15.6 C
Islamabad
بدھ, مارچ 3, 2021

براڈشیٹ، پانامہ اور جھوٹ – احمد حماد

تازہ ترین

شاہد آفریدی کی ‘برتھ ڈے ٹوئٹ’، کہیں ریکارڈ نہ بدل جائے؟

شاہد آفریدی نے 25 سال پہلے اپنی پہلی ون ڈے اننگز میں صرف 37 گیندوں پر سنچری بنائی تھی، جو کرکٹ تاریخ کی تیز...

یوسف رضا گیلانی کو سینیٹ انتخابات میں فتح ہوگی، حمزہ شہباز

پاکستان مسلم لیگ ن رہنما اور قائد حزب اختلاف پنجاب اسمبلی حمزہ شہباز کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف میں اپنے ہی اراکین...

بھارت سے کپاس کی درآمد کا امکان، ٹیکسٹائل ملز ناخوش

لائن آف کنٹرول پر سیزفائر معاہدے کی بحالی کے بعد پاک-بھارت تعلقات کی مرحلہ وار بحالی کا امکان ہے اور ہو سکتا ہے کہ...

پاکستان اضافی بجلی سے بٹ کوائن بنا کر اپنا تمام قرضہ اتار سکتا ہے

حکومتِ پاکستان کا کہنا ہے کہ اس وقت ملک کی ضرورت سے زیادہ بجلی پوری ہو رہی ہے تو آخر پاکستان بٹ کوائن مائننگ...
- Advertisement -

وزیراعظم عمران خان نے براڈشیٹ کو پانامہ کے بعد ایک اور ایسی دستاویز قرار دیا جس نے اشرافیہ کی چوری اور کرپشن کا پردہ چاک کیا۔ انہوں نے ٹویٹس کا ایک پورا تھریڈ لکھ کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ براڈشیٹ کا اثر بھی پانامہ پیپرز جیسا ہوگا اور اس ملک کو کرپٹ اشرافیہ سے مکمل طور پہ نجات مل جائے گی۔
کیا فی الحقیقت ایسا ہوگا؟ اس کا فیصلہ جلد ہو جائے گا۔ سرِ دست ہم چند پہلوؤں پہ غور کرتے ہیں اور کسی نتیجے پہ پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔
براڈشیٹ کے سی ای او نے دو روز پہلے یہ بیان دیا کہ برطانوی ہائیکورٹ نے نیب یعنی حکومتِ پاکستان کے خلاف اور براڈشیٹ کے حق میںجو فیصلہ دیا ہے اس سے اگر نوازشریف کرپشن کیسز سے اپنی بریت ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تو جھوٹ بول رہے ہیں۔
ظاہر ہے کہ براڈشیٹ کے سی ای او موسوی کی جانب سے یہ بہت اہم بیان تھا جس پر حکومت اور مسلم لیگ ن کو اپنے اپنے زاویے سے ردعمل دینا تھا۔ توقع کے عین مطابق پہلے شہزاد اکبر اور اب وزیراعظم نے موسوی کے انکشاف کے تناظر میں وہی کہا جو وہ عرصے سے کہتے چلے آ رہے ہیں، لیکن ثبوت نہیں پیش کر رہے۔ ثبوتوں کی عدم موجودگی کی وجہ سے حکومت کو پاکستان کی عدلیہ سے بھی اور عوام کے سامنے بھی کئی بار شرمندگی اٹھانا پڑی۔
ایک سامنے کی مثال رانا ثناءاللہ کی ہے جنہیں پچیس کلو منشیات رکھنے پہ رنگے ہاتھوں پکڑا گیا اور اس جرم میں انہیں جیل بھی بھیج دیا گیا لیکن اللہ کو جان دینے کی قسمیں کھانے والے وزیر اور اینٹی نارکوٹکس کے حاضر سروس جرنیل افسر نے جو مؤقف اس گرفتاری کے بعد ایک پریس کانفرنس میں اختیار کیا، اسے وہ کسی فورم پہ ثابت نہ کر سکے۔ انہوں نے قوم کے سامنے جھوٹ بولا اور قوم سے معافی بھی نہیں مانگی۔ وہ ویڈیوز آج تک کوئی نہیں دیکھ سکا جس میں راناثناءاللہ کو رنگے ہاتھوں پکڑتے دکھایا گیا۔
موسوی کے الزام اور براڈشیٹ کے تناظر میں‌وزیراعظم کی ٹویٹس پہ مسلم لیگ ن نے بھی تشفی آمیز جواب فراہم کرنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے براڈشیٹ کی ساری تاریخ اور اس کے سابق آرمی چیف جنرل پرویز مشرف کے ساتھ تعلق کی نوعیت پہ سوالات اٹھا دیے ہیں۔ ان کے سوشل میڈیا ٹیم ممبرز اب موسوی کے وہ بیانات بھی چلا رہے ہیں جس میں موصوف اقرار کر رہے ہیں کہ میں یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ اب سے پندرہ برس پہلے مجھے رشوت کی پیشکش کرنے والے نوازشریف کا بھانجا ہی ہی تھا یا کوئی اور؛ کیونکہ ان دنوں مجھے اردو نہیں آتی تھی۔ اس کے علاوہ موسوی یہ بھی بتا رہے ہیں کہ پانامہ پیپرز کے فوری بعد مسٹر شریف پہ گہری نظر رکھنے والےایک فوجی افسر نے جو بوجوہ اپنا نام صیغہ راز میں رکھنا چاہتے تھے اور جو کسی خفیہ ایجنسی سے تعلق رکھتے تھے مجھے کہا کہ ہم آپ کے ساتھ معاہدہ ری نیو کرنے کو تیار ہیں۔ اگرآپ ہمیں ہمارا حصہ جسے وہ انگریزی میں ”کَٹس“ کہہ رہے ہیں، دینے پہ آمادہ ہو جائیں۔ موسوی نے مزید کہا کہ انٹیلی جنس افسر کی یہ بات سن کے مجھےصدمہ ہوا اور میں‌نے اس گفتگو کو ختم کر دیا۔
بعض پاکستانی تجزیہ کار براڈ شیٹ کے مسڑ موسوی کو اب ایک ڈُوبیَس یعنی مشکوک شخصیت قرار دے رہے ہیں۔ مسلم لیگ ن کو تو پہلے ہی اس کمپنی پہ شبہات تھے کہ جب اسے پہلا ٹھیکہ ملا تب اسے وجود میں آئے ہوئے صرف 6 ماہ ہوئے تھے وغیرہ وغیرہ۔ اب جبکہ موسوی کی حقیقت کھل گئی ہے تو پاکستانیوں کو بھی علم ہو گیا ہے کہ پاکستانی ٹیکس پیئرز کی قیمتی کمائی سے اربوں روپے جرمانے کی مد میں اینٹھنے والے موسوی دراصل کسی اگلے معاہدے کی تلاش میں ہیں جبھی وہ ایسی باتیں کر رہے ہیں جن سے انہیں دوبارہ کوئی کانٹریکٹ مل جائے۔ وہ کبھی نوازشریف کے خلاف بات کر رہے ہیں تاکہ وہ لوگ خوش ہو جائیں جو ان کو معاہدہ دلا سکتے ہیں اور کبھی وہ اس آفیسر کی بات کر رہے ہیں جواپنا حصہ مانگ رہا تھا، جسے انہوں نے کَٹ کہا ہے۔ اور یہ بات بتا کر یہ باور کروانے کی کوشش کر رہے ہیں‌کہ وہ کتنے فیئر اور دیانتدار ہیں سو، اگلے کانٹریکٹ کے حقدار وہی بنتے ہیں۔ کبھی اسی کٹ کی وجہ سے وہ شہزاد اکبر کو فارغ کرنے کی سفارش کر رہے ہیں تو کبھی حکومت سے کہہ رہے ہیں کہ وہ فہرست شائع کرے جس میں ان دو سو پاکستانیوں کے نام ہیں جن کی تحقیقات کا فیصلہ ہوا اور بعد ازاں بعض افراد کا نام واپس لے لیا گیا۔ یہ سب کام بقولے شخصے وہ ریلیوینٹ رہنے کے لیے کر رہے ہیں۔ تازہ ترین گفتگو میں انہوں‌نے خود فرمایا کہ اگر حکومت مجھے اگلا کانٹریکٹ دیتی ہے تو میں اردو سیکھ لوں گا۔
تاہم یہ امر دلچسپی سے خالی نہیں کہ براڈشیٹ کے جس غبارے میں پانامہ کی طرز پہ حکومت ہوا بھر رہی ہے، اس میں چھوٹا سا سوراخ عمر چیمہ کی رپورٹ اور انصار عباسی کے وی لاگ نے چند روز پہلے ہی کر دیا تھا۔ یہ دونوں انویسٹیگیٹو جرنلسٹس مجموعی طور پہ ہمیں یہ بتاتے ہیں کہ نیب نے پہلے پہل جب براڈشیٹ سے رابطہ کیا اور محض شریف خاندان کے اثاثوں کی چھان بین کا ٹاسک سونپا تو براڈشیٹ نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ وہ سیاسی وکٹمائزیشن کے عمل میں شریک نہیں ہوں گے۔ جس پر مزید افراد اور کاروباری اداروں کے نام شامل کیے گئے۔ اس طرح سن دو ہزار سے دو ہزار آٹھ کے درمیانی عرصے میں جن دو سو افراد کی فہرست براڈشیٹ کو فراہم کی گئی کہ ان کے اثاثے چیک کیے جائیں ان میں ملک کے نامور تاجر، بیوروکریٹس، سابق سربراہانِ افواجِ پاکستان اور سیاستدان شامل تھے۔
یاد رہے اس زمانے میں چونکہ چوہدری برادران مشرف  کے ساتھ تھے، سو ان کا نام شروع سے ہی شامل نہیں تھا۔ علاوہ ازیں، وقت کے ساتھ ساتھ جو شخص بھی اُس حکومت میں شامل ہوتا گیا یا پلی بارگین پہ آمادہ ہوا، اس کی تحقیقات روکنے کا حکم آتا گیا۔ مثلاً، ایک ٹویپ طاہر نعیم ملک جو ملک کے اعلیٰ عہدوں پہ کام کر چکے ہیں، بتاتے ہیں کہ نیب کے سابق افسر جنرل ریٹائرڈ عثمان شاہ نے ایک بار طاہر ملک کے سامنے ذکر کیا کہ ایک بریفنگ کے دوران میں جنرل مشرف نے ان کی یعنی عثمان شاہ کی اور جنرل امجد کی سرزنش کی کہ میں نے حکومت بھی چلانی ہے سوفلاں فلاں کے خلاف تحقیقات روک دی جائیں۔ پھر ایک روز این آر او آگیا جس نے اس فہرست سے بہت سارے نام خارج کر دیے۔
یہاں سے اندازہ کر لیجئے کہ جمہوریت کو معطل کر کے جنرل مشرف نے نیب سے کیسا کیسا کام لیا اور براڈشیٹ ہمارے لیے کیا کیا کام کرتی رہی۔
نیب اور براڈشیٹ کے حالیہ ٹیسٹ میچ کے بعد ہمارے پاس اسکور کارڈ آ چکا ہے۔
نیب یہ میچ بُری طرح ہار گیا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ ایک اننگز اور ساڑھے چار ارب رنز سے۔ ہمارے کپتان جی کو بڑے بڑے فگرز پسند ہیں نا جیسے کہ ایک ہزار کروڑ ارب، ننانوے سو کروڑ، نو سو ارب وغیرہ؛ اسی لیے وہ براڈشیٹ سے بھی لمبے فگر سے ہی ہارے یعنی ساڑھے چار ارب رنز سے۔ تفنن برطرف، نیب کو اربوں روپوں کے جرمانے کے علاوہ اس کارڈ پہ یہ تفاصیل بھی درج ہیں کہ نیب، براڈشیٹ سے  پسندیدہ لوگوں کی تحقیقات رکوانے اور ناپسندیدہ لوگوں کی تحقیقات جاری رکھنےکو کہتا رہا۔ مزید یہ کہ خود براڈشیٹ کے سی ای او کی کریڈیبلٹی بھی مشکوک ہو گئی۔ اب جب یہ اسکور کارڈ ہمارے سامنے ہے تو ہم اس کا تجزیہ کر سکتے ہیں سو چند ایک نکات پیشِ خدمت ہیں۔
ایک:
پانامہ پیپرز نے سوائے ایک غیر معروف سے ملک آئس لینڈ میں ہلچل مچانے کے، کسی قابلِ ذکر ملک میں کوئی ارتعاش پیدا نہیں کیا۔ اکثر بڑے ملکوں نے تو اسے ردی قرار دے کر ڈسٹ بِن میں پھینک دیا۔ لیکن چونکہ نوازشریف کی رُخصتی کا بزرگ فیصلہ کر چکے تھے، لہٰذا، ان پانامہ پیپرز کو ہمارے ملک میں تقدس کا وہ مقام ملا کہ یہ پیپرز آفاقی و الہامی سچائی کے پیامبر سُجھائی دینے لگے۔ اگرچہ ان میں نوازشریف کا نام نہیں تھا۔ نوازشریف کی کوئی آفشور کمپنی نہیں تھی۔ البتہ عمران خان کی آفشور کمپنی کا سراغ مل گیا جس کے بارے میں انہوں نے خود ایک پریس ٹاک میں بتایا۔ اس کے باوجود، جس کا نام نہیں تھا اس کو ساری مشینری استعمال کرکے نظام سے باہر نکال دیا گیا اور جس کی آفشور کمپنی کا سُراغ ملا، وہ صادق و امین قرار پایا اور وزیراعظم کے عہدے پہ فائز بھی ہوا۔ پانامہ کیس کو عدالت لے کر جانے والے امیر جماعت اسلامی سراج الحق سےسوشل میڈیا پہ اکثر لوگ دبے الفاظ میں اور احترام کے ساتھ پوچھتے ہیں کہ قبلہ ان دیگر چار سو سے زائد افراد کا کیا بنا جن کے نام پانامہ میں شامل تھے؟ یہ سوال آج بھی جواب کی راہ تکتا ہے۔ بس یہی حقیقت اور حیثیت تھی پانامہ پیپرز کی جنہوں نے ہمارے ملک میں بھونچال پیدا کر دیا تھا۔
 دو:
براڈشیٹ برطانوی عدالت میں حکومتِ پاکستان کے خلاف کیس جیتنے کے باوجود، پاکستانیوں کی نظر میں اپنے سی ای او کے متضاد اور رنگارنگ بیانات کی وجہ سے متنازع ہو چکی ہے۔ اور جس طرح تین روز قبل ہمارے دفاعی محکمے کے ترجمان کی پریسر کا ایک ہی دن میں ہر طرف سے رد سامنے آیا یعنی احسن اقبال، مولانا فضل الرحمان اور سارا سوشل میڈیا چیخ پڑا کہ جنرل صاحب نے جو فرمایا اسے سادہ زبان میں جھوٹ سے موسوم کیا جاتا ہے۔ انہوں نےالیکشن دوہزاراٹھارہ کے بارے میں بھی غلط بیانی فرمائی اور اس کے بعد سیاست میں ملوث نہ ہونے کے بارے میں بھی جھوٹ سے کام لیا۔ جس سے اس پریسر کا سارا اثر زائل ہوگیا، اسی طرح سوشل میڈیا نے براڈشیٹ کا کچا چٹھا بھی کھول کر سامنے رکھ دیا ہے۔
تین:
کچھ پی ڈی ایم کے اثرات ہیں کہ وہ عناصر بیک فُٹ پہ ہیں جو گزشتہ چند برسوں سے بہت جارحانہ اننگز کھیل رہے تھے اور کچھ سوشل میڈیا کی نفوذ پذیری؛ وزیراعظم یا مستقل مقتدر حلقے براڈشیٹ کو پانامہ پیپرز کی طرح استعمال نہیں کر پائیں گے۔ جس طرح پانامہ پیپرز کو غلط انداز میں استعمال کر کے نوازشریف کو رخصت کیا گیا، کپتان کی خواہش ہوگی کہ براڈشیٹ کو استعمال کر کے نوازشریف اور زرداری کو مستقلاً آؤٹ کر دیا جائے۔ لیکن کیا کیا جائے، وقت اب کپتان کے ساتھ نہیں۔
چار:
نیب کی کسی زمانے میں بہت دہشت ہوتی تھی۔ پارٹیاں بنانے توڑنے، سیاسی انجینئرنگ کرنے کے لیے اسے ہی استعمال کیا جاتا تھا۔ یعنی، اس کے پاس ایسے اختیارات تھے اور اب بھی ہیں کہ انسان خدا سے دعا مانگتا ہے کہ اس کی نظر اس پہ نہ نظر پڑے۔ پڑ گئی تو مجرم یا بےقصور کا فیصلہ تو بعد میں ہوگا، میڈیا ٹرائل، جیل اور رسوائی تو فیصلے سے بہت پہلے ہو چکی ہوگی۔ بریگیڈیر ریٹائرڈ منیر کی خودکشی، حالیہ دنوں میں ایک جواں سال بیوروکریٹ کی خودکشی اور تقریباً ڈھائی سال پہلے ایک استاد کا زیرحراست انتقال کرجانا جس کی لاش کو ہتھکڑی لگے دکھایا گیا تھا، یہ سب اسی کے کارناموں میںشمار ہوتے ہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ دو ہزار اٹھارہ کے دسمبر کی 27 تاریخ کو جی سی یُو لاہور کے کرپٹ ریزیڈنٹ آڈیٹر منشی طیب سراج جس نے اپنی نااہل بیوی کو امتحان میں بٹھانے کے لیے مجھے فون پہ ہتھکڑی کی دھمکی دی، بعدازاں میری تنخواہیں خود اپنے ہاتھ سے ضبط کیں جو مجھے آج تک نہیں ملیں اور مجھے غیر قانونی طور پہ ٹرمینیٹ کر کے دو جھوٹے مقدمات میں‌پھنسایا، اس نے بھی پہلی دھمکی مجھے نیب ہی کی لگائی تھی۔ خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ اس کی اپنی کرپشن پکڑی گئی جو وہ سابق وائس چانسلر کی مدد سے کرتا رہا تھا۔ اس کی داستانیں میڈیا پہ آئیں اور اس ریزیڈنٹ آڈیٹر کو یونیورسٹی سے جانا پڑا۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ یہ کرپٹ ریزیڈنٹ آڈیٹر اب اینٹی کرپشن ڈیپارٹمنٹ میں ڈپٹی ڈائریکٹر کے عہدے پہ فائز ہے۔ اور اس سے بھی زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ ایک تعلیمی ادارے کے وائس چانسلر نے اس کرپٹ منشی کو سزا دیے بغیر فارغ کردیا۔ مجھے توقع ہے کہ براڈشیٹ اور اپوزیشن سے نپٹنے کے بعد نیب جی سی یُو میں ہونے والی اس سفاکی کی بھی تحقیقات کرے گا اور منشی طیب سراج سمیت سب مجرموں کو سزا دلوائے گا۔
پانچ:
اس سارے کھیل سے جہاں‌یہ معلوم ہوا کہ نیب، براڈشیٹ اور حکومت کے بزرجمہر؛ سب جھوٹ بولنے میں طاق ہیں وہیں یہ بھی واضح ہوا کہ ترجمان دفاعی محکمہ جات بھی جھوٹ بولنے سے نہیں کتراتے۔ ہم ان تمام بزرگوں سے اپیل کرتے ہیں کہ خدا کے لیے، اپنی عاقبت کی خاطر، اپنے بچوں کی خاطر اور خدا کی مخلوق کے واسطے جھوٹ بول کر اس ملک کا نصیب کھوٹا مت کریں۔ جھوٹ کے بارے میں قرآن اور حدیث میں جو کچھ بیان ہوا ہے، اس کی تلخیص یوں کی گئی؛ الصدق ینجی والکذبُ یُہلک یعنی سچ ہمیں بری کرتا ہے اور جھوٹ ہلاک کر دیتا ہے۔ ملک کے تمام بڑے چھوٹے عہدوں پہ متمکن جوانوں اور بزرگوں سے میری دست بستہ استدعا ہےکہ اللہ تعالیٰ سے ڈریں۔ جھوٹ حرام ہے۔ اُمُ الخبائث ہے۔
 کتنا بُرا لگتا ہےانسان بالخصوص جب وہ سفید داڑی مونچھ کے ساتھ جھوٹ بول رہا ہو۔ بھلے آپ خضاب لگاتے ہوں، لیکن داڑی مونچھ رہے گی تو سفید ہی، بھلے بظاہر سیاہ نظر آئے۔ اللہ تعالیٰ سے ڈریں اور جھوٹ سے بچیں۔ جھوٹ ہلاکت ہے۔ ایوب خان، یحییٰ خان، پرویز مشرف اور اب آپ لوگ؛ کسی کے جھوٹ پوشیدہ نہیں رہے۔ سب عیاں ہو کر رہے اور جس جس نے جھوٹ بولا، خلقِ خدا کی نظر سے گرا۔ رُسوا ہوا۔ اگر کوئی جھوٹا شخص دوسرے جھوٹے کو عزت دے رہا ہے تو اس عزت پہ خوش مت ہوں۔ یہ سب عارضی ہے۔
جس طرح جدید دنیا کے سائنسدانوں کو اس ایک طاقت کی تلاش ہے جو دنیا پہ حکمرانی کر رہی ہے، اسی تلاش نے انہیں اسٹرنگ تھیوری اور کبھی ایم تھیوری کی راہ دکھائی؛ مجھے بھی اپنی ملک کی بربادی کے تمام بنیادی اسباب کی ماں، کسی ایک سبب کی بہت عرصے سے تلاش تھی۔ میں نے عمرِ عزیز کی چالیس بہاریں دیکھ لیں تب بھی سُنی سُنائی باتیں کرتا اس ضمن میں کہ بس تعلیمی نظام ٹھیک ہو جائے تو ملک سُدھر جائے۔
لیکن اب جب اپنی آنکھوں سے جی سی یُو کے وائس چانسلر، رجسٹرار، ریزیڈنٹ آڈیٹر، ایچ او ڈی اور ان سے منسلک افراد؛ اس سلسلے میں دیگر اداروں میں اعلیٰ عہدوں پہ فائز افسروں کو کھلے عام جھوٹ بول کر ایک بےقصور، محنتی اور مخلص شخص کو سزا دیتے یا ظالموں کا دستِ راست بنتے دیکھا تو گویا کسی نے خواب سے جھنجوڑ کے جگا دیا کہ بھئی محض نظری طور پہ مت اندازے لگاؤ کہ کون سا سبب ہے جو ملک کو برباد کر گیا۔ عملی طور پہ جو تم پہ گزری اور تمہارے ہموطنوں پہ گزر رہی ہے اس سے نتیجہ اخذ کرو کہ حقیقت کیا ہے۔ وہ کون سا سبب ہے، سببِ اُولیٰ جس نے اس ملک کو مہذب معاشرے کے بجائے لاقانونیت کے کالے جنگل میں ڈھال دیا ہے۔ بس، اس روز مجھ پہ آشکار ہو گئی کہ اس ملک کو دراصل جھوٹ نے برباد کر دیا ہے۔ اگرچہ بظاہر یہ بہت سادہ بات ہے۔ اور ہمارے روزمرہ مشاہدے کی بات ہے لیکن ہم اس کی ہلاکت خیزی اور عواقب سے بے خبر اپنی زندگی میں مست رہتے ہیں تاوقتیکہ خود ہم پہ کوئی افتاد نہیں پڑتی۔ ہمیں تب علم ہوتا ہے کہ ملک کے سب سے بڑے افسر سے لے کر چپڑاسی تک اور مارکیٹ سے یونیورسٹی تک؛ سب اپنی نئی نسل کو جھوٹ کی عملی تربیت دے رہے ہیں۔ اور جو شخص اس حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے اسے عبرت کا نشان بنا دیتے ہیں۔

مزید تحاریر

شاہد آفریدی کی ‘برتھ ڈے ٹوئٹ’، کہیں ریکارڈ نہ بدل جائے؟

شاہد آفریدی نے 25 سال پہلے اپنی پہلی ون ڈے اننگز میں صرف 37 گیندوں پر سنچری بنائی تھی، جو کرکٹ تاریخ کی تیز...

یوسف رضا گیلانی کو سینیٹ انتخابات میں فتح ہوگی، حمزہ شہباز

پاکستان مسلم لیگ ن رہنما اور قائد حزب اختلاف پنجاب اسمبلی حمزہ شہباز کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف میں اپنے ہی اراکین...

بھارت سے کپاس کی درآمد کا امکان، ٹیکسٹائل ملز ناخوش

لائن آف کنٹرول پر سیزفائر معاہدے کی بحالی کے بعد پاک-بھارت تعلقات کی مرحلہ وار بحالی کا امکان ہے اور ہو سکتا ہے کہ...

پاکستان اضافی بجلی سے بٹ کوائن بنا کر اپنا تمام قرضہ اتار سکتا ہے

حکومتِ پاکستان کا کہنا ہے کہ اس وقت ملک کی ضرورت سے زیادہ بجلی پوری ہو رہی ہے تو آخر پاکستان بٹ کوائن مائننگ...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے