23.3 C
Islamabad
بدھ, دسمبر 2, 2020

صدارت چھوڑنے کے بعد امریکی صدور کیا کرتے ہیں؟ چند حیران کُن کام

تازہ ترین

شہباز، حمزہ نے پیرول پر رہائی میں توسیع کی درخواست دی، پھر بھی نہیں لی، وزیر قانون پنجاب

وزیر قانون راجہ بشارت کا کہنا ہے کہ قائد حزب اختلاف شہباز شریف اور ان کے بیٹے حمزہ شہباز کی درخواست پر پیرول کی...

برطانیہ: کورونا ویکسین کی منظوری دے دی گئی، پاکستان میں جنوری تک دستیاب ہوگی

برطانیہ نے فائزر بائیوٹک کورونا ویکسین کی منظوری دے دی، برطانوی وزارت صحت کے مطابق کورونا ویکسین کی دستیابی 7 سے 9 دسمبر کے...

کرونا وائرس اور معاشی بحران، پاکستان میں ناکافی غذائیت کا مسئلہ مزید پیچیدہ ہو گیا

اگست 2018ء میں عمران خان نے برسرِ اقتدار آتے ہی جن مسائل سے نمٹنے کا عزم ظاہر کیا تھا، ان میں ناکافی غذائیت (malnutrition)...

ہم اسلام آباد کے راستے میں ہوں گے اور حکومت چلی جائے گی، رانا ثناء اللہ

پاکستان مسلم لیگ ن پنجاب کے صدر رانا ثناء اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ لاہور میں ہونے والے پی ڈی ایم جلسے میں...
- Advertisement -

معروف شاعر غلام محمد قاصر سے معذرت کہ ساتھ

کروں گا کیا جو "صدارت” میں ہو گیا ناکام

مجھے تو اور کوئی کام بھی نہیں آتا

اور صدارت بھی دنیا کی واحد سپر پاور کی؟ امریکا کے ایک صدر جان کوئنسی ایڈمز نے کہا تھا کہ "سابق صدر سے زیادہ بدتر زندگی کسی کی نہیں ہو سکتی۔” ہو سکتا ہے کہ ان کے الفاظ کچھ سخت محسوس ہوں لیکن واقعی یہ تصور کرنا بہت مشکل ہے کہ دنیا کا طاقتور ترین عہدہ رکھنے کے بعد انسان کو زندگی میں کسی دوسرے کا کام کا انتخاب کرنا پڑے۔

موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ صدارت تک پہنچنے سے پہلے ایک معروف کاروباری شخصیت تھے۔ وہ بلند و بالا عمارات، ہوٹلوں، جوئے خانوں اور گالف کورسز کے مالک ہیں اور ٹیلی وژن پر اپنے شو The Apprentice کی وجہ سے بھی کافی مقبول رہے ہیں۔ لیکن اگر انہیں شکست ہوئی تو یہ غم انہیں چین نہیں لینے دے گا۔ عین ممکن ہے کہ وہ ایک مرتبہ پھر صدارت کے امیدوار بن جائیں۔

بہرحال، صدارت چھوڑنے کے بعد سابق صدور کو پنشن، عملہ، طبی انشورنس اور سیکریٹ سروس کے تحت دس سال تک حفاظت دی جاتی ہے اور یہ محض چند سہولیات ہیں جو سابق صدور کو ملتی ہیں لیکن پھر بھی "روٹی تو کسی طور کما کھائے مچھندر”، کئی سابق صدور نے بعد از صدارت اپنی ‘دوسری زندگی’ میں حیران کُن کام کیے۔ جیسا کہ کیا آپ جانتے ہیں کہ براک اوباما نے فلم پروڈکشن کا رُخ کیا ہے؟

آئیے آپ کو بتاتے ہیں کہ وائٹ ہاؤس چھوڑنے کے بعد چند صدور نے کون سی مصروفیات اختیار کیں:

جارج ڈبلیو بش: مصور


جی ہاں! مسلسل دو مرتبہ صدر بننے والے، اور دنیا کا بیڑا غرق کرنے والے، جارج ڈبلیو بُش نے بعد از صدارت اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا رُخ کیا۔ یعنی "جب روم جل رہا تھا تو نیرو بانسری بجا رہا تھا”۔ ارے نہیں، جارج ڈبلیو بش نے بانسریاں نہیں بجائیں، بلکہ مصوّر بننے کی ٹھان لی۔ 2012ء میں انہوں نے ڈیلاس میں ایک مصور کی شاگردی اختیار کی اور ان کے "گُن” تب کھلے جب ان کا ای میل ہیک ہوا۔ شخصیت کی طرح ان کی مصوری بھی بھیانک تھی، جس کا بہت مذاق بنا لیکن سابق صدر نے اس تنقید کو سنجیدہ نہیں لیا۔ 2017ء میں انہوں نے امریکی فوجی اہلکاروں کی تصاویر پر مشتمل Portraits of Courage نامی کتاب شائع کروائی۔ اب مارچ 2021ء میں بھی ان کی ایک کتاب Out of Many, One جاری ہونے والی ہے جس کا موضوع امریکی تارکینِ وطن ہیں۔ اس کتاب سے حاصل ہونے والی آمدنی کا ایک حصہ ان اداروں کو جائے گا جو تارکینِ وطن کے لیے کام کرتے ہیں۔


براک اوباما: فلم پروڈیوسر


2017ء میں وائٹ ہاؤس چھوڑنے کے بعد براک اوباما نے دنیا بھر کا سفر کیا، ایک خود نوشت A Promised Land لکھی جو رواں مہینے سامنے آئی گی اور کئی دوسرے کام بھی نمٹائے، لیکن سب سے غیر متوقع ہے نیٹ فلکس کے ساتھ ایک معاہدہ۔ 2018ء میں اوباما اور ان کی اہلیہ مشیل نے ہائیر گراؤنڈ پروڈکشنز کے نام سے نیٹ فلکس کے ساتھ ایک معاہدہ کیا، جس کے تحت وہ پروڈکشن کریں گے۔ نیٹ فلکس کے مطابق اس میں اسکرپٹڈ، اَن اسکرپٹڈ اور ڈاکیومنٹری سیریز شامل ہوں گی اور ساتھ ہی فیچر اور دستاویزی فلمیں بھی۔ ہائیر گراؤنڈ پروڈکشنز صنعتی انقلاب کے بعد ریاست اوہائیو کے حوالے سے ایک ڈاکیومنٹری American Factory اور دوسری جنگ عظیم کے بعد نیو یارک شہر میں فیشن کی دنیا کے بارے میں ایک ڈراما سیریز Bloom حاصل کر چکی ہے۔


تھامس جیفرسن: یونیورسٹی کے بانی


تھامس جیفرسن نے بہت منفرد قدم اٹھایا۔ 1819ء میں اپنی صدارت کے خاتمے کے دس سال بعد انہوں نے یونیورسٹی آف ورجینیا کی بنیاد رکھی، جو چھ سال بعد 1825ء میں کھل گئی۔ آج یونیورسٹی آف ورجینیا امریکا کی خوبصورت ترین جامعات میں سے ایک ہے، بالکل جیفرسن کے تصور کے عین مطابق ۔


بل کلنٹن: ریکارڈنگ آرٹسٹ


کیا آپ کو معلوم ہے کہ صدارت چھوڑنے کے بعد بل کلنٹن نے دو گریمی ایوارڈز جیتے تھے؟ جی ہاں! امریکا کے 42 ویں صدر ایک بہت زبردست saxophone پلیئر ہیں، لیکن انہیں گریمی ایوارڈز ایک مختلف شعبے میں ملے، صوتی البمز میں۔ کلنٹن 2004ء میں بچوں کی کتاب Wolf Tracks کے لیے narration پر گریمی حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔ پھر 2005ء میں انہیں اپنی خود نوشت My Life پر بھی گریمی ایوارڈ ملا۔ گریمی جیتنے والے پہلے صدر کلنٹن تھے لیکن آخری نہیں۔ ان کے بعد 2006ء اور 2008ء میں براک اوباما نے اور جمی کارٹر نے 2007ء میں گریمی ایوارڈز حاصل کیے۔


ولیم ہاورڈ ٹافٹ: سپریم کورٹ جسٹس


امریکا کے 27 ویں صدر ولیم ہاورڈ ٹافٹ نے وائٹ ہاؤس چھوڑنے کے بعد ملک کی خدمت کے لیے دوسرا راستہ اختیار کیا۔ اس مرتبہ وہ سپریم کورٹ کے جسٹس بنے۔ ٹافٹ نے 1909ء سے 1913ء تک صدارت سنبھالی اور پھر 1921ء میں صدر ویرن ہارڈنگ نے انہیں اعلیٰ ترین عدالت کا منصف نامزد کیا۔ ٹافٹ امریکی تاریخ کے واحد صدر ہیں کہ جنہوں نے ان دونوں عہدے پر خدمات انجام دیں۔


گروور کلیولینڈ: صدر (ایک مرتبہ پھر!)


صدر بننے کے بعد کسی دوسرے کام میں مزا نہیں آتا؟ اس مسئلے کا حل گروور کلیولینڈ نے نکالا، وہ ایک مرتبہ پھر میدان میں کودے اور دوبارہ صدر بن گئے۔ وہ 1885ء سے 1889ء تک امریکا کے صدر رہے اور ایک مرتبہ پھر 1893ء میں بھی اس عہدے پر فائز ہوئے۔ ڈیموکریٹ امیدوار کو 1888ء کے انتخابات میں ری پبلکن بنجمن ہیرس نے شکست دی تھی۔ عوامی ووٹ تو زیادہ تر کلیولینڈ کے حق میں تھے، لیکن وہ الیکٹورل ووٹ حاصل کرنے میں ناکام رہے اور یوں صدارت چھن گئی۔ خوش قسمتی سے اس شکست کے چار سال بعد وہ ایک مرتبہ پھر امیدوار بنے اور کامیاب ہو گئے۔ وہ امریکی تاریخ کے واحد صدر انہیں جو دو غیر مسلسل ادوار میں امریکا کے صدر رہے۔ ویسے ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے اچھا آئیڈیا ہے کہ 2024ء میں ایک مرتبہ پھر قسمت آزمائیں۔


جان کوئنسی ایڈمز: نو مرتبہ کانگریس کے رکن


جان کوئنسی ایڈمز، امریکا کے چھٹے صدر تھے۔ 1830ء میں صدارت چھوڑنے کے بعد وہ ایوانِ نمائندگان کے رکن منتخب ہوئے، جہاں وہ 1848ء میں اپنی وفات تک کُل 9 مرتبہ منتخب ہوئے۔ ایک موقع ایسا بھی آیا کہ انہیں "بابائے ایوان” تک کہا گیا۔ 21 فروری 1848ء کو وہ ایوان میں تقریر کے لیے کھڑے ہوئے لیکن لڑکھڑا کر گر پڑے۔ انہیں اٹھایا گیا اور اسپیکر کے کمرے تک لایا گیا، لیکن وہ بے ہوش ہو گئے اور دو دن بعد 23 فروری کو چل بسے۔


کیلوِن کولج: اخباری کالم نگار


وائٹ ہاؤس چھوڑنے کے بعد امریکا کے کئی صدور نے اپنی خود نوشت اور آپ بیتیاں لکھی ہیں، لیکن ملک کے 30 ویں صدر کیلوِن کولج نے اخباری کالمز لکھنا شروع کر دیے۔ انہوں نے 1929ء میں انہوں نے خود نوشت بھی لکھی تھی۔


جمی کارٹر: انسانی حقوق کے علمبردار


جمی کارٹر نے 1982ء میں کارٹر پریزیڈنشل سینٹر بنایا، جو جمہوریت اور انسانی حقوق کے لیے وقف تھا۔ انہوں نے ضرورت مندوں کے لیے گھر بنانے کی خاطر بھی ایک ادارے کے ساتھ مل کر کام کیا۔ 2015ء میں کارٹر نے کہا تھا کہ "اگر مجھے ایک مرتبہ پھر موقع ملے کہ چار سال صدارت اور کارٹر سینٹر میں سے کسی ایک کے انتخاب کا، تو میرا انتخاب کارٹر سینٹر ہوگا۔”

کارٹر نے 1999ء میں صدارتی تمغہ آزادی جیتا تھا اور 2002ء میں انہیں نوبیل امن انعام بھی دیا گیا۔


تھیوڈور روزویلٹ: مہم جو


1912ء کے انتخابات میں شکست کے بعد امریکی صدر تھیوڈور روزویلٹ اپنے صاحبزادے کے ساتھ برازیل کے جنگلات کی خاک چھاننے نکل پڑے۔ سات مہینے کی اس مہم کے دوران انہوں نے 15 ہزار میل کا سفر کیا، انہیں ملیریا ہوا، ایک حادثے میں کی ٹانگ بھی زخمی ہوئی لیکن خوش قسمتی سے وہ واپس آ گئے۔ لیکن اس ایڈونچر نے انہیں کئی امراض کا شکار کر دیا، یہاں تک کہ 1919ء میں اُن کی موت واقع ہوگئی۔

مزید تحاریر

شہباز، حمزہ نے پیرول پر رہائی میں توسیع کی درخواست دی، پھر بھی نہیں لی، وزیر قانون پنجاب

وزیر قانون راجہ بشارت کا کہنا ہے کہ قائد حزب اختلاف شہباز شریف اور ان کے بیٹے حمزہ شہباز کی درخواست پر پیرول کی...

برطانیہ: کورونا ویکسین کی منظوری دے دی گئی، پاکستان میں جنوری تک دستیاب ہوگی

برطانیہ نے فائزر بائیوٹک کورونا ویکسین کی منظوری دے دی، برطانوی وزارت صحت کے مطابق کورونا ویکسین کی دستیابی 7 سے 9 دسمبر کے...

کرونا وائرس اور معاشی بحران، پاکستان میں ناکافی غذائیت کا مسئلہ مزید پیچیدہ ہو گیا

اگست 2018ء میں عمران خان نے برسرِ اقتدار آتے ہی جن مسائل سے نمٹنے کا عزم ظاہر کیا تھا، ان میں ناکافی غذائیت (malnutrition)...

ہم اسلام آباد کے راستے میں ہوں گے اور حکومت چلی جائے گی، رانا ثناء اللہ

پاکستان مسلم لیگ ن پنجاب کے صدر رانا ثناء اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ لاہور میں ہونے والے پی ڈی ایم جلسے میں...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے