8.9 C
Islamabad
منگل, جنوری 26, 2021

نیب، مولانا اور دینِ الٰہی – احمد حماد

تازہ ترین

شاخِ زیتون پہ چہکتے گیلے تیتر – احمدحماد

قدیم یونان کے سات دانشمندوں سے ایک کا نام طالیس تھا۔ کہا جاتا ہے کہ یہ طالیس ہی تھا جس نے پہلے پہل یہ...

کورونا کے خاتمے تک قرضوں کی ادائیگی میں رعایت دی جائے، وزیر اعظم

وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ عالمی وبا کورونا وائرس کے ختم ہونے تک مقروض ممالک پر قرضہ واپسی کے حوالے سے...

جمعرات کو چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا

جمعرات 28 جنوری کو سعودی عرب کے مقامی وقت کے مطابق رات 12:43 پر چودہویں کا چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا۔ جدہ آسٹرونومی...

پاک-جنوبی افریقہ تاریخی ٹیسٹ، پاکستان ان کھلاڑیوں میں سے انتخاب کرے گا

پاک-جنوبی افریقہ تاریخی ٹیسٹ کل یعنی منگل سے کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں شروع ہو رہا ہے۔ پاکستان نے اپنے 20 رکنی ابتدائی اسکواڈ میں...
- Advertisement -

گزشتہ روز مولانا غفور حیدری نے پریس کانفرنس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مولانا فضل الرحمان ملک میں آئین کی بالادستی کی جدوجہد کر رہے ہیں۔ انہوں نے تنبیہ کی کہ اگر مولانا فضل الرحمان کے خلاف کسی بھی سطح کی کارروائی، یا پھر نیب کا نام لے کر کردار کشی کی مہم ترک نہ کی گئی تو ہم سمجھیں گے کہ یہ نیب نہیں ہے۔ یہ عمران نہیں ہے، بلکہ یہ جی ایچ کیو راولپنڈی ہے۔ نیب کے مقدر میں تو ویسے بھی رسوائی ہے۔ اگر یہ بدتمیزی/کردار کشی کا سلسلہ بند نہ کیا گیا تو پھر جی ایچ کیو راولپنڈی کے سامنے دھرنا دیں گے اور احتجاج ریکارڈ کروائیں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ فوج ہماری ہے۔ میں کہنا چاہتا ہوں کہ "نہ چھیڑ ملنگاں نوں”۔ مزید یہ کہ ہم نے تمام تکالیف برداشت کرنے کے لیے اپنے آپ کو تیار کیا ہوا ہے۔ اس لیے خدارا اس ملک کو تصادم کی طرف مت لے جائیں۔

مولانا غفور حیدری نے نیب پہ تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ تو محض کٹھ پُتلی ہے۔ ان کے تقریر میں عمران خان کا ذکر محض ایک ضمیمہ تھا۔ جس کا لب لباب یہ تھا کہ خان صاحب اس سارے ہنگام میں رجوع کے لیے ریلیوینٹ بندے نہیں۔ ان کے پاس کسی قسم کا کوئی اختیار نہیں۔ اگر عمران سیاستدان ہیں تو ہم اس کا مقابلہ کرنا چاہتے ہیں۔ اگر تم، عمران کے سر سے اپنا دستِ شفقت ہٹا دو تو اس کی حکومت دھڑام سے گر جائے گی۔ کیونکہ پارلیمنٹ میں اس کے پاس عددی برتری نہیں ہے۔

سطورِ بالا دراصل مولانا غفور حیدری کی پریس کانفرنس کا خلاصہ ہیں۔ اور ان کی گفتگو کے اہم ترین الفاظ کو ٹرانسکرائب کیا گیا ہے۔

یہ پریس کانفرنس سنتے ہوئے ہماری آنکھوں کے سامنے تاریخ کے کچھ ایسے اوراق روشن ہوئے جو ہمارے ہاں کے بعض طبقات کو یا تو بوجوہ نظر نہیں آتے یا نظر آ بھی جائیں تو ان کو اپنی فقہی/نظریاتی عصبیت کی وجہ سے نظر انداز کر کے، بلکہ ان کا جذباتی سطح پہ ابطال کر کے آگے بڑھ جاتے ہیں۔ اور وہ اوراق ہیں شہنشاہ اکبر کے دین الٰہی سے لے کر احمد شاہ ابدالی کے حملے تک بالخصوص؛ اور امام ربانی حضرتِ مجدد الفِ ثانی رح کی جدوجہد سے لے کر آج کی پی ڈی ایم میں شامل مذہبی جماعتوں کے سربراہان جناب انس نورانی اور مولانا فضل الرحمٰن تک بالعموم۔

تاریخ دان بتاتے ہیں کہ پہلے پہل مغلِ اعظم جلال الدین محمد اکبر کو دینِ محمدی سے بہت لگاؤ تھا۔ وہ علمائے کرام کا بہت احترام کرتا تھا اور اگر کسی عالم کو راستے میں سامنے سے آتا دیکھ لیتا تو گھوڑے سے اتر کر احتراماً کھڑا ہو جاتا۔علم سے اس کا یہ شغف آخری عمر تک قائم رہا۔ چونکہ اس زمانے کے علمائے کرام کو علم تھا کہ علم بادشاہ سلامت کی قربت کا سبب بنتا ہے، لہٰذا وہ علم حاصل کرنے اور اچھوتے خیالات پیش کرنے میں سرگرم رہتے۔ شیر شاہ سوری سے پہلی شکست کے بعد ہمایوں جب براستہ ایران، ہندوستان واپس آیا تو ایران کے علمائے کرام کو بھی ساتھ لایا۔ کہا جاتا ہے کہ ہمایوں کو کتابیں پڑھنے کا اتنا شوق تھا کہ وہ میدانِ جنگ میں بھی ایک چھوٹی سی لائبریری ہاتھیوں کی پشت پہ دھر کے لے جاتا اور فراغت میں مطالعہ کیا کرتا۔ اس زمانے میں برصغیر بھی شریعت میں امام ابو حنیفہ کے فقہ اور طریقت میں شیخ اکبر محی الدین ابن عربی کا مقلد تھا۔ ہمایوں کے ایران سے آنے کے بعد یہاں سنی اسلام کے ساتھ ساتھ شیعہ اسلام یعنی فقہ جعفریہ بھی بھرپور انداز میںمتعارف ہوا۔

ہمایوں کے بعد اکبر کے دربار میں بھی ہر دو طرح کے علماء موجود رہتے۔ انہی علماء میں سے بعضوں نے شہنشاہ اکبر کو قائل کر لیا کہ اب امام ابو حنیفہ کے فقہ کا دور ختم ہوا۔ اب اکبر کا دور ہے سو اس کا فقہ متعارف ہونا چاہیے۔ یہیں سے دینِ الٰہی کے بنیادی خدوخال وضع کرنے کا عمل شروع ہوا۔ دینِ الٰہی کیا تھا، برصغیر میں موجود مذہبوں کے نمایاں عقائد و افکار کو باہم ملا کر ایک معجون تیار کیا گیا تھا جو وحدتِ ادیان پہ یقین رکھتا تھا۔ اس دینِ الٰہی نے بہرحال اس دین سے گریز کی راہ نکال لی تھی جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے تھے۔

قدرت کا قانون ہے کہ ہر فرعون را موسیٰ؛ سو شہنشاہ اکبر کی وفات کے بعد شہنشاہ جہانگیر کے عہد میں جب دینِ الٰہی اپنے عروج کو پہنچا تو امام ربانی شیخ مجدد الف ثانی رح نے اس کے خلاف عملی جدوجہد کا آغاز کر دیا۔ آپ جہانگیر کے دربار تک گئے اور جہانگیر سمیت اس کے درباری علماء کو بلاخوف و خطر برسرِدربار بتایا کہ وہ سب لوگ دین کی اصل سے کس قدر دور جا چکے ہیں۔ مفکر اسلام علامہ اقبال نے عہدِ جانگیری کے اس بے مثال مردِ مجاہد کی شان میں جو اشعار کہے؛ ان میں‌سے چند ایک ملاحظہ ہوں:

حاضر ہوا میں شیخِ مجدد کی لحد پر
وہ خاک کہ ہے زیرِ فلک مطلعِ انوار

اس خاک کے ذرّوں سے ہیں شرمندہ ستارے
اس خاک میں پوشیدہ ہے وہ صاحبِ اسرار

گردن نہ جھُکی جس کی جہانگیر کے آگے
جس کے نفَسِ گرم سے ہے گرمیِ احرار

وہ ہِند میں سرمایۂ ملّت کا نِگہباں
اللہ نے بروقت کیا جس کو خبردار

قصہ مختصر، شیخِ مجدد رحمۃ اللہ علیہ کی سعیِ پیہم کا نتیجہ یہ نکلا جہانگیر نے دینِ الٰہی کو ترک کیا۔ لیکن چونکہ اب یہ دین دربار تک محدود نہیں رہا تھا سو ہر طرح کے جتن کے باوجود ہندوستان مکمل طور پہ ویسا نہ ہو سکا جیسا اکبر سے پہلے تھا۔سوشل چینج ایک روز میں رونما نہیں ہوتی۔ سو، وقت کا پہیہ اس رُخ پہ چلتا رہا جس رُخ پہ شیخِ مجدد رح ڈال کے گئے تھے۔اور، شہنشاہ عالمگیر کے دور تک آتے آتے وہ تبدیلی مکمل ہوئی جس کا آغاز شیخِ مجدد رح کی بے مثال سعی سے ہوا تھا۔ عالمگیر کی سلطنت، جغرافیائی لحاظ سےمغل بادشاہوں میں سےوسیع ترین سلطنت تھی۔ امن امان کے لحاظ سے بھی، اور نفاذِ شریعت کے اعتبار سے بھی یہ مستحکم ترین دور تھا۔ راقم کے خیال میں شیخ مجدد کی تبلیغ جو عہدِ جہانگیری میں شروع ہوئی، بالآخرجسدِعالمگیرمیں مجسم صورت میں سامنے آئی۔ عالمگیر کے عہد کی جتنی خوبیاں ہیں وہ شیخِ مجدد رح کی سعیِ بے مثال کا حاصل ہیں۔

تاریخ کے مزید چند اوراق پلٹیے، اب آپ کو مغلیہ سلطنت کا زوال مل رہا ہے۔ یہاں سیاسی افراتفری کے ساتھ ساتھ مذہبی تفرقہ بازی بھی نظر آتی ہے۔ اس فکری و سیاسی افراتفری کے ماحول میں حضرت شاہ ولی اللہ رح جنم لیتے ہیں اور شیخِ مجدد رح جہاں اپنا کام چھوڑ کر گئے تھے، شاہ ولی اللہ رح وہاں سے شروع کرتے ہیں۔ اسی اثناء میں انہیں مرہٹوں کا علاج احمد شاہ ابدالی کی شکل میں ملتا ہے سو اسے خط لکھ کے بلاتے ہیں۔ اور سیاسی کشیدگی کو ختم کرنے کی کوشش کے ساتھ ساتھ شاہ ولی اللہ رح دین میں در آنے والی غیر اسلامی فکریات کا رد بھی کرتے ہیں۔ شیخِ مجدد رح نے جب یہ دیکھا تھا کہ اکبر کے دربار کے علماء نے شیخِ اکبر محی الدین ابنِ عربی کی وحدۃ الوجود کا حلیہ بگاڑ کر اسے ہندو تصوف سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش کی، تو آپ نے وحدۃ الوجود کے بجائے وحدۃ الشہود کا خیال پیش کیا۔ شاہ ولی اللہ رح نے تصوف کے ان دونوں دبستانوں پہ ارتباطی نگاہ ڈالی اور شیشہِ تصوف کو مزید شفاف بنایا یعنی توحید اور شریعتِ محمدی کا پابند کیا۔شاہ ولی اللہ رح کی علمی خدمات پہ ہزاروں صفحات لکھے جا سکتے ہیں۔کوزے میں دریا بند کیجئے تو یوں کہیے کہ شاہ ولی اللہ رح شریعت اور طریقت کا حسین امتزاج تھے۔ ایسے بندگانِ خدا کم ہیں جو بیک وقت بلند پایہ عالمِ بے مثل بھی ہوں، مردِ مجاہد بھی اور صوفیِ باصفا بھی۔ ۔امام ربانی شیخِ مجدد الفِ ثانی رح اور شاہ ولی اللہ رح ایسے ہی بزرگ تھے

ڈاکٹر اسرار احمد کے بقول شیخِ مجدد بہرحال دینِ الٰہی میں غلطاں و پیچاں فکر کو دینِ اسلام کی اصل سے آٹھ سو برس قریب لے گئے، یعنی آٹھویں صدی عیسوی کے اوائل میں اسلام جس شکل میں برصغیر میں آیا، شیخِ مجدد رح نے سعیِ مسلسل سے اسے وہاں تک پہنچا دیا۔ اس سے آگے جو دو سو سال ہیں وہ سفر شاہ ولی اللہ رح نے طے کروایا۔ یوں، اسلامیانِ ہند تک اسلام کی وہ شکل پوری تفصیل کے ساتھ پہنچ گئی جس کی تشکیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بعثت سے خطبہ حجۃ الوداع تک فرماتے رہے۔

حضرت مجدد الفِ ثانی رح اور حضرت شاہ ولی اللہ رح کی زندگی ہمیں یہ بتاتی ہے کہ جب کبھی مسلمانوں پہ آزمائش آئی، اللہ تعالیٰ نے علمائے حق کو بروقت خبردار کیا اور انہوں نے عام مسلمانوں کو اس آزمائش سے نکالا۔

تاریخ کے مزید اوراق پلٹیے۔ پاکستان کی تخلیق کے جو بھی محرکات ہوں، یہ حقیقت جھٹلائی نہیں جا سکی کہ باوجود ہزار مشکلات اور انٹیلی جینٹشیا کی طرف سے معاندانہ رویے کے، یہاں کے علمائے حق نے ہمیشہ سچ کا علم اُٹھایا اور طاغوتی طاقتوں کے خلاف برسرِ پیکار ہو گئے۔ جب پاکستان ٹوٹ رہا تھا تو الشاہ احمد نورانی عوام کے حقِ حکمرانی کی جنگ لڑ رہے تھے۔ پاکستان کو ٹوٹنے سے بچانے کی کوشش کر رہے تھے۔ حضرت الشاہ احمد نورانی اس ملک میں کروڑوں مسلمانوں کے رہنما تھے۔ اسی طرح آئینِ پاکستان میں سے غیر اسلامی شقیں خارج کرنے کی سعی میں بریلوی عالم حضرت الشاہ احمد نورانی کے ساتھ دیوبندی عالم حضرت مفتی محمود، والد مولانا فضل الرحمٰن، پیش پیش تھے۔ بھٹو کے زیرنگرانی انعقاد پذیر ہونے والے 1977 کے متنازع انتخابات کے بعد احتجاجی تحریک کے سرِخیل اور مذاکراتی ٹیم کے رہنما حضرت مفتی محمود ہی تھے۔ ان کے فرزند اور پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے فوجی آمر ضیاء الحق کے خلاف عوامی و آئینی بالادستی کی جدوجہد کی پاداش میں جیلیں کاٹیں۔

پاکستان میں احناف کی اکثریت ہے۔ اور ان کے دو دھڑوں یعنی بریلوی اور دیوبندی مکاتیبِ فکر کے سربراہان نے وہی کہا اور اسی کے لیے جدوجہد کی جو سچ ہے۔ ہمیشہ سچ کو مقدم رکھا۔ اگرچہ ہماری انٹیلی جینٹشیا اور نام نہاد ماڈریٹ اذہان انہیں کبھی تضحیک اور کبھی تحقیر کا نشانہ بناتے رہے۔ کبھی یورپ کے ادوارِ مظلمہ کی مثال دے کر تو کبھی طالبان کے قتال کو بہانہ بنا کر؛ یہ لوگ علمائے حق کی جدوجہد کو تسلیم کرنے سے انکاری رہے۔

یہ رویہ درست نہیں۔ مبنی بر انصاف نہیں۔ یہ علمی رویہ بھی نہیں۔ علم رواداری سکھاتا ہے۔ جسے انٹیلیکچوئل ڈس آنسٹی کہتے ہیں، علم اس سے باز رکھتا ہے۔ لاعلم ہونا قابل معافی ہو سکتا ہے لیکن علم ہونے کے باوجود حقائق کو مسخ کرنا ناقابلِ معافی جرم ہے۔ اپنی اپنی عصبیتوں سے نکلیے۔ تاریخ پہ منصفانہ نظر ڈالیے اور آج کے حالات پہ بھی۔ اور فیصلہ دیجیے کہ ہائبرڈ ریجیم جس نے ملک کو لاقانونیت کا جنگل بنا دیا ہے، عوام کو حقِ حکمرانی سے محروم کر دیا ہے؛ کے خلاف مولانا فضل الرحمٰن کی قیادت میں انس نورانی سمیت پی ڈی ایم جو کام کر رہی وہی کام تاریخی طور پہ یہاں کے علمائے کرام کرتے آئے ہیں۔ علمائے حق نے عام مسلمانوں کو آزمائش کے دنوں میں تنہا نہیں‌چھوڑا۔ آپ بھی انہیں تنہا نہ چھوڑیے اور ظلم کے اس نظام کو بدلنے میں علمائے کرام کا ساتھ دیجیے۔

مزید تحاریر

شاخِ زیتون پہ چہکتے گیلے تیتر – احمدحماد

قدیم یونان کے سات دانشمندوں سے ایک کا نام طالیس تھا۔ کہا جاتا ہے کہ یہ طالیس ہی تھا جس نے پہلے پہل یہ...

کورونا کے خاتمے تک قرضوں کی ادائیگی میں رعایت دی جائے، وزیر اعظم

وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ عالمی وبا کورونا وائرس کے ختم ہونے تک مقروض ممالک پر قرضہ واپسی کے حوالے سے...

جمعرات کو چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا

جمعرات 28 جنوری کو سعودی عرب کے مقامی وقت کے مطابق رات 12:43 پر چودہویں کا چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا۔ جدہ آسٹرونومی...

پاک-جنوبی افریقہ تاریخی ٹیسٹ، پاکستان ان کھلاڑیوں میں سے انتخاب کرے گا

پاک-جنوبی افریقہ تاریخی ٹیسٹ کل یعنی منگل سے کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں شروع ہو رہا ہے۔ پاکستان نے اپنے 20 رکنی ابتدائی اسکواڈ میں...

4 تبصرے

  1. ماشاءاللہ
    بردست حقائق پر مبنی مختصر پُرمغز تحریر
    جو اب بھی نہ سمجھے ہم اس کیلئے اب بھی دعاہی کرسکتے ہیں۔
    اللہ پاک انہیں یدایت دے۔ آمین

  2. تاریخ سے بے بہرہ اور پروپیگنڈوں کی شکار قوم کو علمائے حق کی تاریخ کی ایک چھوٹی سی جھلک جاندار انداز میں دکھاکر اس پروپیگنڈوں سے بھرپور پرفتن دور میں آپ حضرت مجدد الف ثانی رح کی صف میں کھڑے ہوگئے، اللہ تعالیٰ اس کاوش کو قبول فرمائے، علم وعمل اور قلم میں برکت عطاء فرمائے۔

  3. بہترین واللہ ان حالات کو دیکھ کر جمعیت علماء اسلام اور قائد حضرت مولانا فضل الرحمن کا پیروکار ہونے کےحوالے سے ایمان میں مزید پختگی محسوس کر رہا ہوں۔

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے