23.3 C
Islamabad
بدھ, دسمبر 2, 2020

عرب امارات کے سوشل میڈیا قوانین کی پیروی کریں، پاکستانیوں کو ہدایت

تازہ ترین

شہباز، حمزہ نے پیرول پر رہائی میں توسیع کی درخواست دی، پھر بھی نہیں لی، وزیر قانون پنجاب

وزیر قانون راجہ بشارت کا کہنا ہے کہ قائد حزب اختلاف شہباز شریف اور ان کے بیٹے حمزہ شہباز کی درخواست پر پیرول کی...

برطانیہ: کورونا ویکسین کی منظوری دے دی گئی، پاکستان میں جنوری تک دستیاب ہوگی

برطانیہ نے فائزر بائیوٹک کورونا ویکسین کی منظوری دے دی، برطانوی وزارت صحت کے مطابق کورونا ویکسین کی دستیابی 7 سے 9 دسمبر کے...

کرونا وائرس اور معاشی بحران، پاکستان میں ناکافی غذائیت کا مسئلہ مزید پیچیدہ ہو گیا

اگست 2018ء میں عمران خان نے برسرِ اقتدار آتے ہی جن مسائل سے نمٹنے کا عزم ظاہر کیا تھا، ان میں ناکافی غذائیت (malnutrition)...

ہم اسلام آباد کے راستے میں ہوں گے اور حکومت چلی جائے گی، رانا ثناء اللہ

پاکستان مسلم لیگ ن پنجاب کے صدر رانا ثناء اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ لاہور میں ہونے والے پی ڈی ایم جلسے میں...
- Advertisement -

متحدہ عرب امارات میں پاکستان کے سفارتی مشن نے اپنے شہریوں سے کہا ہے کہ وہ سوشل میڈیا استعمال کرتے ہوئے مقامی قوانین کی پیروی کریں۔

ابوظہبی میں پاکستانی سفارت خانے اور دبئی میں موجود قونصل خانے نے ہدایت کی ہے کہ امارات میں رہتے ہوئے پاکستانی ایسی سرگرمیوں سے دُور رہیں کہ جو امارات کے سوشل میڈیا قوانین کے خلاف ہیں۔

سوشل میڈیا پر جاری کردہ ہدایات میں کہا گیا ہے کہ "قونصل خانہ دبئی شہر اور شمالی امارات میں مقیم پاکستانی برادری سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ سوشل میڈیا کے استعمال کے حوالے سے امارات اور متعلقہ ریاستوں کے مقامی قوانین کی پاسداری کرے۔”

کسی بھی مسئلے کی صورت میں قونصل خانے سے رابطہ کرنے کو کہا گیا ہے۔

ابوظہبی میں پاکستانی سفارت خانے سے بھی ایسی ہی ہدایت دی ہیں اور رابطے کے لیے اپنے فون نمبر، واٹس ایپ نمبر اور ای میل ایڈریس بھی دیے ہیں۔

عرب امارات میں سوشل میڈیا قوانین بہت سخت ہیں اور غلط معلومات پھیلانے، غیر قانونی رابطہ سروسز اور ایپ کے استعمال، کسی بھی مذہب کے مقدسات یا رسومات کی بے حرمتی اور اسلام کی اقدار و اخلاقیات کی توہین کرنے والے مواد پر 5 لاکھ درہم تک کا جرمانہ لگایا جاتا ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2019ء میں سوشل میڈیا قوانین کی خلاف ورزی کے 512 واقعات سامنے آئے تھے۔ 2018ء میں یہ تعداد 357 جبکہ 2017ء میں 392 تھی۔

اماراتی قوانین کے مطابق آن لائن ہراسگی؛بھتہ، دھمکیاں یا بلیک میلنگ؛ غلط معلومات کی اشاعت اور پھیلاؤ؛ پرائیویسی میں مداخلت؛ توہین آمیز اور بیہودہ تبصرے کرنے؛ جعلی اشتہارات کی اشاعت اور افواہیں پھیلانے؛ گالم گلوچ، ہتکِ عزت اور جرائم پر اکسانے اور فراڈ سمیت دیگر جرائم کو بڑی خلاف ورزیاں شمار کیا جاتا ہے۔ کمپیوٹر نیٹ ورک یا الیکٹرانک انفارمیشن سسٹم کا استعمال کر کے کسی شخص کی پرائیویسی میں مداخلت کرنے پر قید اور 5 لاکھ روپے تک کا جرمانہ ہو سکتا ہے۔ اس میں بغیر اجازت دوسروں کی تصاویر آن لائن شیئر کرنا بھی شامل ہے۔

مزید تحاریر

شہباز، حمزہ نے پیرول پر رہائی میں توسیع کی درخواست دی، پھر بھی نہیں لی، وزیر قانون پنجاب

وزیر قانون راجہ بشارت کا کہنا ہے کہ قائد حزب اختلاف شہباز شریف اور ان کے بیٹے حمزہ شہباز کی درخواست پر پیرول کی...

برطانیہ: کورونا ویکسین کی منظوری دے دی گئی، پاکستان میں جنوری تک دستیاب ہوگی

برطانیہ نے فائزر بائیوٹک کورونا ویکسین کی منظوری دے دی، برطانوی وزارت صحت کے مطابق کورونا ویکسین کی دستیابی 7 سے 9 دسمبر کے...

کرونا وائرس اور معاشی بحران، پاکستان میں ناکافی غذائیت کا مسئلہ مزید پیچیدہ ہو گیا

اگست 2018ء میں عمران خان نے برسرِ اقتدار آتے ہی جن مسائل سے نمٹنے کا عزم ظاہر کیا تھا، ان میں ناکافی غذائیت (malnutrition)...

ہم اسلام آباد کے راستے میں ہوں گے اور حکومت چلی جائے گی، رانا ثناء اللہ

پاکستان مسلم لیگ ن پنجاب کے صدر رانا ثناء اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ لاہور میں ہونے والے پی ڈی ایم جلسے میں...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے