23.3 C
Islamabad
بدھ, دسمبر 2, 2020

دنیا کے 10 سب سے بڑے شہر کون سے ہیں؟

تازہ ترین

شہباز، حمزہ نے پیرول پر رہائی میں توسیع کی درخواست دی، پھر بھی نہیں لی، وزیر قانون پنجاب

وزیر قانون راجہ بشارت کا کہنا ہے کہ قائد حزب اختلاف شہباز شریف اور ان کے بیٹے حمزہ شہباز کی درخواست پر پیرول کی...

برطانیہ: کورونا ویکسین کی منظوری دے دی گئی، پاکستان میں جنوری تک دستیاب ہوگی

برطانیہ نے فائزر بائیوٹک کورونا ویکسین کی منظوری دے دی، برطانوی وزارت صحت کے مطابق کورونا ویکسین کی دستیابی 7 سے 9 دسمبر کے...

کرونا وائرس اور معاشی بحران، پاکستان میں ناکافی غذائیت کا مسئلہ مزید پیچیدہ ہو گیا

اگست 2018ء میں عمران خان نے برسرِ اقتدار آتے ہی جن مسائل سے نمٹنے کا عزم ظاہر کیا تھا، ان میں ناکافی غذائیت (malnutrition)...

ہم اسلام آباد کے راستے میں ہوں گے اور حکومت چلی جائے گی، رانا ثناء اللہ

پاکستان مسلم لیگ ن پنجاب کے صدر رانا ثناء اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ لاہور میں ہونے والے پی ڈی ایم جلسے میں...
- Advertisement -

دو ہزار سال پہلے کرۂ ارض پر انسانوں کی کُل آبادی 17 کروڑ تھی۔ تب سے آج تک دنیا نے بڑی آفات کا سامنا کیا، طاعون اور دیگر وبائیں پھوٹیں، جنگوں میں کروڑ ہا افراد مارے گئے، لیکن انسانوں کی آبادی بڑھتی ہی چلی گئیں۔ آج 7.7 ارب انسان اس دنیا میں بستے ہیں اور 22 ویں صدی میں یہ تعداد 10 ارب تک پہنچنے کا امکان ہے۔

بڑھتی ہوئی آبادی سے دنیا کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے۔ جتنے انسان اس کرۂ ارض پر آباد ہوں گے، انہیں اتنے ہی وسائل کی ضرورت ہوگی، اتنی ہی زیادہ خوراک کی، پانی کی اور رہنے کے لیے زمین کی بھی۔

ایک اچھی خبر تو یہ ہے کہ آبادی بڑھنے کی شرح اب کم ہوتی جا رہی ہے، بلکہ کچھ ملکوں میں تو آبادی میں کمی بھی آ رہی ہے۔ لیکن پھر بھی ایسے علاقے موجود ہیں کہ جہاں آبادی کا بم پھٹنے کے قریب ہے۔ آئیے آپ کو دنیا کے 10 سب سے زیادہ آبادی رکھنے والے شہری علاقوں کے بارے میں بتاتے ہیں:

کراچی، پاکستان

آبادی: 1 کروڑ 91 لاکھ 65 ہزار

پاکستان کی شہری آبادی کا پانچواں حصہ اس "میگا سٹی” میں رہتا ہے، جو کبھی ملک کا دارالحکومت تھا۔ 2019ء میں کراچی کی آبادی میں 2.2 فیصد اضافہ ہوا اور معیارِ زندگی مزید گھٹتا چلا گیا۔ پُرتشدد جرائم، عدم مساوات اور معاشی عدم استحکام اس شہر کی ترقی کی راہ میں بڑے مسائل ہیں۔ کراچی دنیا کے گنجان آباد ترین شہروں میں سے ایک ہے۔


ممبئی، بھارت

آبادی: 2 کروڑ 4 لاکھ 11 ہزار

بھارت کا دوسرا سب سے بڑا شہر، بلکہ شہر کے مرکزی علاقے کی آبادی دیکھیں تو اس لحاظ سے سب سے بڑا کہ صرف اس مرکز کی آبادی ہی 1.3 کروڑ ہے۔ ممبئی کتنا بڑا شہر ہے؟ اس کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ شہر میں چلنے والی ٹرینیں ہی روزانہ 60 لاکھ لوگوں کو منزل تک پہنچاتی ہیں۔ یہ تعداد دنیا کے کسی بھی شہر کی مصروف زندگی کو مات دینے کے لیے کافی ہے۔ گزشتہ 20 سال میں ممبئی کی آبادی بہت تیزی سے بڑھی ہے بلکہ 1991ء سے تقابل کریں تو دو گنی ہو چکی ہے۔ دیہی علاقوں کے رہنے والے روزگار کے لیے اس شہر کا رخ کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ شہر کی حالت بدتر ہوتی جا رہی ہے۔ ممبئی اور اس کے مضافات کی 41 فیصد آبادی جھونپڑ پٹیوں میں رہتی ہے۔ ممبئی اب بھی بڑھتا جا رہا ہے، لیکن شرح پہلے سے کم ہے۔


بیجنگ، چین

آبادی: 2 کروڑ 4 لاکھ 62 ہزار

چین کا دوسرا سب سے بڑا شہری علاقہ، کہ جس کی آبادی آسٹریلیا جیسے بڑے ملک سے بھی زیادہ ہے۔ 1975ء سے اب تک نہ صرف اس کی آبادی میں مستقل اضافہ ہوا ہے، بلکہ 2035ء تک اس کے بڑھتے رہنے کا امکان بھی ہے۔ بڑی آبادی کے ساتھ ساتھ بیجنگ کا سب سے بڑا مسئلہ ہے فضائی آلودگی۔ یہاں کی ہوا بہت آلودہ ہے، جس کی وجہ شہر کے نواح میں واقع کوئلے سے چلنے والے پلانٹس اور گاڑیوں کا ٹریفک ہیں۔


قاہرہ، مصر

آبادی: 2 کروڑ 9 لاکھ

مصر کا دارالحکومت جو دریائے نیل کے کنارے اہم مقام پر موجود ہے، اور کم از کم چوتھی صدی سے آباد ہے۔ قرونِ وسطیٰ میں طاعون کی وباء کے بعد اور جدید دور میں 1950ء کی دہائی میں زبردست فسادات کے بعد یہ شہر پوری رفتار سے بڑھا۔ یہاں تک کہ شہر کے مرکزی علاقوں کی آبادی ہی 1 کروڑ 20 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔ اسکندریہ جو مصر کا دوسرا سب سے بڑا شہر ہے قاہرہ کے مقابلے میں صرف 30 فیصد آبادی رکھتا ہے۔


ڈھاکا، بنگلہ دیش

آبادی: 2 کروڑ 10 لاکھ 5 ہزار

ڈھاکا دنیا کا سب سے گنجان آباد شہر ہے اور یہ اب بھی بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ یہاں فی مربع کلومیٹر 23 ہزار سے زیادہ افراد بستے ہیں اور ہر روز 2,000 افراد اس شہر میں منتقل ہو رہے ہیں۔ اس کی وجہ بالکل سادہ ہے، موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے آنے والی قدرتی آفات نے دیہی علاقوں کو کافی نقصان پہنچایا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک کی ایک چوتھائی آبادی غربت کی لکیر سے نیچے ہے۔ صرف ڈھاکا میں ہی تقریباً 30 لاکھ افراد کچی آبادیوں میں رہتے ہیں۔


میکسیکو سٹی، میکسیکو

آبادی: 2 کروڑ 17 لاکھ 82 ہزار

ملکی معیشت کا مرکز میکسیکو سٹی دنیا کے بڑے اور گنجان آباد ترین شہروں میں سے ایک ہے۔ درحقیقت میکسیکو کی 20 فیصد آبادی اسی شہر میں رہتی ہے۔ آبادی میں اضافے کا مطلب ہے کہ ضروری خدمات کی فراہمی میں مشکلات، لیکن پھر بھی امید کی ایک کرن موجود ہے کیونکہ 2019ء سے 2020ء کے دوران شہر کی آبادی میں صرف 0.5 فیصد اضافہ ہوا ہے۔


ساؤ پاؤلو، برازیل

آبادی: 2 کروڑ 20 لاکھ 43 ہزار

براعظم جنوبی و شمالی امریکا دونوں کا سب سے بڑا شہر، جس کے مرکزِ شہر ہی میں ایک کروڑ 10 لاکھ سے زیادہ افراد رہتے ہیں۔ یہ انتہائی پیچیدہ، نسلی طور پر متنوّع اور عالمی ثقافتی مرکز ہے کہ جس کی آبادی میں حیران کن طور پر 26 ارب پتی بھی شامل ہیں۔ یہ مہاجرین کا شہر بھی ہے، 81 فیصد طلبہ ایسے ہیں جو کسی غیر ملکی تارکِ وطن کی اولاد ہیں۔ اس شہر کی آبادی 2030ء تک 2 کروڑ 30 لاکھ سے بھی آگے نکل جائے گی۔


شنگھائی، چین

آبادی: 2 کروڑ 70 لاکھ58 ہزار

شنگھائی دنیا کا سب سے بڑا باقاعدہ شہر ہے، اور 20 سال میں سب سے تیزی سے آگے بڑھنے والا بھی، جس نے 1992ء سے اب تک تقریباً ہر سال دو گنا اضافہ دیکھا ہے۔ یہ اب بھی بڑھ رہا ہے، البتہ یہ رفتار اب دھیمی پڑ گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس عظیم شہر کی آبادی 2050ء تک 5 کروڑ تک جا پہنچے گی، جس سے بلاشبہ گنجان آباد شہروں کے درپیش تمام مسائل میں اضافہ بھی ہوگا، جیسا کہ ناکافی انفرا اسٹرکچر اور آلودگی کے مسائل۔


دہلی، بھارت

آبادی: 3 کروڑ 29 لاکھ

دہلی بھارت کا دارالحکومت اور دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں سے ایک ہے۔ اس کے 1484 مربع کلومیٹرز کے علاقے میں ہر مربع کلومیٹرز پر 11 ہزار سے زیادہ لوگ بستے ہیں، اور یہ دنیا کے کسی بھی دوسرے شہر کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ صرف 2011ء میں ہی اس کی اپنی مقامی آبادی میں 2,15,000 کا اپنا اضافہ ہوا جبکہ 2,85,000 افراد ہجرت کرکے بھی اس شہر میں آئے۔ گو کہ 2019ء میں اس کی آبادی میں اضافہ 3.03 فیصد تھا، لیکن اس کے باوجود یہ 2035ء تک 4 کروڑ 30 لاکھ کا ہندسہ عبور کر جائے گا۔


ٹوکیو، جاپان

آبادی: 3 کروڑ 73 لاکھ 93 ہزار

آپ مانیں یا نہ مانیں لیکن دنیا کے سب سے بڑے شہر کی آبادی میں 2019ء میں 0.11 فیصد کی کمی آئی ہے۔ توقعات کے مطابق یہ رحجان جاری رہے گا اور 2035ء تک یعنی آج سے 16 سال بعد ٹوکیو کی آبادی میں 15 لاکھ کی کمی آ جائے گی۔ یہ بتانے کی ضرورت تو نہیں ہے لیکن یہی وہ رحجان ہے، جو دنیا کے دوسرے بڑے شہروں میں بھی ہونا چاہیے، تاکہ ان پر دباؤ میں کمی آئے۔

مزید تحاریر

شہباز، حمزہ نے پیرول پر رہائی میں توسیع کی درخواست دی، پھر بھی نہیں لی، وزیر قانون پنجاب

وزیر قانون راجہ بشارت کا کہنا ہے کہ قائد حزب اختلاف شہباز شریف اور ان کے بیٹے حمزہ شہباز کی درخواست پر پیرول کی...

برطانیہ: کورونا ویکسین کی منظوری دے دی گئی، پاکستان میں جنوری تک دستیاب ہوگی

برطانیہ نے فائزر بائیوٹک کورونا ویکسین کی منظوری دے دی، برطانوی وزارت صحت کے مطابق کورونا ویکسین کی دستیابی 7 سے 9 دسمبر کے...

کرونا وائرس اور معاشی بحران، پاکستان میں ناکافی غذائیت کا مسئلہ مزید پیچیدہ ہو گیا

اگست 2018ء میں عمران خان نے برسرِ اقتدار آتے ہی جن مسائل سے نمٹنے کا عزم ظاہر کیا تھا، ان میں ناکافی غذائیت (malnutrition)...

ہم اسلام آباد کے راستے میں ہوں گے اور حکومت چلی جائے گی، رانا ثناء اللہ

پاکستان مسلم لیگ ن پنجاب کے صدر رانا ثناء اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ لاہور میں ہونے والے پی ڈی ایم جلسے میں...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے