17 C
Islamabad
جمعرات, اکتوبر 29, 2020

بھارت بھوک کے شکنجے میں، حالات پاکستان، بنگلہ دیش اور نیپال سے بھی بدتر

تازہ ترین

سلیکون ویلی میں بھارتی انجینئرز کا راج، اپنے ساتھ ذات پات کا نظام بھی لے آئے

جب بینجمن کائیلا 1999ء میں بھارت سے ہجرت کرکے امریکا پہنچے تو انہوں نے ایک امریکی ٹیک کمپنی میں ملازمت کے لیے درخواست جمع...

باکسنگ ڈے ٹیسٹ میں 25 ہزار تماشائی ہوں گے

ہر سال 26 دسمبر کو آسٹریلیا میں باکسنگ ڈے کے موقع پر ٹیسٹ میچ کھیلا جاتا ہے اور رواں سال یہ مقابلہ آسٹریلیا اور...

دھات سے بنا سیارچہ دریافت، مالیت ہماری دنیا کی کُل معیشت سے ہزاروں گُنا زیادہ

امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے 'ناسا' نے غیر معمولی دھاتوں کا حامل ایک سیارچہ (asteroid) دریافت کر لیا ہے، جس کی مالیت کا اندازہ دنیا...

غیر ملکیوں کے لیے خوشخبری، سعودی عرب "کفالۃ” نظام کا خاتمہ کرنے لگا

سعودی عرب غیر ملکی کارکنوں کے لیے "کفالۃ" کے نظام کو منسوخ کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے، جس کی جگہ آجرین اور ملازمین...

دنیا میں بھوک کتنے بڑے پیمانے پر پھیلی ہوئی ہے؟ اس کا اندازہ گلوبل ہنگر انڈیکس سے لگایا جاتا ہے۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق بھارت 107 ممالک میں 94 ویں نمبر پر آیا ہے یعنی نیپال، بنگلہ دیش، سری لنکا اور پاکستان سے بھی پیچھے۔

اس فہرست میں پاکستان 88 ویں نمبر پر ہے جبکہ بنگلہ دیش کا نمبر 75 واں، نیپال کا 73 واں اور سری لنکا کا 64 واں ہے۔

بھارت سے بھی بدتر حالت میں موجود ممالک کی تعداد صرف 13 ہے کہ جن میں سے روانڈا 97 ویں، نائیجیریا 98 ویں، افغانستان 99 ویں، لائیبیریا 102 ویں، موزمبیق 103 ویں اور چاڈ 107 ویں نمبر پر ہیں۔

رپورٹ کے مطابق بھارت کی 14 فیصد آبادی کم غذائیت کا شکار ہے اور بھارت کا مجموعی اسکور صرف 27.2 ہے، اور اس کی وجہ سے وہ "serious” کی کیٹیگری میں آتا ہے۔ بھارت میں بچوں کی نشو و نما رُک جانے (child stunting) کی شرح 37.4 فیصد ہے۔

1991ء سے 2014ء تک کا ڈیٹا ظاہر کرتا ہے کہ بنگلہ دیش، بھارت، نیپال اور پاکستان میں بچوں کی نشو و نما میں رُک جانا مختلف مسائل کی وجہ سے ہے، جن میں خوراک کی کمی، ماں کا کم تعلیم یافتہ ہونا اور گھر کا غربت سے دوچار ہونا اہم ترین ہیں۔

کئی ممالک میں صورت حال تیزی سے بہتری کی جانب گامزن ہے لیکن چند ممالک میں مزید بگاڑ سے بھی دوچار ہے۔ ہنگر انڈیکس میں درمیانی، سنجیدہ اور خطرناک کیٹیگریز میں موجود 46 ممالک میں 2012ء کے بعد سے بہتری آ رہی ہے لیکن انہی کیٹیگریز میں موجود 14 ممالک مزید خراب صورت حال سے دوچار ہو رہے ہیں۔

تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق 37 ممالک ایسے ہیں جو 2030ء تک بھوک سے نمٹنے کے اہداف حاصل کرنے میں ناکام ہوں گے۔

یہ رپورٹ سالانہ بنیادوں پر جاری کی جاتی ہے اور عالمی، علاقائی اور ملکی سطح پر بھوک کا اندازہ لگاتی ہے۔ یاد رہے کہ بھارت پچھلے سال یعنی 2019ء میں 117 ممالک میں 102 ویں نمبر پر تھا۔

مزید تحاریر

سلیکون ویلی میں بھارتی انجینئرز کا راج، اپنے ساتھ ذات پات کا نظام بھی لے آئے

جب بینجمن کائیلا 1999ء میں بھارت سے ہجرت کرکے امریکا پہنچے تو انہوں نے ایک امریکی ٹیک کمپنی میں ملازمت کے لیے درخواست جمع...

باکسنگ ڈے ٹیسٹ میں 25 ہزار تماشائی ہوں گے

ہر سال 26 دسمبر کو آسٹریلیا میں باکسنگ ڈے کے موقع پر ٹیسٹ میچ کھیلا جاتا ہے اور رواں سال یہ مقابلہ آسٹریلیا اور...

دھات سے بنا سیارچہ دریافت، مالیت ہماری دنیا کی کُل معیشت سے ہزاروں گُنا زیادہ

امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے 'ناسا' نے غیر معمولی دھاتوں کا حامل ایک سیارچہ (asteroid) دریافت کر لیا ہے، جس کی مالیت کا اندازہ دنیا...

غیر ملکیوں کے لیے خوشخبری، سعودی عرب "کفالۃ” نظام کا خاتمہ کرنے لگا

سعودی عرب غیر ملکی کارکنوں کے لیے "کفالۃ" کے نظام کو منسوخ کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے، جس کی جگہ آجرین اور ملازمین...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے