8.9 C
Islamabad
منگل, جنوری 26, 2021

سائنس دانوں نے شفاف سولر پینل بنا لیا

تازہ ترین

شاخِ زیتون پہ چہکتے گیلے تیتر – احمدحماد

قدیم یونان کے سات دانشمندوں سے ایک کا نام طالیس تھا۔ کہا جاتا ہے کہ یہ طالیس ہی تھا جس نے پہلے پہل یہ...

کورونا کے خاتمے تک قرضوں کی ادائیگی میں رعایت دی جائے، وزیر اعظم

وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ عالمی وبا کورونا وائرس کے ختم ہونے تک مقروض ممالک پر قرضہ واپسی کے حوالے سے...

جمعرات کو چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا

جمعرات 28 جنوری کو سعودی عرب کے مقامی وقت کے مطابق رات 12:43 پر چودہویں کا چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا۔ جدہ آسٹرونومی...

پاک-جنوبی افریقہ تاریخی ٹیسٹ، پاکستان ان کھلاڑیوں میں سے انتخاب کرے گا

پاک-جنوبی افریقہ تاریخی ٹیسٹ کل یعنی منگل سے کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں شروع ہو رہا ہے۔ پاکستان نے اپنے 20 رکنی ابتدائی اسکواڈ میں...
- Advertisement -

سائنس دانوں نے ایک مکمل طور پر شفاف سولر پینل تیار کر لیا ہے اور انہیں امید ہے کہ اس سے گھریلو استعمال کے لیے شمسی توانائی کو بہت فروغ ملے گا۔

اس وقت استعمال ہونے والے سولر پینلز یا تو شمسی بجلی گھروں میں لگائے جاتے ہیں یا گھریلو استعمال کے لیے چھتوں پر نصب کرنا پڑتے ہیں لیکن جنوبی کوریا کی انچیون یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے سائنس دان ایک نئے اور شفاف پینل کو عملی صورت دے چکے ہیں۔

عام طور پر سولر پینل کی رنگت کا سبب اس کی سیمی کنڈکٹر لیئرز ہوتی ہیں جو روشنی پکڑ کر اسے بجلی میں تبدیل کرتی ہیں۔ لیکن انچیون یونیورسٹی کے محققین نے ان لیئرز کو ٹائی ٹینیم ڈائی آکسائیڈ اور نکل آکسائیڈ سے تبدیل کر دیا ہے۔ یہ دونون مٹیریلز زبردست شفافیت رکھتے ہیں، اور روشنی ان میں سے باآسانی گزر سکتی ہے۔

لیکن ۔۔۔۔ اس شفاف سولر سیل کی مؤثریت بہت کم ہے، صرف اور صرف 2 فیصد۔ یہی وجہ ہے کہ سوانسی یونیورسٹی میں سینٹر فار سولر انرجی ریسرچ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر اسٹورٹ اروین کہتے ہیں کہ اس شفاف پینل کی بڑے پیمانے پر مقبولیت میں یہی سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ البتہ انہوں نے اس تحقیق کو "دلچسپ” ضرور قرار دیا ہے۔

اس سے پہلے سولر انرجی ریسرچ انسٹیٹیوٹ آف سنگاپور ڈبل سائیڈڈ یعنی دو طرفہ سولر پینلز بنا چکی ہے، جو عام سولر پینل سے 35 فیصد زیادہ مؤثر ہیں۔

سولر پینلز، کم دھوپ ہونے کے باوجود یورپ میں مقبول ہو رہے ہیں اور اٹلی، فرانس اور جرمنی میں ہاتھوں ہاتھ لیے جا رہے ہیں۔ 2020ء میں جرمنی میں شمسی پینلز لگانے میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 25 فیصد اضافہ ہوا۔ جب 2019ء میں یورپی یونین کی مجموعی بجلی کھپت کا 19.7 فیصد قابلِ تجدید ذرائع سے آیا ہے۔ اس حوالے سے سوئیڈن تقریباً 60 فیصد کے ساتھ سب سے آگے ہے جبکہ بیلجیئم صرف 10 فیصد کے ساتھ سب سے پیچھے ہے۔

بہرحال، کم مؤثر ہونے کے باوجود ڈاکٹر اروین نے ان شفاف سولر پینلز کی موبائل فونز یا چھوٹی گھریلو مصنوعات میں امکان کو رد نہیں کیا۔

مزید تحاریر

شاخِ زیتون پہ چہکتے گیلے تیتر – احمدحماد

قدیم یونان کے سات دانشمندوں سے ایک کا نام طالیس تھا۔ کہا جاتا ہے کہ یہ طالیس ہی تھا جس نے پہلے پہل یہ...

کورونا کے خاتمے تک قرضوں کی ادائیگی میں رعایت دی جائے، وزیر اعظم

وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ عالمی وبا کورونا وائرس کے ختم ہونے تک مقروض ممالک پر قرضہ واپسی کے حوالے سے...

جمعرات کو چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا

جمعرات 28 جنوری کو سعودی عرب کے مقامی وقت کے مطابق رات 12:43 پر چودہویں کا چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا۔ جدہ آسٹرونومی...

پاک-جنوبی افریقہ تاریخی ٹیسٹ، پاکستان ان کھلاڑیوں میں سے انتخاب کرے گا

پاک-جنوبی افریقہ تاریخی ٹیسٹ کل یعنی منگل سے کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں شروع ہو رہا ہے۔ پاکستان نے اپنے 20 رکنی ابتدائی اسکواڈ میں...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے