11.1 C
Islamabad
منگل, جنوری 26, 2021

‏2021ء میں پاکستان جائیں، برطانوی اخبار ٹیلی گراف

تازہ ترین

شاخِ زیتون پہ چہکتے گیلے تیتر – احمدحماد

قدیم یونان کے سات دانشمندوں سے ایک کا نام طالیس تھا۔ کہا جاتا ہے کہ یہ طالیس ہی تھا جس نے پہلے پہل یہ...

کورونا کے خاتمے تک قرضوں کی ادائیگی میں رعایت دی جائے، وزیر اعظم

وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ عالمی وبا کورونا وائرس کے ختم ہونے تک مقروض ممالک پر قرضہ واپسی کے حوالے سے...

جمعرات کو چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا

جمعرات 28 جنوری کو سعودی عرب کے مقامی وقت کے مطابق رات 12:43 پر چودہویں کا چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا۔ جدہ آسٹرونومی...

پاک-جنوبی افریقہ تاریخی ٹیسٹ، پاکستان ان کھلاڑیوں میں سے انتخاب کرے گا

پاک-جنوبی افریقہ تاریخی ٹیسٹ کل یعنی منگل سے کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں شروع ہو رہا ہے۔ پاکستان نے اپنے 20 رکنی ابتدائی اسکواڈ میں...
- Advertisement -

لاک ڈاؤن کے بعد ایڈونچر کے لیے آپ کا انتخاب پاکستان ہی کیوں ہونا چاہیے؟ اس سوال کا جواب دیتے ہیں برطانیہ کے معروف روزنامہ ‘ٹیلی گراف’ کے لکھاری پیٹر واٹسن کہ جو 2019ء کے موسمِ خزاں میں پاکستان آئے تھے اور اپنی حالیہ تحریر ان یادوں کو تازہ کرتے ہوئے پاکستان کو ترجیحات میں اولین نمبروں پر رکھنے کا کہہ رہے ہیں۔

انہوں نے لکھا ہے کہ 2019ء کے موسمِ خزاں میں جب دنیا کو کووِڈ-19 کے بارے میں کچھ پتہ نہیں تھا تو وہ پاکستان میں قراقرم کے پہاڑی سلسلے میں موجود تھے۔ انہوں نے دو ہفتوں مبنی کے2 بَیس کیمپ ٹریک مکمل کیا اور دنیا کی دوسری بلند ترین پہاڑی چوٹی کے قدموں تک پہنچے۔

کونکورڈیا بالتورو اور گوڈوِن-آسٹن گلیشیئرز کے سنگم پر سطح سمندر سے تقریباً 4,600 میٹرز کی بلندی پر واقع ہے۔ یہ مغربی مغربی یورپ کی سب سے بلند اور مشہور چوٹی موں بلاں (مونٹ بلینک) کی اونچائی سے بس تھوڑا سا ہی کم ہے۔ لکھتے ہیں کہ "یہاں کے مناظر دیکھ کر ایلپس بونا لگتا ہے، یہاں آ کر جو کچھ دیکھنے کو ملتا ہے وہ صرف ایشیا کے عظیم ترین پہاڑی سلسلوں میں ہی مل سکتا ہے۔”

کونکورڈیا کے گرد دنیا کی فلک شگاف چوٹیوں کا سب سے بڑا مجموعہ ہے، 4 ایسی چوٹیاں کہ جن کی بلندی 8 ہزار میٹرز سے بھی زیادہ ہیں۔ جبکہ پوری دنیا میں ایسی چوٹیوں کی تعداد صرف 14 ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کونکورڈیا کو "پہاڑی دیوتاؤں کا تختِ شاہی” کہا جاتا ہے۔

واٹسن لکھتے ہیں کہ "بائیں جانب مجھے گوڈوِن-آسٹن گلیشیئر کے ساتھ ‘کے2’ اپنی پوری شان و شوکت سے نمایاں نظر آ رہا ہے۔ پاکستان کا یہ "ظالم پہاڑ” نیپال کے ماؤنٹ ایورسٹ کے بعد دوسرے نمبر پر ضرور ہے لیکن اس کی شان و شوکت اور وقار اسے دنیا کی سب سے متاثر کُن چوٹی بناتا ہے۔ لیکن ایک طرف جہاں نیپال میں ہر سال 10 لاکھ سیاح آتے ہیں، پاکستان کی ٹریکنگ انڈسٹری نائن الیون کے بعد سے رو بہ زوال ہے، لیکن اب سب کچھ بدلنے والا ہے۔”

وزیر اعظم بننے کے بعد عمران خان نے سیاحت کو اپنے ایجنڈے کا اہم ترین حصہ بنایا۔ سیاحتی ویزوں میں اضافہ کیا، آن لائن ویزا سسٹم تشکیل دیا، یہاں تک کہ برطانیہ کے شاہی خاندان نے ملک کا سرکاری دورہ بھی کیا اور وہاں سے براہِ راست اسلام آباد پروازیں بھی شروع ہوئیں۔ یوں برطانیہ سے سیاحوں، خاص طور پر ایڈونچرز کے شوقین افراد کی آمد ایک مرتبہ پھر شروع ہو گئی۔

اب کوہ پیما اور ٹریکنگ کے شوقین دنیا کے اس دُور دراز ترین علاقے میں جاتے ہیں کہ جہاں ‘کے2’ بھی ہے۔ 8,611 میٹرز بلند یہ چوٹی دنیا کی واحد ‘8 ہزاری’ چوٹی ہے جسے کبھی سردیوں میں سر نہیں کیا جا سکا۔ واٹسن بتاتے ہیں کہ "غیر ملکی کوہ پیماؤں کی بڑی تعداد اس وقت بیس کیمپ پر موجود ہے، جو اس کو سر کرنے کے خواب دیکھ رہے ہیں اور واقعی یہ سردیوں میں یہاں کا مصروف ترین سیزن لگتا ہے۔ ماضی کے قوانین کے تحت تو کبھی ایک وقت میں کوہ پیمائی کے اتنے اجازت نامے نہیں دیے جاتے تھے۔”

انہوں نے بتایا کہ کے2 مہم کو اسکردو سے آگے سڑک کو توسیع دینے سے بھی مدد ملی ہے۔ یہ شہر "قراقرم کا دروازہ” سمجھا جاتا ہے۔ سڑک سے یہاں سے بَیس کیمپ تک کے کمر توڑ سفر میں کئی دن کا فرق پڑا ہے۔

2021ء میں انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم 16 سال بعد پاکستان کا دورہ بھی کرے گا۔ یہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے برطانوی چیف ایگزیکٹو وسیم خان کا کارنامہ ہے کہ جنہوں نے ملک میں بین الاقوامی کرکٹ کے لیے بڑی جدوجہد کی ہے۔

سکیورٹی خدشات کی وجہ سے پاکستان میں کرکٹ نائن الیون کے بعد سے ہی متاثر ہونے لگی تھی، لیکن 2009ء میں سری لنکا کی کرکٹ ٹیم پر حملے نے اس پر مہر ثبت کر دی۔ 10 سال تک، 2009ء سے 2019ء تک، پاکستان میں ٹیسٹ کرکٹ نہیں کھیلی گئی اور پاکستان کو اپنے "ہوم” میچز متحدہ عرب امارات میں کھیلنا پڑے۔

لیکن پیٹر واٹسن کو امید ہے کہ انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم کے ساتھ فینز بھی پاکستان آئیں گے اور اس ملک کے شاندار مناظر کا لطف بھی اٹھائیں گے۔ "پاکستان کے بہترین مناظر پہاڑوں میں ہیں، جہاں میں وباء سے پہلے موجود تھا۔ جھوٹ نہیں بولوں گا، یہ راستہ بہت چیلنجنگ ہے۔ نیپال کے چائے خانے، خانقاہوں اور سووینیئر شاپس کو بھول جائیں کیونکہ یہ قراقرم ہے، ایک بیابان اور ویران علاقہ۔ جو بھی کے2 بَیس کیمپ تک جانا چاہتا ہے اسے کئی دن تک گلیشیئرز پر کیمپنگ کرنا پڑے گی۔ آرام کم ملے گا کیونکہ پاکستان کی ٹریکنگ انڈسٹری نیپال جتنی مضبوط نہیں۔ لیکن پاکستان میں کے2 بَیس کیمپ سے ہٹ کر بھی ٹریکنگ کے لیے بہت کچھ ہے۔ یہاں ان گنت بلند و بالا پہاڑ ہیں، شاندار مناظر پیش کرنے والے پہاڑی درّے ہیں اور دلکش سبزہ زار بھی، پاکستان میں ہائیکنگ کے لیے بہت سے آپشنز موجود ہیں اور بہت آرام دہ ٹریکس بھی۔”

واٹسن کہتے ہیں کہ اگر آپ 2021ء میں تعطیلات پر ٹریکنگ کے لیے جانا چاہتے ہیں تو ایلپس یا نیپال کے بجائے عظیم قراقرم کا رخ کریں، جہاں کی بلند و بالا پہاڑی چوٹیوں کے دامن میں موجود ٹریکس آپ کے منتظر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ٹریکنگ کے لیے دنیا کا ایک اہم ترین مقام بننے جا رہا ہے۔

مزید تحاریر

شاخِ زیتون پہ چہکتے گیلے تیتر – احمدحماد

قدیم یونان کے سات دانشمندوں سے ایک کا نام طالیس تھا۔ کہا جاتا ہے کہ یہ طالیس ہی تھا جس نے پہلے پہل یہ...

کورونا کے خاتمے تک قرضوں کی ادائیگی میں رعایت دی جائے، وزیر اعظم

وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ عالمی وبا کورونا وائرس کے ختم ہونے تک مقروض ممالک پر قرضہ واپسی کے حوالے سے...

جمعرات کو چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا

جمعرات 28 جنوری کو سعودی عرب کے مقامی وقت کے مطابق رات 12:43 پر چودہویں کا چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا۔ جدہ آسٹرونومی...

پاک-جنوبی افریقہ تاریخی ٹیسٹ، پاکستان ان کھلاڑیوں میں سے انتخاب کرے گا

پاک-جنوبی افریقہ تاریخی ٹیسٹ کل یعنی منگل سے کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں شروع ہو رہا ہے۔ پاکستان نے اپنے 20 رکنی ابتدائی اسکواڈ میں...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے