23.3 C
Islamabad
بدھ, دسمبر 2, 2020

کیا بھارت کا شنگھائی تعاون تنظیم سے اخراج قریب ہے؟

تازہ ترین

شہباز، حمزہ نے پیرول پر رہائی میں توسیع کی درخواست دی، پھر بھی نہیں لی، وزیر قانون پنجاب

وزیر قانون راجہ بشارت کا کہنا ہے کہ قائد حزب اختلاف شہباز شریف اور ان کے بیٹے حمزہ شہباز کی درخواست پر پیرول کی...

برطانیہ: کورونا ویکسین کی منظوری دے دی گئی، پاکستان میں جنوری تک دستیاب ہوگی

برطانیہ نے فائزر بائیوٹک کورونا ویکسین کی منظوری دے دی، برطانوی وزارت صحت کے مطابق کورونا ویکسین کی دستیابی 7 سے 9 دسمبر کے...

کرونا وائرس اور معاشی بحران، پاکستان میں ناکافی غذائیت کا مسئلہ مزید پیچیدہ ہو گیا

اگست 2018ء میں عمران خان نے برسرِ اقتدار آتے ہی جن مسائل سے نمٹنے کا عزم ظاہر کیا تھا، ان میں ناکافی غذائیت (malnutrition)...

ہم اسلام آباد کے راستے میں ہوں گے اور حکومت چلی جائے گی، رانا ثناء اللہ

پاکستان مسلم لیگ ن پنجاب کے صدر رانا ثناء اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ لاہور میں ہونے والے پی ڈی ایم جلسے میں...
- Advertisement -

ہمالیہ کی بلندیوں پر ایشیا کی دو بڑی معاشی طاقتیں چین اور بھارت متصادم ہیں۔ یہ 40 سال کے بعد دونوں ملکوں کے مابین سب سے بڑی سرحدی جھڑپ ہے کہ جس میں کئی بھارتی فوجی مارے گئے ہیں اور اب سینکڑوں مربع کلومیٹرز کے علاقے پر چینی فوج موجود ہے۔

بھارت کے ایک سابق سفیر اور وسطِ ایشیا امور کے ماہر پنچوک ستوبدان کا کہنا ہے کہ اس کشیدگی کا نتیجہ ہے کہ اب چین بھارت کو شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) سے نکالنے کے لیے پر تول رہا ہے، جس سے یوریشیا خطے میں طاقت کا توازن بدل جائے گا۔

تنظیم کے ایجنڈا بنیادی طور پر چین تشکیل دیتا ہے۔ یہ دراصل 1996ء میں بنائی گئی ایک تنظیم "شنگھائی-فائیو” کی شاخ ہے، جس میں چین اور روس کے علاوہ وسطِ ایشیا کی آزاد نئی جمہوریتیں شامل تھیں۔

2005ء سے بھارت اِس فورم میں شمولیت کے لیے دیوانہ ہوا جا رہا تھا۔ وہ SCO چارٹر کو بھارت اپنی خواہش کے مطابق سمجھتا تھا جیسا کہ رکن ممالک علاقائی چیلنجز کو مشترکہ طور پر حل کرنے اور اچھے پڑوسیوں کا ثبوت دینے کی کوشش کریں گے۔ دراصل نئی دہلی یوریشیا خطے کے ساتھ اپنے سیاسی و معاشی تعلقات کو بڑھانے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں باہمی رابطوں اور تعاون کو بہتر بنانے کے لیے SCO کا فائدہ اٹھانا چاہتا تھا۔ بلکہ تزویراتی طور پر SCO کو امریکا کے ساتھ اپنے تعلقات میں توازن پیدا کرنے اور ساتھ ساتھ چین کے علاقائی عزائم پر بھی نظر رکھنے کا طریقہ سمجھتا تھا۔ بالآخر 2017ء میں روس کی مدد سے بھارت اِس کلب میں شامل ہو گیا کہ جہاں پاکستان میں موجود ہے۔

پنچوک ستوبدان کا کہنا ہے کہ آج تین سال بعد بھارت خود کو ایک سیاسی گھن چکر میں پھنسا ہوا پاتا ہے: ایک امریکا مخالف تنظیم میں شامل رہنے کی خواہش بھی رکھتا ہے اور ساتھ ہی چین کے مقابلے پر واشنگٹن کے ساتھ تعلقات بڑھانے کی تمنا بھی ہے۔

ٹرمپ دور میں واشنگٹن اور بیجنگ کے تعلقات نے جو بدترین صورت اختیار کی ہے، لگتا ہے کہ بھارت کی شنگھائی تعاون تنظیم میں موجودگی پر سوالات ضرور اٹھیں گے۔ پھر یہاں تنظیم میں بھی اس کی حالت اچھی نہیں کیونکہ عالمی و علاقائی مسائل پر بھارت کی رائے تنظیم کے دیگر اراکین کے برعکس ہے۔

بیجنگ یوریشیا خطے میں امریکی اثر و رسوخ کو محدود کرنے اور وسط ایشیا میں سوویت یونین کے بعد پیدا ہونے والے خلاء کو پُر کرنے کے لیے بھی اس تنظیم کا استعمال کر رہا ہے۔ دراصل روس چین کے اثر و رسوخ کو گھٹانے کے لیے بھارت کو SCO میں لایا تھا کیونکہ وہ اس کے رکن ممالک کے علاقے کو اپنا دائرۂ اثر سمجھتا ہے۔

البتہ چین-روس تعلقات کے اس "نئے دور” میں بھارت فٹ ہوتا نظر نہیں آتا۔ ماسکو، جس کا بیجنگ پر انحصار بڑھتا جا رہا ہے، لیکن ساتھ ہی اس کے لیے چین کی تزویراتی نقل و حرکت کو برداشت کرنا بھی مشکل ہوتا جا رہا ہے، جیسا کہ 2016ء سے تاجکستان میں چینی دستوں کی موجودگی۔

بھارت کی وسط ایشیا کے ساتھ تجارت بھی محدود ہے، جو صرف 2 ارب ڈالرز پر کھڑی ہے، جبکہ روس 10 ارب ڈالرز پر ہے۔ تنظیم کے اراکین میں سے بھارت کی زیادہ تر تجارت چین کے ساتھ ہے، تقریباً 90 فیصد تجارت۔

تنظیم کے ذریعے رابطے بڑھانے کے بھارتی ارادے بھی کچھ خاص کامیاب نہیں ہوئے۔ چابہار سے زاہدان 610 کلومیٹرز طویل ریلوے لائن کی تعمیر اور پھر اس کے ذریعے افغانستان اور وسطِ ایشیا تک رسائی بھی کھٹائی میں پڑ گئی ہے جبکہ TAPI گیس پائپ لائن کا منصوبہ بھی فی الحال محض کاغذوں میں ہی ہے۔ اب بیجنگ اور نئی دہلی کے مابین کشیدگی نے اس تنظیم میں بھارت کی مزید موجودگی پر ہی سوالات اٹھا دیے ہیں۔

شی جن پنگ کی قیادت میں بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے BRI کی آمد کے ساتھ یوریشیا پر چین کی گرفت مضبوط سے مضبوط تر ہوتی جا رہی ہے اور شنگھائی تعاون تنظیم اس کے منصوبوں میں اپنی مرکزی اہمیت ثابت کر رہی ہے۔ چین کی ہائی اسپیڈ ریل اور یوریشیا میں توانائی کی ترسیل کے لیے بچھایا گیا جال چین کی اپنی عسکری صلاحیتوں کو بڑھانے اور طاقت کے اظہار کا بہترین ذریعہ بن رہا ہے۔ ایک مرتبہ وسطِ ایشیا 1,435 ملی میٹر ریلوے ٹریک گیج سے منسلک ہو جائے تو چین یوریشیا خطے کو متحد کرنے کوششوں میں کافی آگے نکل جائے گا۔

پنچوک ستوبدان لکھتے ہیں کہ پاکستان بھی اس تنظیم کے ذریعے آگے بڑھ رہا ہے اور وہ افغانستان اور کشمیر کے حوالے سے اپنی رائے کو آگے بڑھانے اور اپنے ایجنڈے کے فروغ کے لیے اِس علاقائی فورم کو بہترین انداز میں استعمال کر رہا ہے۔ پاک-چین اقتصادی راہداری (سی پیک) اور گوادر بندرگاہ کا استعمال بھی اس کا ایک پہلو ہے۔

البتہ پاک-بھارت کشیدگی SCO کے فورم پر بھی نظر آ رہی ہے۔ کچھ عرصہ پہلے SCO کے رکن ممالک کے قومی سلامتی مشیران کا ورچوئل اجلاس ہوا جس میں بھارت نے پاکستانی نمائندے کے عقب میں موجود نقشے پر اعتراض کیا کہ جس میں کشمیر پاکستان کا حصہ تھا۔ اعتراض اور احتجاج کے باوجود کوئی خاص جواب نہ ملنے پر بھارت کے قومی سلامتی مشیر اجیت ڈوول احتجاجاً اجلاس سے چلے گئے۔

پاکستان کے نقشے پر اعتراض SCO اراکین نے مسترد کر دیا، یہاں تک کہ خود روس نے بھی بھارتی نقطہ نظر سے اتفاق نہیں کیا۔ اس وقت اجلاس کے سربراہ روس کے قومی سلامتی مشیر نکولائی پتروشیف تھے، جنہوں نے پاکستان کو یہ نقشہ استعمال کرنے سے نہیں روکا، بلکہ یہ پورے اجلاس میں اپنی جگہ موجود رہا۔

اس کے بعد اب چین کے ساتھ جاری کشیدگی شنگھائی تعاون تنظیم میں بھارت کی موجودگی کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔ ویسے بھی جو عالمی و علاقائی صورت حال اس وقت نظر آ رہی ہے کہ جس میں چین روس اور پاکستان سے اپنے تعلقات بڑھا رہا ہے، اس میں بھارت کی شنگھائی تعاون تنظیم میں موجودگی کا جواز نہیں بنتا۔ دیکھتے ہیں وہ SCO میں کب تک برقرار رہ پاتا ہے؟

مزید تحاریر

شہباز، حمزہ نے پیرول پر رہائی میں توسیع کی درخواست دی، پھر بھی نہیں لی، وزیر قانون پنجاب

وزیر قانون راجہ بشارت کا کہنا ہے کہ قائد حزب اختلاف شہباز شریف اور ان کے بیٹے حمزہ شہباز کی درخواست پر پیرول کی...

برطانیہ: کورونا ویکسین کی منظوری دے دی گئی، پاکستان میں جنوری تک دستیاب ہوگی

برطانیہ نے فائزر بائیوٹک کورونا ویکسین کی منظوری دے دی، برطانوی وزارت صحت کے مطابق کورونا ویکسین کی دستیابی 7 سے 9 دسمبر کے...

کرونا وائرس اور معاشی بحران، پاکستان میں ناکافی غذائیت کا مسئلہ مزید پیچیدہ ہو گیا

اگست 2018ء میں عمران خان نے برسرِ اقتدار آتے ہی جن مسائل سے نمٹنے کا عزم ظاہر کیا تھا، ان میں ناکافی غذائیت (malnutrition)...

ہم اسلام آباد کے راستے میں ہوں گے اور حکومت چلی جائے گی، رانا ثناء اللہ

پاکستان مسلم لیگ ن پنجاب کے صدر رانا ثناء اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ لاہور میں ہونے والے پی ڈی ایم جلسے میں...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے