23.3 C
Islamabad
بدھ, دسمبر 2, 2020

پاکستان اب دنیائے کرکٹ کے بڑے ممالک کی میزبانی کرنے کے لیے تیار

تازہ ترین

شہباز، حمزہ نے پیرول پر رہائی میں توسیع کی درخواست دی، پھر بھی نہیں لی، وزیر قانون پنجاب

وزیر قانون راجہ بشارت کا کہنا ہے کہ قائد حزب اختلاف شہباز شریف اور ان کے بیٹے حمزہ شہباز کی درخواست پر پیرول کی...

برطانیہ: کورونا ویکسین کی منظوری دے دی گئی، پاکستان میں جنوری تک دستیاب ہوگی

برطانیہ نے فائزر بائیوٹک کورونا ویکسین کی منظوری دے دی، برطانوی وزارت صحت کے مطابق کورونا ویکسین کی دستیابی 7 سے 9 دسمبر کے...

کرونا وائرس اور معاشی بحران، پاکستان میں ناکافی غذائیت کا مسئلہ مزید پیچیدہ ہو گیا

اگست 2018ء میں عمران خان نے برسرِ اقتدار آتے ہی جن مسائل سے نمٹنے کا عزم ظاہر کیا تھا، ان میں ناکافی غذائیت (malnutrition)...

ہم اسلام آباد کے راستے میں ہوں گے اور حکومت چلی جائے گی، رانا ثناء اللہ

پاکستان مسلم لیگ ن پنجاب کے صدر رانا ثناء اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ لاہور میں ہونے والے پی ڈی ایم جلسے میں...
- Advertisement -

تقریباً ایک دہائی تک اپنے میدانوں پر ٹیسٹ کرکٹ سے محروم رہنے والے پاکستان کا کہنا ہے کہ اب وہ 2021ء میں جنوبی افریقہ، نیوزی لینڈ، انگلینڈ اور ویسٹ انڈیز کی میزبانی کے لیے تیار ہے۔ چیف ایگزیکٹو پاکستان کرکٹ بورڈ وسیم خان نے امریکی خبر رساں ادارے ‘اے پی’ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم دیگر کرکٹ بورڈز کے ساتھ تعلقات کے قیام اور انہیں بہتر بنانے کے لیے کافی کام کر رہے ہیں۔

جنوبی افریقہ کو جنوری میں دو ٹیسٹ میچز کی سیریز کھیلنے کے لیے پاکستان کا دورہ کرنا ہے، جو ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن شپ کا حصہ ہوں گے۔ ان کے بعد تین ٹی ٹوئنٹی میچز بھی کھیلے جائیں گے۔ پھر نیوزی لینڈ کو ستمبر میں تین ون ڈے اور پانچ ٹی ٹوئنٹی میچز کے لیے پاکستان کا دورہ کرنا ہے۔ بعدازاں اکتوبر میں انگلینڈ دو ٹی ٹوئنٹی میچز کھیلنے کے لیے پاکستان آئے گا، جس کی انگلینڈ کرکٹ بورڈ تصدیق بھی کر چکا ہے۔ یہ 2005ء کے بعد انگلینڈ کا پہلا دورۂ پاکستان ہوگا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ دسمبر میں ویسٹ انڈیز کے خلاف ایک ہوم سیریز کی بھی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔

وسیم خان کا کہنا ہے کہ ہمارے پاس بہت مصروف آٹھ، دس مہینے ہیں۔ کرکٹ آسٹریلیا سے بھی بات کر رہے ہیں کہ جس نے 2022ء میں پاکستان آنا ہے، اور ہماری خواہش ہے کہ وہ لمبے دورے کے لیے آئیں۔

مارچ 2009ء میں سری لنکا کی کرکٹ ٹیم پر دہشت گردے حملے کے ساتھ پاکستان پر بین الاقوامی کرکٹ کے دروازے بند ہوگئے تھے، یہاں تک کہ 2015ء میں زمبابوے وہ پہلا ملک بنا کہ جس نے محدود اوورز کی سیریز کھیلنے کے لیے لاہور کا رُخ کیا۔ اس دہشت گرد حملے میں چھ پولیس افسران اور دو عام شہری جاں بحق ہوئے تھے جبکہ سری لنکا کی کرکٹ ٹیم کے چھ کھلاڑی بھی زخمی ہوئے تھے۔

ملک میں ٹیسٹ کرکٹ پچھلے سال ہی واپس آئی ہے جب سری لنکا نے راولپنڈی اور کراچی میں دو ٹیسٹ میچز کھیلے جبکہ بنگلہ دیش نے بھی ایک ٹیسٹ کھیلا، جبکہ دوسرا کرونا وائرس کی وجہ سے منسوخ ہو گیا۔

پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کی واپسی میں بڑا کردار پاکستان سپر لیگ کا بھی ہے ۔

آسٹریلیا کے شین واٹسن اور جنوبی افریقہ کے ڈیل اسٹین اور فف دو پلیسی سمیت کئی بڑے نام سپر لیگ کھیلنے کے لیے پاکستان آ چکے ہیں اور مختلف ٹیموں کی نمائندگی کر چکے ہیں۔ وسیم خان سمجھتے ہیں کہ ان کھلاڑیوں نے پاکستان کا تاثر بہتر بنانے میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔ "بہت سے کھلاڑی اپنے وطن واپس گئے اور دوسروں کو بتایا کہ پاکستان کرکٹ کے لیے محفوظ ترین مقامات میں سے ایک ہے۔ یہ وہ کھلاڑی ہیں جو پاکستان آنے سے پہلے مختلف رائے رکھتے تھے۔

وسیم خان نے کہا کہ ہم کھلاڑیوں کو سربراہانِ مملکت کی سطح کی سکیورٹی فراہم کرتے رہیں گے اور اس میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔ وہ اگلے سال پڑوسی ملک افغانستان کے خلاف ایک محدود اوورز کی سیریز کے بھی خواہشمند ہیں۔

وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے حالیہ دورۂ افغانستان میں افغان کرکٹ ٹیم کو اس کی دعوت بھی دی تھی۔ وسیم خان کہتے ہیں کہ ہم افغانستان کے خلاف سیریز کے لیے کلینڈر میں جگہ نکالنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔

گو کہ پاکستان نے حالیہ کچھ عرصے میں دنیا کے تقریباً تمام ہی کرکٹ بورڈز کے ساتھ رابطے کیے ہیں، اس کے باوجود پاک-بھارت کرکٹ کی بحالی کا کوئی امکان نہیں ہے۔ وسیم خان کا کہنا ہے کہ کیا ہمیں بھارت کے ساتھ کھیلنا چاہیے؟ بالکل کھیلنا چاہیے۔ لیکن کیا ہم ان کے خلاف کھیلیں گے؟ نہیں، مستقبلِ قریب میں ایسا ہوتا نظر نہیں آتا۔

مزید تحاریر

شہباز، حمزہ نے پیرول پر رہائی میں توسیع کی درخواست دی، پھر بھی نہیں لی، وزیر قانون پنجاب

وزیر قانون راجہ بشارت کا کہنا ہے کہ قائد حزب اختلاف شہباز شریف اور ان کے بیٹے حمزہ شہباز کی درخواست پر پیرول کی...

برطانیہ: کورونا ویکسین کی منظوری دے دی گئی، پاکستان میں جنوری تک دستیاب ہوگی

برطانیہ نے فائزر بائیوٹک کورونا ویکسین کی منظوری دے دی، برطانوی وزارت صحت کے مطابق کورونا ویکسین کی دستیابی 7 سے 9 دسمبر کے...

کرونا وائرس اور معاشی بحران، پاکستان میں ناکافی غذائیت کا مسئلہ مزید پیچیدہ ہو گیا

اگست 2018ء میں عمران خان نے برسرِ اقتدار آتے ہی جن مسائل سے نمٹنے کا عزم ظاہر کیا تھا، ان میں ناکافی غذائیت (malnutrition)...

ہم اسلام آباد کے راستے میں ہوں گے اور حکومت چلی جائے گی، رانا ثناء اللہ

پاکستان مسلم لیگ ن پنجاب کے صدر رانا ثناء اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ لاہور میں ہونے والے پی ڈی ایم جلسے میں...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے