11.1 C
Islamabad
منگل, جنوری 26, 2021

‏ٹریک ٹو کا مذاکرات کی کہانی – سلمان احمد صوفی

تازہ ترین

شاخِ زیتون پہ چہکتے گیلے تیتر – احمدحماد

قدیم یونان کے سات دانشمندوں سے ایک کا نام طالیس تھا۔ کہا جاتا ہے کہ یہ طالیس ہی تھا جس نے پہلے پہل یہ...

کورونا کے خاتمے تک قرضوں کی ادائیگی میں رعایت دی جائے، وزیر اعظم

وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ عالمی وبا کورونا وائرس کے ختم ہونے تک مقروض ممالک پر قرضہ واپسی کے حوالے سے...

جمعرات کو چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا

جمعرات 28 جنوری کو سعودی عرب کے مقامی وقت کے مطابق رات 12:43 پر چودہویں کا چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا۔ جدہ آسٹرونومی...

پاک-جنوبی افریقہ تاریخی ٹیسٹ، پاکستان ان کھلاڑیوں میں سے انتخاب کرے گا

پاک-جنوبی افریقہ تاریخی ٹیسٹ کل یعنی منگل سے کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں شروع ہو رہا ہے۔ پاکستان نے اپنے 20 رکنی ابتدائی اسکواڈ میں...
- Advertisement -

بڑی سے بڑی جنگوں کے بعد بھی فریقین کو مذاکرات کی میز پہ بیٹھنا پڑتا ہے۔ بات کیے بنا بات نہ تو آگے بڑھتی ہے اور نا ہی کوئی بات بنتی ہے۔ گفت وشنید سے ہی نئی راہیں نکلتی ہیں۔ اس لیے سب "پاور پلیرز” کو مل بیٹھ کر بات کرنی چاہیے تاکہ ملک آگے کی سمت بڑھے۔

گزشتہ دنوں محمد علی درانی صاحب کی میاں شہباز شریف صاحب سے ملاقات نے بہت سے کانوں کو کھڑا۔ بہت سی چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں کہ پس پردہ کیا بات چیت چل رہی ہے؟ کیا کوئی نئی ڈیل یا این آر او ہو رہا ہے؟

آج ہم اسی بارےدماغ لڑانے کی کوشش کرتے ہیں کہ ان مذاکرات میں کیا نکات زیر بحث آسکتے ہیں اور ایک ایک کر کے سب ممکنات پہ بات کرتے ہیں۔ اپوزیشن سب سے پہلے موجودہ حکومت کے خاتمے اور نئے الیکشن کے انعقاد پہ بات کرنا چاہتی ہے۔ مگر پاکستان جیسی ریاست میں الیکشن کا ہونا کوئی آسان کام نہیں۔ یہ ایک ایسی کھیر ہے جس کو پکانے کے لیے بہت سے لوازمات ضروری ہوتے ہیں ۔ دودھ کدھر سے آئے گا؟ چینی کون لائے گا؟ برتن کس کا ہو گا ؟ آگ کیسے جلائی جائے گی؟ سب سے اہم سوال کہ یہ کھیر کون سے "باورچی” کی نگرانی میں پکائی جائے گی؟

یہ سب انتظامات ہو بھی جائیں تو کسی کو کیا خبر کہ کھیر کیسی ہو گی؟ کھانے والے ہی کھانے سے انکار کر دیں تو کیا ہو گا؟ یہ بھی ہوسکتا ہے کھانے والے خاموشی سے ہضم کر لیں مگر بعد میں ” باورچی” کو ہی رخصت پہ بھیج دیا جائے ؟ "باورچی” سارے "کچن” کی دیکھ بھال میں مصروف ہے وہ کیوں خوامخواہ کی پریشانی مول لے ؟ پہلے جتنی بار بھی "کھیر” پکی تو دنیا کے بڑے بڑے "باورچی "ضامن تھے۔اب کی بار ایسا کوئی” باورچی ” فی الحال ہاتھ ڈالنے کو تیار دکھائی نہیں دے رہا۔ تو "چیف شیف” بھی یہی چاہے گا ابھی کوئی خطرہ مول نہ لیا جائے اور جیسے تیسے کام چلایا جائے۔سب پرانی تنخواہوں پہ کام کرتے رہیں اورکسی کو "کچن” میں زیادہ شور شرابا بھی نا ڈالنے دیا جائے۔

دوسرا نکتہ جو زیر بحث آ سکتا ہےوہ یہ کہ کیسز کو ختم کیا جائے یا سرد خانے کے سپرد کیا جائے کیونکہ "سیاسی مریض” کو بہت سے مقدمات کی بیماریوں سے ڈرایا جا رہا ہے، "مریض” اب تنگ آ چکا ہے وہ ان مقدمات سے چھٹکارا چاہتا ہے تاکہ وہ سکھ کا سانس لے سکے،مگر اس کا تو ناطقہ بند کیا جا رہا ہے اور اسے بند گلی میں دھکیل دیا گیا ہے۔ "سیاسی مریض” اقتدار کی چاہ کی بیماری کے زیر اثر قابو سے باہر ہو رہا ہے، وہ ہذیانی کیفیت میں منہ سے جو کچھ نکالتا جائے گا اس کا نقصان "ڈاکٹر صاحب” کو بھی ہو گا، "ڈاکٹر صاحب” بھی سن کر پریشان ہیں کہ "سیاسی مریض” کو بڑی مشکل سے” ہسپتال” کی حدود سے باہر کیا تھا۔

مگر یہ اب بھی جان نہیں چھوڑ رہا تو اس کا کیا کیا جائے ؟ڈاکٹر صاحب کو اپنی عزت کا بھی بہت خیال ہے اور دوسری طرف انہیں "ہسپتال” کے امور کی فکر بھی کھائے جا رہی ہے، کیونکہ "ہسپتال” کی حالت اچھی نہیں۔ ہر وارڈ مریضوں سے بھرا پڑا ہے جو” نو آموز ڈاکٹر” ہسپتال کی نگرانی کے لیے آیا تھا، وہ تو بے چارے مریضوں کے جان لینے کے درپے ہے وہ تو کہتا ہے مریض قبر میں جا کر ہی سکون حاصل کریں گے تو ان کو قبر میں پہنچا کر دم لوں گا۔وہ کسی کی بات بھی نہیں سن رہا۔ "بڑے ڈاکٹرصاحب” کوئی نیا ڈاکٹر بھی نہیں لا سکتے کہ شہر میں اس وقت یہی ڈاکٹر میسر ہے تو اب "بڑے ڈاکٹرصاحب” بھی شش وپنج میں ہیں کہ اس ڈاکٹر کا کیا جائے ؟ کیونکہ یہ ڈاکٹر تھوڑا سا "اتھرا” بھی ہے، کہیں ہسپتال کے” بڑے ڈاکٹر صاحب”کے لیے ہی کوئی مشکل کھڑی نا کر دے۔ اسی لیے "بڑے ڈاکٹر صاحب ” بھی احتیاط سے کام لے رہے ہیں اور پھونک پھونک کر قدم آگے بڑھارہے ہیں تاکہ ہسپتال میں مزید کوئی بد مزگی نہ ہو۔ ” بڑے ڈاکٹر صاحب” نے "سیاسی مریض” کو اس کے اک”خیرخواہ” کے ہاتھ پیغام پہنچایا ہے کہ ابھی حالات ایسے نہیں کہ "سیاسی مریض” کے مقدمات کا علاج کیا جائے اس کے لیے جو کر ے گا وہ "قاضی وقت”ہی کرے گا۔

اگلا نکتہ جس پہ میرے خیال میں بات ہوگی وہ یہ کہ کہ جیسے تیسے کر کے اس حکومت کو پانچ سال پورے کرنے دیے جائیں اور اداروں کے خلاف بیان بازی سے پرہیز کیا جائے مگر جو اہم سوال اٹھتا ہے کہ اس کے بدلے پی ایم ایل این کو کیا ملے گا؟اس سوال کے جواب کے لیے میں فلیش بیک میں آپ کو زرداری صاحب کے دور حکومت میں لیے چلتا ہوں جب ہر دوسرا سیاسی "تجزیہ کار” حکومت کے جانے کی تاریخ دے رہا ہوتا تھا۔ ہم بھی اسکول کالج کے دور میں تھے تب ٹی وی کے مباحثے شوق سے دیکھتے تھے اور ابھی شعور کی سیڑھیوں پہ قدم رکھ رہے تھے۔ ہر چیز کو دیکھ اور سن کے ایویں خون جوش مارنے لگتا تھا۔ اس وقت کے برطرف چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری صاحب کے حق میں ریلی یا جلسے میں اعتزاز احسن پوری لے کے ساتھ "ریاست ہو گی ماں کے جیسی” گاتے تھے تو ہمارا خون جام کی مانند چھلک چھلک جاتا تھا ۔ یوں لگتا تھا جیسے ہمارے ملک کے دن پھرنے والے ہیں، بس یہ جج صاحب بحال ہو گئے تو ہمارے سب دکھ درد دھل جائیں گے ۔ میرے کانوں میں اقبال بانو کی گرجدار آواز میں فیض احمد فیض صاحب کی لازوال شاعری "ہم دیکھیں گے
لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے
ہم دیکھیں گے
وہ دن کہ جس کا وعدہ ہے
جو لوح ازل میں لکھا ہے
ہم دیکھیں گے۔۔۔

گونجتی تھی ۔ سوچتا تھا کہ میرے وطن کی کشتی اب بھنور سے نکل آئے گی۔ جج صاحب بحال ہو گئے تو حالات ضرور بدلیں گے۔ حالات بدلے مگر وکلا راہنماؤں کے اور ملک کو”کالے کوٹ” والوں کی "طاقت” تحفے میں نصیب ہوئی۔ وطن عزیز کے لوگوں کو ریاست "ماں” جیسی بھی مل گئی۔ یہ اور بات ان کی قسمت میں ہیر پھیر تھا وہ "ماں” روایتی سوتیلی ماں نکلی۔

لیں میں بات کرتے کرتے کہاں کا کہاں جا نکلا۔ زرداری صاحب کی حکومت کے بارے اینکرز صاحبان نت نئی تاریخیں دیتے تھے مگر وہ حکومت اپنے پانچ سال پورے کر کے گئی۔ اس کے پیچھے میاں شہباز شریف اور چوہدری نثار علی خان کی ان ملاقاتوں کا عمل دخل بھی تھا جن کی بدولت میاں نواز شریف صاحب کالا کوٹ پہن کر کورٹ میں اپنی "آنیاں جانیاں” لگائی رکھیں مگر حکومت کو پانچ سال پورے کرنے کی راہ میں کوئی روڑے نہیں اٹکائے، ان پانچ سال کے بعد جب الیکشن ہوئے تو حکومت "پکے” ہوئے پھل کی طرح پی ایم ایل این کی گود میں آگری۔

اب آتے ہیں موجودہ حالات کی طرف پی ایم ایل کو شہباز شریف کی قیادت میں اگلی باری دینے کے بارے "سوچا” جا سکتا ہے، اس کے لیے ان کو بس حکومت کو پانچ سال مکمل کرنے دینا ہوں گے وہ اپنا” سیاسی تماشا” لگائے رکھیں، سوشل میڈیا پہ حکومت کے چھکے چھڑاتے رہیں مگر عملی طور پہ کچھ نا کریں۔اس کے بدلے میں شہباز شریف کی رہائی بھی مل سکتی ہے اور وہ دوبارہ علاج کی غرض سے لندن جاسکتے ہیں اور مریم نواز صاحبہ کی والد کی "عیادت” کے لیے لندن روانگی کی” گنجائش” بھی نکل سکتی ہے۔ اس کے بعد راوی چین ہی چین لکھے گا۔۔۔

مزید تحاریر

شاخِ زیتون پہ چہکتے گیلے تیتر – احمدحماد

قدیم یونان کے سات دانشمندوں سے ایک کا نام طالیس تھا۔ کہا جاتا ہے کہ یہ طالیس ہی تھا جس نے پہلے پہل یہ...

کورونا کے خاتمے تک قرضوں کی ادائیگی میں رعایت دی جائے، وزیر اعظم

وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ عالمی وبا کورونا وائرس کے ختم ہونے تک مقروض ممالک پر قرضہ واپسی کے حوالے سے...

جمعرات کو چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا

جمعرات 28 جنوری کو سعودی عرب کے مقامی وقت کے مطابق رات 12:43 پر چودہویں کا چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا۔ جدہ آسٹرونومی...

پاک-جنوبی افریقہ تاریخی ٹیسٹ، پاکستان ان کھلاڑیوں میں سے انتخاب کرے گا

پاک-جنوبی افریقہ تاریخی ٹیسٹ کل یعنی منگل سے کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں شروع ہو رہا ہے۔ پاکستان نے اپنے 20 رکنی ابتدائی اسکواڈ میں...

ایک تبصرہ

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے