28.2 C
Islamabad
پیر, اگست 2, 2021

‏40 سال بعد پاکستان کی پہلی فلم چین میں نمائش کے لیے تیار

تازہ ترین

مقبوضہ کشمیر کے تاجر، پاک-بھارت تجارت شروع ہونے کے منتظر

صرف دو سال پہلے عامر عطا اللہ کہتے تھے کہ پاکستانی سرحد کے قریب واقع قصبہ اُڑی میں تاجر کی حیثیت سے ان کا...

گزشتہ 75 سالوں میں آبدوزوں کے صرف 2 شکار، ایک پاکستانی آبدوز نے کیا

دوسری جنگِ عظیم کے دوران دشمن کے بحری جہازوں کو تباہ کرنے میں آبدوزوں نے بہت اہم کردار ادا کیا تھا۔ نازی جرمنی کی...

گھانا کی نئی قومی مسجد ایک اہم سیاحتی مقام بن گئی

مغربی افریقہ کے ملک گھانا کی نئی قومی مسجد ایک مقبول سیاحتی مقام بن گئی ہے اور نہ صرف مسلمان بلکہ غیر مسلم بھی...

تیل کا اخراج، تاریخ کے سب سے بڑے حادثات

اِس وقت کراچی کے ساحل پر ایک بحری جہاز 'ایم وی ہینگ ٹونگ 77' پھنسا ہوا ہے۔ گو کہ یہ ایک کنٹینر شپ ہے...
- Advertisement -

پاکستانی ایکشن فلم "پرواز ہے جنون” 13 نومبر سے چین کے سینماؤں میں پیش کی جائے گی۔ یہ تقریباً چار دہائیوں میں پہلا موقع ہوگا کہ کوئی پاکستانی فلم چینی سینماؤں تک پہنچی ہو۔ چین دنیا کی سب سے بڑی فلم مارکیٹ ہے اور وہاں تک رسائی پاکستانی فلمی صنعت کے لیے بہت اہمیت کی حامل ہے۔

حالیہ چند سالوں میں چین نے پاکستان میں اربوں ڈالرز کی سرمایہ کاری کی ہے کہ جس میں ریلوے، بجلی کی پیداوار اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں سمیت انتہائی اہمیت کی حامل گوادر بندرگاہ تک رسائی بھی شامل ہے۔ اب دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید قریب لانے کے لیے فلموں کا سہارا بھی لیا جا رہا ہے۔

چینی حکام نے اپریل 2019ء میں پاکستان-چین ٹریڈ اینڈ انوسٹمنٹ فورم میں "پرواز ہے جنون” کی درآمد پر رضامندی ظاہر کی تھی۔ فلم کی پروڈیوسر مومنہ دُرید نے فائر انٹرنیشنل میڈیا کے ساتھ تقسیم کے معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ لیکن کووِڈ-19 کی وجہ سے یہ معاملہ تاخیر کا شکار ہو گیا۔

"پرواز ہے جنون” ایک ایسے وقت میں چین میں ریلیز ہونے جا رہی ہے جب پاکستان اور چین کے مابین تعلقات کے 70 سال مکمل ہونے والے ہیں۔ پاکستان اور چین نے مئی 1951ء میں سفارتی تعلقات قائم کیے تھے۔

حسیب حسن کی ہدایات میں بننے والی یہ اردو فلم "پرواز ہے جنون” 2018ء میں پاکستان میں ریلیز ہوئی تھی، اور ملکی تاریخ کی پانچویں سب سے زیادہ کمانے والی فلم ہے۔ پاکستان میں اس فلم نے 21 لاکھ ڈالرز کی آمدنی حاصل کی تھی، جو "ایونجرز: اینڈ گیم” سے بھی زیادہ ہے کہ جس نے پاکستان سے 19 لاکھ ڈالرز کمائے تھے۔ "پرواز ہے جنون” نے آسٹریلیا، ناروے، برطانیہ اور متحدہ عرب امارات جیسی غیر ملکی مارکیٹوں سے بھی 2,61,000 ڈالرز کی آمدنی حاصل کی تھی۔

پاک فضائیہ کو خراجِ تحسین پیش کرتی اس فلم میں محبت بھری کہانی بھی ہے اور ایکشن کے تمام عناصر بھی موجود ہیں۔ فلم پاکستان کے بہترین فائٹر پائلٹوں کی زندگی کی داستان بیان کرتی ہے۔

ویسے فلم پاک-چین تعلقات کی جھلک بھی دکھاتی ہے کیونکہ اس میں مرکزی کردار جے ایف-17 طیارہ اڑانے کے خواب دیکھتے ہیں۔ یہ لڑاکا طیارہ پاکستان اور چین نے مل کر بنایا ہے۔

پہلے کہا جا رہا تھا کہ پاکستان کی تاریخ کی مہنگی ترین فلم "لیجنڈ آف مولا جٹ” دہائیوں بعد چین میں ریلیز ہونے والی پہلی فلم ہوگی۔ یہ 1979ء کی ایک کلاسیکی فلم کا ری-میک ہے، جسے مئی 2020ء میں عید الفطر کے موقع پر ریلیز ہونا تھا لیکن کووِڈ-19 کی وجہ سے اب غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی گئی ہے۔

لالی ووڈ کے سنہری دور میں چینی سینما اپنے ابتدائی دنوں میں تھا، تب پاکستان کی چند فلمیں بہت مقبول ہوئی تھیں۔ ان میں 1956ء کی "باغی” بھی شامل تھی جس کے ہدایت کار اشفاق ملک تھے۔ یہ فلم 1960ء کی دہائی میں چینی سینماؤں میں پیش کی گئی تھی۔ پھر 1975ء کی "میرا نام ہے محبت” بھی چین میں ریلیز کی گئی تھی۔

2017ء میں "چلے تھے ساتھ” ہانگ کانگ میں ریلیز ہونے والی پہلی پاکستانی فلم بنی، البتہ اسے چین میں جاری نہیں کیا گیا۔ اس فلم میں چینی نژاد کینیڈین ایکٹر کینٹ لیونگ نے بھی اداکاری کی ہے، جنہوں نے ایک پاکستانی لڑکی کی محبت میں مبتلا ہونے والے چینی مسافر کا کردار ادا کیا تھا۔

1970ء میں "لالی ووڈ” کے عروج کے زمانے میں پاکستان کی فلمی صنعت دنیا کی بڑی صنعتوں میں سے ایک تھی، کہ جس میں سالانہ 100 سے زیادہ فلمیں ریلیز ہوتی تھیں۔ یہ تعداد گھٹتے گھٹتے 2018ء میں محض 20 تک آ پہنچی۔ ان میں سے بھی زیادہ تر باکس آفس پر بُری طرح ناکام ہوتی ہیں۔ پچھلے سال اردو زبان کی صرف 22 فلمیں ریلیز ہوئیں۔ پاکستان میں سینماؤں کی آمدنی کا بڑا ذریعہ بھارت سے درآمد کی جانے والی فلمیں تھیں، لیکن 1965ء میں پاک بھارت جنگ کے بعد 40 سال تک ملک میں بھارتی فلموں کی درآمد پر پابندی لگی رہی جو 2008ء میں اٹھائی گئی اور پھر اگست 2019ء میں جموں و کشمیر کی نیم خود مختارانہ حیثیت کے خاتمے کی وجہ سے ایک مرتبہ پھر عائد کر دی گئی۔

پاکستان میں سینماؤں کی سب سے بڑی چَین Cineplex کے جنرل مینیجر عدنان علی خان کہتے ہیں کہ اگر چینی ایکشن فلموں کو اردو میں ڈب کرکے اچھی طرح مارکیٹ کیا جائے تو پاکستانی سینماؤں میں کونٹینٹ کی کمی کا خلاء پورا ہو سکتا ہے۔ اس وقت فلم بینوں کے پاس ہالی ووڈ کی انگریزی فلموں کے علاوہ کوئی دوسرا آپشن نہیں ہے۔

حالانکہ پاکستان اور چین نے 1965ء میں ثقافتی تعاون کا معاہدہ کیا تھا، لیکن فلمی دنیا میں اس حوالے سے کوئی پیشرفت نہیں دیکھی گئی۔

مزید تحاریر

مقبوضہ کشمیر کے تاجر، پاک-بھارت تجارت شروع ہونے کے منتظر

صرف دو سال پہلے عامر عطا اللہ کہتے تھے کہ پاکستانی سرحد کے قریب واقع قصبہ اُڑی میں تاجر کی حیثیت سے ان کا...

گزشتہ 75 سالوں میں آبدوزوں کے صرف 2 شکار، ایک پاکستانی آبدوز نے کیا

دوسری جنگِ عظیم کے دوران دشمن کے بحری جہازوں کو تباہ کرنے میں آبدوزوں نے بہت اہم کردار ادا کیا تھا۔ نازی جرمنی کی...

گھانا کی نئی قومی مسجد ایک اہم سیاحتی مقام بن گئی

مغربی افریقہ کے ملک گھانا کی نئی قومی مسجد ایک مقبول سیاحتی مقام بن گئی ہے اور نہ صرف مسلمان بلکہ غیر مسلم بھی...

تیل کا اخراج، تاریخ کے سب سے بڑے حادثات

اِس وقت کراچی کے ساحل پر ایک بحری جہاز 'ایم وی ہینگ ٹونگ 77' پھنسا ہوا ہے۔ گو کہ یہ ایک کنٹینر شپ ہے...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے