27.9 C
Islamabad
بدھ, اکتوبر 28, 2020

سُپرمین، حسینہ اور مجذوب…- احمد حماد

تازہ ترین

سلیکون ویلی میں بھارتی انجینئرز کا راج، اپنے ساتھ ذات پات کا نظام بھی لے آئے

جب بینجمن کائیلا 1999ء میں بھارت سے ہجرت کرکے امریکا پہنچے تو انہوں نے ایک امریکی ٹیک کمپنی میں ملازمت کے لیے درخواست جمع...

باکسنگ ڈے ٹیسٹ میں 25 ہزار تماشائی ہوں گے

ہر سال 26 دسمبر کو آسٹریلیا میں باکسنگ ڈے کے موقع پر ٹیسٹ میچ کھیلا جاتا ہے اور رواں سال یہ مقابلہ آسٹریلیا اور...

دھات سے بنا سیارچہ دریافت، مالیت ہماری دنیا کی کُل معیشت سے ہزاروں گُنا زیادہ

امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے 'ناسا' نے غیر معمولی دھاتوں کا حامل ایک سیارچہ (asteroid) دریافت کر لیا ہے، جس کی مالیت کا اندازہ دنیا...

غیر ملکیوں کے لیے خوشخبری، سعودی عرب "کفالۃ” نظام کا خاتمہ کرنے لگا

سعودی عرب غیر ملکی کارکنوں کے لیے "کفالۃ" کے نظام کو منسوخ کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے، جس کی جگہ آجرین اور ملازمین...

نیٹشے کی سالگرہ کے موقع پر خیال آیا کہ کچھ باتیں اس طاقت کے دلدادہ فلسفی کے بارے میں کی جائیں؛ اس سے بہتر کیا طریقہ ہو سکتا ہے کم و بیش ڈیڑھ صدی قبل پیدا ہونے والے اس فلسفی کو سالگرہ مبارک کہنے کا!
ہم نے کل اپنے ریڈیو شو میں مِشل فوکو اور نیٹشے، دونوں کو سالگرہ مبارک کہا. اُن کے فلسفے کا چند الفاظ میں تعارف پیش کیا اور آگے بڑھ گئے کہ وقت کم تھا اور موضوعات زیادہ…

تاہم اِن سطور میں حکیمِ المنی اور گوئٹے کے ہموطن فریڈرک نیٹشے کا مختصر تعارف پیش کیا جا رہا ہے. قبول فرمائیے.

اپنی تفہیم کے لیے جس طرح ہم کانٹ کا کام سمجھنے کے لیے برطانوی تجربیت پسندوں اور جرمن آئیڈیلسٹوں کو پڑھنا ضروری سمجھتے ہیں کیونکہ کانٹ نے انہی دونوں (حِس اور عقل) کا تعامل و ارتباط پیش کیا تھا۔ یا جیسے مارکس کی تفہیم مقصود ہو تو اس کے پیشرو ہیگل کی جدلیات سمجھ لینے سے مارکس کی جدلیات کی تفہیم میں آسانی پیدا ہو جاتی ہے؛ اسی طرح نیٹشے کی تفہیم کے لیے اس کے پیشرو شوپنہار کو پڑھنا سودمند ثابت ہوتا ہے.

بزرگوں نے مختلف فلسفیوں کے افکار کو سمجھنے کے لیے انہیں ایک دو الفاظ یا فقروں میں سمونے کی کوشش کی. تاکہ کنجی ہاتھ لگے اور فلسفی کی تفہیم کا آغاز ہو…
ڈیوڈ ہیوم کو "تشکیک پسندی کا پہاڑ” بتا کر کوزے میں دریا بند کر دیا گیا؛ ایمپیڈوکلیز کے کام کو "ارتباط” کا نام دیا گیا؛ اسی طرح شوپنہار کے افکار کو تین الفاظ میں سمو دیا. اور وہ تین الفاظ ہیں: شک؛ شَر اور شکست…
قنوطیت سے لبریز ہمارے فلسفی شوپنہار کے خیال میں:
– دُنیا شَر ہے۔
– لوگ اور خُدا اعتبار کے قابل نہیں اور ان کو شک کی نگاہ سے دیکھنا چاہئے. وہ خود اتنا شکی مزاج تھا کہ بھرا ہوا پستول اپنے سرہانے تلے رکھ کے سوتا تھا۔
– اور مکمل شکست/فنا ہی انسان کی سچی خواہش ہو سکتی ہے….

شوپنہار کا فلسفہ Will to Live کا فلسفہ ہے۔ بظاہر یہ مثبت فلسفہ نظر آتا ہے مگر شوپنہار اور مثبت/رجائی/تعمیری سوچ؟ دو متضاد باتیں ہیں. اس کے نزدیک وِل ٹُو لِو یا زندہ رہنے کا ارادہ ہی دراصل وہ کوکھ ہے جہاں سے تمام دُکھوں کا جنم ہوتا ہے. اگر ہم جینے کے واہیات ارادے کو موت کے ارادے سے تبدیل کر دیں اور ارادے کے ذریعے شادی، افزایش نسل اور سانس لینے سے انکار کر دیں تو دُنیا کے تمام دُکھ درد مِٹ جائیں گے۔

دوسری جانب، نیٹشے کا فلسفہ Will to Power کا فلسفہ ہے۔ نیٹشے نے شوپنہار سے "تصورِ ارادہ” تو قبول کر لیا مگر اس کو منفی کے بجائے مثبت بنا دیا. نیٹشے نے کہا کہ یہ Will یعنی ارادہ انسان کو مرنے کے بجائے جینے کے لیے استعمال کرنا چاہئے۔ دُکھوں اور مصیبتوں سے فرار حاصل کرنے کی خاطر مرنے کا ارادہ کرنا بُزدلی ہے. جوانمردی تو یہ ہے کہ انسان ان دکھوں اور مصیبتوں کے باوجود جینے کا ارادہ کرے۔ جینے کا یہ حتمی ارادہ انسان کو خود سے ماوراء کر دیتا ہے. سُپر مین بنا دیتا ہے. درحقیقت اسے خُدا بنا دیتا ہے….

اپنی فکر کے اس مقام پر آ کر اُس نے خدا کے اخلاقی/مذہبی/عیسائی تصور کی موت کا اعلان کیا. اور کہا کہ انسان کی جبلّت میں طاقت کے حصول کی خواہش موجود ہے. فطرت میں طاقتور کمزور پر حملہ آور ہو کر شرمندگی محسوس نہیں کرتا بلکہ خوش ہوتا ہے. تو انسان نے کمزوروں پر حملے کو شرمندگی کا باعث کیوں بنا لیا؟

بات یہ ہے کہ جیسے ہی انسان خانہ بدوشی کی زندگی ترک کے مہذب ہوا تو اسے مختلف طرح کے خوف نے گھیر لیا. اس خوف نے انسان کو کمزور کیا اور اس کمزوری سے مذہبی اخلاقیات نے جنم لیا. یہ اخلاقیات طاقتوروں کو کمزور کرنے اور کمزوروں کی حفاظت کرنے کے لیے وجود میں آئی. یہ فطرت کے خلاف ہے. انسان کی تربیت فطرت نے طاقت کی طرز پر کی تھی. اسے جنگ اور لُوٹ مار کی تربیت دی تھی. انسان نے مہذب ہونے کی خاطر مذہب گھڑ لیا. فطرت کے خلاف چلا.

نیٹشے اپنی شہرہ آفاق تصنیف "زرتشت نے کہا” میں اس سُپر مین کی آمد کا زرتشت کی زبانی اعلان کرواتا ہے جس سے انسانیت نئے دور میں داخل ہوگی. زرتشت نے کہا کہ میرے بھائیو، انسان برابر نہیں. ابدی انصاف کا کہنا یہی ہے. طاقتور اور نڈر بنو.

نیٹشے کے خیال میں خُدا کا تصور کمزوروں کے ذہن کا کرشمہ ہے. طاقتوروں کی دُنیا میں خُدا کا کیا کام؟ اور طاقت کا کام تو حدود سے ماورا ہونا ہے. یہ Nihilism اور Anarchy کی طرف آمادہ کرنے والا فلسفہ تھا۔

اس متاثر کُن انارکسٹ فلسفے نے متاخرین میں سے بہت سوں کو لُبھایا.

نیٹشے کے خیالات عالیشان تھے. اس کا اُسلوب شاعرانہ تھا۔ اس کی کتاب "زرتشت نے کہا” اگرچہ ہمارے ہاں انگریزی ترجمے کے ساتھ پڑھی جاتی ہے اس کے باوجود متاثر کرتی ہے. سحر انگیز اسلوب کئی دنوں تک اپنے حصار میں لیے رکھتا ہے. تصور کریں، فلسفہ و ادب پرور زبان جرمن زبان میں اس کو پڑھنا کیسا تجربہ ہوگا….

نیٹشے جسمانی طور پر کمزور پیدا ہوا تھا. سر درد اُس کی جان نہ چھوڑتا اور ہونٹوں کے کنارے دُکھتے رہتے جنہیں چھپانے کے لیے اس نے بڑی بڑی مونچھیں رکھ لیں تھیں. ایک فِنّش حسینہ ‘لووان سلومی’ اس کے ارفع خیالات کی دلداہ تھی. قربت بڑھی تو نیٹشے نے شادی کی پیشکش کر ڈالی. جسے سلومی نے ٹھکرا دیا اور کسی دوسرے شخص کے ساتھ شادی کر لی جو فلسفی نہیں تھا۔ نیٹشے کو پتا چلا تو بڑے کرب میں کہنے لگا؛ اگر میں نے اس دُنیا اور اس لڑکی کو بنایا ہوتا تو زیادہ مکمل بناتا……

گویا، کلاسیکی تصورِخُدا اس کے ہاں جگہ نہ پا سکا. اور اسے اس نے کمزوروں کے ذہن کی کارروائی جانا. اس کا اپنا طاقتور ذہن جلد اختلال میں مبتلا ہوا. اسے جنون کے دورے پڑتے. ایک مجذوب کی سی زندگی جینے والا؛ خدا اور دیوتاؤں کا انکار کرنے والا ایک مجنون کی موت مرنے لگا.

شاعرِ مشرق نے اسی وجہ سے نیٹشے کے بارے ميں کہا:

اگر ہوتا وہ مجذوبِ فرنگی اس زمانے میں
تو اقبال اس کو سمجھاتا مقامِ کبریا کیا ہے

اقبال کے نزدیک خدا ہی وہ طاقت ہے نیٹشے جس کا دلدادہ تھا مگر اپنے گرد پھیلے معاشرے کی وجہ سے وہ اس کا درست ادراک نہ کر سکا. اور جنون میں مبتلا ہوا.

وجہ کچھ بھی ہو، نیٹشے کے فلسفے سے ہزار اختلاف کریں… مگر صاحبو، اس کی کتاب "Thus Spake Zarathustra” نشے کی بوتل ہے. جو بھی دل سے پڑھتا ہے، کئی روز مخمور رہتا ہے……

مزید تحاریر

سلیکون ویلی میں بھارتی انجینئرز کا راج، اپنے ساتھ ذات پات کا نظام بھی لے آئے

جب بینجمن کائیلا 1999ء میں بھارت سے ہجرت کرکے امریکا پہنچے تو انہوں نے ایک امریکی ٹیک کمپنی میں ملازمت کے لیے درخواست جمع...

باکسنگ ڈے ٹیسٹ میں 25 ہزار تماشائی ہوں گے

ہر سال 26 دسمبر کو آسٹریلیا میں باکسنگ ڈے کے موقع پر ٹیسٹ میچ کھیلا جاتا ہے اور رواں سال یہ مقابلہ آسٹریلیا اور...

دھات سے بنا سیارچہ دریافت، مالیت ہماری دنیا کی کُل معیشت سے ہزاروں گُنا زیادہ

امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے 'ناسا' نے غیر معمولی دھاتوں کا حامل ایک سیارچہ (asteroid) دریافت کر لیا ہے، جس کی مالیت کا اندازہ دنیا...

غیر ملکیوں کے لیے خوشخبری، سعودی عرب "کفالۃ” نظام کا خاتمہ کرنے لگا

سعودی عرب غیر ملکی کارکنوں کے لیے "کفالۃ" کے نظام کو منسوخ کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے، جس کی جگہ آجرین اور ملازمین...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے