8.9 C
Islamabad
منگل, جنوری 26, 2021

براڈشیٹ نیب ایشو پر حکومت لندن کی عدالت کا فیصلہ پبلک کرے، سابق وزیراعظم کا مطالبہ

تازہ ترین

شاخِ زیتون پہ چہکتے گیلے تیتر – احمدحماد

قدیم یونان کے سات دانشمندوں سے ایک کا نام طالیس تھا۔ کہا جاتا ہے کہ یہ طالیس ہی تھا جس نے پہلے پہل یہ...

کورونا کے خاتمے تک قرضوں کی ادائیگی میں رعایت دی جائے، وزیر اعظم

وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ عالمی وبا کورونا وائرس کے ختم ہونے تک مقروض ممالک پر قرضہ واپسی کے حوالے سے...

جمعرات کو چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا

جمعرات 28 جنوری کو سعودی عرب کے مقامی وقت کے مطابق رات 12:43 پر چودہویں کا چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا۔ جدہ آسٹرونومی...

پاک-جنوبی افریقہ تاریخی ٹیسٹ، پاکستان ان کھلاڑیوں میں سے انتخاب کرے گا

پاک-جنوبی افریقہ تاریخی ٹیسٹ کل یعنی منگل سے کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں شروع ہو رہا ہے۔ پاکستان نے اپنے 20 رکنی ابتدائی اسکواڈ میں...
- Advertisement -

سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ پاکستان کے قومی خزانے کے 7 سو کروڑ کیوں ضائع کیے گئے؟ اس بات کی تحقیقات ہونی چاہیے۔ براڈشیٹ کیس کا فیصلہ پاکستانی عوام کے سامنے لایا جائے۔

کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر نائب صدر پاکستان مسلم لیگ ن نے براڈ شیٹ کی جانب سے لگائے گئے الزامات کے حوالے سے اظہار خیال کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ براڈ شیٹ نیب کی کہانی ہے، 20 سال تک نیب پہلے کیا کرتا رہا ہے اور اب کیا کررہا ہے۔ نیب کو خود شرم نہیں آتی اور اس سے پوچھنے والے بھی خاموش بیٹھے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ براڈ شیٹ کو ایک شخص کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ملا وہ ہے سابق وزیر اعظم نواز شریف۔ آج جو فیصلہ برطانیہ کی عدالت نے دیا ہے اس کو عوام کے سامنے رکھا جائے۔

شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ براڈ شیٹ نے جن لوگوں کے نام بتائے، وہ نام چھپائے گئے اور صرف قائد مسلم لیگ ن نواز شریف کے خلاف مواد اکٹھا کرنے کے لیے سات ارب روپے دیے گئے۔ جس شخص کو 7 ارب روپے دیے گئے کہ نواز شریف کے خلاف مواد اکھٹا کرو، اس کو کچھ نہیں ملا۔ اسی شخص نے الزام لگایا ہے کہ نیب کے افسران، موجودہ حکومت کے لوگ اور عسکری افراد نے مجھ سے پیسے مانگے۔

انہوں نے کہا کہ نیب دوسروں کو کٹہرے میں کھڑا کرتا ہے آج خود کٹہرے میں کھڑا ہے، براڈ شیٹ کا معاملہ کوئی معمولی معاملہ نہیں، نیب نے 7 ارب دیے، نیب کو کیا ملا؟ برطانوی عدالت کا فیصلہ پبلک کیوں نہیں کیا جاتا؟ اعلیٰ عدلیہ اس معاملے کا فوری نوٹس لے۔ ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے فیصلے میں لکھا کہ نیب سیاسی انجینئرنگ کا ادارہ ہے۔ جن لوگوں نے ملکی دولت لوٹی انہیں این آر او دیا گیا اور جن کے خلاف کچھ نہ ملا، انہیں عدالتوں میں گھسیٹا جا رہا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ سیاست میں مداخلت چھپانے کی آپ جتنی کوشش کریں، وہ فیصلوں اور عمل سے نظر آتی ہے۔ تین دن پہلے ہمارے تین اراکین قومی اسمبلی کو رابطہ کر کے کہا گیا کہ آپ استعفیٰ نہ دیں۔ دوسری طرف پی ایس او کے ایم ڈی کی تعیناتی کا آج بھی نیب کورٹ میں کیس چل رہا ہے، اس کیس کی حقیقت سندھ ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں بیان کردی ہے۔

مزید تحاریر

شاخِ زیتون پہ چہکتے گیلے تیتر – احمدحماد

قدیم یونان کے سات دانشمندوں سے ایک کا نام طالیس تھا۔ کہا جاتا ہے کہ یہ طالیس ہی تھا جس نے پہلے پہل یہ...

کورونا کے خاتمے تک قرضوں کی ادائیگی میں رعایت دی جائے، وزیر اعظم

وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ عالمی وبا کورونا وائرس کے ختم ہونے تک مقروض ممالک پر قرضہ واپسی کے حوالے سے...

جمعرات کو چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا

جمعرات 28 جنوری کو سعودی عرب کے مقامی وقت کے مطابق رات 12:43 پر چودہویں کا چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا۔ جدہ آسٹرونومی...

پاک-جنوبی افریقہ تاریخی ٹیسٹ، پاکستان ان کھلاڑیوں میں سے انتخاب کرے گا

پاک-جنوبی افریقہ تاریخی ٹیسٹ کل یعنی منگل سے کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں شروع ہو رہا ہے۔ پاکستان نے اپنے 20 رکنی ابتدائی اسکواڈ میں...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے