23.3 C
Islamabad
بدھ, دسمبر 2, 2020

سلیکون ویلی میں بھارتی انجینئرز کا راج، اپنے ساتھ ذات پات کا نظام بھی لے آئے

تازہ ترین

برطانیہ: کورونا ویکسین کی منظوری دے دی گئی، پاکستان میں جنوری تک دستیاب ہوگی

برطانیہ نے فائزر بائیوٹک کورونا ویکسین کی منظوری دے دی، برطانوی وزارت صحت کے مطابق کورونا ویکسین کی دستیابی 7 سے 9 دسمبر کے...

کرونا وائرس اور معاشی بحران، پاکستان میں ناکافی غذائیت کا مسئلہ مزید پیچیدہ ہو گیا

اگست 2018ء میں عمران خان نے برسرِ اقتدار آتے ہی جن مسائل سے نمٹنے کا عزم ظاہر کیا تھا، ان میں ناکافی غذائیت (malnutrition)...

ہم اسلام آباد کے راستے میں ہوں گے اور حکومت چلی جائے گی، رانا ثناء اللہ

پاکستان مسلم لیگ ن پنجاب کے صدر رانا ثناء اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ لاہور میں ہونے والے پی ڈی ایم جلسے میں...

وزیراعظم کی ٹیم کے اراکین کا خفیہ دورہِ اسرائیل، اینکرپرسن کا بڑا دعویٰ

تجزیہ کار ڈاکٹر شاہد مسعود نے دعویٰ کیا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کی 52 رکنی ٹیم کے کچھ عہدیداران نے اسرائیل کے...
- Advertisement -

جب بینجمن کائیلا 1999ء میں بھارت سے ہجرت کرکے امریکا پہنچے تو انہوں نے ایک امریکی ٹیک کمپنی میں ملازمت کے لیے درخواست جمع کروائی اور ساتھ ہی دعا کرتے رہے کہ انٹرویو کے دوران کسی بھارتی کا سامنا نہ ہو جائے۔ کیوں؟ کیونکہ کائیلا ایک دلت ہیں جو بھارت کے ذات پات کے معاشرے میں سب سے نچلی ذات سمجھی جاتی ہے، جنہیں کبھی "اچھوت” کہا جاتا تھا۔

امریکی اخبار ‘واشنگٹن پوسٹ’ نے اپنی ایک جامع رپورٹ میں کہا ہے کہ ٹیکنالوجی کی دنیا کے نامی گرامی ادارے رکھنے والے مقام سلیکون ویلی میں جہاں بھارتی بڑی تعداد میں موجود ہیں، لیکن وہ اپنے ساتھ ذات پات کا نظام بھی لے آئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق سلیکون ویلی پر سفید فاموں اور ایشیائی مردوں کا غلبہ ہے لیکن گزشتہ چند سالوں سے جب سے میرٹ پر بحث شروع ہوئی ہے، اس صنعت میں بھارتی انجینیئرز کے درمیان امتیازی سلوک کا نیا پہلو بھی سامنے آگیا ہے۔ کائیلا جیسے دلت انجینیئروں کا کہنا ہے کہ امریکی ادارے اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

کائیلا نے گزشتہ 20 سالوں میں ملازمت کے لیے 100 سے زیادہ انٹرویوز دیے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ انہیں ایسی صرف ایک جگہ سے ہی ملازمت کی پیشکش ہوئی کہ جہاں ان کا انٹرویو کسی بھارتی نے لیا ہو۔ کائیلا کا کہنا ہے کہ انٹرویو کے دوران انہیں ذاتی نوعیت کے سوالات کا سامنا کرنا پڑا جیسا کہ وہ اونچی ذات سے تعلق رکھتے ہیں یا نہیں، جیسا کہ ٹیک انڈسٹری میں کام کرنے والے زیادہ تر بھارتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ "وہ ذات پات کا نام تو نہیں لیتے، لیکن وہ آسانی سے ہماری شناخت کر سکتے ہیں کہ ہم اونچی ذات کے ہیں یا نچلی ذات کے۔”

سلیکون ویلی کے حوالے سے جب بھی ہر طبقے اور رنگ و نسل کے افراد کو ملازمتیں ملنے کی بات ہوتی ہے تو اس میں بھارت کے ذات پات کے نظام اور اس کے نتیجے میں ہونے والے امتیازی سلوک پر شاذ ہی گفتگو ہوتی ہے۔ دلت انجینیئروں اور ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ ٹیکن کمپنیاں ذات پات کی اس تقسیم کو نہیں سمجھتیں اور نہ ہی انہوں نے اس امتیاز پر پابندی کے لیے کوئی واضح ہدایات دی ہیں۔

البتہ حالیہ چند سالوں میں دلت حقوق کی تحریک تیزی سے عالمگیر صورت اختیار کر رہی ہے، جس میں امریکا بھی شامل ہے۔ جون میں کیلیفورنیا کے ڈپارٹمنٹ آف فیئر ایمپلائمنٹ اینڈ ہاؤسنگ نے سسکو اور اس کے دو سابق انجینیئرنگ مینیجرز کے خلاف ایک دلت انجینئر سے امتیاز سلوک کرنے کا مقدمہ درج کیا۔ یہ دونوں مینیجرز اونچی ذات سے تعلق رکھنے والے بھارتی تھے۔

اس مقدمے کے اعلان کے ساتھ ہی دلت حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے ایکوالٹی لیبس کو تین ہفتوں میں تقریباً 260 شکایات موصول ہوئیں کہ جن میں ذات پات کی بنیاد پر امتیاز برتنے کا الزام لگایا گیا تھا۔ اس میں ذات کو نشانہ بناتے ہوئے طنز طعنے مارنے، جملے کسنا، ڈرانا دھمکانا، ملازمت کے حصول کے عمل میں امتیازی سلوک اور جنسی ہراسگی تک شامل تھا۔ سب سے زیادہ دعوے فیس بک کے خلاف کیے گئے کہ جن کی تعداد 33 تھی، ان کے بعد سسکو 24، گوگل 20، مائیکروسافٹ 18، آئی بی ایم 17 اور ایمیزن 14۔ ان تمام کمپنیوں کا کہنا ہے کہ وہ امتیازی سلوک کو برداشت نہیں کرتیں۔

جبکہ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق گوگل، ایپل، مائیکروسافٹ، سسکو اور دوسری ٹیکن کمپنیوں کے لیے کام کرنے والی 30 دلت بھارتی خواتین انجینیئرز کے ایک گروپ کا کہنا ہے انہیں ذات پات کی بنیاد پر امتیازی سلوک کا سامنا ہے۔

انتقامی کارروائی کے خوف سے اپنا نام ظاہر نہ کرنے والی ان خواتین کا کہنا ہے کہ اونچی ذات سے تعلق رکھنے والے انجینئرز ملازمت دینے، سفارش کرنے اور کارکردگی کے جائزے میں اپنی ذات کے افراد کو اہمیت دیتے ہیں۔ "ہمیں اپنے پسِ منظر کی وجہ سے ذلت آمیز حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ہم نے ہاں میں ہاں ملا کر ہی اپنی ملازمتیں بچائیں۔ یہ تھکا دینے والا عمل ہے۔ ہم اچھی طرح کام کرتے ہیں اور ہم اچھے انجینیئرز ہیں۔ ہم اپنی برادری کے لیے رول ماڈل کی حیثیت رکھتے ہیں اور اپنی ملازمتیں جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ لیکن ایسی جگہ پر کام کرنا مشکل ہے کہ جہاں ذات پات کی بنیاد پر امتیاز کیا جاتا ہو اور ہمیں کوئی تحفظ حاصل نہ ہو۔”

ٹیک انڈسٹری کا بھارت سے آنے والے کارکنوں پر انحصار بڑھتا جا رہا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق امریکا نے 2009ء سے اب تک 17 لاکھ سے زیادہ H-1B ویزے جاری کیے ہیں، جن میں سے 65 فیصد بھارتیوں کو جاتے ہیں۔ تقریباً 70 فیصد H-1B ویزا رکھنے والے ٹیک انڈسٹری سے تعلق رکھتے ہیں، یہ شرح 2003ء میں 40 فیصد سے بھی کم تھی۔

جانز ہوپ کنز یونیورسٹی میں ساؤتھ ایشین اسٹڈیز کے پروفیسر دیوس کپور کا کہنا ہے کہ 2003ء میں امریکا میں بھارتی تارکینِ وطن میں دلتوں کی شرح صرف 1.5 فیصد تھی۔

دلت انجینئرز کا کہنا ہے کہ اونچی ذات سے تعلق رکھنے والے زیادہ تر بھارتی کارکن کو ذات پات کی بنیاد پر ملنے والے فائدے کا اندازہ ہی نہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ یہ کوئی ماضی کی باتیں ہیں حالانکہ تمام تر ہائی پروفائل سی ای اوز اور بورڈ ممبرز برہمن ہیں یا پھر اونچی ذات سے تعلق رکھتے ہیں جیسا کہ مائیکروسافٹ کے سی ای او ستیا ندیلا اور ایمیزن کی بورڈ رکن اندرا نوئی۔

ذات پات کا اندازہ ہمیشہ سوالات سے لگایا جاتا ہے، ضروری نہیں کہ ظاہری شکل و صورت سے ہی پتہ چل جائے۔ حالانکہ دلتوں کی رنگت کچھ سیاہ ہو سکتی ہے، لیکن ذات پات کا تعلق جلد کی رنگت سے نہیں ہوتا۔ واشنگٹن پوسٹ کو 7 بھارتی انجینیئرز نے بتایا کہ آپ گوشت خور تو نہیں، آپ کی پرورش کہاں ہوئی، آپ کا مذہب کیا ہے یا آپ کی شادی کس سے ہوئی، ایسے سوالات جیسا کہ کرکے دراصل ذات پات کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ایک شخص کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرا گیا، تاکہ اندازہ لگایا جا سکے کہ اس نے وہ "مقدس دھاگا” باندھ رکھا ہے یا نہیں کہ جو عموماً برہمن باندھتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر ذات پات کی تفریق کے خاتمے کے لیے کوئی پیش رفت کی بھی جا رہی تھی تو نریندر مودی کے وزیر اعظم بننے کے بعد تو اس کا بھی خاتمہ ہو گیا ہے کہ جن کی انتظامیہ دلتوں کو ملنے والے قانونی تحفظ کے خاتمے کے لیے کام کر رہی ہے۔

مزید تحاریر

برطانیہ: کورونا ویکسین کی منظوری دے دی گئی، پاکستان میں جنوری تک دستیاب ہوگی

برطانیہ نے فائزر بائیوٹک کورونا ویکسین کی منظوری دے دی، برطانوی وزارت صحت کے مطابق کورونا ویکسین کی دستیابی 7 سے 9 دسمبر کے...

کرونا وائرس اور معاشی بحران، پاکستان میں ناکافی غذائیت کا مسئلہ مزید پیچیدہ ہو گیا

اگست 2018ء میں عمران خان نے برسرِ اقتدار آتے ہی جن مسائل سے نمٹنے کا عزم ظاہر کیا تھا، ان میں ناکافی غذائیت (malnutrition)...

ہم اسلام آباد کے راستے میں ہوں گے اور حکومت چلی جائے گی، رانا ثناء اللہ

پاکستان مسلم لیگ ن پنجاب کے صدر رانا ثناء اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ لاہور میں ہونے والے پی ڈی ایم جلسے میں...

وزیراعظم کی ٹیم کے اراکین کا خفیہ دورہِ اسرائیل، اینکرپرسن کا بڑا دعویٰ

تجزیہ کار ڈاکٹر شاہد مسعود نے دعویٰ کیا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کی 52 رکنی ٹیم کے کچھ عہدیداران نے اسرائیل کے...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے