25.7 C
Islamabad
پیر, اگست 2, 2021

غیر ملکیوں کے لیے خوشخبری، سعودی عرب "کفالۃ” نظام کا خاتمہ کرنے لگا

تازہ ترین

مقبوضہ کشمیر کے تاجر، پاک-بھارت تجارت شروع ہونے کے منتظر

صرف دو سال پہلے عامر عطا اللہ کہتے تھے کہ پاکستانی سرحد کے قریب واقع قصبہ اُڑی میں تاجر کی حیثیت سے ان کا...

گزشتہ 75 سالوں میں آبدوزوں کے صرف 2 شکار، ایک پاکستانی آبدوز نے کیا

دوسری جنگِ عظیم کے دوران دشمن کے بحری جہازوں کو تباہ کرنے میں آبدوزوں نے بہت اہم کردار ادا کیا تھا۔ نازی جرمنی کی...

گھانا کی نئی قومی مسجد ایک اہم سیاحتی مقام بن گئی

مغربی افریقہ کے ملک گھانا کی نئی قومی مسجد ایک مقبول سیاحتی مقام بن گئی ہے اور نہ صرف مسلمان بلکہ غیر مسلم بھی...

تیل کا اخراج، تاریخ کے سب سے بڑے حادثات

اِس وقت کراچی کے ساحل پر ایک بحری جہاز 'ایم وی ہینگ ٹونگ 77' پھنسا ہوا ہے۔ گو کہ یہ ایک کنٹینر شپ ہے...
- Advertisement -

سعودی عرب غیر ملکی کارکنوں کے لیے "کفالۃ” کے نظام کو منسوخ کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے، جس کی جگہ آجرین اور ملازمین کے درمیان معاہدے کی نئی صورت متعارف کروائی جائے گی۔

ایک عرب اخبار کے مطابق کفالۃ کا نظام سات دہائیوں سے مملکت سعودی عرب میں لاگو ہے۔ انسانی حقوق کے ادارے اس نظام پر کڑی تنقید کرتے آئے ہیں کیونکہ اس کی وجہ سے ملازم ایک مالک کے رحم و کرم پر ہوتا ہے اور وہ اس نظام کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ان کا خوب استحصال کرتے ہیں۔ البتہ سعودی میڈیا کے مطابق کفالۃ کے نظام کا خاتمہ آجر اور غیر ملکی کارکنوں کے درمیان تعلق کو اس معاہدے تک محدود کرے گا، جس میں دونوں کے حقوق اور ذمہ داریاں متعین ہوں گی۔

"سعودی گیزٹ” نے فروری میں کہا تھا کہ کفالۃ کے نظام کے خاتمے کا فیصلہ اُن معاشی اصلاحات کا حصہ ہے کہ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے وژن 2030ء کے اجراء کے موقع پر پیش کی گئی تھیں۔ منصوبے کے تحت کفالۃ نظام کا خاتمہ غیر ملکی کارکنوں کی ملک سے بحفاظت واپسی اور دوبارہ داخل ہونے کے لیے ویزا حاصل کرنے کی آزادی دے گا۔ وہ اسی ملازمت کا پابند نہیں ہوگا اور نہ اسے آجر کی کسی اجازت کی ضرورت ہوگی۔ غیر ملکی کارکنوں کو نقل و حرکت کی بھی مکمل آزادی ہوگی، جیسا کہ معاہدے میں بیان ہوگا۔

70 سالوں سے سعودی عرب میں غیر ملکی کارکن اور آجر کے مابین تعلق کے لیے کفالۃ کا نظام لاگو تھا، جس کے تحت مملکت میں آمد کے ساتھ کارکن اپنے کفیل کے لیے ہی کام کرنے کا ذمہ دار ہے جیسا کہ معاہدے میں لکھا ہوتا ہے اور وہ اپنی کفالت منتقل کیے بغیر کسی دوسرے کے ساتھ کام کرنے کا مجاز نہیں ہے۔

کفالۃ نظام میں متعدد بار تبدیلیاں بھی کی گئیں کہ جن کا مقصد انسانی حقوق کا تحفظ اور ساتھ ساتھ فریقین کے مالی مفادات کا تحفظ تھا۔ لیکن آجروں کی ایک بڑی تعداد اس نظام کی چند دفعات کا غلط استعمال کرتی رہی ہے ، جس کی وجہ سے بین الاقوامی تنظیموں نے بارہا اس کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔

کفالۃ نظام کے منفی پہلوؤں کی وجہ سے بے روزگاری کی شرح کے ساتھ ساتھ ریاست کی ساکھ بھی متاثر ہوتی ہے، کیونکہ چند کفیل ملکی مفادات کے بجائے ذاتی فائدے سمیٹتے ہیں۔ کفالۃ نظام کا ایک نقصان یہ بھی ہے کہ اس نے ویزا کے کاروبار میں بلیک مارکیٹ کو پھلنے پھولنے کا راستہ فراہم کیا۔

اب کفالۃ نظام کے خاتمے سے سعودی لیبر مارکیٹ کو کئی فائدے بھی ملیں گے۔ اس سے سعودی شہری مسابقت میں غیر ملکی کارکنوں کے مقابلے پر آئیں گے۔ ایک اور فائدہ یہ ہوگا کہ باصلاحیت افرادی قوت کے لیے کام کا ماحول بہتر بنے گا ۔ اس کے علاوہ ، مختلف ممالک سے انتہائی قابل تارکین وطن مملکت کی طرف راغب ہوں گے۔

2019ء میں سعودی عرب نے چند تارکین وطن کے لیے اپنا پہلا مستقل رہائشی پروگرام یعنی پریمیم ریذیڈنسی کارڈ (PRC) شروع کیا تھا، جس کے نتیجے میں اُن کا اپنے اہل و عیال کے ساتھ ملک میں رہنا ممکن ہوا۔ یہ خیال پہلی بار محمد بن سلمان نے 2016ء میں پیش کیا تھا لیکن شوریٰ کونسل نے اس کی منظوری مئی 2019ء میں دی۔ کفالۃ نظام کے خاتمے کا ہدف مضبوط معاشی نمو کو مزید تیز کرنا اور تجارتی سرگرمیوں کو بڑھانا ہے کیونکہ نیا رہائشی نظام تارکینِ وطن کو آزادی ، رہائش پانے کے حقوق اور ان کے رشتہ داروں کو ویزا جاری کرنے کی سہولتیں دیتا ہے اور یوں ریاست میں مزید سرمایہ آئے گا۔

مزید تحاریر

مقبوضہ کشمیر کے تاجر، پاک-بھارت تجارت شروع ہونے کے منتظر

صرف دو سال پہلے عامر عطا اللہ کہتے تھے کہ پاکستانی سرحد کے قریب واقع قصبہ اُڑی میں تاجر کی حیثیت سے ان کا...

گزشتہ 75 سالوں میں آبدوزوں کے صرف 2 شکار، ایک پاکستانی آبدوز نے کیا

دوسری جنگِ عظیم کے دوران دشمن کے بحری جہازوں کو تباہ کرنے میں آبدوزوں نے بہت اہم کردار ادا کیا تھا۔ نازی جرمنی کی...

گھانا کی نئی قومی مسجد ایک اہم سیاحتی مقام بن گئی

مغربی افریقہ کے ملک گھانا کی نئی قومی مسجد ایک مقبول سیاحتی مقام بن گئی ہے اور نہ صرف مسلمان بلکہ غیر مسلم بھی...

تیل کا اخراج، تاریخ کے سب سے بڑے حادثات

اِس وقت کراچی کے ساحل پر ایک بحری جہاز 'ایم وی ہینگ ٹونگ 77' پھنسا ہوا ہے۔ گو کہ یہ ایک کنٹینر شپ ہے...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے