23.3 C
Islamabad
بدھ, دسمبر 2, 2020

وہ عادتیں جو دماغ کو بوڑھا کر دیتی ہیں

تازہ ترین

شہباز، حمزہ نے پیرول پر رہائی میں توسیع کی درخواست دی، پھر بھی نہیں لی، وزیر قانون پنجاب

وزیر قانون راجہ بشارت کا کہنا ہے کہ قائد حزب اختلاف شہباز شریف اور ان کے بیٹے حمزہ شہباز کی درخواست پر پیرول کی...

برطانیہ: کورونا ویکسین کی منظوری دے دی گئی، پاکستان میں جنوری تک دستیاب ہوگی

برطانیہ نے فائزر بائیوٹک کورونا ویکسین کی منظوری دے دی، برطانوی وزارت صحت کے مطابق کورونا ویکسین کی دستیابی 7 سے 9 دسمبر کے...

کرونا وائرس اور معاشی بحران، پاکستان میں ناکافی غذائیت کا مسئلہ مزید پیچیدہ ہو گیا

اگست 2018ء میں عمران خان نے برسرِ اقتدار آتے ہی جن مسائل سے نمٹنے کا عزم ظاہر کیا تھا، ان میں ناکافی غذائیت (malnutrition)...

ہم اسلام آباد کے راستے میں ہوں گے اور حکومت چلی جائے گی، رانا ثناء اللہ

پاکستان مسلم لیگ ن پنجاب کے صدر رانا ثناء اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ لاہور میں ہونے والے پی ڈی ایم جلسے میں...
- Advertisement -

کوئی بھی عادت اختیار کرنے میں تو وقت نہیں لگتا لیکن اسے چھوڑنے میں مہینے بلکہ سال بھی لگ سکتے ہیں۔

ایک مصروف اور دباؤ کی شکار زندگی میں سب سے اہم چیز ہے ایک صحت مند طرزِ زندگی اختیار کرنا۔ روزانہ ورزش، صحت بخش کھانے اور اچھی نیند، یہ سب بظاہر مشکل نہیں لگتا لیکن بدقسمتی سے لوگوں کی بڑی عادات کے لیے یہ صحت مند عادات برقرار رکھنا مشکل ہوتا ہے۔ اس کے برعکس بُری عادات باآسانی لگ جاتی ہیں، جو ہمارے دماغ کے لیے بھی نقصان دہ ہوتی ہیں۔

بہت دیر تک جاگنا، کام کے دباؤ کا شکار ہونا اور ٹیلی وژن یا کمپیوٹر کے سامنے بیٹھے رہنا بظاہر بے ضرر سی عادتیں لگتی ہیں لیکن درحقیقت یہ آپ کی صحت کے لیے بہت نقصان دہ ہیں۔ اپنے دماغ کو تیز اور صحت مند رکھنے کے لیے آپ کو مندرجہ ذیل عادتوں سے چھٹکارا حاصل کرنا ہوگا کیونکہ یہ آپ کے دماغ کو جلد بوڑھاکر دیتی ہیں۔

کم نیند


ہر رات مناسب نیند لینا آپ کی صحت کے لیے بہت اہم ہے۔ بدقسمتی سے کئی لوگوں کو اچھی نیند میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ اپنے مصروف طرزِ زندگی کی وجہ سے بہت سارے لوگ نیند کو ترجیح بھی نہیں دیتے۔ نیند میں کمی سے دماغ پر بہت بُرا اثر پڑتا ہے۔ اس سے نسیان (dementia) اور الزائمر جیسے خطرناک امراض بھی ہو سکتے ہیں۔ اگر آپ کو رات کے اوقات میں سونے میں مشکل ہوتی ہے تو آپ کو شام کے بعد کیفین رکھنے والے مشروبات اور الیکٹرانک ڈیوائسز سے پرہیز کرنا چاہیے۔ سونے کی باقاعدہ تیاری کریں، ماحول کو پرسکون بنائیں، آپ کو زندگی میں نئی تبدیلی محسوس ہوگی۔


ناقص خوراک


جو لوگ وزن کم کرنا چاہتے ہیں تو ان کے ذہن میں پہلا خیال ورزش کا آتا ہے۔ بلاشبہ جسمانی حرکت اور سرگرمیاں بہت اہمیت رکھتی ہیں لیکن ورزش سے بھی زیادہ اہم چیز ہے خوراک۔ آپ کے پیٹ میں کیا جا رہا ہے؟ یہ بہت اہم ہے کیونکہ زبان کے چٹخارے چھوڑنا ورزش کرنے سے کہیں زیادہ مشکل ہے۔ اُن لوگوں سیکھنے اور یاد رکھنے والا دماغ کا حصہ چھوٹا ہوتا ہے جو بہت زیادہ برگر، فرائیز، آلو کے چپس کھاتے اور بوتلیں پیتے ہیں۔ ایک صحت بخش غذا کا مطلب ہے پھل، خشک میووں اور سبزیوں کا زیادہ استعمال ، جو دماغ کو محفوظ کرتی ہیں اور اس کے زوال کی رفتار بھی آہستہ کرتی ہیں۔


تمباکو نوشی


تمباکو نوشی کے خطرات سے کون واقف نہیں؟ پھر بھی ایسے لوگوں کی تعداد کروڑوں میں ہے جو تمباکو نوشی کرتے ہیں۔ اس کے مضر اثرات کی طویل فہرست میں سے ایک ہے دماغ کا سکڑ جانا۔ تمباکو نوشی یادداشت پر اثر مرتب کرتی ہے، نسیان اور الزائمر جیسی بیماریوں کے خطرے کو دو گنا کر دیتی ہے اور ساتھ ہی دل کے امراض، ذیابیطس اور ہائی بلڈ پریشر یعنی بلند فشارِ خون کا سبب بھی بنتی ہے۔


ذہنی دباؤ


وقتاً فوقتاً دباؤ کا شکار ہونا زندگی کا حصہ ہے۔ چاہے آپ کسی بھی شعبے میں ہوں، کہیں بھی رہتے ہوں، زندگی کے معمولات ہمیں مسلسل ذہنی دباؤ کا شکار بناتے رہتے ہیں۔ دباؤ کو سہنے کا حوصلہ بھی مختلف لوگوں میں مختلف ہوتا ہے اس لیے ہو سکتا ہے کہ جو بات کسی ایک شخص کے لیے زیادہ پریشان کُن نہ ہو جتنی دوسرے کے لیے ہو۔ ذہنی دباؤ ہمارے لیے اچھا بھی ہو سکتا ہے کہ اگر وہ درمیانے درجے کا ہو۔ اس سے ہم ہوشیار اور چوکس رہتے ہیں، لیکن مسلسل دباؤ دماغ کے لیے بہت بُرا ہے، یہ دماغ کو ذہنی امراض کی طرف لے جاتا ہے۔ اس سے دماغ مستقل بنیادوں پر تبدیلی کا شکار ہو سکتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ مستقل دباؤ کے شکار افراد میں مزاج میں تبدیلی اور ذہنی اضطراب زیادہ ہوتا ہے۔


حسد، کینہ، بغض و عداوت


حسد، کینہ، بغض اور عداوت یہ بہت بُری عادتیں ہیں۔ اس کے ذہن پر بہت منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ معاف کرنا اور بھول جانا سیکھیں، یہ آپ کی ذہنی صحت کے لیے بھی اچھا ہے۔ تحقیق سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ معاف کر دینے سے جسمانی، نفسیاتی بلکہ روحانی طور پر بھی مثبت اثرات پیدا ہوتے ہیں۔ یوں فشارِ خون کا معمول پر آ جاتا ہے، ذہنی تناؤ اور دباؤ میں کمی آتی اور ذہنی اضطراب گھٹ جاتا ہے۔


غیر متحرک طرزِ زندگی


کئی دوسری عادتوں کی طرح ایک غیر متحرک طرز زندگی یعنی بیٹھے رہنے کی عادت سے بھی صحت پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں جیسا کہ نسیان۔ محض صوفے پر بیٹھ کر ٹی وی دیکھنا ہی نہیں بلکہ دفتر میں کرسی پر بیٹھے رہنا بھی غیر متحرک طرزِ زندگی میں شمار ہوتا ہے۔ اس لیے مستقل ورزش اور دن میں وقتاً فوقتاً چہل قدمی کر کے خود کو فٹ رکھنے کے طریقے تلاش کریں۔

مستقل بیٹھے رہنے والے افراد کو ذیابیطس، دل کے امراض اور بلند فشارِ خون کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہ تمام علامات الزائمر کی طرف بھی لے جا سکتی ہیں۔ سب کے لیے روزانہ ورزش کرنا آسان نہیں ہوتا لیکن آدھے گھنٹےکی چہل قدمی بھی صحت کے لیے حیران کن نتائج دے سکتی ہے۔ کم از کم ہفتے میں تین دن ورزش کو وقت ضرور دیں۔


تنہائی


کہتے ہیں کہ انسان ایک "سماجی جانور” ہے۔ مل جل کر رہنا ہماری فطرت میں شامل ہے۔ لیکن جب ہم اجتماعیت کی بات کرتے ہیں تو اس میں سوشل میڈیا پر رابطے شامل نہیں ہوتے۔ جو رابطہ انسان کے لیے ضروری ہے وہ ہے روبرو سماجی رابطہ، وہ بھی روزانہ کی بنیاد پر۔ اس سے دماغ کو تیز رکھنے میں مدد ملتی ہے۔ اگر اس طرح کے رابطے نہ ہوں تو اس سے ذہنی نقصان ہو سکتا ہے۔ تحقیق بتاتی ہے کہ زیادہ دوست رکھنے والے لوگ زیادہ خوش رہتے ہیں اور ان کام کرنے کی صلاحیت بھی زیادہ ہوتی ہے۔ ان میں دماغی امراض اور الزائمر کے خطرات بھی کم ہوتے ہیں۔ اگر آپ کو پریشانی ہے کہ آپ زیادہ وقت تنہا گزارتے ہیں تو کوئی مقامی کلب جوائن کر لیں یا کسی ایسی سرگرمی کا حصہ بنیں کہ جس سے آپ کے نئے رابطے بنیں۔

اس کے علاوہ گھر میں زیادہ رہنا بھی دماغ کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ بالخصوص سرد علاقوں میں جسم کو دھوپ نہ ملنے سے بھی دماغ کی نمو سست پڑ جاتی ہے۔ تحقیق بتاتی ہے کہ دھوپ دماغ کو اچھی طرح کام کرنے میں مدد دیتی ہے۔


اونچی آواز میں میوزک سننا


میوزک سننے کے لیے ہیڈ فونز اور ایئر فونز کا استعمال عام ہے اور کچھ لوگ تو انہیں کانوں سے نکالنے کو تیار ہی نہیں ہوتے۔ اونچی آواز میں میوزک سننے سے تو کانوں کو نقصان پہنچتا ہی ہے لیکن ماہرین کے مطابق اس سے الزائمر جیسے دماغی مسائل بھی جنم لے سکتے ہیں اور دماغ کے ٹشوز کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق 30 منٹ تک زیادہ آواز میں میوزک سننا ہی دماغی نقصان کے لیے کافی ہے۔

دراصل دماغ سنی گئی باتوں کو "ہضم” کرنے کی کوشش کرتا ہے اور بلکہ اسے اس کام میں کافی محنت کرنا پڑتی ہے۔ اگر آپ ہیڈ فونز نہیں چھوڑ سکتے تو کم از کم ان کی آواز کو ضرور کم رکھیں۔ والیم کبھی 60فیصد سے آگے نہیں جانا چاہیے۔ اگر آپ ایئر فونز یا ایئر بڈز استعمال کر رہے ہیں تو کبھی چند گھنٹوں سے زیادہ نہ لگائیں۔


زیادہ کھانا


آج کل کھانا گویا طرزِ زندگی کا اہم حصہ بن گیا ہے۔ مل بیٹھنے کے لیے بھی کھانا اور باہر جانے کے لیے بھی کسی کھانے پینے کی جگہ ہی کی تلاش کرنا گویا معمول ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چٹوروں کی ایسی نسل تیار ہو چکی ہے کہ جن کی گفتگو کا محور محض کھانا ہوتا ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ زیادہ کھانے سے دماغ کی سوچنے اور یاد رکھنے کے رابطے بنانے کی صلاحیت کمزور ہوتی ہے۔ پھر زیادہ کھانے کے دوسرے بُرے اثرات بھی ہیں جیساکہ موٹاپا، جو آجکل "اُم الامراض” بنا ہوا ہے جیسا کہ دل کی بیماریاں، ذیابیطس اور بلند فشارِ خون جیسے خطرناک مرض۔ یہ سارے امراض دماغ کو بھی بُری طرح متاثر کرتے ہیں۔

مزید تحاریر

شہباز، حمزہ نے پیرول پر رہائی میں توسیع کی درخواست دی، پھر بھی نہیں لی، وزیر قانون پنجاب

وزیر قانون راجہ بشارت کا کہنا ہے کہ قائد حزب اختلاف شہباز شریف اور ان کے بیٹے حمزہ شہباز کی درخواست پر پیرول کی...

برطانیہ: کورونا ویکسین کی منظوری دے دی گئی، پاکستان میں جنوری تک دستیاب ہوگی

برطانیہ نے فائزر بائیوٹک کورونا ویکسین کی منظوری دے دی، برطانوی وزارت صحت کے مطابق کورونا ویکسین کی دستیابی 7 سے 9 دسمبر کے...

کرونا وائرس اور معاشی بحران، پاکستان میں ناکافی غذائیت کا مسئلہ مزید پیچیدہ ہو گیا

اگست 2018ء میں عمران خان نے برسرِ اقتدار آتے ہی جن مسائل سے نمٹنے کا عزم ظاہر کیا تھا، ان میں ناکافی غذائیت (malnutrition)...

ہم اسلام آباد کے راستے میں ہوں گے اور حکومت چلی جائے گی، رانا ثناء اللہ

پاکستان مسلم لیگ ن پنجاب کے صدر رانا ثناء اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ لاہور میں ہونے والے پی ڈی ایم جلسے میں...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے