11.1 C
Islamabad
منگل, جنوری 26, 2021

ونڈر ویمن 84، آخر ہالی ووڈ کو عربوں سے مسئلہ کیا ہے؟

تازہ ترین

شاخِ زیتون پہ چہکتے گیلے تیتر – احمدحماد

قدیم یونان کے سات دانشمندوں سے ایک کا نام طالیس تھا۔ کہا جاتا ہے کہ یہ طالیس ہی تھا جس نے پہلے پہل یہ...

کورونا کے خاتمے تک قرضوں کی ادائیگی میں رعایت دی جائے، وزیر اعظم

وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ عالمی وبا کورونا وائرس کے ختم ہونے تک مقروض ممالک پر قرضہ واپسی کے حوالے سے...

جمعرات کو چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا

جمعرات 28 جنوری کو سعودی عرب کے مقامی وقت کے مطابق رات 12:43 پر چودہویں کا چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا۔ جدہ آسٹرونومی...

پاک-جنوبی افریقہ تاریخی ٹیسٹ، پاکستان ان کھلاڑیوں میں سے انتخاب کرے گا

پاک-جنوبی افریقہ تاریخی ٹیسٹ کل یعنی منگل سے کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں شروع ہو رہا ہے۔ پاکستان نے اپنے 20 رکنی ابتدائی اسکواڈ میں...
- Advertisement -

2020ء میں دنیا کو وباء کے علاوہ نسل پرستی، شدت پسندی اسلاموفوبیا اور موسمیاتی تبدیلی ہی کا سامنا نہیں کرنا پڑا، بلکہ یہ سال جاتے جاتے دنیا کو ایک اور "تحفہ” دے کر گیا – ایک اور "ونڈر ویمن” فلم کی صورت میں۔

"ونڈر ویمن 84” جس کی ہدایات ایک مرتبہ پھر پیٹی جینکنس نے دی تھیں اور گیل گیڈوٹ ہمیں ایک مرتبہ پھر مرکزی کردار میں نظر آئیں، کرسمس کے دن ریلیز ہوئی۔ فلم کے بارے میں مختلف رائے ہیں۔ عموماً اداکاری، کردار، کہانی، اسپیشل افیکٹس وغیرہ پر تنقید کی جا رہی ہے۔ ناقدین نے اسے ایک سُست فلم قرار دیا ہے، جبکہ چند نے ناقص اداکاری اور کہانی میں جھول کی طرف توجہ دلائی ہے۔ لیکن ‘ونڈر ویمن’ کے پرستاروں نے اس ڈھائی گھنٹے کی فلم کا بھرپور لطف لیا ہے اور ایسے فینز کے بل بوتے پر ہی وارنر برادرز پہلے ہی تیسری اور آخری ونڈر ویمن فلم کا اعلان بھی کر چکا ہے۔

لیکن اس فلم کی کہانی، اور اس میں موجود خامیوں پر اس وقت انٹرنیٹ پر کئی لوگوں کو تحفظات ہیں۔ خاص طور پر وہ حصہ جس میں مصر دکھایا گیا۔ جہاں ونڈر ویمن کا حریف ولن میکسویل لارڈ ایک ‘شیطان صفت عرب جنگجو’ کے پاس جاتا ہے اور بالکل آپ نے درست پہنچانا، اس عرب کے پاس تیل کی دولت بھی بہت ہے اور وہ اقتدار کا بھی بھوکا ہے جیسا کہ عموماً ہالی ووڈ میں عربوں کو دکھایا جاتا ہے۔

تو 1984ء میں جیسا مصر انہوں نے دکھایا ہے اور جیسا درحقیقت مصر تھا، اس کو ہم کم سے کم الفاظ میں بھی ناگوار کہہ سکتے ہیں۔ ایک بدحال بلکہ تباہ حال جگہ جہاں لوگ صدیوں پرانے انداز و اطوار کے ساتھ جی رہے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ مصریوں نے ٹوئٹر پر مہم چلائی، جس میں انہوں نے اُس سال یعنی 1984ء کی تصاویر دنیا کو دکھائی کہ حقیقتاً مصر 36 سال پہلے مصر ایسا دِکھتا تھا۔

پھر امریکی سیاہ فام برادری نے بھی فلم میں اپنی تصویر کشی دیکھی۔ ایک تبصرہ کار نے کہا کہ "مجھے خوشی ہوئی کہ باربرا منروا کے باس کے طور پر ایک سیاہ فام خاتون کا مختصر کردار دیکھا۔ لیکن زیادہ تر غیر سفید فام کردار ایسا لگتا تھا کہ زبردستی گھسیڑے گئے ہیں، جیسا کہ 80ء کی دہائی کے ٹیلی وژن شوز میں کیا جاتا تھا، ایسا جان بوجھ کر تو نہیں کیا گیا؟”

فلم کے تین مناظر ایسے تھے جن سے اچھے خاصے لوگ بے مزہ ہوئے: پہلا مذکورہ بالا ‘شیطان صفت جنگجو’، کہ جس کا کردار عمرو واکد نے نبھایا تھا، خواہش کرتا ہے کہ اس کے علاقے کے گرد ایک ‘آسمانی دیوار’ کھڑی ہو جائے جو ‘کافروں’ کو دُور رکھے۔ یہ وہی بات ہے جو چھوٹی سے لے کر بڑی اسکرین تک ہر جگہ پیش کی جاتی ہے کہ عرب بنیادی طور پر مذہبی جنونی ہیں، طاقت و جاہ کے بھوکے، عورتوں سے بیزار اور بلاشک و شبہ بے وقوف ہیں۔ عمرو واکد نے ایک عرب کے اس کردار کو شاید زیادہ پیسے اور ایک بڑا پلیٹ فارم ملنے کی وجہ سے قبول کیا ہوگا۔

بہرحال، دوسرا اور کہیں عجیب منظر گیل گیڈوٹ کا ہے، جب ایک ایکشن سین کے دوران انہیں لڑائی کی زد میں آنے والے دو عرب بچوں کو بچانا ہوتا ہے۔ یہ غیر ضروری اور زبردستی کا گھسیڑا گیا منظر لگتا ہے۔ ایک ایسی اداکارہ جو اسرائیل کی فوج میں رہی ہیں، فلم میں ولن کے ساتھ اتنی اہم لڑائی چھوڑ کر ان دو عرب بچوں کو بچاتی ہیں جبکہ اصل زندگی میں ان کا فیصلہ کچھ اور ہوتا۔

اسرائیل میں گیڈوٹ کی تربیت کے ایام میں اُن کا ملک لبنان پر زبردست بمباری کر رہا تھا اور ایسے ہی عرب بچے زخمی، خوفزدہ اور بے گھر ہو رہے تھے۔ یہ فلسطینی نوجوانوں پر ہونے والے روزانہ کے مظالم سے الگ ہے۔

جب فلم کی کہانی اپنے عروج پر پہنچتی ہے تو ولن میکسویل لارڈ بذریعہ ٹیلی وژن دنیا بھر کے لیے ایک پیغام نشر کرتا ہے، جس کو سنتے ہوئے دنیا بھر کے لوگ اپنی اپنی خواہشات کا اظہار کرتے ہیں۔ اس میں ایک ‘عرب دہشت گرد’ اسنائپر شوٹر کو دکھایا جاتا ہے۔ وہ کیا مانگتا ہے؟ جی ہاں! آپ بالکل درست سمجھتے، نیوکلیئر ہتھیار۔

آخری ہالی ووڈ عربوں کو دہشت گردوں کے روپ میں پیش کرنے پر کیوں مُصر ہے؟ چاہے کوئی بھی فلم، کوئی بھی سال اور کوئي بھی تناظر کیوں نہ ہو؟ True Lies سے لے کر The Kingdom تک، آپ کو ہر جگہ یہی تاثر مضبوط کیا جاتا ہے۔

مجموعی طور پر فلم میں جو خامیاں تھیں، جس کی وجہ سے اس پر منفی ریویوز آ رہے ہیں اور ریٹنگ میں بھی بہت کمی ہوئی ہے، اس سے ہٹ کر بھی دیکھیں تو یہ مسلمانوں بالخصوص عربوں کے حوالے سے انہی اسٹیریوٹائپس کو آگے لے جانے والی فلم تھی، جیسا کہ ماضی میں آتی رہی ہیں۔

مزید تحاریر

شاخِ زیتون پہ چہکتے گیلے تیتر – احمدحماد

قدیم یونان کے سات دانشمندوں سے ایک کا نام طالیس تھا۔ کہا جاتا ہے کہ یہ طالیس ہی تھا جس نے پہلے پہل یہ...

کورونا کے خاتمے تک قرضوں کی ادائیگی میں رعایت دی جائے، وزیر اعظم

وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ عالمی وبا کورونا وائرس کے ختم ہونے تک مقروض ممالک پر قرضہ واپسی کے حوالے سے...

جمعرات کو چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا

جمعرات 28 جنوری کو سعودی عرب کے مقامی وقت کے مطابق رات 12:43 پر چودہویں کا چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا۔ جدہ آسٹرونومی...

پاک-جنوبی افریقہ تاریخی ٹیسٹ، پاکستان ان کھلاڑیوں میں سے انتخاب کرے گا

پاک-جنوبی افریقہ تاریخی ٹیسٹ کل یعنی منگل سے کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں شروع ہو رہا ہے۔ پاکستان نے اپنے 20 رکنی ابتدائی اسکواڈ میں...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے