15.6 C
Islamabad
بدھ, مارچ 3, 2021

شاخِ زیتون پہ چہکتے گیلے تیتر – احمدحماد

تازہ ترین

شاہد آفریدی کی ‘برتھ ڈے ٹوئٹ’، کہیں ریکارڈ نہ بدل جائے؟

شاہد آفریدی نے 25 سال پہلے اپنی پہلی ون ڈے اننگز میں صرف 37 گیندوں پر سنچری بنائی تھی، جو کرکٹ تاریخ کی تیز...

یوسف رضا گیلانی کو سینیٹ انتخابات میں فتح ہوگی، حمزہ شہباز

پاکستان مسلم لیگ ن رہنما اور قائد حزب اختلاف پنجاب اسمبلی حمزہ شہباز کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف میں اپنے ہی اراکین...

بھارت سے کپاس کی درآمد کا امکان، ٹیکسٹائل ملز ناخوش

لائن آف کنٹرول پر سیزفائر معاہدے کی بحالی کے بعد پاک-بھارت تعلقات کی مرحلہ وار بحالی کا امکان ہے اور ہو سکتا ہے کہ...

پاکستان اضافی بجلی سے بٹ کوائن بنا کر اپنا تمام قرضہ اتار سکتا ہے

حکومتِ پاکستان کا کہنا ہے کہ اس وقت ملک کی ضرورت سے زیادہ بجلی پوری ہو رہی ہے تو آخر پاکستان بٹ کوائن مائننگ...
- Advertisement -

قدیم یونان کے سات دانشمندوں سے ایک کا نام طالیس تھا۔ کہا جاتا ہے کہ یہ طالیس ہی تھا جس نے پہلے پہل یہ سراغ لگایا کہ ہر چیز پانی سے بنی ہے۔ تاریخ دانوں نے یہ بھی پتا لگا لیا کہ طالیس کے ذہن میں یہ خیال خلا سے نہیں آیا تھا بلکہ اس زمانے کی ایک نظم میں بھی کم و بیش یہی خیال پیش کیا گیا تھا کہ کائنات پانی سے بنی۔

طبعی سائنس کی ابتدا اس طرح ہی ہوئی جب طالیس اور اس جیسے دانشمندوں نے کائنات کے بنیادی عناصر کا سُراغ لگانے کی کوشش کا آغاز کیا۔ اس کوشش میں کسی نے بنیادی عنصر آگ کو قرار دیا تو کسی نے ہوا کو۔ ان کے بعد ایک شخص آیا جس کا نام ایمپیڈوکلیز تھا، اس نے کہا کہ کائنات محض کسی ایک عنصر پہ مبنی نہیں بلکہ اس کی بنیاد میںچار عناصر ہیں۔ آگ، پانی، مٹی اور ہوا۔ یوں طالیس کے ایک عنصر سے شروع ہونے والا  قافلہ، ایمپیڈوکلیز کےاس ارتباطی فلسفے کے اسٹیشن پہ آ رکا تاوقتیکہ لیوسی پس اور دیمقراطیس کی جوہریت نے کائنات کے بنیادی عناصر اربعہ کی نفی کی اور ایٹم کا تصور پیش کیا کہ کائنات کا بنیادی عنصر ایٹم ہے اور ہر چیز ایٹموں سے بنی ہے۔ اس طرح سائنس ایٹم کی دنیا میں داخل ہو گئی۔ اور ہوتے ہواتے یہ نیل بوہر تک آئی۔ آج کی دنیا، کوانٹم مکینکس، اسٹرنگ تھیوری اور سب اٹامک پارٹیکلز/گاڈز پارٹیکل کی دنیا طالیس کی ممنون ہے کہ اس نے جادو ٹونے اور اسطوریات میں گھرے پیچیدہ اور باکمال انسانی ذہن کی توجہ کائنات کی ساخت کی طرف مبذول کرائی۔

طالیس کے بارے میں لارڈ رسل نے ہمیں بتایا کہ چونکہ یہ ہر وقت اپنی سوچوں میں گم رہتا لہٰذا عالم استغراق کی بھول بھلیوں میں کھوئے ہوئے اس عظیم دانشمند کو دنیاداری کا ہوش نہ رہتا۔ اس کے گردوپیش کے لوگ اسے طعنے دیتے کہ تم کیا ہر وقت بیٹھے بیکار باتوں پہ غور کرتے رہتے ہو۔ تم نکمے اور نکھٹو ہو۔ یہ سوچنا ووچنا بھی کوئی کام ہوا بھلا؟ بھئی ہماری طرح کوئی ڈھنگ کا کام کرو۔ پیسہ کماؤ، گھربار بناؤ اور دنیا پہ اپنی ذہانت ثابت کرو تاکہ تمہیں دنیا ذہین و کامیاب گردانے۔ طالیس ان کی باتیں سن کبھی زیرلب مسکراتا اور کبھی زچ ہو جاتا۔ اس شبانہ روز چخ چخ سے تنگ آ کر ایک روز اس نے اپنے طعنہ زن دوستوں سے شرط لگا لی کہ ٹھیک ہے، کل میںبھی منڈی جاؤں گا اور تمہاری طرح اجناس بیچوں گا۔ تمہیں خود پہ یقین ہے نا کہ تم مجھ سے زیادہ اچھے تاجر ہو تو کل میں تم پہ ثابت کر دوں گا کہ تم غلط ہو۔ سو، طالیس نے اگلے روز منڈی جا کر زیتون کا پھل بیچنا شروع کیا۔ دن جب ختم ہوا تو وہ اپنے طعنہ زن دوستوں کے پاس گیا اور پوچھا، جناب، آپ نے آج کے روز کتنے پیسے کمائے؟ جب سب نے بتا دیا تو طالیس نے اپنی آمدن بتائی جو اس روز سب سے زیادہ کمائی کرنے والے دوست سے چار گنا زیادہ تھی۔ دوستوںکی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ طالیس اپنے ان دنیادار تاجر دوستوں سے گویا ہوا، آج میں نے ثابت کر دیا کہ جو کام تم کر کے کامیاب انسان کہلانے کے قابل ہوئے ہو، وہ کام میں تم سے چار گنا بہتر انداز میں کر سکتا ہوں۔ یعنی، تم جو کام کرتے ہو وہ کام میں تم سے چار گنا بہتر کرتا ہوں۔ لیکن جو کام میں کرتا ہوں وہ تم نہیں کر سکتے۔ سو، مجھے اپنے فکر و خیال کی دنیا میں مست رہنے دو۔ تم اپنا کام کرو مجھے اپنا کام کرنے دو۔ امید ہے تم آئندہ مجھے نکھٹو اور نکما نہیں کہو گے۔
۔۔۔۔۔۔۔

پاکستان نے شاہین میزائل کا یہ جو تازہ تجربہ کیا ہے اس سے اسرائیل تیس منٹ میں تباہ ہو سکتا ہے۔ ہمیں اپنی بقا کے لیے مضبوط دفاع کی ضرورت ہے۔ ملک رہے گا تو یہاں تعلیم ہوگی، صحت ہوگی، انفراسٹرکچر بہتر کرنے کا موقع ملے گا نا!

جب تک فیلڈ مارشل ایوب خان ملک کے صدر رہے، ملک ناقابل تسخیر بھی تھا اور ایک مضبوط معاشی قوت بھی۔ ان کے عہد میں ہم نے پینسٹھ کی جنگ میں بھارت کو شکست فاش دی اور عشرہ ترقی بھی منایا۔ پھر ضیاءالحق کی کرکٹ ڈپلومیسی نے راجیو گاندھی کی سٹی گم کر دی۔ اس کے بعد کارگل کے ہیرو پرویز مشرف نے آگرہ جا کر تو دنیا کے عظیم ڈپلومیٹس کو بھی ورطہ حیرت میںڈال دیا کہ کیسے ذہین و فطین ہیں یہ پاکستانی بھی۔ کارگل میں جیتی ہوئی جنگ اگر نوازشریف امریکہ جا کر نہ ہار جاتے تو آج ہم نہ صرف پورے کشمیر کے مالک ہوتے بلکہ ممکن تھا کہ دلی کے لال قلعےپہ بھی سبز ہلالی پرچم لہرا رہا ہوتا۔ علاوہ ازیں، بھارت کے جواب میں پاکستان کبھی ایٹمی دھماکے نہ کرتا اگر نوازشریف پہ اس وقت کے فوجیوں کا پریشر نہ ہوتا۔ ایٹمی دھماکوں کا سارا کریڈٹ افواج پاکستان کے جری سپہ سالاروں کو جاتا ہے۔ مجید نظامی جو بھی کہتے رہیں، حقیقت چُھپ نہیں سکتی۔

پاکستان کی مگر بدنصیبی یہ ہے کہ یہاں کے جری سپہ سالاروں نے جب جب سویلینز کو حکومت تھمائی، انہوں نے عوام کو مایوس کیا۔

فیلڈ مارشل جنرل ایوب خان نے ہمیں ایک ناقابلِ تسخیر پاکستان دیا۔ جسے بھٹو نے اقتدار کے لالچ میں توڑ دیا اور باقیماندہ پاکستان کی صنعتیں قومیا لیں۔ جس سے پاکستانی معیشت کا جنازہ نکل گیا۔ پاکستان میں روزبروز بڑھتی مہنگائی اور انارکی کی سی صورتحال اس پر مستزاد۔

اللہ درجات بلند کرے جنرل ضیاءالحق جیسے مردِ مومن کے کہ جن کو اللہ تعالیٰ نے بروقت خبردار کیا تو انہوں نے زمامِ اقتدار اپنے ہاتھ میں لے کر غدار بھٹو کو پھانسی پہ لٹکا دیا۔ پاکستان کے غداروں کو عبرت کا نشان بنا دینا چاہیے۔ جنرل ضیاء نے نہ صرف یہ کہ پاکستان بچایا بلکہ، خاموش مجاہد جنرل اختر عبدالرحمان کی مدد سے ملکِ افغانستان پہ قابض اپنے وقت کی عالمی طاقت روس کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے۔ کوئی اندازہ کر سکتا ہے اس کے زورِ بازو کا؟ ان عظیم مجاہدوں نے امریکہ کے اسلحے کا بھی خوب استعمال کیا اور اپنا ایٹمی اثاثہ بھی بچا کر رکھا۔

ضیاء کے زمانے میں پاکستان میں اشیائے خورو نوش کی فراوانی ہوئی۔ آپ نے سیاچین کے محاذ پہ بھارت کو ناکوں چنے چبوائے اور سرکاری ٹی وی نے اسی زمانے میں بہترین ڈرامے پیش کیے۔ اسی زمانے میں پاکستان نے کرکٹ اور ہاکی میں کئی معرکے مارے۔ موجودہ وزیراعظم جناب عمران خان اسی دور میں ہیرو اسٹیبلش ہوئے تھے۔

نوے کی دہائی ایک بار پھر بدقسمتی لائی اور ملک پہ جمہوری حکمران حکومت کرتے رہے۔ کوئی مسٹر ٹین پرسنٹ کے نام سے مشہور ہوا تو کوئی موٹروے کی آڑ میں قوم کے کھربوں روپے لوٹ گیا۔ وہ تو بھلا ہو ان بزرگوں کا جو نوے کی اس پرآشوب دہائی میں ان نوزائیدہ جمہوری لیڈروں بےنظیر اور نوازشریف پہ گہری نظر رکھے ہوئے تھے۔ انہی کی حب الوطنی کی وجہ سے یہ ملک دیوالیہ ہونے سے بچ گیا۔ ورنہ یہ کوتاہ فہم جمہوری حکمران سارا ملک لوٹ کر بیرون ملک فرار ہو جاتے۔

جب نوے کی دہائی ختم ہو رہی تھی تو کارگل کے ہیرو نے غدار نوازشریف کی حکومت ختم کردی۔ اپنی حکومت یوں گنوانے کا ذمہ دار سراسر نوازشریف تھا۔ بھلا اس طرح بھی کوئی اپنے سپہ سالار کو فارغ کرتا ہے اور نیا سپہ سالار اپوائنٹ کرتا ہے جس طرح بارہ اکتوبر ننانوے کےدن نوازشریف نے کیا؟ بس، ادارہ اپنے باس کے پیچھے آن کھڑا ہوا اور وزیراعظم کو سبق سکھایا کہ نہیں بھئی، اس طرح نہیں! ایک تو واجپائی کا یہ یار امریکہ جاکر کارگل کی جیتی ہوئی جنگ ہار آیا، اوپر سے کارگل مہم کو ذہانت سے کامیاب کرنے والے ہیرو کو یوں برطرف بھی کرنا چاہا؟ نہ بھئی نہ۔ ابھی وہ جاگتے ہیں جنہوں نے وطن کو درپیش اندرونی و بیرونی خطرات سے لڑنےکا حلف لے رکھا ہے۔

قدرت ہم پہ مہربان ہوئی اور کارگل کے ہیرو کے ہاتھوں ملک سے غداروں کی حکومت ختم کروا کر ایک محب الوطن، بہادر اور ویژنری لیڈر، ایک سید زادے جناب جنرل پرویزمشرف کے ہاتھ حکومت دے دی۔ ان کےہاتھ حکومت آنے کی دیر تھی کہ ملک جو چاروں اطراف سے خطرات میں گھرا ہوا تھا، محفوظ ہو گیا۔ ملک میں دولت کی ریل پیل ہوئی اور ٹرِکل ڈاؤن ایفیکٹ کی بدولت جو لوگ ٹو وِھیلر پہ تھے، فور وھیلر پہ چلے گئے۔ یعنی متوسط طبقہ موٹر سائیکل سے گاڑی پہ پہنچ گیا۔ ملک میں مواصلات کا انقلاب آ گیا۔ بتدریج کیبل نیٹ ورکس نے ترقی کی۔ موبائل فونز کا اژدہام آیا اور پرائیویٹ سیکٹر میں ٹیلی ویژن چینلز نے اپنی نشریات کا آغاز کیا۔ بہادر قائد جنرل مشرف کی کامیاب خارجہ پالیسی کا کرشمہ تھا کہ ان کو امریکی صدر جارج بُش نے کیمپ ڈیوڈ میں مدعو کیا گیا۔ جنرل مشرف پاکستان کے لیے رحمت بن کر آئے اور دنیا میں پاکستان کا نام عزت سے لیا جانے لگا۔ آپ نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کئی معرکے سرانجام دیے اور ملک کو محفوظ تر بنا دیا۔ ان کو کمزور کرنے کے لیے اگرچہ ان پہ حملے بھی ہوئے اور آخری دنوں میں ان کے خلاف تحریک بھی چلی لیکن زیرک اور بہادر مشرف ہار نہیں مانے۔ ان کا وژن تھا کہ پاکستانی عوام کو بتدریج جمہوریت کے قابل بنایا جائے اس کے بعد ہی ان کو جمہوریت دی جائے۔ وہ اب محض صدر یا سپہ سالار نہیں رہے تھے۔ بلکہ اتا ترک کی طرح فادرلی فگر بن چکے تھے۔ ان کا وژن تھا کہ پاکستانی عوام جمہوریت کے قابل نہیں جبھی یہ بینظیر اور نوازشریف جیسے نکمے لوگوں کو قائد چُن لیتے ہیں۔ آپ نے اقتدار میں آتے ہی قوم کی تربیت کا فریضہ سنبھالا۔ آئین میں ضروری ترامیم کیں۔ پی سی او کے ذریعے سپریم کورٹ کی تطہیر کی اور اس کے بعد نیب کے ذریعے صاف ستھرے بی اے پاس سیاستدان اسمبلی میں پہنچانے کا بندوبست کیا۔ انہوں نے ویمن ایمپاورمنٹ کو بھی یقینی بنایا اور پوری دنیا میں پاکستان واحد ملک تھا جہاں خواتین کے لیے کثیر تعداد میں اسمبلیوں کی نشستیں مخصوص کی گئیں۔ مقامی حکومتوں کا قیام بھی آپ کے کارناموں میں سے ایک ہے۔ اسی کی وجہ سے کراچی کو سگنل فری کاریڈورز دینے والے ناظم میسر آئے۔ بعد کے سیاستدان مقامی حکومتوں کی اہمیت کو سمجھ نہیں پائے۔ ان کےمدنظر اپنے اپنے ایم پی اے اور ایم این اے رہے جن کو فنڈ ملیں تو ان کو ووٹ ملتے ہیں۔ بس ایسی ہی کوتاہ فہمی ان نالائق سیاستدانوں کی ناکامی کا سبب بنتی رہی۔

ملک کی بدنصیبی کہ ایک بار پھر ملک پہ نوراکشتی لڑنے والے مسلط ہو گئے۔ وہی دو پارٹیاں! جن کی باریاں لگی ہوئی تھیں کہ پہلے تم کھا لو پھر میں کھا لوں گا۔ تمہاری کرپشن میں نہیں پکڑوں گا تم میری نہ پکڑنا۔ یوں ان کی کرپٹ پارٹنرشپ نے جہاں ملک کو اندرونی طور پہ کنگال کردیا، وہیں بیرونی طور پہ عالمی تنہائی کا شکار کردیا۔ وہ تو قدرت ہم پہ مہربان تھی کہ آکسفورڈ سے تعلیم یافتہ، انگریزی بولنے لکھنے اور پڑھنے والا صوم و صلوٰۃ کا پابند، بہادر اور آخری گیند تک لڑنے والا، بڑھاپے میں بھی تیس سالہ جوان جیسی طاقت، ہمت اور جرات رکھنے والا، دردمند، اور عالمی سطح کا رہنما ہماری خاطر پاکستانی سیاست میں آ چکا تھا۔ اس نے پاکستان کی خاطر اپنا گھر تڑوا لیا۔ وہ چاہتا تو لندن میں اپنے بچوں کے ساتھ آرام دہ زندگی گزارتا لیکن اس سے پاکستانیوں کی سسکتی زندگی دیکھی نہیں جاتی تھی سو قائدِ اعظم کے نقش قدم پہ چلتا ہوا وہ ہمارےحقوق کے لیے سیاسی جدوجہد میں مگن ہو گیا۔ اس نے اپنا ووٹ بینک بنایا اور اور نہ صرف یہ کہ سارے ملک سے کروڑوں ووٹ حاصل کر کے دیومالائی داستان کے ہیرو کی طرح اقتدار کے سنگھاسن پہ جا بیٹھا بلکہ مشرق و مغرب کے ممالک بھی اس کے یوں وزارتِ‌عظمٰی کے عہدے پہ متمکن ہونے پہ شاداں و فرحاں دکھائی دیے۔ وہ دیانت دار تھا۔ صادق تھا۔ امین تھا۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ انگریزی بول سکتا تھا اور اتنی کتابوں کا مطالعہ کر چکا تھا کہ شاید ہی کسی عالم نے اتنی کتابیں پڑھی ہوں۔ تقریبا ہر موضوع پہ اس کے خطاب دستیاب تھے۔ اقوام متحدہ میں کی جانے والی عالیشان تقریر کون بھول سکتا ہے۔ وہ مارٹن لوتھر کنگ جونیئر کے لیول کی تقریر تھی۔ وہ زیرک سیاستدان تھا۔ وہ سپہ سالاروں سے زیادہ بہادر اور سیاستدانوں سے زیادہ زیرک تھا۔ وہ سیاستدان نہیں، قائد تھا۔ سیاستدان اپنا مفاد سوچتا تھا جبکہ وہ آنے والی نسل کے لیے گلاب بو رہا تھا۔ روشنیوں کی تجارت کر رہا تھا۔ شادمانیوں کو استقلال سُجھا رہا تھا۔ نئی نسل کے لیے زیتون کے درخت لگا رہا تھا۔ وہ سڑکوں کے جال بچھا رہا تھا۔ مہنگائی کا خاتمہ کرنے کے جتن کرتا کبھی سبز پاسپورٹ کی عزت بڑھانے کی سعی میں مگن رہتا۔ اس نے نوجوانوں کو خواتین کا احترام کرنا سکھایا۔ انہیں بتایا کہ شائستگی کیا ہوتی ہے اور روحانیت کیا۔ اس نے روحانیت میں پی ایچ ڈی شروع کروائی۔ پی ایم ہاؤس کی بھینسیں بیچ کر آسٹیریٹی مہم کو مہمیز کیا۔ وہ مغربی تعلیم حاصل کر کے بھی مشرق کا بیٹا رہا اور اسلام کا جری سپاہی! وہ جب نوجوانوں کو اخلاقیات کا درس دیتا تو رواقی فلسفی ماند پڑتے دکھائی دیتے۔ دوست اس پہ نثار ہوتے اور دشمن اس سے خوف کھاتے تھے۔ ترکی اور ملائشیا کے لیے ریشم کی طرح نرم یہ سرخیلِ بے مثال، اسرائیل اور بھارت کے لیے فولاد ثابت ہوا تھا۔

کبھی کبھی تو لگتا ہے کہ اقبال جس مردِ مومن، الجیلی جس فوق البشر اور نیٹشے جس سپرمین کا انتظار کر رہے تھے، وہ یہی شخص ہے۔

اس نے اپنی بےپناہ ذہانت سے شاطر مودی کو مقبوضہ کشمیر کے معاملے میں چاروں شانے چت کر دیا تھا۔ اس کی کامیاب خارجہ پالیسی نے مسئلہ کشمیر کو دنیا کا فلیش پوائنٹ بنا دیا تھا۔ وہ جس ملک میں جاتا، مرد اس کی ذہانت اور عورتیں‌اس کی وجاہت کے جادو کا شکار ہو جاتیں۔ اس نے بڑی چابکدستی سے عالمی استعمار کو پاکستان کی زمین استعمال کرنے سے روکا۔ مشرقی طاقتوں کا حد سے زیادہ بڑھتا اثر کم کیا اور متحارب مشرقی و مغربی عالمی طاقتوں کو ایک دوجے کے قریب لایا۔ اس نے پنجاب میں سرائیکی آواز سنی اور ان کی محرومی ختم کرنے کے لیے وہاں کے ایک شخص کو پنجاب کی وزارت اعلیٰ دے دی۔ میری نظر میں اشوکا دی گریٹ اور اورنگزیب عالمگیر کے بعد برصغیر میں پہلا ایسا شخص حکمران بنا تھا جس نے سارے خطے کو ایک لڑی میں پرو دیا۔ بھارت والے ابھینندن والی ذلت کے بعد اس سے ڈرتے تھے۔ افغانستان والے اپنے امن معاہدوں کے لیے اس سے اصلاح لیتے تھے۔

اور آج، آج یہ صورتحال ہے کہ اس نے جن کرپٹ طاقتوں کو بری طرح شکستِ فاش دی تھی، اس کے خلاف متحد ہو کر سڑکوں پہ آ گئے۔ انہیں علم نہیں کہ ان کا مقابلہ کسی بھٹو، کسی نوازشریف، یا کسی مشرف سے نہیں جو بلیک میل ہو کر یا ترس کھا کر ان کو حکومت دے دے۔ ان کا مقابلہ اب عمران خان سے ہے۔ جسے ٹیم بنانی آتی ہے جبھی وہ بہترین لوگوں کو چن کر تمام محکموں کا سربراہ بنا رہا ہے۔ اس کے مخالفین کو علم نہیں کہ عمران تو وہ ہے جو ڈاکوؤں کو کبھی این آر او نہیں دے گا۔ وہ آخری گیند تک لڑنے کے لیے پیدا ہوا ہے۔ آخری پیسے تک لوٹ مار کرنے کے لیے نہیں۔ اور فوج اس کے اوپر نہیں، اس کے نیچے ہے۔ فوج جانتی ہے کہ وہ چھٹی بھی نہیں کرتا۔ مسلسل کام کرتا ہے۔ اور کرپٹ بھی نہیں۔ ڈیڈ آنسٹ ہے۔ اس لیے آخری فتح اس کی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔

قارئینِ کرام، سطورِ بالا سے اگر آپ کو یہ شک ہو گیا ہے کہ میں نے اپنی لائن بدل لی ہے تو جان لیجئے کہ یہ سب لکھ کر میں صرف یہ بتانا چاہتا تھاکہ جو کام ہمارے گیلے تیتر نما صحافی کر رہے ہیں، ہم ان سے بہت بہتر انداز میں، اچھے اسلوب میں کر سکتے ہیں۔ ہم بھی اپنے یوٹیوب چینلز بنا کر سطورِ بالا جیسی دانشِ خاکی بگھار سکتے ہیں۔ ایسی ایسی بے پر کی اڑا سکتے ہیں کہ کپتان کے لگائے گئے زیتون کی شاخوں پہ چہکتے یہ گیلے تیتر بےدم ہو کرزمیں پہ آ رہیں۔ ہم بھی ایسی جھوٹی باتیں کر کے، نیم خواندہ مگر طاقتور افراد کے اشاروں پر ان کے حق میں کالمز لکھ کے، وی لاگز بنا کر ان گیلے تیتروں اور ان کے پیٹی بند بھائی بہنوں سے کہیں زیادہ پیسے اور شہرت کما سکتے ہیں۔

لیکن ہم ایسا نہیں کریں گے۔ ہم وہی لکھیں گے جو ہمارےضمیر کی آواز ہے۔ بھلےغربت، تنہائی اور تنگدستی میں زندگی گزر جائے، ہم گیلے تیتر یعنی حوالدار صحافی/اینکر بننا گوارا نہیں کریں گے۔

ہم وطنِ عزیز میں آئین کی بالادستی کے لیے آواز بلند کرتے رہیں گے۔ ہم یہ کہتے رہیں گےکہ آئین کسی ماتحت محکمے کو ازخود حکومت سنبھالنے، انتظامی فیصلے کرنے اور شہریوں کی زندگیاں اجیرن کرنے کا اختیار نہیں دیتا۔ ہم بتاتےرہیں گے کہ ادارے اور محکمے میں کیا فرق ہے۔ اور آئین میں کس محکمے کے لیے کون سا دائرہ کار درج ہے۔ جس طرح خوف، جہالت یا لالچ سے مرعوب ہو کر یہ گیلے تیتر انٹیلیکچوئل ڈِس آنسٹی کا مظاہرہ کرتے چلے آ رہے ہیں اور اپنے غریب ہموطنوں کی قبریں کھود رہے ہیں، ہم ایسا نہیں کریں گے۔ ہم اللہ رب العزت سے ڈرتے ہوئے وہی لکھیں گے جو سچ ہے۔ جسے لکھ کر ہمارا ضمیر مطمئن رہے۔ جسے لکھ کر مرنے سے اور اللہ رسول کے حضور پیش ہو کر شرمسار ہونے سے خوف نہ آئے۔

طالیس کی طرح ہم بھی جانتے ہیں کہ ہم ان دنیادار اور خالی مغز گیلے تیتروں سے کہیں زیادہ گُنی اور باصلاحیت ہیں۔ ہم ان سے زیادہ بہتر انداز میں وہ سارے کام کر سکتے ہیں‌جو وہ کر رہے ہیں۔ اور ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ جو کام ہم کر رہے ہیں، وہ کام ان گیلے تیتر اور حوالدار اینکروں کے بس کا نہیں۔ نہ ان میں وہ صلاحیت ہے، نہ جرات۔

مزید تحاریر

شاہد آفریدی کی ‘برتھ ڈے ٹوئٹ’، کہیں ریکارڈ نہ بدل جائے؟

شاہد آفریدی نے 25 سال پہلے اپنی پہلی ون ڈے اننگز میں صرف 37 گیندوں پر سنچری بنائی تھی، جو کرکٹ تاریخ کی تیز...

یوسف رضا گیلانی کو سینیٹ انتخابات میں فتح ہوگی، حمزہ شہباز

پاکستان مسلم لیگ ن رہنما اور قائد حزب اختلاف پنجاب اسمبلی حمزہ شہباز کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف میں اپنے ہی اراکین...

بھارت سے کپاس کی درآمد کا امکان، ٹیکسٹائل ملز ناخوش

لائن آف کنٹرول پر سیزفائر معاہدے کی بحالی کے بعد پاک-بھارت تعلقات کی مرحلہ وار بحالی کا امکان ہے اور ہو سکتا ہے کہ...

پاکستان اضافی بجلی سے بٹ کوائن بنا کر اپنا تمام قرضہ اتار سکتا ہے

حکومتِ پاکستان کا کہنا ہے کہ اس وقت ملک کی ضرورت سے زیادہ بجلی پوری ہو رہی ہے تو آخر پاکستان بٹ کوائن مائننگ...

جواب دیں

اپنا تبصرہ لکھیں
یہاں اپنا نام لکھئے