8.9 C
Islamabad
منگل, جنوری 26, 2021

قرضہ قرضہ قرضہ! آخر پاکستان پر کتنا بیرونی قرضہ ہے؟

تازہ ترین

شاخِ زیتون پہ چہکتے گیلے تیتر – احمدحماد

قدیم یونان کے سات دانشمندوں سے ایک کا نام طالیس تھا۔ کہا جاتا ہے کہ یہ طالیس ہی تھا جس نے پہلے پہل یہ...

کورونا کے خاتمے تک قرضوں کی ادائیگی میں رعایت دی جائے، وزیر اعظم

وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ عالمی وبا کورونا وائرس کے ختم ہونے تک مقروض ممالک پر قرضہ واپسی کے حوالے سے...

جمعرات کو چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا

جمعرات 28 جنوری کو سعودی عرب کے مقامی وقت کے مطابق رات 12:43 پر چودہویں کا چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا۔ جدہ آسٹرونومی...

پاک-جنوبی افریقہ تاریخی ٹیسٹ، پاکستان ان کھلاڑیوں میں سے انتخاب کرے گا

پاک-جنوبی افریقہ تاریخی ٹیسٹ کل یعنی منگل سے کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں شروع ہو رہا ہے۔ پاکستان نے اپنے 20 رکنی ابتدائی اسکواڈ میں...
- Advertisement -

پاکستان میں قرضوں کی سیاست نئی نہیں، کم از کم پچھلی 3 دہائیوں سے تو کوئی سیاسی اجتماع یا محفل ایسی نہیں ہوتی کہ جس میں ‘قرضوں’ کا راگ نہ الاپا جائے۔ یہاں تک کہ 90ء کی دہائی کے اواخر میں ‘قرض اتارو، ملک سنوارو’ مہم تک چلائی گئی، لیکن کیا واقعی پاکستان پر اتنا قرضہ ہے؟

قرضوں کی مختلف اقسام ہوتی ہیں جیسا کہ سرکاری قرضہ، گردشی قرضہ، بیرونی قرضہ اور ہمارے ہاں جس قرضے کا سب سے زیادہ شور مچایا جاتا ہے وہ بیرونی قرضہ ہی ہے، یعنی وہ قرضہ جو غیر ملکی اداروں یا بین الاقوامی برادری کو ادا کرنا ہوتا ہے۔ اس کی ادائیگی کی صورت کرنسی کے تبادلے، اشیاء یا دیگر خدمات کی صورت میں ہو سکتی ہے۔

پاکستانی عوام کے لیے ہو سکتا ہے یہ بات حیران کُن ہو کہ عام طور پر بڑے اور ترقی یافتہ ممالک کے بیرونی قرضے زیادہ ہوتے ہیں۔ ہم پاکستانی تو سمجھتے ہیں کہ دنیا میں اِس وقت سب سے زیادہ قرضہ پاکستان پر ہے اور یہاں کا بچہ بچہ، بلکہ اس بچے کا بھی بال، بال تک قرضے میں جکڑا ہوا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کُل بیرونی قرضے کے لحاظ سے پاکستان دنیا میں 51 ویں نمبر پر ہے۔ تو آپ کے خیال میں پہلے نمبر پر کون ہوگا؟ دنیا کی واحد سپر پاور امریکا!

امریکا پر اِس وقت 179 کھرب ڈالرز سے بھی زیادہ کا قرضہ ہے، جو اتنا زیادہ ہے کہ دوسرے نمبر پر موجود برطانیہ کا قرضہ اس کا نصف بھی نہیں۔ برطانیہ 81 کھرب ڈالرز کے ساتھ دوسرے جبکہ فرانس 53 کھرب ڈالرز کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے، یعنی دنیا کی تین بڑی طاقتیں اس فہرست میں ٹاپ 3 پر موجود ہیں۔ جرمنی کا قرضہ بھی 53 کھرب ڈالرز ہی ہے البتہ وہ فرانس سے پیچھے ہے جبکہ نیدرلینڈز 40 کھرب ڈالرز کے ساتھ پانچویں نمبر پر موجود ہے۔ بتائیے، ان میں سے کون سا ملک ترقی یافتہ نہیں ہے؟

یہ معاملہ مزید آگے بھی ایسے ہی چلتا رہتا ہے، جاپان چھٹے، آئرلینڈ ساتویں، اٹلی آٹھویں، اسپین نویں اور آسٹریلیا دسویں نمبر پر ہیں اور ان سب کا قرضہ 17 سے 24 کھرب ڈالرز کے درمیان ہے۔

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے تین اراکین تو آپ نے ٹاپ 3 میں دیکھ لیے، باقی دونوں یعنی چین اور روس اس فہرست میں بالترتیب 13 ویں اور 20 ویں نمبر پر ہیں۔ چین پر موجود قرضہ 15 کھرب ڈالرز ہے جبکہ روس 5 کھرب ڈالرز کا بیرونی قرضہ رکھتا ہے۔

بھارت بھی لگ بھگ 5 کھرب ڈالرز کے قرضے کے ساتھ 22 ویں نمبر پر موجود ہے جبکہ ترکی کا قرضہ ساڑھے 4 کھرب ڈالرز ہے اور وہ 24 ویں نمبر پر ہے۔ دیگر نمایاں اور قابلِ ذکر ملکوں میں متحدہ عرب امارات 30 ویں، سعودی عرب 34 ویں، قطر 37 ویں اور اسرائیل 50 ویں نمبر پر ہے۔

جبکہ پاکستان 2019ء میں 82 ارب ڈالرز کے قرضے کے ساتھ اس فہرست میں ٹاپ 50 سے باہر 51 ویں نمبر پر ہے۔

قومی قرضوں کی تاریخ دو صدیوں سے بھی زیادہ پرانی ہے اور تاریخی رحجانات سے پتہ چلتا ہے کہ اُس زمانے میں عموماً جنگ کرنے کے لیے قرضے لیے جاتے تھے۔ لیکن گزشتہ تقریباً ایک صدی سے قرضہ عام طور پر معیشت کو رواں رکھنے کے لیے لیا جاتا ہے۔

بہرحال، کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ آبادی کو بھی تو ذہن میں رکھیں، تبھی اندازہ ہوگا کہ کس ملک کا قرضہ کتنا ہے۔ اس لحاظ سے بھی دیکھا جائے تو نمایاں ملکوں میں کئی ترقی یافتہ نام آتے ہیں۔ ویسے تو دنیا کے سب سے چھوٹے ممالک آگے ہیں جیسا کہ بحر الکاہل میں واقع جزائر پالاؤ کے ہر شخص پر تقریباً ساڑھے 8 لاکھ ڈالرز کا قرضہ ہے۔ پھر فرانس کے ساحل پر واقع چھوٹا سا ملک موناکو ہے، جس پر 4 لاکھ 34 ہزار ڈالرز فی کس قرضہ ہے۔ جبکہ نمایاں چھوٹے ممالک میں سنگاپور پر ہر شخص پر 2 لاکھ 31 ہزار ڈالرز قرض ہے۔

بڑے ممالک کو دیکھیں تو ہمیں برطانیہ یہاں بھی نمایاں نظر آتا ہے کہ جس پر 1 لاکھ 27 ہزار ڈالرز فی کس کا قرضہ ہے۔ ناروے، بیلجیئم، سوئیڈن، فن لینڈ، فرانس، ڈنمارک، آسٹریا، جرمنی، قطر، آسٹریلیا سمیت کئی ترقی یافتہ ممالک فی کس قرضے کے لحاظ سے ٹاپ 20 میں شمار ہوتے ہیں۔

فی کس کے لحاظ سے آپ کے خیال میں پاکستان کس نمبر پر ہوگا؟ آپ نے سوچا بھی نہیں ہوگا کہ یہاں پاکستان کا نمبر 153 واں ہے۔ پاکستان کے ہر شہری پر 525 ڈالرز کا قرضہ ہے اور وہ 211 ممالک اور خطوں میں 153 ویں نمبر پر موجود ہے۔ اس فہرست میں بھارت 113 ویں نمبر پر ہے کہ جس کے ہر شہری پر 1900 ڈالرز کا قرضہ موجود ہے یعنی پاکستانیوں سے تقریباً چار گُنا زیادہ۔

ان دونوں پہلوؤں سے قرضوں کو دیکھنے کے بعد آپ کو کچھ نہ کچھ سمجھ آ گیا ہوگا کہ اگر ملک ترقی یافتہ ہے، قرضہ واپس کرنے کی صلاحیت باآسانی رکھتا ہے تو اس کے لیے قرضہ لینے میں کوئی مضائقہ نہیں، جب تک کہ وہ اس سے ایسے منصوبے بنائے کہ جو ملک کی آمدنی میں مزید اضافہ کریں۔

اس لیے ماہرین قرضوں اور کُل مقامی پیداوار (جی ڈی پی) کا تناسب بھی لازماً دیکھتے ہیں یعنی کہ ملک سال بھر میں جتنی پیداوار رکھتا ہے، کُل قرضے اس کا کتنا فیصد بنتے ہیں؟

اس لحاظ سے بھی چھوٹے ممالک آگے نظر آتے ہیں جیسا کہ پالاؤ کا قرضہ اس کی کُل سالانہ معیشت سے 6,209 فیصد زیادہ ہے۔ موریشس اپنی کُل سالانہ پیداوار کا 1,536 فیصد زیادہ قرضہ رکھتا ہے۔ مالٹا اور قبرص کے بعد یہاں بھی سنگاپور کا نام آتا ہے جس کا قرضہ اس کی کُل سالانہ معیشت کا 453 فیصد ہے، یعنی ساڑھے چار گُنا سے بھی زیادہ۔

جی ڈی پی اور قرضوں کے تناسب کے لحاظ سے نمایاں اور قابلِ ذکر ملکوں میں ہمیں برطانیہ واضح نظر آتا ہے، جس کا بیرونی قرضہ اُس کی کُل سالانہ پیداوار کا 313 فیصد یعنی تین گُنا سے بھی زیادہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر برطانیہ اپنا بیرونی قرضہ اتارنا چاہے اور اپنی سال بھر کی کمائی بھی پھونک دے تو اسے اتارنے میں تین سال سے زیادہ کا عرصہ لگے گا۔

دیگر ترقی یافتہ ممالک کا حال بھی مختلف نہیں ہے۔ فرانس کا بیرونی قرضہ اس کی کُل جی ڈی پی کا 277 فیصد ہے، سوئٹزرلینڈ کا 269 فیصد، بیلجیئم کا 265 فیصد، یونان کا 228 فیصد، پرتگال کا 216 فیصد اور فِن لینڈ کا 196 فیصد ہے۔

جبکہ پاکستان کا قرضہ اس کی کل سالانہ پیداوار کا صرف 39 فیصد ہے اور اس لحاظ سے دنیا میں 111 ویں نمبر پر آتا ہے۔ جبکہ بھارت کا قرضہ اس کی جی ڈی پی کا صرف 19 فیصد بنتا ہے جبکہ یہ شرح بنگلہ دیش میں مزید کم ہوتی ہوئی صرف 12 فیصد رہ جاتی ہے۔

کُل قرضہ اور کُل جی ڈی پی کا تناسب (صرف نمایاں ممالک، 10 لاکھ سے زیادہ آبادی رکھنے والے)

مزید تحاریر

شاخِ زیتون پہ چہکتے گیلے تیتر – احمدحماد

قدیم یونان کے سات دانشمندوں سے ایک کا نام طالیس تھا۔ کہا جاتا ہے کہ یہ طالیس ہی تھا جس نے پہلے پہل یہ...

کورونا کے خاتمے تک قرضوں کی ادائیگی میں رعایت دی جائے، وزیر اعظم

وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ عالمی وبا کورونا وائرس کے ختم ہونے تک مقروض ممالک پر قرضہ واپسی کے حوالے سے...

جمعرات کو چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا

جمعرات 28 جنوری کو سعودی عرب کے مقامی وقت کے مطابق رات 12:43 پر چودہویں کا چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا۔ جدہ آسٹرونومی...

پاک-جنوبی افریقہ تاریخی ٹیسٹ، پاکستان ان کھلاڑیوں میں سے انتخاب کرے گا

پاک-جنوبی افریقہ تاریخی ٹیسٹ کل یعنی منگل سے کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں شروع ہو رہا ہے۔ پاکستان نے اپنے 20 رکنی ابتدائی اسکواڈ میں...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے