18.4 C
Islamabad
بدھ, دسمبر 2, 2020

غیر ملکیوں کے لیے خوشخبری، سعودی عرب "کفالۃ” نظام کا خاتمہ کرنے لگا

تازہ ترین

شہباز، حمزہ نے پیرول پر رہائی میں توسیع کی درخواست دی، پھر بھی نہیں لی، وزیر قانون پنجاب

وزیر قانون راجہ بشارت کا کہنا ہے کہ قائد حزب اختلاف شہباز شریف اور ان کے بیٹے حمزہ شہباز کی درخواست پر پیرول کی...

برطانیہ: کورونا ویکسین کی منظوری دے دی گئی، پاکستان میں جنوری تک دستیاب ہوگی

برطانیہ نے فائزر بائیوٹک کورونا ویکسین کی منظوری دے دی، برطانوی وزارت صحت کے مطابق کورونا ویکسین کی دستیابی 7 سے 9 دسمبر کے...

کرونا وائرس اور معاشی بحران، پاکستان میں ناکافی غذائیت کا مسئلہ مزید پیچیدہ ہو گیا

اگست 2018ء میں عمران خان نے برسرِ اقتدار آتے ہی جن مسائل سے نمٹنے کا عزم ظاہر کیا تھا، ان میں ناکافی غذائیت (malnutrition)...

ہم اسلام آباد کے راستے میں ہوں گے اور حکومت چلی جائے گی، رانا ثناء اللہ

پاکستان مسلم لیگ ن پنجاب کے صدر رانا ثناء اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ لاہور میں ہونے والے پی ڈی ایم جلسے میں...
- Advertisement -

سعودی عرب غیر ملکی کارکنوں کے لیے "کفالۃ” کے نظام کو منسوخ کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے، جس کی جگہ آجرین اور ملازمین کے درمیان معاہدے کی نئی صورت متعارف کروائی جائے گی۔

ایک عرب اخبار کے مطابق کفالۃ کا نظام سات دہائیوں سے مملکت سعودی عرب میں لاگو ہے۔ انسانی حقوق کے ادارے اس نظام پر کڑی تنقید کرتے آئے ہیں کیونکہ اس کی وجہ سے ملازم ایک مالک کے رحم و کرم پر ہوتا ہے اور وہ اس نظام کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ان کا خوب استحصال کرتے ہیں۔ البتہ سعودی میڈیا کے مطابق کفالۃ کے نظام کا خاتمہ آجر اور غیر ملکی کارکنوں کے درمیان تعلق کو اس معاہدے تک محدود کرے گا، جس میں دونوں کے حقوق اور ذمہ داریاں متعین ہوں گی۔

"سعودی گیزٹ” نے فروری میں کہا تھا کہ کفالۃ کے نظام کے خاتمے کا فیصلہ اُن معاشی اصلاحات کا حصہ ہے کہ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے وژن 2030ء کے اجراء کے موقع پر پیش کی گئی تھیں۔ منصوبے کے تحت کفالۃ نظام کا خاتمہ غیر ملکی کارکنوں کی ملک سے بحفاظت واپسی اور دوبارہ داخل ہونے کے لیے ویزا حاصل کرنے کی آزادی دے گا۔ وہ اسی ملازمت کا پابند نہیں ہوگا اور نہ اسے آجر کی کسی اجازت کی ضرورت ہوگی۔ غیر ملکی کارکنوں کو نقل و حرکت کی بھی مکمل آزادی ہوگی، جیسا کہ معاہدے میں بیان ہوگا۔

70 سالوں سے سعودی عرب میں غیر ملکی کارکن اور آجر کے مابین تعلق کے لیے کفالۃ کا نظام لاگو تھا، جس کے تحت مملکت میں آمد کے ساتھ کارکن اپنے کفیل کے لیے ہی کام کرنے کا ذمہ دار ہے جیسا کہ معاہدے میں لکھا ہوتا ہے اور وہ اپنی کفالت منتقل کیے بغیر کسی دوسرے کے ساتھ کام کرنے کا مجاز نہیں ہے۔

کفالۃ نظام میں متعدد بار تبدیلیاں بھی کی گئیں کہ جن کا مقصد انسانی حقوق کا تحفظ اور ساتھ ساتھ فریقین کے مالی مفادات کا تحفظ تھا۔ لیکن آجروں کی ایک بڑی تعداد اس نظام کی چند دفعات کا غلط استعمال کرتی رہی ہے ، جس کی وجہ سے بین الاقوامی تنظیموں نے بارہا اس کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔

کفالۃ نظام کے منفی پہلوؤں کی وجہ سے بے روزگاری کی شرح کے ساتھ ساتھ ریاست کی ساکھ بھی متاثر ہوتی ہے، کیونکہ چند کفیل ملکی مفادات کے بجائے ذاتی فائدے سمیٹتے ہیں۔ کفالۃ نظام کا ایک نقصان یہ بھی ہے کہ اس نے ویزا کے کاروبار میں بلیک مارکیٹ کو پھلنے پھولنے کا راستہ فراہم کیا۔

اب کفالۃ نظام کے خاتمے سے سعودی لیبر مارکیٹ کو کئی فائدے بھی ملیں گے۔ اس سے سعودی شہری مسابقت میں غیر ملکی کارکنوں کے مقابلے پر آئیں گے۔ ایک اور فائدہ یہ ہوگا کہ باصلاحیت افرادی قوت کے لیے کام کا ماحول بہتر بنے گا ۔ اس کے علاوہ ، مختلف ممالک سے انتہائی قابل تارکین وطن مملکت کی طرف راغب ہوں گے۔

2019ء میں سعودی عرب نے چند تارکین وطن کے لیے اپنا پہلا مستقل رہائشی پروگرام یعنی پریمیم ریذیڈنسی کارڈ (PRC) شروع کیا تھا، جس کے نتیجے میں اُن کا اپنے اہل و عیال کے ساتھ ملک میں رہنا ممکن ہوا۔ یہ خیال پہلی بار محمد بن سلمان نے 2016ء میں پیش کیا تھا لیکن شوریٰ کونسل نے اس کی منظوری مئی 2019ء میں دی۔ کفالۃ نظام کے خاتمے کا ہدف مضبوط معاشی نمو کو مزید تیز کرنا اور تجارتی سرگرمیوں کو بڑھانا ہے کیونکہ نیا رہائشی نظام تارکینِ وطن کو آزادی ، رہائش پانے کے حقوق اور ان کے رشتہ داروں کو ویزا جاری کرنے کی سہولتیں دیتا ہے اور یوں ریاست میں مزید سرمایہ آئے گا۔

مزید تحاریر

شہباز، حمزہ نے پیرول پر رہائی میں توسیع کی درخواست دی، پھر بھی نہیں لی، وزیر قانون پنجاب

وزیر قانون راجہ بشارت کا کہنا ہے کہ قائد حزب اختلاف شہباز شریف اور ان کے بیٹے حمزہ شہباز کی درخواست پر پیرول کی...

برطانیہ: کورونا ویکسین کی منظوری دے دی گئی، پاکستان میں جنوری تک دستیاب ہوگی

برطانیہ نے فائزر بائیوٹک کورونا ویکسین کی منظوری دے دی، برطانوی وزارت صحت کے مطابق کورونا ویکسین کی دستیابی 7 سے 9 دسمبر کے...

کرونا وائرس اور معاشی بحران، پاکستان میں ناکافی غذائیت کا مسئلہ مزید پیچیدہ ہو گیا

اگست 2018ء میں عمران خان نے برسرِ اقتدار آتے ہی جن مسائل سے نمٹنے کا عزم ظاہر کیا تھا، ان میں ناکافی غذائیت (malnutrition)...

ہم اسلام آباد کے راستے میں ہوں گے اور حکومت چلی جائے گی، رانا ثناء اللہ

پاکستان مسلم لیگ ن پنجاب کے صدر رانا ثناء اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ لاہور میں ہونے والے پی ڈی ایم جلسے میں...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے