18.4 C
Islamabad
بدھ, دسمبر 2, 2020

کراچی سرکلر ریلوے، ماضی، حال اور مستقبل

تازہ ترین

شہباز، حمزہ نے پیرول پر رہائی میں توسیع کی درخواست دی، پھر بھی نہیں لی، وزیر قانون پنجاب

وزیر قانون راجہ بشارت کا کہنا ہے کہ قائد حزب اختلاف شہباز شریف اور ان کے بیٹے حمزہ شہباز کی درخواست پر پیرول کی...

برطانیہ: کورونا ویکسین کی منظوری دے دی گئی، پاکستان میں جنوری تک دستیاب ہوگی

برطانیہ نے فائزر بائیوٹک کورونا ویکسین کی منظوری دے دی، برطانوی وزارت صحت کے مطابق کورونا ویکسین کی دستیابی 7 سے 9 دسمبر کے...

کرونا وائرس اور معاشی بحران، پاکستان میں ناکافی غذائیت کا مسئلہ مزید پیچیدہ ہو گیا

اگست 2018ء میں عمران خان نے برسرِ اقتدار آتے ہی جن مسائل سے نمٹنے کا عزم ظاہر کیا تھا، ان میں ناکافی غذائیت (malnutrition)...

ہم اسلام آباد کے راستے میں ہوں گے اور حکومت چلی جائے گی، رانا ثناء اللہ

پاکستان مسلم لیگ ن پنجاب کے صدر رانا ثناء اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ لاہور میں ہونے والے پی ڈی ایم جلسے میں...
- Advertisement -

لاہور میں جدید اورنج لائن میٹرو کے آغاز کے تقریباً ایک ماہ بعد پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں عوام کو سفری سہولیات مہیا کرنے کے لیے ایک ایسا منصوبہ "دوبارہ” شروع کیا جا رہا ہے جس کو بند ہوئے دو دہائی سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے۔ جی ہاں! یہ کراچی سرکلر ریلوے ہے جو آغاز ہی سے مشکلات کا شکار دکھائی دیتا ہے۔

منصوبہ

کراچی سرکلر ریلوے کو پہلے مرحلے میں پپری سے سٹی اسٹیشن تک چلایا جا رہا ہے حالانکہ منصوبہ سٹی اسٹیشن سے اورنگی تک چلانے کا تھا لیکن یہ معاملہ آغاز سے پہلے ہی کھٹائی میں پڑ گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ سٹی اسٹیشن سے اورنگی تک کا 14 کلومیٹرز کا ٹریک مکمل طور پر بحال نہیں ہو سکا اور جو ٹریک بحال ہو چکا ہے، وہ بھی چند مقامات پر اس قابل نہیں کہ اس پر ریل گاڑی 50 کلومیٹرز فی گھنٹے کی رفتار سے چل سکے۔ یعنی اب لے دے کر وہی ‘مین لائن’ ہی رہ گئی ہے جس کو سرکلر ریلوے کی "نئی” بوگیاں استعمال کریں گی۔

بوگیاں اور انجن


کراچی سرکلر ریلوے کی یہ بوگیاں پاکستان ریلویز کی اسلام آباد کیرج فیکٹری میں تیار کی گئی ہیں۔ دراصل یہ ریلوے کی پرانی بوگیاں ہی ہیں، جنہیں کچھ مرمت اور تزئین و آرائش کے بعد قابلِ استعمال بنایا گیا ہے۔ انجن بھی پرانے ہیں، جن کو رنگ و روغن اور مرمت کے بعد KCR کے لیے کام میں لایا جا رہا ہے۔ فی الحال تقریباً 11 بوگیاں اس منصوبے کا حصہ ہیں، جو روزانہ دن کے مختلف اوقات میں پپری سے سٹی اسٹیشن کے درمیان سفر کریں گی۔ ایک بوگی میں 100 مسافروں کی گنجائش ہے یعنی اگر ایک ٹرین میں 5 بوگیاں لگائی جائیں تو ٹرین ایک چکر میں 500 مسافروں کو منزل تک پہنچا سکتی ہے۔ صبح اور شام کے مصروف اوقات میں اگر دونوں سمتوں میں دو، دو ٹرینیں بھی چلائی جائیں تو بوگیوں کی موجودہ تعداد کو دیکھتے ہوئے کُل ملا کر 10 ہزار افراد کو بھی سفری سہولت نہیں مل سکتی، جو اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر بھی نہیں۔

کرایہ

کراچی سرکلر ریلوے کا یک طرفہ کرایہ 50 روپے مقرر کیا گیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ لاہور کی جدید ترین بجلی سے چلنے والی اور اپنا مخصوص ٹریک رکھنے والی اورنج لائن کا کرایہ 40 روپے ہے۔

کراچی سرکلر ریلوے کی تاریخ


کراچی میں عوام کو سفری سہولیات دینے کے لیے لوکل ٹرینیں چلانے کا آغاز 1969ء میں ہوا تھا۔ ابتداء میں یہ ٹرینیں ڈرگ روڈ اسٹیشن سے سٹی اسٹیشن تک چلا کرتی تھیں اور پہلے ہی سال انہوں نے 60 لاکھ مسافروں کو سفری سہولیات دیں۔ اتنی شاندار کامیابی کے بعد 1970ء میں اس کا دائرۂ کار لانڈھی اسٹیشن تک بڑھا دیا گیا جبکہ ٹریک کو شہر کے مغرب کی طرف بھی توسیع دی گئی اور یہ وزیر مینشن اسٹیشن تک پہنچ گیا۔ پوری دہائی میں اس ٹریک کو بڑھایا جاتا رہا یہاں تک کہ شمالی ناظم آباد سے چکر کاٹتا ہوا واپس ڈرگ روڈ پر آ کر مل گیا۔ یوں ایک ‘لُوپ لائن’ بن گئی جو کراچی کے اُس وقت کے تقریباً تمام رہائشی و صنعتی علاقوں کے گرد چکر کاٹتی تھی۔ اسی لیے اسے ‘کراچی سرکلر ریلوے’ کا نام دیا گیا۔

اپنے عروج کے زمانے میں کراچی سرکلر ریلوے کے تحت روزانہ 104 ٹرینیں چلتی تھیں، جن میں سے 80 مین لائن پر جبکہ باقی 24 لوپ لائن پر چلتی تھیں۔ 1990ء کی دہائی کے آغاز میں سرکلر ریلوے کا زوال شروع ہو گیا، یہاں تک 30 سال تک چلنے کے بعد 1999ء میں انہیں بند کر دیا گیا۔ ریلوے کا تو کہنا تھا کہ یہ فیصلہ مسافروں کی گھٹتی تعداد اور مالی خسارہ بڑھنے کی وجہ سے کیا گیا۔ لیکن حقیقت کیا تھی؟ یہ کوئی نہیں جانتا۔

پرانا منصوبہ، جدید مسائل


اب کراچی شہر کی آبادی لگ بھگ دو کروڑ ہے، آج یہ ماضی کے مقابلے میں ایک بہت مختلف شہر ہے۔ آبادی ہر سمت میں بڑھ رہی ہے، سفری سہولیات کی طلب بھی ماضی کے مقابلے میں اب کہیں مختلف ہے۔ اس لیے انہی راستوں پر سرکلر ریلوے کو مکمل طور پر بحال بھی کر دیا جائے تو شاید یہ منصوبہ شہر کے ٹرانسپورٹ مسائل تنہا حل نہیں کر سکتا۔ کیونکہ ریلوے لائن شہر کے کئی علاقوں بلکہ خود مرکز سے نہیں گزرتی، یعنی اس کے ذریعے براہِ راست صدر اور مزارِ قائد جانا ممکن نہیں۔ ماضی میں ٹرام کی صورت میں ایک سپورٹنگ سسٹم موجود تھا، جو شہرکے سب سے بڑے اسٹیشن کینٹ آنے والے مسافروں کو مرکزِ شہر تک باآسانی پہنچا دیتا تھا، لیکن اب تو وہ بھی موجود نہیں۔ اس کے علاوہ سرکلر ریلوے شہر کے اہم صنعتی علاقوں کورنگی اور لانڈھی انڈسٹریل ایریا کا احاطہ بھی نہیں کرتی کہ جن سے شہر کے لاکھوں لوگوں کا روزگار وابستہ ہے۔

روٹ کے مسائل کے علاوہ فی الحال ایک بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ KCR کا سارا ٹریک قابلِ استعمال نہیں ہے بلکہ پوری لوپ لائن پر ہی تجاوزات کا مسئلہ ہے۔ سپریم کورٹ کے حکم کے بعد تجاوزات کے خاتمے کے لیے کام تو شروع کر دیا گیا تھا لیکن ٹریک ابھی تک مکمل طور پر بحال نہیں ہو سکا۔ پھر دہائیوں سے استعمال نہ ہونے والے لوپ لائن کے ریلوے اسٹیشنوں کی حالت ناگفتہ بہ ہے ۔ یعنی فی الحال یہ منصوبہ کراچی کو ملک کے دیگر علاقوں سے جوڑنے والے ‘مین لائن -1’ ٹریک کو ہی استعمال میں لا سکتا ہے اور وہ بھی ایک حد تک ہی، تاکہ قومی ریلوے ٹریفک متاثر نہ ہو۔

ماضی میں کی گئی ناکام کوششیں

ایسا پہلی بار نہیں ہو رہا کہ کراچی سرکلر ریلوے کو بحال کرنے کی باتیں کی جا رہی ہیں۔ اس کی بندش کے بعد ہی سے بارہا مختلف حکومتیں بحالی کے دعوے کرتی رہی ہیں بلکہ 2005ء میں کراچی سرکلر ریلوے کو باضابطہ طور پر بحال بھی کر دیا گیا تھا۔ اُس وقت کے وزیر اعظم شوکت عزیز نے تو اس کے پہلے مرحلے کا افتتاح تک کیا تھا۔ تب بھی دعوے یہی تھے کہ چند سالوں میں تین مرحلوں کے دوران اسے مکمل طور پر بحال کر دیا جائے گا، جس پر ساڑھے 3 ارب روپے کی لاگت کا اندازہ لگایا گیا تھا۔ لیکن دوسرا مرحلہ کیا آتا؟ پہلے مرحلے کا بھی ایک سال ہی میں خاتمہ ہو گیا۔ خدا نہ کرے کہ اس مرتبہ بھی یہی انجام ہو!

مستقبل

کراچی سرکلر ریلوے کو 1999ء بلکہ 1969ء والی حالت پر بھی بحال کر دیا جائے تو اِس وقت یہ کامیاب نہیں ہو سکتا۔ اس کی کامیابی کے لیے سب سے پہلے مخصوص ٹریک کی تعمیر ضروری ہے اور ساتھ ہی شہر کے اہم علاقوں میں نئی پٹریاں بچھانا اور نئے اسٹیشنوں کی تعمیر بھی۔ بنیادی انفرا اسٹرکچر کی تعمیر کے بعد ٹرینیں چلانے کے لیے نجی شعبے کی خدمات بھی حاصل کی جا سکتی ہیں۔ جبکہ سپورٹنگ ٹرانسپورٹ نظام بھی ضروری ہے جیسا کہ میٹرو بسیں وغیرہ تاکہ شہر کے ہر حصے تک پہنچنا ممکن بنایا جا سکے۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو 2005ء کی طرح ایک، ڈیڑھ سال ہی میں سرکلر ریلوے کی بساط ایک مرتبہ پھر لپیٹ دی جائے گی۔

مزید تحاریر

شہباز، حمزہ نے پیرول پر رہائی میں توسیع کی درخواست دی، پھر بھی نہیں لی، وزیر قانون پنجاب

وزیر قانون راجہ بشارت کا کہنا ہے کہ قائد حزب اختلاف شہباز شریف اور ان کے بیٹے حمزہ شہباز کی درخواست پر پیرول کی...

برطانیہ: کورونا ویکسین کی منظوری دے دی گئی، پاکستان میں جنوری تک دستیاب ہوگی

برطانیہ نے فائزر بائیوٹک کورونا ویکسین کی منظوری دے دی، برطانوی وزارت صحت کے مطابق کورونا ویکسین کی دستیابی 7 سے 9 دسمبر کے...

کرونا وائرس اور معاشی بحران، پاکستان میں ناکافی غذائیت کا مسئلہ مزید پیچیدہ ہو گیا

اگست 2018ء میں عمران خان نے برسرِ اقتدار آتے ہی جن مسائل سے نمٹنے کا عزم ظاہر کیا تھا، ان میں ناکافی غذائیت (malnutrition)...

ہم اسلام آباد کے راستے میں ہوں گے اور حکومت چلی جائے گی، رانا ثناء اللہ

پاکستان مسلم لیگ ن پنجاب کے صدر رانا ثناء اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ لاہور میں ہونے والے پی ڈی ایم جلسے میں...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے