8.9 C
Islamabad
منگل, جنوری 26, 2021

وہ جدید فلمیں جو مستقبل میں کلاسک کا درجہ پا سکتی ہیں

تازہ ترین

شاخِ زیتون پہ چہکتے گیلے تیتر – احمدحماد

قدیم یونان کے سات دانشمندوں سے ایک کا نام طالیس تھا۔ کہا جاتا ہے کہ یہ طالیس ہی تھا جس نے پہلے پہل یہ...

کورونا کے خاتمے تک قرضوں کی ادائیگی میں رعایت دی جائے، وزیر اعظم

وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ عالمی وبا کورونا وائرس کے ختم ہونے تک مقروض ممالک پر قرضہ واپسی کے حوالے سے...

جمعرات کو چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا

جمعرات 28 جنوری کو سعودی عرب کے مقامی وقت کے مطابق رات 12:43 پر چودہویں کا چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا۔ جدہ آسٹرونومی...

پاک-جنوبی افریقہ تاریخی ٹیسٹ، پاکستان ان کھلاڑیوں میں سے انتخاب کرے گا

پاک-جنوبی افریقہ تاریخی ٹیسٹ کل یعنی منگل سے کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں شروع ہو رہا ہے۔ پاکستان نے اپنے 20 رکنی ابتدائی اسکواڈ میں...
- Advertisement -

جب بھی کلاسک فلموں کا ذکر آتا ہے تو "گاڈ فادر”، "سائیکو” اور "لارنس آف عربیہ” جیسی فلمیں ذہن میں آتی ہیں اور ان سے ذرا نئے دور کی بات کریں تو "دی شاشینک ریڈیمپشن”، "بیک ٹو دی فیوچر”، "جاز”، "جراسک پارک” اور "فائٹ کلب” جیسی فلموں کی لمبی فہرست آتی ہے۔ لیکن یہ سوال بھی ذہن میں آتا ہے کہ دورِ جدید کی وہ کون سی فلمیں ہوں گی کہ جنہیں مستقبل میں کلاسک فلموں کا درجہ مل سکتا ہے؟

یہ سوال بہت ہی دلچسپ ہے اور اس کا جواب بھی اتنا ہی دلچسپ ہونا چاہیے۔ وہ الگ بات کہ متنازع ہوگا ہی کیونکہ ہر کسی کی اپنی اپنی پسند جو ہوتی ہے۔

تو آئیے چند ایسی فلموں کا ذکر کرتے ہیں کہ جو ہمارے خیال میں اگلی چند دہائیوں کے بعد ‘کلاسک فلمیں’ شمار ہوں گی۔ ہم صرف انہی فلموں کا انتخاب کر رہے ہیں جو پچھلے 10 سالوں میں ریلیز ہوئی ہیں یعنی 2011ء سے 2020ء کے درمیان جاری ہونے والی فلمیں۔

Gravity


2013ء میں ریلیز ہونے والی ایک خوبصورت سائنس فکشن مووی، جس میں سینڈرا بلوک اور جارج کلونی نے خلاء بازوں کے مرکزی کردار نبھائے کہ جن کے خلائی مشن کے دوران ایک حادثہ پیش آتا ہے، جس کے بعد ان کی زمین پر واپس آنے کی جدوجہد کا آغاز ہوتا ہے۔ اس فلم نے 7 آسکر ایوارڈز جیتے جن میں بہترین ڈائریکٹر کا اعزاز بھی شامل تھا۔


Interstellar


ایک اور سائنس فکشن جو 2014ء میں ریلیز کی گئی۔ یہ مشہور ڈائریکٹر کرسٹوفر نولان کا ایک اور شاہکار سمجھی جاتی ہے۔ یہ فلم مستقبل کی تصویر کشی کرتی ہے جب انسانیت بقاء کی جدوجہد کر رہی ہے اور اس دوران چند خلاء باز انسانیت کے لیے کسی نئے سیارے کی تلاش شروع کرتے ہیں۔ باکس آفس پر زبردست کامیابیاں سمیٹنے کے بعد اس مووی نے بہترین وژوئل افیکٹس کا اکیڈمی ایوارڈ بھی جیتا۔


Ex Machina


ایک اور سائنس فکشن؟ کہیں یہ سائنس فکشن موویز کی فہرست تو نہیں؟ ارے نہیں، نہیں، دل تھام کر بیٹھیں، ابھی آگے بھی بہت کچھ ہے۔ تو 2014ء کی یہ مووی ہے ڈائریکٹر ایلکس گارلینڈ کی، جس میں مستقبل ہی کی عکاسی کی گئی ہے لیکن ذرا مختلف انداز سے جس میں ایک پروگرامر کا انعام نکلتا ہے اور اسے موقع ملتا ہے مصنوعی ذہانت کے روبوٹس پر کام کرنے والے ایک کمپنی کے مالک کے ساتھ چند دن گزارنے کا۔ فلم بظاہر دھیمی لیکن ویسے بہت سنسنی خیز ہے، سائنس فکشن سائیکولوجیکل تھرلر سمجھ لیں۔ صرف 15 ملین ڈالرز کی بجٹ سے بنی یہ مووی بہترین وژوئل افیکٹس کا اکیڈمی ایوارڈ تک جیت گئی تھی۔


Grand Budapest Hotel


اسی سال ریلیز ہوئی تھی ‘گرینڈ بڈاپسٹ ہوٹل’، جسے بی بی سی نے اکیسویں صدی کی عظیم ترین فلموں میں شمار کیا تھا۔ ویس اینڈرسن کی اس فلم میں مرکزی کردار ایک خوبصورت ہوٹل کا مالک ہوتا ہے جسے ایک خاتون کے قتل میں پھنسانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ باکس آفس پر شاندار کامیابیاں سمیٹنے کے بعد یہ ڈراما فلم 4 اکیڈمی ایوارڈز بھی جیتی۔


Mad Max: Fury Road


یہ 2015ء کی ایک آسٹریلوی ایکشن فلم ہے، جس کے لیے ہدایات جارج ملر نے دی تھیں۔ ‘میڈ میکس’ سیریز کی یہ چوتھی فلم دراصل ایک تباہ حال زمین کی داستان ہے کہ جہاں پٹرول اور پانی سب سے نایاب ہے۔ مرکزی کردار کے قید سے فرار ہونے کی کوشش اور اس دوران پیش آنے والے واقعات اس فلم کے تہہ در تہہ موضوعات کو کھولتے ہیں۔ اس فلم نے ایک، دو نہیں پورے 6 اکیڈمی ایوارڈز جیتے تھے البتہ بہترین فلم اور بہترین ڈائریکٹر کا اعزاز حاصل نہیں کر پائی۔


Arrival


2016ء کی ایک اور امریکی سائںس فکشن کہ جو ایک خاتون ماہرِ لسانیات (linguist) کی گرد گھومتی ہے کہ جسے امریکی فوج زمین پر آنے والی خلائی مخلوق کے ساتھ رابطے کے لیے طلب کرتی ہے۔ فلم باکس آفس پر بھی خوب کامیاب رہی۔


Silence


یہ معروف ڈائریکٹر مارٹن اسکورسیز کی 2016ء میں پیش کی گئی تاریخی ڈراما فلم تھی کہ جس میں لیام نیسن، اینڈریو گارفیلڈ اور ایڈم ڈرائیور جیسے بہترین اداکاروں نے اہم کردار ادا کیے۔ فلم کی کہانی 1966ء میں لکھے گئے ایک ناول سے ماخوذ تھی۔ جس میں 17 ویں صدی کے چند مسیحی مبلغین کے پرتگال سے جاپان آنے کا احوال بیان کیا گیا تھا۔ اس کتاب پر اسی نام سے 1971ء میں بھی ایک فلم بن چکی ہے لیکن مارٹن اسکورسیز کی یہ فلم شاہکار ہے۔ گو کہ باکس آفس پر بُری طرح پٹی، شاید اپنی سست کہانی اور طوالت کی وجہ سے، لیکن ناقدین اسے ایک بہت اچھی فلم مانتے ہیں۔


Blade Runner 2049


2017ء کی یہ فلم بھی ایک بھیانک مستقبل کو بیان کرتی سائنس فکشن ہے، جو دراصل 1982ء کی فلم ‘بلیڈ رنر’ کا sequel ہے۔ فلم میں ریان گوسلنگ اور ہیریسن فورڈ نے مرکزی کردار نبھائے ہیں۔ کہانی میں K نامی ایک انسان نما روبوٹ ایسا راز افشاء کر دیتا ہے جس سے تہلکہ مچ جاتا ہے۔ گو کہ فلم باکس آفس پر اتنے زیادہ نہیں کما پائی لیکن دو اکیڈمی ایوارڈز جیتنے میں کامیاب رہی اور ناقدین نے بھی اسے خوب سراہا۔


Dunkirk


کرسٹوفر نولان کا ایک اور شاہکار، دوسری جنگِ عظیم کے دوران ڈنکرک محاذ کی داستان بیان کرتی یہ فلم 2017ء میں ریلیز ہوئی تھی۔ یہ تین طرف سے نازی جرمن سپاہیوں میں پھنسی برطانوی فوج کو نکالنے کی کوشش بہت ہی خوبی سے بیان کرتی ہے۔ فلم نے تین اکیڈمی ایوارڈز تو جیتے لیکن بہترین فلم اور ڈائریکٹر کا اعزاز حاصل نہیں کر پائی۔


Green Book


2018ء کی فلم ‘گرین بک’ دراصل 60ء کی دہائی کو بیان کرتی ہے جس میں ایک سیاہ فام موسیقار امریکا کے ان جنوبی علاقوں کا رخ کرتا ہے جہاں نسلی امتیاز اپنے عروج پر ہے۔ فلم نے باکس آفس میں بھی تباہی مچائی اور بعد میں بہترین فلم سمیت تین آسکر ایوارڈز جیتے۔


1917


دوسری جنگِ عظیم پر تو بہت فلمیں بنی ہیں، آپ دیکھ دیکھ کر تھک جائیں گے اور یہ ختم نہیں ہوں گی لیکن پہلی جنگِ عظیم کو بہت کم موضوع بنایا گیا ہے۔ انہی میں سے ایک فلم 2019ء میں ریلیز ہوئی، ڈائریکٹر سیم مینڈس کی ‘1917’۔ یہ داستان ہے دو سپاہیوں کی جو دوسرے محاذ پر اپنی افواج کو پیغام پہنچانے کے لیے نکلتے ہیں۔ اس فلم کی خاص بات اس کا اس طرح فلمانا ہے گویا یہ ‘سنگل شاٹ’ ہے، یعنی فلم میں آپ کو کوئی واضح کٹ نظر نہیں آئے گا۔ فلم کو دس اکیڈمی ایوارڈز کے لیے نامزدگی ملی اور یہ بہترین سینماٹوگرافی سمیت تین اعزازات حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔


Parasite


اسی سال یعنی 2019ء میں ریلیز ہونے والی جنوبی کوریا کی سنسنی خیز فلم ‘پیراسائٹ’، جس نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔ ڈائریکٹر بونگ جون-ہُو کی کہ فلم یہ ایک غریب خاندان کی کہانی بیان کرتی ہے جس کے ایک رکن کو ایک امیر خاندان میں بچوں کو ٹیوشن پڑھانے کی ذمہ داری ملتی ہے۔ اس موقع کو غنیمت جانتے ہوئے یہ غریب خاندان ایک، ایک کر کے گھر کے تمام ملازمین کی نوکریاں ہڑپ کرتا ہے، اس طرح گویا یہ ایک دوسرے کو نہیں جانتے۔ فلم نے چاروں اکیڈمی ایوارڈز جیتے، بہترین فلم، بہترین ڈائریکٹر، بہترین اوریجنل اسکرین پلے اور بہترین انٹرنیشنل فیچر فلم کا۔ یہ پہلی فلم بھی بنی کہ جو انگریزی زبان میں نہیں تھی اور بہترین فلم کا اکیڈمی ایوارڈ جیتا۔


Joker


2019ء میں ڈائریکٹر ٹوڈ فلپس کی فلم ‘جوکر’ بھی ریلیز ہوئی۔ یہ معروف کامک کریکٹر جوکر کی کہانی بیان کرتی ہے کہ جسے ہواکین فینکس نے زبردست انداز میں نبھایا۔ فلم میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح ایک ناکام مزاحیہ اداکار نفسیاتی مسائل سے دوچار ہوتا ہے اور اس کے اقدامات دیکھ کر گوتھم شہر میں امیروں کے خلاف ایک انقلاب برپا ہو جاتا ہے۔ فینکس کو بہترین اداکار کا ایوارڈ تو ملا ہی لیکن فلم نے باکس آفس پر تہلکہ مچا دیا تھا، جہاں اس نے ایک ارب ڈالرز سے زیادہ کمائے۔

ان تمام فلموں میں وہ ‘مٹیریل’ موجود ہے جو انہیں مستقبل میں کلاسک کا درجہ دے سکتا ہے۔ بہرحال، مستقبل میں کن موضوعات کو اہمیت دی جاتی ہے اور کون سے اس قابل نہیں رہتے، یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔ ہو سکتا ہے کہ جس فلم کو ابھی کوئی خاطر میں نہ لا رہا ہو وہ مستقبل میں ایک کلاسک کا درجہ حاصل کرے؟

مزید تحاریر

شاخِ زیتون پہ چہکتے گیلے تیتر – احمدحماد

قدیم یونان کے سات دانشمندوں سے ایک کا نام طالیس تھا۔ کہا جاتا ہے کہ یہ طالیس ہی تھا جس نے پہلے پہل یہ...

کورونا کے خاتمے تک قرضوں کی ادائیگی میں رعایت دی جائے، وزیر اعظم

وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ عالمی وبا کورونا وائرس کے ختم ہونے تک مقروض ممالک پر قرضہ واپسی کے حوالے سے...

جمعرات کو چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا

جمعرات 28 جنوری کو سعودی عرب کے مقامی وقت کے مطابق رات 12:43 پر چودہویں کا چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا۔ جدہ آسٹرونومی...

پاک-جنوبی افریقہ تاریخی ٹیسٹ، پاکستان ان کھلاڑیوں میں سے انتخاب کرے گا

پاک-جنوبی افریقہ تاریخی ٹیسٹ کل یعنی منگل سے کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں شروع ہو رہا ہے۔ پاکستان نے اپنے 20 رکنی ابتدائی اسکواڈ میں...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے