11.1 C
Islamabad
منگل, جنوری 26, 2021

موت کا سال – انعم حمید

تازہ ترین

شاخِ زیتون پہ چہکتے گیلے تیتر – احمدحماد

قدیم یونان کے سات دانشمندوں سے ایک کا نام طالیس تھا۔ کہا جاتا ہے کہ یہ طالیس ہی تھا جس نے پہلے پہل یہ...

کورونا کے خاتمے تک قرضوں کی ادائیگی میں رعایت دی جائے، وزیر اعظم

وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ عالمی وبا کورونا وائرس کے ختم ہونے تک مقروض ممالک پر قرضہ واپسی کے حوالے سے...

جمعرات کو چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا

جمعرات 28 جنوری کو سعودی عرب کے مقامی وقت کے مطابق رات 12:43 پر چودہویں کا چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا۔ جدہ آسٹرونومی...

پاک-جنوبی افریقہ تاریخی ٹیسٹ، پاکستان ان کھلاڑیوں میں سے انتخاب کرے گا

پاک-جنوبی افریقہ تاریخی ٹیسٹ کل یعنی منگل سے کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں شروع ہو رہا ہے۔ پاکستان نے اپنے 20 رکنی ابتدائی اسکواڈ میں...
- Advertisement -

سال 2020 کا سورج جب طلوع ہوا تو ہمیشہ کی طرح اس کے 365 دنوں سے بھی ہزاروں امیدیں بندھی تھیں لیکن ایک قاتل وائرس نے ہر امید پر پانی پھیر دیا۔ سال کے آغاز سے ہی کورونا وائرس کی صورت میں جس تباہی نے دنیا بھر کے دروازے پر دستک دی، سال کے اختتام تک اس نے سب کچھ تہس نہس کر دیا۔

انداز زیست بدل گئے ملنے ملانے… اٹھنے بیٹھنے اور محفلوں سے لطف اندوز ہونے کے انداز ہی نہیں بدلے۔۔۔ طور طریقے ہی بدل گئے، بہت کچھ قصہ پارینہ بن گیا۔

ہر نئے سال کی طرح اس سال کے آغاز پر بھی لوگ سمجھ رہے تھے کہ مستقبل میں ان کی زندگیاں بہتری کی طرف جا سکتی ہیں۔ لیکن سب کچھ اس کے برعکس رہا۔ کورونا وائرس کی عالمی وبا نے پوری دنیا کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ سب سے پہلے چین میں کوروناوائرس پھیلا، اس وقت اس وائرس کے بارے میں کسی کو کچھ معلوم ہی نہیں تھا لیکن دیکھتے ہی دیکھتے یہ معمولی وائرس پوری دنیا میں پھیل کر قاتل وائرس ثابت ہوا اور لاکھوں لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

یہ سال ہم سے محفلیں لے گیا۔۔۔قہقہے لے گیا۔۔۔۔بات بات پر ہاتھ پر ہاتھ مارنے کی عادت لے گیا۔۔۔پیار محبت لے کر فاصلے دے گیا!!

فاصلے جنھیں برا سمجھا جاتا تھا اب اپنے پیاروں سے سماجی فاصلہ رکھنا ضروری سمجھا جارہا ہے۔

یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ یہ سال انسانیت کے لیے بہت دردناک ثابت ہوا۔۔۔ اس سال ہمارے اردگر ہمارے جاننے والے۔۔۔ ہمارے چاہنے والے۔۔۔ ہمارے اپنے ہمارے پیارے بہت سے لوگ ہم سے بچھڑ گئے۔

کورونا وائرس کے خلاف جنگ میں ڈاکٹروں اور نرسوں نے جس جانفشانی سے اپنے فرائض سرانجام دیے، اس کی مثال نہیں ملتی۔

ڈاکٹر ہوں یا نرسیں صحت کا پورا عملہ اپنے فرائض ادا کرتے ہوئے کووڈ 19 کا شکار ہوا۔ اسی طرح صحافی برادری سے تعلق رکھنے والے ہمارے بہت سے ساتھی بھی پیشہ وارانہ فرائض کی ادائیگی کے دوران اس وبا سے متاثر ہو کر زندگی کی جنگ ہار گئے اور خود خبر بن گئے۔

دنیا میں آفات آتی ہیں، گزر جاتی ہیں لیکن یہ ایسی طویل ترین آفت تھی جو گزشتہ سال کے اختتام پر شروع ہوئی۔۔۔ یہ سال بھی ختم ہوگیا مگر اس آفت کے تھمنے کے تاحال کوئی آثار نہیں۔۔۔ آنے والے وقتوں میں شاید 2020 کو موت کے سال کے طور پر یاد رکھا جائے۔

‏‎‏‎دعا ہے کہ آنے والے سال پر گزرے سال کی کوئی پرچھائی نہ پڑے۔۔۔ نئے سال کا ہر دن خیر و عافیت سے گزرے۔۔۔ آمین

مزید تحاریر

شاخِ زیتون پہ چہکتے گیلے تیتر – احمدحماد

قدیم یونان کے سات دانشمندوں سے ایک کا نام طالیس تھا۔ کہا جاتا ہے کہ یہ طالیس ہی تھا جس نے پہلے پہل یہ...

کورونا کے خاتمے تک قرضوں کی ادائیگی میں رعایت دی جائے، وزیر اعظم

وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ عالمی وبا کورونا وائرس کے ختم ہونے تک مقروض ممالک پر قرضہ واپسی کے حوالے سے...

جمعرات کو چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا

جمعرات 28 جنوری کو سعودی عرب کے مقامی وقت کے مطابق رات 12:43 پر چودہویں کا چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا۔ جدہ آسٹرونومی...

پاک-جنوبی افریقہ تاریخی ٹیسٹ، پاکستان ان کھلاڑیوں میں سے انتخاب کرے گا

پاک-جنوبی افریقہ تاریخی ٹیسٹ کل یعنی منگل سے کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں شروع ہو رہا ہے۔ پاکستان نے اپنے 20 رکنی ابتدائی اسکواڈ میں...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے