17 C
Islamabad
جمعرات, اکتوبر 29, 2020

پاکستان اور چین ہر موسم کے ساتھی ہیں، چین میں پاکستان کے نئے سفیر معین الحق

تازہ ترین

سلیکون ویلی میں بھارتی انجینئرز کا راج، اپنے ساتھ ذات پات کا نظام بھی لے آئے

جب بینجمن کائیلا 1999ء میں بھارت سے ہجرت کرکے امریکا پہنچے تو انہوں نے ایک امریکی ٹیک کمپنی میں ملازمت کے لیے درخواست جمع...

باکسنگ ڈے ٹیسٹ میں 25 ہزار تماشائی ہوں گے

ہر سال 26 دسمبر کو آسٹریلیا میں باکسنگ ڈے کے موقع پر ٹیسٹ میچ کھیلا جاتا ہے اور رواں سال یہ مقابلہ آسٹریلیا اور...

دھات سے بنا سیارچہ دریافت، مالیت ہماری دنیا کی کُل معیشت سے ہزاروں گُنا زیادہ

امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے 'ناسا' نے غیر معمولی دھاتوں کا حامل ایک سیارچہ (asteroid) دریافت کر لیا ہے، جس کی مالیت کا اندازہ دنیا...

غیر ملکیوں کے لیے خوشخبری، سعودی عرب "کفالۃ” نظام کا خاتمہ کرنے لگا

سعودی عرب غیر ملکی کارکنوں کے لیے "کفالۃ" کے نظام کو منسوخ کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے، جس کی جگہ آجرین اور ملازمین...

چین کے لیے پاکستان کے نئے سفیر معین الحق نے کہا ہے کہ "پاکستان اور چین ہمیشہ کے دوست ہیں، جو مشکلات میں شانہ بشانہ کھڑے رہتے ہیں اور کووِڈ-19 کے دوران بھی ان کا ساتھ مثالی ہے۔”

چین کی سرکاری ویب سائٹ کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں پاکستانی سفیر نے کہا کہ جب چین میں کرونا وائرس کی وباء پھوٹی تھی تو پاکستان نے چین کو ضروری ساز و سامان پر مشتمل ہوائی جہاز بھیجا تھا اور پاکستان کے صدر نے مارچ میں چین کا خیر سگالی دورہ بھی کیا۔ جبکہ جب پاکستان میں کووِڈ-19 پھیلنا شروع ہوا تو چین نے ہماری بہت مدد کی۔ ہم ان مشکل ایّام میں پاکستان کی مدد کرنے پر چین کے بہت شکر گزار ہیں۔”

اس وقت پاکستان اور چین دونوں کووِڈ-19 ویکسینز بنانے کے لیے مل کر کام کر رہے ہیں، جو اس وقت فیز-3 کلینکل ٹرائلز میں ہیں اور دونوں ممالک کے ادویات ساز ادارے اس پر کام کر رہے ہیں

معین الحق نے کہا کہ چین-پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کی تعمیر نے دنیا بھر کی توجہ حاصل کی ہے۔ یہ عظیم بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے (بی آر آئی) کا اہم ترین منصوبہ ہے اور پاک-چین تعلقات کا مضبوط ستون بھی۔

انہوں نے کہا کہ "یہ انفرا اسٹرکچر کی تعمیر کے لیے اور توانائی، ٹرانسپورٹ اور ٹیلی کمیونی کیشن کے شعبوں میں ایک میگا پروجیکٹ ہے۔ دوسرے مرحلے میں ہم زراعت، صنعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، سائنس و ٹیکنالوجی اور سیاحت کے شعبے پر کام کر رہے ہیں۔ جبکہ سماجی و معاشی ترقی اور غربت کے خاتمے پر خصوصی توجہ ہوگی۔”

سفیر کے مطابق سی پیک کے تحت 9 خصوصی اقتصادی زونز بنائے گئے ہیں، جہاں چین اور دیگر ممالک کے ادارے اپنا کاروبار اور مینوفیکچرنگ تنصیبات بنا سکتے ہیں۔ سی پیک کے تحت صنعتی تعاون دونوں ممالک کے کاروباری افراد اور سرمایہ کاروں کو بھرپور مدد فراہم کرے گا۔

پاکستانی سفیر نے کہا کہ حالیہ چند سالوں میں چین اور پاکستان نے دو طرفہ تعلقات کو مضبوط کرنے کے لیے کئی ثقافتی و تعلیمی تبادلے کے پروگرامز بھی ترتیب دیے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ چین میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کی تعداد گزشتہ سات سالوں میں تین گُنا بڑھ کر 28 ہزار تک پہنچ چکی ہے، جو دنیا کے کسی بھی حصے میں زیر تعلیم پاکستان کے غیر ملکی طلبہ کی سب سے بڑی تعداد ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے چین کی کئی معروف جامعات میں پاکستان اسٹڈیز اور اردو زبان کے مراکز بھی قائم کیے ہیں۔ اسی طرح پاکستان میں کنفیوشن انسٹیٹیوٹس بنائے گئے ہیں۔ پاک-چین دو طرفہ تعاون کے لیے طلبہ کے تبادلے کا پروگرام اور ادارہ جاتی روابط بہت اہم ہیں اور دونوں ملکوں کے عوام کو ایک دوسرے کے قریب آنے اور سمجھنے میں مدد دیں گے۔”

اس سال اقوامِ متحدہ کے قیام کے 75 سال مکمل ہونے پر سفیر نے کہا کہ پاکستان اور چین نے اقوام متحدہ کے چارٹر کی بنیاد پر بین الاقوامی تعلقات میں ہمیشہ ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے اور یک طرفہ اقدامات کی مخالفت کی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ کووِڈ-19 بحران اپنے عالمی پھیلاؤ اور اثرات کے ذریعے ایک مرتبہ پھر اجتماعی کوششوں کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ کوئی ملک صحت، وباء، موسمیاتی تبدیلی اور غربت جیسے اہم چیلنجز سے تنہا نہیں نمٹ سکتا۔ بین الاقوامی برادری کو انسانیت کی اجتماعی بہبود کے لیے مل کر کام کرنا ہوگا۔

معین الحق نے زور دیا کہ ذمہ دار ممالک کی حیثیت سے چین اور پاکستان مل کر بین الاقوامی امن، سالمیت اور تعاون کو فروغ دیں گے۔

انہوں نے غربت کے خاتمے میں چین کی عظیم کامیابی کو بھی سراہا۔ "اصلاحاتی عمل کے دوران چین نے 800 ملین باشندوں کو غربت کے چنگل سے نکالا۔ صاف پانی کی فراہمی، مناسب روزگار، گھر اور تعلیم جیسی بنیادی ضروریات فراہم کرکے اپنے عوام کا وقار بحال کیا۔ یہ انسانی تاریخ کا ایک غیر معمولی کارنامہ ہے۔”

معین الحق کے مطابق پاکستان سماجی و اقتصادی ترقی پر بھی توجہ دے رہا ہے اور چین کی کامیابیوں سے متاثر ہوکر غربت کے خاتمے کے لیے وسیع البنیاد اقدامات اٹھا رہا ہے۔ "ہم چینی تجربے سے سیکھتے ہوئے اپنے ملک سے غربت کے خاتمے کے لیے درکار اصلاحات کر رہے ہیں۔ ”

چین کے لیے پاکستان کے سفیر نے کہا کہ اس کے علاوہ چین ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ، جدّت اور ٹیکنالوجی میں ترقی کرکے اعلیٰ معیار کی مصنوعات کا مرکز بھی بن چکا ہے۔

پاکستان ایک منصفانہ عالمی نظام کے لیے چین کی مسلسل کوششوں کو سراہتا ہے جو اس نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ اراکین میں سے ایک کی حیثیت سے کی ہیں۔

اگلے سال پاکستان اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کے 70 سال مکمل ہو جائیں گے۔ سفیر معین الحق نے کہا کہ دونوں ممالک "آہنی برادران” ہیں اور ان کے خصوصی تعلقات کے حوالے سے اگلے سال درجنوں اعلیٰ سطحی تقریبات اور سرگرمیاں ہوں گی۔

مزید تحاریر

سلیکون ویلی میں بھارتی انجینئرز کا راج، اپنے ساتھ ذات پات کا نظام بھی لے آئے

جب بینجمن کائیلا 1999ء میں بھارت سے ہجرت کرکے امریکا پہنچے تو انہوں نے ایک امریکی ٹیک کمپنی میں ملازمت کے لیے درخواست جمع...

باکسنگ ڈے ٹیسٹ میں 25 ہزار تماشائی ہوں گے

ہر سال 26 دسمبر کو آسٹریلیا میں باکسنگ ڈے کے موقع پر ٹیسٹ میچ کھیلا جاتا ہے اور رواں سال یہ مقابلہ آسٹریلیا اور...

دھات سے بنا سیارچہ دریافت، مالیت ہماری دنیا کی کُل معیشت سے ہزاروں گُنا زیادہ

امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے 'ناسا' نے غیر معمولی دھاتوں کا حامل ایک سیارچہ (asteroid) دریافت کر لیا ہے، جس کی مالیت کا اندازہ دنیا...

غیر ملکیوں کے لیے خوشخبری، سعودی عرب "کفالۃ” نظام کا خاتمہ کرنے لگا

سعودی عرب غیر ملکی کارکنوں کے لیے "کفالۃ" کے نظام کو منسوخ کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے، جس کی جگہ آجرین اور ملازمین...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے