23.3 C
Islamabad
بدھ, دسمبر 2, 2020

برداشت کا دن اورجڑواں شہر  – جویریہ صدیق

تازہ ترین

شہباز، حمزہ نے پیرول پر رہائی میں توسیع کی درخواست دی، پھر بھی نہیں لی، وزیر قانون پنجاب

وزیر قانون راجہ بشارت کا کہنا ہے کہ قائد حزب اختلاف شہباز شریف اور ان کے بیٹے حمزہ شہباز کی درخواست پر پیرول کی...

برطانیہ: کورونا ویکسین کی منظوری دے دی گئی، پاکستان میں جنوری تک دستیاب ہوگی

برطانیہ نے فائزر بائیوٹک کورونا ویکسین کی منظوری دے دی، برطانوی وزارت صحت کے مطابق کورونا ویکسین کی دستیابی 7 سے 9 دسمبر کے...

کرونا وائرس اور معاشی بحران، پاکستان میں ناکافی غذائیت کا مسئلہ مزید پیچیدہ ہو گیا

اگست 2018ء میں عمران خان نے برسرِ اقتدار آتے ہی جن مسائل سے نمٹنے کا عزم ظاہر کیا تھا، ان میں ناکافی غذائیت (malnutrition)...

ہم اسلام آباد کے راستے میں ہوں گے اور حکومت چلی جائے گی، رانا ثناء اللہ

پاکستان مسلم لیگ ن پنجاب کے صدر رانا ثناء اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ لاہور میں ہونے والے پی ڈی ایم جلسے میں...
- Advertisement -

جویریہ صدیق صحافی کالم نگار اور فوٹوگرافر ہیں۔


جس وقت میں یہ ٓارٹیکل لکھ رہی تھی، اس وقت دنیا بھر میں برداشت اور رواداری کا دن منایا جارہا تھا۔ پر میرے اردگرد عجیب صورتحال تھی۔ موبائل فون سروس بند تھی اور آن لائن بینک سروس کا لاگ ان کوڈ فون پر نہیں ٓارہا تو میں آن لائن پے منٹ کرنے سے قاصر تھی۔ موبائل سے ایک دو ضروری کالز کرنی تھیں لیکن سگنلز نہیں۔ موجود لینڈ لائن سے کوشش کی، لیکن دوسروں کے پاس بھی موبائل سروس معطل رہی۔ دنیا سے رابطہ ہی ٹوٹ گیا ہے۔ انٹرنیٹ کی رفتار بھی سست ہے اور باہر تیز بارش ہورہی ہے۔ سہیلی کی شادی تھی۔ اس کے اور میرے درمیان کنٹینرز کھڑے ہیں۔ اس کو دلہن بنے صرف تصویروں پر دیکھ سکوں گی۔ وہاں تک جانا ناممکن تھا۔ ٹویٹر پر ایک صارف نے پوسٹ میں ٹیگ کررکھا ہے کہ ان کی عزیزہ ٓائی سی یو میں ہیں، خون کی اشد ضرورت ہے۔ ان تک خون کیسے پہنچایا جائے گا جب سارا شہر سیل پڑا ہو۔

اس سارے مسئلے میں امید کی کرن اسلام ٓاباد کے ڈی سی حمزہ شفقات ہیں۔ ان سے اپیل کی ہے ڈونرز کو ہسپتال تک پہنچنے میں مدد کی جائے۔ خون دینے والے اسلام آباد میں ہیں اور مریضہ پنڈی میں۔ درمیان میں کنٹینرز، مظاہرین اور پولیس والے کھڑے تھے۔ میری ایک کولیگ شیرخوار بچے کے ساتھ چھ گھنٹہ ٹریفک جام میں پھنسی رہی۔ اردگرد کوئی مارکیٹ ہوٹل نہیں تھا۔ انہوں نے کہا سب سے زیادہ شرمندگی کا مقام تھا کہ میں قریبی گرین بیلٹ میں رفع حاجت کے لیے گئی، کیونکہ اس ملک میں شاہراہوں پر باتھ روم بنانے کا تو رواج ہی نہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ میرا بچہ گاڑی میں اس وقت اکیلا تھا جب میں قریبی جھاڑیوں میں گئی۔ شرمندگی، دکھ اور تکلیف سے میری ٓانکھوں میں ٓانسو گئے۔ مجھے ڈر تھا کوئی مجھے دیکھ نا لے، کوئی جانور مجھے نقصان نا پہنچادے۔ یہ دکھ مجھے کبھی نہیں بھولے گا۔

مذہبی جماعتیں فرانس کے خلاف مظاہرہ کررہی تھیں اور ان کا یہ مظاہرہ ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حوالے سے تھا۔ فرانس مسلسل مسلمانوں کے جذبات سے کھیل رہا ہے۔ جس سے سب کی دل ٓازاری ہوئی۔ چارلی ہیبڈو نے گستاخانہ خاکے دوبارہ چھاپ کر پھر تمام مسلمانوں کو تکلیف دی اور فرانس کے صدر بھی اس ناپاک اقدام میں ان کے حمایتی ہیں۔ یہ اظہار رائے نہیں، یہ مذہب کی توہین ہے، بلکہ یہ انسانیت کی توہین ہے۔ اس پر مکمل پابندی ہونی چاہیے۔ ایسی ٓازادی رائے جو شرپسندی پھیلاتی ہو، اس پر مکمل پابندی ہونی چاہیے۔ اس حوالے سے پاکستان کی مذہبی جماعتوں کا ایک حصہ احتجاج کررہا تھا اور اس بات پر احتجاج کرنا ان کا، ہم سب کا حق ہے۔ تاہم انتظامیہ اس پر بوکھلاہٹ کا شکار کیوں ہوجاتی ہے؟آپ ان کو احتجاج کرنے دیں، بس قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے نا ہی کسی کو سفارت خانوں کی طرف جانے کی اجازت ہونی چاہیے کیونکہ وہ ہمارے مہمان ہیں، ان کی حفاظت تکریم ہم سب پر فرض ہے۔

ان دنوں میں اسلام آباد اور راولپنڈی عملی طور پر مفلوج رہے اور لوگ انتظامیہ اور مظاہرین کے رحم وکرم پر۔ اسلام آباد ایکسپریس وے بند، فیض ٓاباد بند، سری نگر ہائی وے پر جانے والوں کو خوف، زیرو پوائنٹ اور کھنہ پل سیل رہے۔ کوئی ہسپتال نہیں پہنچ سکا، کوئی شادی میں شریک نہیں ہوسکا، کوئی شہر سے باہر نہ جاسکا، کسی کی فلائٹ اس سے نکل گئی، کسی کی ٹرین چھوٹ گئی۔ کوئی اپنے والدین کی خیریت معلوم نہیں کرسکا، کوئی اپنے کسی بیمار عزیز کا حال نہ پوچھ سکا۔ کوئی آن لائن لین دین نہیں کرسکا۔ کوئی راشن نہیں خرید سکا تو کوئی یہ رو رو کر بھیک مانگتا رہا کہ اس کے مریض کی دوائی ختم ہوگئی ہے۔ لیکن انتظامیہ اور مظاہرین کو ان مسائل سے کوئی لینا دینا نہیں۔ مظاہرین کوئی دہشت گرد نہیں، وہ جذباتی ہیں اور ان کا یہاں شہر میں آنا ایک بہت حساس معاملہ ہے، لیکن یہ معاملات اس طرح حل نہیں ہوتے جس انداز سے مظاہرین اور انتظامیہ اسے حل کرنا چاہ رہے تھے۔ مظاہرین کے پاس ڈنڈے تھے، وہ اشتعال میں آکر پولیس کو ماررہے تھے اور پولیس ان پرلاٹھی چارچ اور ٓانسو گیس کے شیل مار رہے تھے۔ کیا ہی المیہ تھا کہ غیروں کی وجہ سے یہاں اپنے ایک دوسرے کو مار رہے تھے۔ مظاہرہ کرنے والے بھی مسلمان، پولیس والے بھی مسلمان۔۔۔ پھر تصادم کیا معنی رکھتا ہے؟

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، انبیا کرام اور صحابہ کی تکریم اور ناموس ہمارے لیے سب سے مقدم ہے۔ یہ ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔ اس کے لیے مکمل پالیسی ترتیب دینا ہوگی۔ جوشیلے خطابات، موبائل سروس کی بندش، کنٹینرز لگانے سے صرف عوام کو تکلیف ہوگی۔ فرانس یا چارلی ہیبڈو والوں کو اس سے کچھ فرق نہیں پڑنے والا۔ لاٹھی چارچ آنسو گیس سے بھی کچھ نہیں ہوگا۔ فریقین میں نفرت بڑھے گی۔ اس لیے مسئلے کا حل ٹھنڈے دماغ سے نکالنا ہوگا جس سے مظاہرین کو نقصان پہنچاے نا ہی انتظامیہ کو ضرر پہنچے۔

نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ہماری جان، مال سب قربان۔ وہ دنیا میں رحمۃ للعالمین بن کر آئے۔ وہ اتنے نرم دل اور حلیم طبعیت تھے کہ جب دین کی تبلیغ کے لیے طائف گئے تو کچھ ٓاوارہ لڑکوں نے ان کی شان اقدس میں گستاخی کی، یہاں تک کہ ٓاپ کے نعلین لہو سے بھرگئے۔ اس کے باوجود نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےعفو درگزر، ضبط، صبر و تحمل سے کام لیا۔ وہ ہستی جس کے لیے یہ کائنات تخلیق ہوئی، اس کی رحم دلی، عزیمت، حوصلہ مندی تاریخ میں لکھی گئی کہ طائف والوں کو معاف کردیا۔ حالانکہ شان قہاری نے جوش مارا تھا۔ حضرت جبرائل آئے اور ساتھ پہاڑوں کی نگرانی پر مقرر فرشتے بھی۔ آپ کی خدمت میں حاضر ہوکر کہا: اگر ارشاد ہو تو دونوں جانب کے پہاڑوں کو ملا دیں۔ یہ سب درمیان میں کچل جائیں گے۔ لیکن میرے نبی پاک نے انہیں معاف کردیا۔ یہ سطور لکھتے ہوئے میری ٓانکھیں بھیگ گئیں۔ وہ ہستی جس کے لیے یہ ساری کائنات تابع کردی گئی، اس کا صبر اور اس کی استقامت تو ملاحظہ کریں۔ حضرت جبرائیل اور پہاڑوں کا نگران فرشتہ حکم کے لیے منتظر، آقائے عالم نے طائف والوں کو معاف کردیا اور کہا یہ ایمان نہیں لائے تو کیا ہوا ان کی نسلوں میں ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو اللہ کی توحید کے قائل ہوں گے۔

یہ ہی طریقہ کار ہمیں اختیار کرنا ہوگا۔ اپنے اندر کے صبر، برداشت اور رواداری سے دیگر مذاہب کے لوگوں کے دل جیتنا ہوں گے۔ ٹائر جلانے سے کچھ نہیں ہوگا نا ہی سڑکیں بند کرکے کسی کا بھلا ہوگا۔ نا ہی فون بند کرنے سے اسلامو فوبیا کم ہوگا۔ یہ کم ہوگا صرف ٓاخری نبی پاک کی تعلیمات کو عام کرکے۔ ہم ان کے پیروکار ہیں، ہمیں ان کی تعلیمات کو عام کرنا ہوگا۔

میری نظر میں فرانس کی اس گستاخی کے جواب میں سیرت النبی اور احادیث کے ترجمے فرنچ زبان میں سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کریں۔ فرانسیسیوں کو بتائیں کہ ہمارے نبی کتنے رحم دل تھے۔ ان کی تجلیات اور معجزات سے فرانسیسوں کو آگاہ کریں۔ انگریزی عالمی زبان ہے، اس میں دنیا کو باور کروائیں کہ نبی پاک کا کوئی تصویری خاکہ دنیا میں موجود نہیں، پھر بھی ان پر ایمان لانے والے اربوں مسلمان ہیں۔ یہ مسلمان اپنے ماں باپ سے بڑھ کر اس شخصیت کے ساتھ محبت کرتی ہے۔ ایسے لوگوں کے جذبات مجروح نہ کیے جائیں۔ ان کے حوالے سے خاکوں پر مکمل پابندی ہونی چاہیے۔ ان کی ذات اقدس کے حوالے سے کوئی منفی مہم نہ چلائی جائے۔

ہمیں دین کی خدمت جدید خطوط پر کرنا ہوگی۔ نشر واشاعت میں حصہ لیں۔ نبی پاک کا پیغام ٹی وی ریڈیو کتابوں کے ذریعے سے پھیلائیں۔ سوشل میڈیا پر فیس بک، ٹویٹر، یوٹیوب، انسٹاگرام پر دین اسلام کی اشاعت کریں۔ غیر ملکی زبانوں میں ترجمہ کرکے دین اسلام کی ترویج کریں۔ جلسے دھرنوں کے بجائے دین کی ترویج ماڈرن ٹیکنالوجی کا سہارا لیتے ہوئے کریں۔

حکومتی سطح پر یہ کام یوں ہوسکتا ہے کہ او آئی سی کے تمام سربراہان زوم پر اجلاس بلائیں اور مشترکہ اعلامیہ میں عالمی دنیا سے مطالبہ کریں کہ اس سلسلے پر پابندی لگائی جائے۔ یہ کوئی آزادی رائے نہیں ہے، یہ توہین مذہب کے زمرے میں آتا ہے۔ اربوں انسانوں کے احساسات اس سے مجروح ہوتے ہیں، جو انسانیت کے خلاف جرم ہے۔ اس کے ساتھ اقوام متحدہ میں بھی یہ معاملہ اٹھایا جائے کہ مسلمانوں کے عقائد، ان کی مقدس ہستیوں کے خاکوں پر مقابلے کروانا، یہ آزادی رائے نہیں، مٹھی بھر شیطان طبیعت لوگوں کی شرپسندی ہے۔ اس پر پابندی لگائی جائے اور اس میں ملوث ملزمان کو سزا دی جائے۔ ہمیں بھی خود میں رواداری اور برداشت پیدا کرنی ہوگی، یوں پورے شہر کو یرغمال بنالینا نامناسب ہے۔

مزید تحاریر

شہباز، حمزہ نے پیرول پر رہائی میں توسیع کی درخواست دی، پھر بھی نہیں لی، وزیر قانون پنجاب

وزیر قانون راجہ بشارت کا کہنا ہے کہ قائد حزب اختلاف شہباز شریف اور ان کے بیٹے حمزہ شہباز کی درخواست پر پیرول کی...

برطانیہ: کورونا ویکسین کی منظوری دے دی گئی، پاکستان میں جنوری تک دستیاب ہوگی

برطانیہ نے فائزر بائیوٹک کورونا ویکسین کی منظوری دے دی، برطانوی وزارت صحت کے مطابق کورونا ویکسین کی دستیابی 7 سے 9 دسمبر کے...

کرونا وائرس اور معاشی بحران، پاکستان میں ناکافی غذائیت کا مسئلہ مزید پیچیدہ ہو گیا

اگست 2018ء میں عمران خان نے برسرِ اقتدار آتے ہی جن مسائل سے نمٹنے کا عزم ظاہر کیا تھا، ان میں ناکافی غذائیت (malnutrition)...

ہم اسلام آباد کے راستے میں ہوں گے اور حکومت چلی جائے گی، رانا ثناء اللہ

پاکستان مسلم لیگ ن پنجاب کے صدر رانا ثناء اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ لاہور میں ہونے والے پی ڈی ایم جلسے میں...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے