11.1 C
Islamabad
منگل, جنوری 26, 2021

کیا واٹس ایپ کا استعمال فوراً ترک کر دینا چاہیے؟

تازہ ترین

شاخِ زیتون پہ چہکتے گیلے تیتر – احمدحماد

قدیم یونان کے سات دانشمندوں سے ایک کا نام طالیس تھا۔ کہا جاتا ہے کہ یہ طالیس ہی تھا جس نے پہلے پہل یہ...

کورونا کے خاتمے تک قرضوں کی ادائیگی میں رعایت دی جائے، وزیر اعظم

وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ عالمی وبا کورونا وائرس کے ختم ہونے تک مقروض ممالک پر قرضہ واپسی کے حوالے سے...

جمعرات کو چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا

جمعرات 28 جنوری کو سعودی عرب کے مقامی وقت کے مطابق رات 12:43 پر چودہویں کا چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا۔ جدہ آسٹرونومی...

پاک-جنوبی افریقہ تاریخی ٹیسٹ، پاکستان ان کھلاڑیوں میں سے انتخاب کرے گا

پاک-جنوبی افریقہ تاریخی ٹیسٹ کل یعنی منگل سے کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں شروع ہو رہا ہے۔ پاکستان نے اپنے 20 رکنی ابتدائی اسکواڈ میں...
- Advertisement -

واٹس ایپ کے لیے یہ بھیانک دن ہیں۔ ایک طرف اسے صارفین کا ڈیٹا جمع کرنے پر ردعمل کا سامنا تھا تو دوسری طرف اب اس نے سب کو مجبور کر دیا ہے کہ نئی شرائط و ضوابط کو مان لیں کہ واٹس ایپ اپنے صارفین کا ڈیٹا فیس بک کے ساتھ شیئر کرے گا، اور نہ ماننے کی صورت میں اکاؤنٹ ڈیلیٹ کر دیا جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ اب بہت سے صارفین واٹس ایپ کا متبادل تلاش کر رہے ہیں۔ لیکن یہ جاننا ضروری ہے کہ آخر ایسا کیوں کرنا چاہیے؟

سائبر سکیورٹی ماہر زیک ڈوفمین کہتے ہیں کہ واٹس کا مسئلہ بہت سنجیدہ نوعیت کا ہے۔ دنیا کے اس معروف میسیجنگ پلیٹ فارم کا دعویٰ ہے کہ وہ رازداری کو فوقیت دیتا ہے لیکن وہ دنیا میں سب سے بڑی ڈیٹا چرانے والے کی ملکیت ہے۔ اب واٹس ایپ کے لیے توازن قائم رکھنا مشکل ہو گیا ہے کیونکہ وہ صارفین کو اکاؤنٹ ڈیلیٹ کرنے کی دھمکیاں دے رہا ہے کہ وہ نئی شرائط و ضوابط قبول کریں، جو 8 فروری سے لاگو ہو جائیں گی۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں لاکھوں صارفین نئے آپشنز دیکھ رہے ہیں۔

دراصل، واٹس ایپ کا یہ مسئلہ تب سے ہے، جب 2014ء میں فیس بک نے اسے خریدا تھا۔ تو اب اچانک کیا تبدیلی آئی ہے؟

اس معاملے پر پہلے سے نظریں رکھنے والوں کو معلوم ہوگا کہ پچھلے مہینے ایپل کی جانب سے لازمی پرائیویسی لیبلز متعارف کروائے گئے تھے۔ ایپل کے ان اقدامات کا سب سے بڑا ناقد فیس بک تھا۔ سب جانتے ہیں کہ فیس بک ڈیٹا چرانے والی مشین ہے۔ ان پرائیویسی لیبلز سے بری طرح متاثر ہونے والا واٹس ایپ بھی شکوہ کناں تھا کہ اس کے ڈیٹا اکٹھا کرنے کو غلط انداز میں پیش کیا گیا ہے اور یہ کہ ایپل کی اپنی ‘آئی میسیج’ ایپ کو اتنی جانچ کا سامنا نہیں کرنا پڑا، جو غیر منصفانہ قدم تھا۔

واٹس ایپ کا یہ کہنا تھا کہ ایپل آئی میسیج کی پرائیویسی لیبلز سامنے لے آیا اور یوں واٹس ایپ کا پول کھل گیا۔ اس کی ایپ آئی میسیج کے مقابلے میں کہیں زیادہ صارفین کا ڈیٹا جمع کرتی ہے۔

اس کے باوجود واٹس ایپ اپنی ڈیٹا پرائیویسی کا تحفظ کرتا رہا، تصدیق کی کہ بہت کم ڈیٹا فیس بک کے ساتھ شیئر کیا جاتا ہے، اور لیبلنگ نے اس کے سکیورٹی اقدامات سے صرفِ نظر کیا ہے اور یہ بھی کہ 2 ارب صارفین اور 100 ارب یومیہ پیغامات رکھنے والے اس پلیٹ فارم کو چلانے کے لیے یہ ڈیٹا حاصل کرنا ضروری تھا۔

واٹس ایپ مفت ہے، لیکن اس مفت سروس کے لیے جو قیمت ادا کر رہے ہیں، وہ اب واضح ہوتی جا رہی ہے۔

معاملہ محض آپ کے ڈیٹا کو فیس بک کے ساتھ شیئر کرنے کا نہیں ہے، ایسا وہ پہلے ہی کرتا ہے، بلکہ اس کا مقصد آپ کے ڈیٹا اور آپ کی سرگرمیوں سے خریداری اور کاروباری خدمات کے لیے پلیٹ فارم کی تشکیل ممکن بنانا ہے، تاکہ کاروباری ادارے آپ سے رابطہ کر سکیں اور آپ کو اپنی مصنوعات فروخت کر سکیں۔

اس کے لیے شرائط و ضوابط میں تبدیلی لانا ضروری تھی اور صارفین مجبور ہیں یا تو اس تبدیلی کو قبول کریں یا اکاؤنٹس سے محروم ہو جائیں۔ اب عالمی سطح پر سرخیاں جم رہی ہیں اور سوشل میڈيا پر افراتفری مچی ہوئی اور ساتھ ہی ایلون مسک بھی میدان میں کود چکے ہیں جنہوں نے مشورہ دیا ہے کہ ‘سگنل ایپ استعمال کریں۔’

واٹس ایپ کے ان اقدامات کا فائدہ اٹھایا ہے اس چھوٹی لیکن زیادہ محفوظ ایپ ‘سگنل’ نے۔ یہ واٹس ایپ جتنی کارآمد ایپ ہے لیکن اس کے سکیورٹی اور ڈیٹا معاملات بالکل شفاف ہیں۔

ماہرین کہتے ہیں کہ واٹس ایپ کا اس مقام تک پہنچنا ناگزیر تھا۔ بلکہ فیس بک کی جانب سے واٹس ایپ خریدنے کی وجہ ہی یہی تھی۔ چند ماہرین نے تو حیرت کا اظہار کیا ہے کہ آخر فیس بک نے اتنا وقت کیوں لگایا؟ بہرحال، ‘سگنل’ پر لوگ بڑی تعداد میں آ رہے ہیں اور یہ اچھی بات ہے کیونکہ اس سے اندازہ ہو رہا ہے کہ متبادل آپشن موجود ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ کیا وہ تمام لوگ بھی منتقل ہوں جن سے آپ رابطہ رکھتے ہیں۔

تو سوال یہ ہے کہ کیا واٹس ایپ کا استعمال بند کر دیں؟ مختصر جواب تو یہی ہے "نہیں۔” کیونکہ درحقیقت بدلا کچھ نہیں ہے۔ واٹس ایپ کی ڈیٹا شیئرنگ نہیں بدلی، اس کی سکیورٹی ویسی کی ویسی ہے، پھر اہم بات یہ ہے کہ یہ سب سے بڑا پلیٹ فارم ہے اور جن سے بھی آپ رابطے میں رہتے ہیں غالباً سبھی اسے استعمال کرتے ہیں۔ واٹس ایپ ایس ایم ایس اور فیس بک میسینجر سے بہتر ہے، جو اس کے بنیادی حریف ہیں۔ یہ آئی میسیج کے برعکس ایک محفوظ کراس-پلیٹ فارم ہے اور ٹیلی گرام کے مقابلے میں اینڈ-ٹو-اینڈ انکرپٹڈ بھی ہے۔

ایک ہفتے بعد اس ہنگامے کی دھول تو بیٹھ جائے گی لیکن سوال باقی رہے گا کہ کیا یہ واٹس ایپ کے اختتام کا آغاز ہے؟ کیا فیس بک بالآخر واٹس ایپ اپنی دیگر ایپس کے ساتھ آگے بڑھائے گا اور اگر ایسا ہوا تو وہ تمام خدشات درست ثابت ہوں گے جو 2014ء میں پیدا ہوئے تھے۔

مزید تحاریر

شاخِ زیتون پہ چہکتے گیلے تیتر – احمدحماد

قدیم یونان کے سات دانشمندوں سے ایک کا نام طالیس تھا۔ کہا جاتا ہے کہ یہ طالیس ہی تھا جس نے پہلے پہل یہ...

کورونا کے خاتمے تک قرضوں کی ادائیگی میں رعایت دی جائے، وزیر اعظم

وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ عالمی وبا کورونا وائرس کے ختم ہونے تک مقروض ممالک پر قرضہ واپسی کے حوالے سے...

جمعرات کو چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا

جمعرات 28 جنوری کو سعودی عرب کے مقامی وقت کے مطابق رات 12:43 پر چودہویں کا چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا۔ جدہ آسٹرونومی...

پاک-جنوبی افریقہ تاریخی ٹیسٹ، پاکستان ان کھلاڑیوں میں سے انتخاب کرے گا

پاک-جنوبی افریقہ تاریخی ٹیسٹ کل یعنی منگل سے کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں شروع ہو رہا ہے۔ پاکستان نے اپنے 20 رکنی ابتدائی اسکواڈ میں...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے