23.3 C
Islamabad
بدھ, دسمبر 2, 2020

فلسفی اور ففتھیے – احمدحماد

تازہ ترین

برطانیہ: کورونا ویکسین کی منظوری دے دی گئی، پاکستان میں جنوری تک دستیاب ہوگی

برطانیہ نے فائزر بائیوٹک کورونا ویکسین کی منظوری دے دی، برطانوی وزارت صحت کے مطابق کورونا ویکسین کی دستیابی 7 سے 9 دسمبر کے...

کرونا وائرس اور معاشی بحران، پاکستان میں ناکافی غذائیت کا مسئلہ مزید پیچیدہ ہو گیا

اگست 2018ء میں عمران خان نے برسرِ اقتدار آتے ہی جن مسائل سے نمٹنے کا عزم ظاہر کیا تھا، ان میں ناکافی غذائیت (malnutrition)...

ہم اسلام آباد کے راستے میں ہوں گے اور حکومت چلی جائے گی، رانا ثناء اللہ

پاکستان مسلم لیگ ن پنجاب کے صدر رانا ثناء اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ لاہور میں ہونے والے پی ڈی ایم جلسے میں...

وزیراعظم کی ٹیم کے اراکین کا خفیہ دورہِ اسرائیل، اینکرپرسن کا بڑا دعویٰ

تجزیہ کار ڈاکٹر شاہد مسعود نے دعویٰ کیا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کی 52 رکنی ٹیم کے کچھ عہدیداران نے اسرائیل کے...
- Advertisement -

میں: سر میں فلسفی بننا چاہتا ہوں۔

بزرگ فلسفی: (حیرت سے، اور اچانک کھلکھلا کر ہنستے ہوئے) اچھا؟ یہ بات ہے؟ ہمممم۔ تو بہت اچھی بات ہے۔ بالکل، یہ ممکن ہے۔ آپ فلسفی بن سکتے ہیں! مگر آپ فلسفی کیوں بننا چاہتے ہیں؟

میں: سر، میں نے اِن دنوں افلاطون کے مکالمات، نظریہ علم، نظریہ ریاست اور نظریہ امثال وغیرہ کو نسبتاً تفصیل سے پڑھا۔ مطالعے کے دوران مجھے افلاطون فلسفی سے زیادہ شاعر معلوم ہوتے رہے۔ اپنے عمیق فکر اور بلند تخیل کی وجہ سے۔ بالخصوص جس انداز سے انہوں نے سقراط کی علمیات کو تمام کائنات کی تشریح کے لیے میٹا فزکس بنایا اور اپنا تصورِ کائنات پیش کیا، بہت شاعرانہ ہے۔ طرزِ فکر کے علاوہ ان کا طرزِ نگارش بھی شاعرانہ تھا۔ اکثر عظیم نظم نگاروں نے تحریر کا وہی اسلوب اپنایا جو افلاطون کا اسلوب تھا۔ پھریہ بھی ایک جگہ پڑھا کہ افلاطون خود شعر کہتے تھے لیکن جب انہوں اپنی "ری پبلک” میں‌یہ طے کر لیا کہ ریاست کو ہومر اور ہسویڈ جیسے شاعروں کی ضرورت نہیں ہوتی تو انہوں نے اپنی شاعری ضائع کر دی۔ میرے خیال میں یہ عمل اپنے نطریے سے اُن کی جُڑت سے زیادہ ایک شاعر کے جذباتی پن کا اظہار تھا۔

بزرگ فلسفی نے کسی خالصتاً متشکک شخص کی طرح لمبی سی ہاں میں جواب دیا جیسے وہ بیک وقت اس نکتے سے اتفاق بھی کر رہے ہوں‌اور اختلاف بھی۔ میں‌ نے افلاطون کی شعریت پہ بات کرنے کے بعد کہا، سر، چونکہ میں خود بھی شعر کہتا ہوں اور مجردات کی تلاش میں رہتا ہوں۔ یہ تلاش مجھے علت و معلول کی سیڑھی پہ چڑھا دیتی ہے اور یہ سیڑھی مجھے علت اولیٰ تک لے جاتی ہے۔ باالفاظِ دیگر، کسی درخت پہ جھولتے ہوئے پھل کو دیکھ کر اس کے شاخوں سے ہوتے ہوئے تنے تک اور پھر تنے سے بیج تک کا سفر کرنا میری ذہنی مجبوری ہے۔ مجھے کسی مظہر کے سبب تک پہنچنے میں جو طمانیت ملتی ہے، ڈیٹکٹیوفلموں کے ہیرو کو بھی عیار قاتل تک پہنچ کر نہیں ملتی ہوگی۔

بزرگ فلسفی نے پوری توجہ سے یہ ساری گفتگو سنی؛ اور مسکراتے ہوئے کہا، چلیں۔ اچھا ہے۔ آپ مطالعہ جاری رکھیے۔ جو آپ بننا چاہتے ہیں وہ بننے کا یہی واحد راستہ ہے۔

میں جلد باز نوجوان تھا۔ بزرگ فلسفی کا یہ جواب میرے لیے خاصا مایوس کُن تھا۔ میں‌تو چاہتا تھا کہ وہ ایسا اسم بتائیں جسے پڑھتے ہی مَیں بھی قدیم یونان کے سات دانشمندوں کی طرح دانشمند ہو جاؤں۔ سو، میں نے ان پہ اپنے مطالعے کا رعب ڈالنے کے لیے کہا:

میں: سر، آپ نے ہنری تھامس اور ڈانالی تھامس کی کتاب "لِوِنگ بائیوگرافیز آف گریٹ فلوسوفرز” کا جو "20 عظیم فلسفی” کے نام سے ترجمہ کیا ہے، وہ بھی پڑھی ہے۔ اور وجودیت کے موضوع فکشن ہاؤس سے شائع ہونیوالی کتاب بھی پڑھی۔ سر، اپنے پبلشر سے کہیں‌کہ کم از کم پروف ریڈنگ ہی کروا لیا کرے اتنی اہم اور اچھی کتابوں کی۔ یہ سن کر بجائےمجھے ڈانٹنے کے، یا یہ باور کروانے کے کہ میں‌نےاپنے سائز سے بڑی بات کی ہے، انہوں نے شفقت سے مسکرا کر کہا، ہاں، آپ ٹھیک کہتے ہیں۔ دراصل پبلشر پروف ریڈنگ کی ذمہ داری بھی مجھ پہ ڈال رہا تھا۔ اب اس کے کمپوزر کی پیدا کی ہوئی غلطیاں سدھارنے کا میرے پاس وقت نہیں‌تھا۔ میں نیا کام کروں یا اس کام میں‌اپنا وقت خرچ کروں؟

اس سے پہلے کہ میں ان سے فلسفی بننے کے لیے کوئی اکسیر نسخہ پا لیتا، طے شدہ تقریب کا وقت ہو گیا جس کے لیے ہم اکادمی کے دفتر میں اکٹھے ہوئے تھے۔

آپ سمجھ ہی گئے ہوں گے کہ میں‌کن کی بات کر رہا ہوں۔ ففتھ جنریشن وارفیئر کے اس جھوٹ پرور اور عقل دشمن عہد میں جان لاک جیسا روادار دل اور معقول رویہ رکھنے والے اس بزرگ فلسفی کا نام تھا قاضی جاوید!

قاضی جاوید چند روز قبل وفات پا گئے۔ میری ان سے کئی ملاقاتیں تھیں۔ کبھی ان سے ماڈل ٹاؤن پارک میں ملاقات ہو جاتی، کبھی پی ٹی وی کے شو میں، کبھی ادارہ ثقافتِ اسلامیہ میں‌اور کبھی اکادمی ادبیات کے دفتر میں۔

تین چار برس قبل ہمارے دوست قیصر شریف نے جو اس وقت جگن کاظم کے شو "مارننگ وِد جگن” کے پروڈیوسر تھے،سوچا کہ عالمی یومِ فلسفہ پہ تین فلسفیوں کو بلایا جائے اور شو کیا جائے۔ ان کے اسسٹنٹ جناب عمران شبیر کی مجھے کال آئی۔ انہوں نے قیصر شریف کے اس ارادے سے مجھے آگاہ کیا اور کہا کہ مہمانوں کے اس پینل پہ ایک تو آپ ہوں گے۔ دوسرے دو نام آپ ریکمنڈ کریں۔ میں نے شعبہ فلسفہ میں کانٹی نینٹل فلوسوفی کی تدریس سے وابستہ استاد محترمہ روبینہ کوکب اور بزرگ فلسفی جناب قاضی جاوید کے اسمائے گرامی بھیجے۔

یوں اگلے روز عالمی یومِ فلسفہ ہم نے پاکستان ٹیلی وژن کے ساتھ جناب قاضی جاوید کی سرپرستی میں منایا۔
جدید و قدیم مغربی فلسفے کے ساتھ ساتھ قاضی جاوید برصغیر میں مسلم فکر کے ارتقاء میں بھی بہت دلچسپی رکھتے تھے۔ آپ کی تحریر سلیس اور رواں ہوتی۔ جبھی عام آدمی بھی سہولت سے ان موضوعات پہ مضامین کا مطالعہ کر سکتا تھا جو بصورتِ دیگر اس کے لیے شجرِ ممنوعہ متصور ہوتے۔

پاکستان میں جن بزرگوں اور ہم عصروں نے اردو میں فلسفے کی خدمت کی، خاکسار کی طالب علمانہ رائے میں قاضی جاوید ان میں نمایاں ترین تھے۔ اردو دان طبقے کو قدیم و جدید مغربی و مشرقی فلسفے سے جن قلمکاروں نے متعارف کروایا، ان میں سب سے زیادہ دلنشیں اسلوب ڈاکٹر نعیم احمد کا ہے۔ خلیفہ عبدالحکیم، قاضی جاوید، سی اے قادر، ڈاکٹر وحید عشرت، قاضی قیصرالاسلام، انتظار حسین، بشیر ڈار، ڈاکٹر عبدالخالق؛ یہ ان ہستیوں کے اسمائے گرامی ہیں جنہوں نے اردو زبان کو فلسفیانہ تحریروں/ترجموں سے ثروتمند کیا۔

ذاتی طور پہ مجھے ڈاکٹر خلیفہ عبدالحکیم، اور ڈاکٹر نعیم احمد کے بعد اردو میں فلسفہ لکھنے والا اگر کوئی لکھاری پسند آیا تو وہ قاضی جاوید حسین ہی تھے۔ فلسفہ جسے اُمُ العلوم کہا جاتا ہے، اس کے قدیم و جدید نظریات کو وقتاً فوقتاً اردو کے قالب میں‌ڈھالتے رہنا چاہیے۔ انہی بزرگوں کی خدمات نے مجھے اُکسایا کہ میں بھی فلسفہ کے موضوع پہ اردو میں لکھا کروں یا بولا کروں۔ سو، میں نے "قلم کیمرہ” کے توسط سے آپکو فریڈرک نیٹشے پہ ایک تحریر پیش کی۔ انشاءاللہ، جلد قدیم یونانی فلسفیوں، جان لاک، تھامس ہابس، کانٹ، ہیگل، سپائی نوزا، شوپنہار، رسل، اور ڈیکارٹ وغیرہم؛ اور جدید فلاسفہ پہ بھی اپنے مطالعات کا نچوڑ پیش کروں گا۔ اردو زبان میں فلسفے کی خدمت، یا یوں کہہ لیجیے کہ فلسفے کو اردو کے قالب میں ڈھال کر اردو زبان کی خدمت کرنے کا میرا خواب بہت پرانا ہے۔ میں نے اس خواب کی برسوں پرورش کی۔ اور اسی خواب کو آنکھوں میں‌لیے فلسفے میں ایم اے کے بعد آکسفورڈ یونیورسٹی کے اساتذہ کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کیا۔ اور مزے کی بات، یہ سب کچھ کر چکنے کہ بعد آج اپنی اس خواہش پہ ہنسی آتی ہے جس کا اظہار کوئی پندرہ برس پہلے میں‌نے قاضی جاوید سے کیا؛ "میں فلسفی بننا چاہتا ہوں سر”۔

وہ قاضی جاوید تھے۔ رواداری، بےکنار تبحرعلمی اور شفقت کا مجموعہ؛ حوصلہ افزائی کرنے کے لیے وہ مجھ جیسے جوشیلے اور خوابوں بھرے نوجوان سے کہہ سکتے تھے کہ جی ہاں آپ فلسفی بن سکتے ہیں۔ میرے خواب کو ٹوٹنے سے بچانے کے لیے۔ میرا دل کو ٹھیس سے محفوظ رکھنے کے لیے۔

مگر یہ خواب جلد یا بدیر ٹوٹنا ہی تھا۔ میں‌ایک عام سا طالب علم ہوں، رہ نوردِ شوق، جو پورے یقین کےساتھ کہہ رہا ہوں کہ فلسفی بننا آسان نہیں۔ اور ہیگل کے بعد تو بالکل بھی نہیں۔ اس کے باوجود میں یہ سمجھتا ہوں کہ ہر پاکستانی کو فلسفہ ضرور پڑھنا چاہیے۔ پڑھنا تو اسکول میں چاہیے لیکن چلیں، فی الحال اگر محکمہ تعلیم اسے کالج کی سطح پہ مؤثر انداز میں متعارف کروانے کا بندوبست کرے تو خلیفہ عبدالحکیم، ڈاکٹر نعیم، قاضی جاوید، وحید عشرت، اور قاضی قیصرالاسلام جیسے بزرگوں کی محنت ٹھکانے لگے۔

فی الوقت تو وطنِ عزیز میں خردافروزی کی مشقت اٹھانا خودکشی کرنے کے مترادف ہے۔ جہاں سارا نظام یرغمال بنا ہوا ہو، اور میڈیا پہ ادھ پڑھ اینکر بیٹھ کر نئی نسل کے ذہنوں میں کرپشن، غداری، اور جھوٹ ایسی امُ الخبائث کے زہریلے ٹیکے لگا کر ذہنی طور پہ مفلوج قوم پیدا کر دی ہو جو سوشل میڈیا پہ سوائے سپانسرڈ پروپیگنڈے اور گالیوں کے، کچھ بھی نشر نہ کرتی ہو؛ وہاں قاضی جاوید جیسے روادار، شفیق اور معقول شخص نے کیسے گزارا کیا ہوگا؛ اس کا اندازہ کرنا ہے تو ہمیں آ کر دیکھ لیجیے۔محسن بھوپالی کے شعر پہ قاضی جاوید حسین پہ لکھا یہ "معقول” نوحہ اختتام کروں گا:

ہماری جان پہ دُہرا عذاب ہے محسن
کہ دیکھنا ہی نہیں، ہم کو سوچنا بھی ہے

مزید تحاریر

برطانیہ: کورونا ویکسین کی منظوری دے دی گئی، پاکستان میں جنوری تک دستیاب ہوگی

برطانیہ نے فائزر بائیوٹک کورونا ویکسین کی منظوری دے دی، برطانوی وزارت صحت کے مطابق کورونا ویکسین کی دستیابی 7 سے 9 دسمبر کے...

کرونا وائرس اور معاشی بحران، پاکستان میں ناکافی غذائیت کا مسئلہ مزید پیچیدہ ہو گیا

اگست 2018ء میں عمران خان نے برسرِ اقتدار آتے ہی جن مسائل سے نمٹنے کا عزم ظاہر کیا تھا، ان میں ناکافی غذائیت (malnutrition)...

ہم اسلام آباد کے راستے میں ہوں گے اور حکومت چلی جائے گی، رانا ثناء اللہ

پاکستان مسلم لیگ ن پنجاب کے صدر رانا ثناء اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ لاہور میں ہونے والے پی ڈی ایم جلسے میں...

وزیراعظم کی ٹیم کے اراکین کا خفیہ دورہِ اسرائیل، اینکرپرسن کا بڑا دعویٰ

تجزیہ کار ڈاکٹر شاہد مسعود نے دعویٰ کیا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کی 52 رکنی ٹیم کے کچھ عہدیداران نے اسرائیل کے...

ایک تبصرہ

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے