہلکار ہو یا پولیس چیف، ان کےعوام کے ساتھ معاملات پہ نظر ڈالیں اور بتائیں؛ سچ کا شائبہ بھی گزرتا ہے ان پہ؟ یہی حال وکیلوں، منصفوں، استادوں، دکانداروں، صنعتکاروں، اور قانون سازوں کا ہے۔

مملکتِ خداداد پاکستان، جھوٹستان میں کیوں ڈھلی؟
جھوٹے کے بارے میں‌مغرب کا رویہ کیا ہے،قرآن کا فیصلہ کیا، ہمیں اس سے ‌کوئی سروکار نہیں۔

اپنی جھوٹ میں‌لپٹی زندگی سے ایک لمحہ نکال کر دو تین باتیں ضرور سوچیے:
1۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذات کے بارے میں قریش مکہ سے کون سی گواہی مانگ کر اپنی دعوت کا آغاز کیا تھا؟ کیا وہ یہی گواہی نہیں‌تھی کہ اگر میں کہوں‌کہ پہاڑ کے پیچھے دشمن ہے تو کیا تم مان لو گے؟ تمام حاضرین نے بیک زبان ہو کر کہا، جی ہاں کیونکہ آپ جھوٹ نہیں‌بولتے۔
یہ تھی کریڈیبلیٹی وحی آنے سے پہلے اس کریم انسان کی جو بعدازاں ریاستِ مدینہ کے چیف بنے۔
آج کی ریاستِ مدینہ کے چیف ایگزیکٹو کی کریڈیبیلیٹی کیا ہے، یہ کوئی سربستہ راز نہیں۔

2۔ جھوٹ امُ الخبائث ہے۔ اس کے بطن سے اچھائی کیسے برآمد ہو سکتی ہے؟ یہ سقوطِ ڈھاکہ وغیرہ اور ایسے ان گنت انسانی المیے اسی جھوٹ کی پیداوار ہیں۔

3۔ بدقسمتی سے پاکستان کی نسوں میں اس وقت‌ جھوٹ گردش کرتا ہے۔ اس کی واحد وجہ اعلٰی ترین عہدوں پہ بیٹھے وہ اشخاص ہیں‌جن اپنی زندگیاں جھوٹ کا عملی نمونہ ہیں۔ انہوں‌نے اپنے کردار اور گفتار سے اس معاشرے کوشریف اور غریب شہری کا جہنم بنا دیا ہے۔ شریف اور غریب آدمی کو نہ انصاف ملتا ہے یہاں، نہ خالص زہر کہ وہ یہ کھا کر اس جھوٹستان سے سدا کے لیے رُخصت ہو۔

حافظ شیرازی کا کہنا ہے
رموزِ مملکتِ خویش خسرواں دانند؛ یعنی اپنی مملکت کو چلانے کے اسرار و رموز سے بادشاہ زیادہ آگاہ ہوتے ہیں۔ ہم لکھاری تو بس چند ایک اصولی باتیں‌ان کے سامنے رکھ سکتے ہیں۔ جیسے کہ؛ اللہ کے نام پہ بنائے گئے ملک کے چیف صاحبان کو اللہ کا واسطہ، سچ بولا کریں۔ آپ کے بولے گئے جھوٹوں کی وجہ سے پاکستان لہو لہو ہے۔ آپ کے بولے گئے سچ اس پہ پھاہا رکھ سکتے ہیں۔ آپ کے جھوٹ آپ تک محدود نہیں‌رہتے۔ یہ بالکل اسی طرح معاشرے کی رگ و پے میں اتر جاتے ہیں جس طرح گلیشیئر کے ٹاپ پہ پڑا گند دریاؤں‌میں‌بہنے لگتا ہے اور میدانوں کو اسی گند سے سیراب کرتا ہے۔ جس سے سب برگ و بار بھی آلودہ ہونے لگتے ہیں۔

مزید تحاریر

سلیکون ویلی میں بھارتی انجینئرز کا راج، اپنے ساتھ ذات پات کا نظام بھی لے آئے

جب بینجمن کائیلا 1999ء میں بھارت سے ہجرت کرکے امریکا پہنچے تو انہوں نے ایک امریکی ٹیک کمپنی میں ملازمت کے لیے درخواست جمع...

باکسنگ ڈے ٹیسٹ میں 25 ہزار تماشائی ہوں گے

ہر سال 26 دسمبر کو آسٹریلیا میں باکسنگ ڈے کے موقع پر ٹیسٹ میچ کھیلا جاتا ہے اور رواں سال یہ مقابلہ آسٹریلیا اور...

دھات سے بنا سیارچہ دریافت، مالیت ہماری دنیا کی کُل معیشت سے ہزاروں گُنا زیادہ

امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے 'ناسا' نے غیر معمولی دھاتوں کا حامل ایک سیارچہ (asteroid) دریافت کر لیا ہے، جس کی مالیت کا اندازہ دنیا...

غیر ملکیوں کے لیے خوشخبری، سعودی عرب "کفالۃ” نظام کا خاتمہ کرنے لگا

سعودی عرب غیر ملکی کارکنوں کے لیے "کفالۃ" کے نظام کو منسوخ کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے، جس کی جگہ آجرین اور ملازمین...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے