15 C
Islamabad
جمعرات, اکتوبر 29, 2020

کرونا وائرس کی دوسری لہر، کیا پاکستان کی گرفت کمزور پڑ رہی ہے؟

تازہ ترین

سلیکون ویلی میں بھارتی انجینئرز کا راج، اپنے ساتھ ذات پات کا نظام بھی لے آئے

جب بینجمن کائیلا 1999ء میں بھارت سے ہجرت کرکے امریکا پہنچے تو انہوں نے ایک امریکی ٹیک کمپنی میں ملازمت کے لیے درخواست جمع...

باکسنگ ڈے ٹیسٹ میں 25 ہزار تماشائی ہوں گے

ہر سال 26 دسمبر کو آسٹریلیا میں باکسنگ ڈے کے موقع پر ٹیسٹ میچ کھیلا جاتا ہے اور رواں سال یہ مقابلہ آسٹریلیا اور...

دھات سے بنا سیارچہ دریافت، مالیت ہماری دنیا کی کُل معیشت سے ہزاروں گُنا زیادہ

امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے 'ناسا' نے غیر معمولی دھاتوں کا حامل ایک سیارچہ (asteroid) دریافت کر لیا ہے، جس کی مالیت کا اندازہ دنیا...

غیر ملکیوں کے لیے خوشخبری، سعودی عرب "کفالۃ” نظام کا خاتمہ کرنے لگا

سعودی عرب غیر ملکی کارکنوں کے لیے "کفالۃ" کے نظام کو منسوخ کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے، جس کی جگہ آجرین اور ملازمین...

پاکستان میں کرونا وائرس ایک مرتبہ سر اُٹھا رہا ہے اور حکام "منی اسمارٹ لاک ڈاؤن” لگا کر انفیکشن کی دوسری لہر کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سردیاں سر پر ہیں لیکن ماسک پہننے اور سماجی فاصلے جیسی احتیاطی تدابیر آہستہ آہستہ کمزور پڑتی جا رہی ہیں۔

پاکستان میں حال ہی میں روزانہ سامنے آنے والے کیسز کی تعداد اگست کے مقابلے میں دوگنی ہو چکی ہے، 14 اکتوبر کو 615 نئے کیس رپورٹ ہوئے۔ کم از کم 6,600 پاکستانی اس وائرس سے اب تک موت کے گھاٹ اتر چکے ہیں، جبکہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 518 مزید مریضوں کی حالت نازک ہے۔

مرض کی یہ لہر کتنی شدید ہے؟ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ صوبہ بلوچستان کے وزیر اعلیٰ تک کا ٹیسٹ مثبت آ چکا ہے اور وہ اس وقت قرنطینہ میں ہیں۔

صوبہ سندھ اور آزاد کشمیر دونوں نئی لہر کی زد میں ہیں، جس کی وجہ سے مرض کو پھیلنے سے روکنے کے لیے مختلف علاقوں میں عارضی اور مکمل لاک ڈاؤن کرنا پڑ رہے ہیں۔ کراچی، اسلام آباد اور آزاد کشمیر میں منی اسمارٹ لاک ڈاؤنز کیے گئے ہیں۔

لگتا ہے نئی لہر کا تعلق تعلیمی اداروں، جامعات اور کالجز کے کھلنے سے ہے، کہ جو 15 ستمبر سے کھول دیے گئے تھے جبکہ 30 ستمبر سے پرائمری اسکولز نے بھی کام کا آغاز کر دیا تھا۔ اس کے بعد وباء ایک مرتبہ پھر واپس آتی دکھائی دے رہی ہے اور درجنوں اسکول اور جامعات اب تک بند کی جا چکی ہے، کیونکہ سینکڑوں طلبہ، فیکلٹی اراکین اور ملازمین کے ٹیسٹ مثبت آئے ہیں۔

وزیر اعظم عمران خان نے رواں ماہ ٹوئٹ کیا تھا کہ سرد موسم میں وباء کی ایک اور لہر آ سکتی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ عوام انفیکشن سے بچنے کے لیے فیس ماسکس کا استعمال کریں۔

وزیر منصوبہ بندی اور نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشنز سینٹر (NCOC) کے سربراہ اسد عمر نے کہا کہ ریستوران اور شادی ہالز وائرس کو سب سے زیادہ پھیلانے والی جگہیں ہیں۔ انہوں نے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے مختلف شہروں میں اسمارٹ منی لاک ڈاؤنز کا اعلان کیا۔

البتہ ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن پنجاب کے ڈاکٹر خضر حیات نے کہا ہے کہ کرونا وائرس کے سامنے آنے والے نئے کیسز کی تعداد اب بھی برائے نام ہے اور خطرناک حد تک نہیں گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ "مریض علاج کے لیے ہسپتال تو آ رہے ہیں لیکن اب بھی مرض کی شدت وہ نہیں ہے جو مئی جون میں تھی کہ جب ہسپتالوں میں مریض بھرے پڑے تھے۔” البتہ ان کا کہنا تھا کہ اب لوگ ڈاکٹروں کا رُخ اسی وقت کر رہے ہیں جب مرض خطرناک صورت اختیار کر جائے۔

جون کے وسط میں پاکستان میں Covid-19 اپنے عروج پر تھا کہ جب روزانہ سامنے آنے والے مریضوں کی تعداد 7,000 سے زیادہ تھی۔ جون کے وسط سے حالات قابو میں آنے لگے اور تب سے وباء کے اثرات گھٹ رہے ہیں۔

گو کہ یہ اب بھی ایک راز ہے کہ آخر پاکستان میں مرض قابو میں کیسے آیا جبکہ عموماً احتیاطی تدابیر کے معاملے میں عوام اتنے سنجیدہ نہیں دکھائی دیے اور سماجی و مذہبی تقریبات بھی بھرپور انداز میں ہوتی رہیں۔

اپنے پڑوسی ملک بھارت کے مقابلے میں پاکستان اب تک Covid-19 سے اتنی بُری طرح متاثر نہیں ہوا۔ مارچ سے لے کر جون تک پاکستان کو عالمی بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ، اسلامی ترقیاتی بینک اور امریکی حکومت کی جانب سے تقریباً 2.6 ارب ڈالرز کی گرانٹس حاصل کر چکا ہے۔ اس کے علاوہ قرضوں پر جی20 سے بھی 2 ارب ڈالرز سے زیادہ کا ریلیف مل چکا ہے۔

البتہ ماہر معیشت ڈاکٹر فرخ سلیم کے مطابق معیشت نے کئی پہلوؤں سے معیشت کو دھچکا پہنچایا ہے۔ "ہمارے اندازے کے مطابق صنعتوں، خدمات اور مینوفیکچرنگ کے شعبوں میں تقریباً 1 کروڑ افراد بے روزگار ہوں گے، البتہ ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں ہمارے ہاں حالات اتنے برے نہیں ہوئے۔” ان کے مطابق پاکستان کی 42 فیصد افرادی قوت زراعت سے وابستہ ہے جن پر وباء کا بہت کم یا سرے سے کوئی اثر ہی نہیں پڑا۔

ایک تحقیق کے مطابق سال 2020ء میں پاکستان کی حقیقی کُل مقامی پیداوار (جی ڈی پی) نمو 1.3 فیصد کم ہوگی کیونکہ گزشتہ چند ماہ میں قومی اور عالمی معاشی سرگرمیاں دھیمی پڑ گئی ہیں اور اب سرد موسم انفیکشنز میں ایک مرتبہ پھر اضافہ کرے گا۔

مزید تحاریر

سلیکون ویلی میں بھارتی انجینئرز کا راج، اپنے ساتھ ذات پات کا نظام بھی لے آئے

جب بینجمن کائیلا 1999ء میں بھارت سے ہجرت کرکے امریکا پہنچے تو انہوں نے ایک امریکی ٹیک کمپنی میں ملازمت کے لیے درخواست جمع...

باکسنگ ڈے ٹیسٹ میں 25 ہزار تماشائی ہوں گے

ہر سال 26 دسمبر کو آسٹریلیا میں باکسنگ ڈے کے موقع پر ٹیسٹ میچ کھیلا جاتا ہے اور رواں سال یہ مقابلہ آسٹریلیا اور...

دھات سے بنا سیارچہ دریافت، مالیت ہماری دنیا کی کُل معیشت سے ہزاروں گُنا زیادہ

امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے 'ناسا' نے غیر معمولی دھاتوں کا حامل ایک سیارچہ (asteroid) دریافت کر لیا ہے، جس کی مالیت کا اندازہ دنیا...

غیر ملکیوں کے لیے خوشخبری، سعودی عرب "کفالۃ” نظام کا خاتمہ کرنے لگا

سعودی عرب غیر ملکی کارکنوں کے لیے "کفالۃ" کے نظام کو منسوخ کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے، جس کی جگہ آجرین اور ملازمین...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے