8.9 C
Islamabad
منگل, جنوری 26, 2021

بچوں کی اسمارٹ فون کے لیے ضد، مقابلہ کیسے کریں؟

تازہ ترین

شاخِ زیتون پہ چہکتے گیلے تیتر – احمدحماد

قدیم یونان کے سات دانشمندوں سے ایک کا نام طالیس تھا۔ کہا جاتا ہے کہ یہ طالیس ہی تھا جس نے پہلے پہل یہ...

کورونا کے خاتمے تک قرضوں کی ادائیگی میں رعایت دی جائے، وزیر اعظم

وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ عالمی وبا کورونا وائرس کے ختم ہونے تک مقروض ممالک پر قرضہ واپسی کے حوالے سے...

جمعرات کو چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا

جمعرات 28 جنوری کو سعودی عرب کے مقامی وقت کے مطابق رات 12:43 پر چودہویں کا چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا۔ جدہ آسٹرونومی...

پاک-جنوبی افریقہ تاریخی ٹیسٹ، پاکستان ان کھلاڑیوں میں سے انتخاب کرے گا

پاک-جنوبی افریقہ تاریخی ٹیسٹ کل یعنی منگل سے کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں شروع ہو رہا ہے۔ پاکستان نے اپنے 20 رکنی ابتدائی اسکواڈ میں...
- Advertisement -

آجکل کے بچوں کا اپنے والدین سے سب سے بڑا مطالبہ یہی ہے کہ انہیں اسمارٹ فون دلایا جائے۔ اس کے لیے وہ کئی دلائل دیتے ہیں، لیکن آپ کو سب سے پہلے تو سمجھنا ہوگا کہ یہ معاملہ کتنا گمبھیر ہے اور پھر بچوں کے ‘دلائل’ کا جواب دینا بھی سیکھنا ہوگا۔

بلاشبہ ٹیکنالوجی نے ہماری زندگیاں آسان کر دی ہیں، لیکن والد یا والدہ کی حیثیت سے آپ کو یہ تشویش ضرور ہونی چاہیے کہ اسمارٹ فونز جیسی ڈیوائسز آپ کے بچے پر کیا اثرات مرتب کر سکتی ہیں اور کرتی ہیں۔

ایک ایسے وقت میں جب ہر بچے کے پاس اپنا موبائل ہونا عام ہوتا جا رہا ہے، آپ کو یہ بات سمجھنا ہوگی کہ اسمارٹ فون آپ کی بچے کی ذہنی و جسمانی نشو و نما پر کس طرح منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔ اسمارٹ فونز کے بے جا استعمال سے بچوں میں جو مسائل جنم لیتے ہیں، ان میں سے سب سے نمایاں یہ ہیں: والدین سے کھنچاؤ اور دُوری، تخلیقی صلاحیتوں کا محدود ہونا، نیند بُری طرح متاثر ہونا، سیکھنے کی صلاحیت میں کمی آنا اور فون کی لت پڑ جانا جس میں عمر کے ساتھ ساتھ اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ اسمارٹ فون کے بے جا استعمال کے ذہنی صحت پر منفی اثرات بھی سائنس سے ثابت شدہ ہیں۔ ان جدید ڈیوائسز کے استعمال سے جسمانی نقل و حرکت میں کمی آتی ہے اور یوں یہ موٹاپے کا سبب بھی بن سکتے ہیں جو خود کئی بیماریوں کی جڑ ہے۔ بچوں کو رویّے میں بھی تیزی سے تبدیلی آتی ہے، خاص طور پر گیمز بچوں کو تشدد پر اکسا سکتے ہیں۔ یہ فہرست اتنی طویل ہے کہ اس پر بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے اور لکھا بھی جا چکا ہے۔

لیکن فوری مسئلہ یہ ہے کہ بچوں کے اسمارٹ فون لینے کے مطالبات کا کیسے سامنا کیا جائے؟ بچے عموماً تین بنیادی دلائل رکھتے ہیں جن میں سب سے پہلا یہ ہوتا ہے کہ سب کے پاس موبائل ہے، میرے پاس کیوں نہیں؟

اس کا آسان سا جواب یہ ہے کہ کوئی بھی ایسی چیز جو آپ کے لیے اچھی نہیں ہوگی یا ہم اسے افورڈ نہیں کر سکتے، تو وہ آپ کو نہیں ملے گی۔ چاہے وہ کسی کے بھی پاس ہو، بلکہ سب کے پاس ہی کیوں نہ ہو۔ دراصل بچے اپنے اردگرد موجود دوسرے بچوں سے پڑنے والے دباؤ کو والدین کی جانب منتقل کرتے ہیں۔ اس کو انگریزی میں "peer pressure” کہتے ہیں۔ جیسا کہ آپ نے دیکھا ہوگا کہ دیر سے سونے کی ضد کرنا، کپڑوں میں کسی خاص قسم کا برانڈ خریدنا یا کوئی گیجٹ لینے پر اصرار کرنا۔ جب ہمارے بچے فون کے لیے ضد کرتے ہیں تو بھی پس پردہ یہی ‘پیئر پریشر’ ہوتا ہے کہ سب کے پاس ہے، میرے پاس کیوں نہیں؟

آپ بچے کی بات اچھی طرح سنیں اور پھر جو آپ کو بہتر لگے، وہ فیصلہ کریں۔ اگر آپ اس نتیجے تک پہنچتے ہیں کہ بچے کو فون دلانا چاہیے لیکن آپ اسے افورڈ نہیں کر سکتے تو اسے پیسے جمع کرنے کا کہیں۔ یہ بچے کے لیے ایک مشکل اور صبر آزما کام ہوگا، لیکن وہ اس میں بہت کچھ سیکھے گا۔ اگر بچہ بڑا ہے تو اسے چھوٹے بچوں کو ٹیوشن پڑھا کر پیسے جمع کرنے کا کہیں، اس سے اس میں احساسِ ذمہ داری بھی پیدا ہوگا اور بہت سی ایسی عادات بھی جو زندگی بھر کام آئیں گی۔

بچوں کا دوسرا ‘بہانہ’ عموماً یہ ہوتا ہے کہ میں دوستوں سے رابطے میں رہنا چاہتا ہوں۔ بچے کے چند دوستوں کے پاس واقعی اسمارٹ فون ہوگا اور وہ ٹیکسٹ میسیجز یا سوشل میڈیا کے ذریعے دوسرے دوستوں سے رابطے میں ہوں گے۔ اس لیے یہ مطالبہ بالکل جائز ہے کہ ہمارے بچے بھی دوستوں سے رابطے میں رہیں۔ لیکن یہی وجہ ہے کہ گھروں میں لینڈ لائن موجود ہوتی ہے، یا بڑوں کے فونز ہیں جن کو رابطے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس طرح وہ بڑوں کی نگرانی میں رہتے ہوئے رابطہ کر سکتے ہیں۔

اس کے علاوہ آپ ایسا اسمارٹ فون بھی خرید سکتے ہیں جس میں والدین کی اجازت کے بغیر کوئی ایپ انسٹال کرنے کی اجازت نہ ہو، اور ڈیوائس کے استعمال کا وقت بھی محدود کیا جا سکتا ہو۔ اس طرح ان میں جو اچھی عادات جنم لیں گی، وہ بڑے ہونے پر اپنی ڈیوائس ملنے پر بھی کام آئیں گی۔

تیسری اور سب سے بڑی دلیل یہ ہوتی ہے کہ میں آپ سے رابطے میں رہنا چاہتا ہوں اور عموماً والدین یہاں پگھل جاتے ہیں۔ وہ بھی چاہتے ہیں کہ بچے جہاں بھی جائیں، جو بھی کریں، انہیں فوراً پتہ چلے، اگر وہ کسی خطرے سے دوچار ہوں یا انہیں کسی مدد کی ضرورت ہو تو وہ گھر پر رابطہ کر سکیں۔ لیکن یاد رکھیں کہ بچے جہاں بھی جاتے ہیں، اپنے دوستوں کے گھر، اسکول میں، ٹیوشن میں، جہاں بھی وہاں ٹیلی فونز موجود ہوتے ہیں، جنہیں ضرورت پڑنے پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ویسے اس صورت میں ایک آسان طریقہ یہ بھی ہے کہ بچے کو ایسا فون دلا سکتے ہیں جس میں صرف رابطہ کرنے کی سہولت ہو، یعنی اسمارٹ فونز کے فیچرز نہ ہوں۔

مزید تحاریر

شاخِ زیتون پہ چہکتے گیلے تیتر – احمدحماد

قدیم یونان کے سات دانشمندوں سے ایک کا نام طالیس تھا۔ کہا جاتا ہے کہ یہ طالیس ہی تھا جس نے پہلے پہل یہ...

کورونا کے خاتمے تک قرضوں کی ادائیگی میں رعایت دی جائے، وزیر اعظم

وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ عالمی وبا کورونا وائرس کے ختم ہونے تک مقروض ممالک پر قرضہ واپسی کے حوالے سے...

جمعرات کو چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا

جمعرات 28 جنوری کو سعودی عرب کے مقامی وقت کے مطابق رات 12:43 پر چودہویں کا چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا۔ جدہ آسٹرونومی...

پاک-جنوبی افریقہ تاریخی ٹیسٹ، پاکستان ان کھلاڑیوں میں سے انتخاب کرے گا

پاک-جنوبی افریقہ تاریخی ٹیسٹ کل یعنی منگل سے کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں شروع ہو رہا ہے۔ پاکستان نے اپنے 20 رکنی ابتدائی اسکواڈ میں...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے